The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Wednesday, February 6, 2019

وزارت سمندر پار پاکستانیز نے بیرون ممالک کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے اور اوپی ایف کے معاملات میں مزید بہتری کا فیصلہ کیا ہے

 وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پارپاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری کی میڈیا سے بات چیت

اسلام آباد ۔ 6 فروری (این ٹی ایس رپورٹ) وزارت سمندر پار پاکستانیز نے بیرون ممالک کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے اور اوپی ایف کے معاملات میں مزید بہتری کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پارپاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپی ایف کی تشکیل نو کی ضرورت ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں ، مختلف ممالک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی اوپی ایف کے سفیر ہوتے ہیں،ہم نے ویلفیئر اتاشیوں کو کہا ہے کہ وہ کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ محنت سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں 3کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ہیں جن کی تعداد 4 کی جائے گی۔ سعودی عرب میں اس وقت 4کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خدمات سر انجام دے رہے ہیںوہاں پر ان کی تعداد 6کر رہا ہوںاور 6ماہ بعد سعودی عرب میں ویلیفیر اتاشیوں کی تعداد 8کر دی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان سے لوگوں کو بھیجنے کی وجہ سے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے اس لیے ہم ایسی کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں کہ خلیجی ممالک میں ایسے افراد جو اردو کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں انہیں عوام کے مسائل کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نمایاں پاکستانی جو سعودی عرب ، قطر میں مقیم ہیں ہم انہیں پاکستانی کمیونٹی اور ویلفیئر اتاشیوں کی مدد کیلئے سسٹم میں لانا چاہ رہے ہیںاور وہ لوگ بڑے شوق سے کام کریں گے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں ترجمان کی وجہ سے کافی مسائل ہیں، غریب آدمی ترجمان کا محتاج ہوجاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ترجمان پاکستانی ہو جو پاکستان کے حقوق کیلئے عربی زبان بول سکے ۔

برطانیہ میں مقیم سکھ بزنس مینوں کا پاکستان میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

پاکستان کے ممتاز تجارتی گروپ اور برٹش سِکھ ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ،کرتار پور کوریڈور کے انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ اور پاکستان میں سِکھوں کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کے سلسلے میں مِل کر کام کریں گے

اسلام آباد (این ٹی ایس رپورٹ)برطانیہ میں مقیم سِکھ بزنس مینوں نے پاکستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری پکڑ لی۔ اس حوالے سے پاکستان کے ممتاز تجارتی گروپ اور برٹش سِکھ ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے ۔ دونوں فریقین کرتار پور کوریڈور کے انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ اور پاکستان میں سِکھوں کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کے سلسلے میں مِل کر کام کریں گے۔اس مفاہمی یاد داشت کے مطابق مذکورہ بالا منصوبے کے حوالے سے ایک ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا اس کے علاوہ دس سالہ ترقیاتی منصوبہ اور مارکیٹنگ سٹریٹجی بھی تشکیل دی جائے گی۔ دونوں پارٹیاں پراجیکٹ کو آگے بڑھانے، زمین کے حصول، میڈیا سے رابطے، مارکیٹنگ کی منصوبہ بندی اور فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے آپس میں بھرپور تعاون اور مِل کر کام کریں گی۔واضح رہے کہ 1522 میں سِکھوں کے پہلے گورو نانک جی نے نارووال میں واقع کرتار پور صاحب کی بنیاد رکھی۔ یہ مقام سِکھوں کے لیے انتہائی مقدس تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں گورو نانک جی نے اپنی زندگی کا آخری دور گزارا، ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہیں ان کے لیے ایک گردوارہ دربار صاحب تعمیر کیا گیا۔ سِکھ اس جگہ کی یاترا کرنے کے حوالے سے بہت حساس ہیں، کیونکہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد وہ اپنے پہلی گورو سے منسوب اس یادگار کے دیدار کرنے سے محروم ہو گئے تھے۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 12فروری تک ملتوی کر دی

اسلام آباد (این ٹی ایس رپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 12فروری تک ملتوی کر دی ہے۔بدھ کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محمد نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت  کے دوران سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرائی گئی۔ عدالت نے رپورٹس کی کاپیاں فریقین کو دینے کا حکم دیتے ہوئے نیب سے آئندہ سماعت پرجواب طلب کرلیا ہے۔جمع کرائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد نوازشریف کو دل کی شریانوں کامرض لاحق ہے اور بلڈ شوگر اور بلڈ چارٹ کو معمول پر رکھنا ضروری ہے، محمد نوازشریف کو ایسے ہسپتال میں رکھا جائے جہاں 24 گھنٹے بہترین طبی سہولتیں میسر ہوں۔ سماعت کے دوران عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ سزا معطلی سے متعلق دوسری درخواست پر سماعت کب ہوگی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ انہوں نے وہ درخواست واپس لینے کی درخواست دے دی ہے اب حالات ایسے ہیں کہ عدالت طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست کوسنے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مرکزی اپیل کی سماعت 18 فروری کو ہے دونوں درخواستیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کردیتے ہیں جس پرخواجہ حارث نے استدعا کی کہ 18 فروری دور ہے درخواست جلد سماعت کیلئے مقررکی جائے۔ جس پر عدالت نے فریقین کومیڈیکل رپورٹس کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیب سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران نیب حکام نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ صرف بیماری کی وجہ سے سزا یافتہ مجرم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے محمد نوازشریف کے علاج سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب سے جواب طلب کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کوالعزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا۔محمد نواز شریف کے وکلاء کی طرف سے 26 جنوری کو دائر کی گئی ایک درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم کی صحت غیر تسلی بخش ہے انہیں عارضہ قلب اور گردوں کا مرض لاحق ہے، لہذا ان کی درخواست ضمانت پر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسوں کی اپیلوں سے پہلے فیصلہ سْنایا جائے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا معطل کرکے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا جائے۔دائر درخواست کے ساتھ اسپیشل میڈیکل بورڈ کی 17 جنوری کی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی تھی۔

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس: طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت 12فروری تک ملتوی

میاں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے سزا معطلی کی پہلی درخواست واپسی کیلئے استدعا کردی
اسلام آباد(این ٹی ایس رپورٹ)العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت 12فروری تک ملتوی،کیس سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے کی۔عدالت نے پنجاب حکومت کو نوٹسز جاری کردیا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ کن بنیادوں پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیاگیا،میاں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے سزا معطلی کی پہلی درخواست واپسی کیلئے استدعا کردی۔تفصیلات کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں نیب کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف کو دی گئی سزا کے خلاف میاں نوازشریف کے وکلاء نے طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کی رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی،گزشتہ سماعت پر عدالت نے وکلاء سے میڈیکل رپورٹ طلب کی تھی،جیل حکام کی جانب سے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہی میڈیکل رپورٹ جمع کروانے کا کہا تھا۔جسٹس عامر فاروق کا جیل حکام سے کہا کہ میڈیکل رپورٹ چینل کے ذریعے جمع کروائیں،رجسٹرار کے پاس جائیں اور اس پر مہریں لگوائیں ، یہ کوئی طریقہ نہیں کہ عدالت میں آکر میڈیکل رپورٹس جمع کروائیں۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ سزا معطلی کے خلاف آپ کی ایک اور درخواست دائر ہے اس کو بھی اس کے ساتھ دیکھ لیں گے، اس پر خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم پہلی والی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،اس کی پیروی نہیں کریں گے،عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ آئندہ سماعت18فروری کی بجائے پیر کو رکھ لیں۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پنجات حکومت اور نیب کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں،ان کو بھی سننا ضروری ہے۔کیس کی سماعت12فروری بروز منگل تک ملتوی کردی گئی۔

حج سبسڈی


حج سبسڈی کیا ہے؟ یہی کہ حکومت سفرِ حج کو آسان بنائے اور اگر اس کارِ خیر کے لیے کچھ مالی اسباب فراہم کرنا پڑیں تو کر گزرے۔ اگر کوئی حکومت ایسے اقدامات کرتی ہے تو نہ صرف یہ جائز ہو گا بلکہ میری نگاہ میں مستحسن بھی ہے؛ تاہم اگر اس کے پاس وسائل نہیں تو یہ اس کے لیے لازم بھی نہیں۔ اس باب میں شریعت (اسلامی قانون) کی بحث بس اتنی ہی ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، اس کا تعلق انتظامات اور سماجیات سے ہے۔
پاکستان کا آئین بھی اس معاملے میں خاموش نہیں۔ اس کے آرٹیکل 31 میں، ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان پاکستانیوں کو اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ اسلام کے مطابق زندگی گزاریں، اقدامات کرے گی۔ میرے نزدیک اس کی تعبیر یہ ہے کہ ریاست مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مسلمان شہریوں کی مدد گار ہو گی۔ اس آرٹیکل میں سہولتوں کی فراہمی کا ذکر ہے۔ میں اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ یہی سہولت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ملنی چاہیے۔
مذہب، تاہم صرف قانون کا نام نہیں۔ اس کا ایک پہلو تہذیبی اور معاشرتی بھی ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ملک میں جو تہذیبی رنگ غالب ہو گا، اس میں اسلام کے آثار نمایاں ہوں گے، بالکل ایسے ہی جیسے مسیحی اکثریتی معاشرہ مسیحیت کے رنگ میں رنگا ہو گا۔ یہ فطری ہے کہ ہر مذہبی اکائی اپنی تہذیبی ساخت کے بارے میں حساس ہو۔ اس کے لیے وہ جو مظاہر اختیار کرتی ہے، اس کے جواز یا عدم جواز پر بات ہو سکتی ہے مگر اس حساسیت کا جواز اپنی جگہ موجود ہے۔ یہی سبب ہے کہ دنیا میں ایک مہذب معاشرے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے باب میں فراخ دل ہوتا ہے‘ اور انہیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے تہذیبی وجود کو زندہ رکھیں۔
یہ حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ عوام کے تہذیبی وجود کی حفاظت کرے۔ مراسمِ عبادت کی ادائیگی کو ان کے لیے آسان بنائے۔ ان کے لیے عبادت گاہیں تعمیر کرے۔ انہیں موقع دے کہ وہ اپنے مذہبی تہوار اچھے انداز میں منا سکیں۔ یہ بات جہاں اقلیتوں کے لیے ضروری ہے وہاں اکثریت کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے۔ قرآن مجید ایک مسلمان حکومت کے جن مذہبی فرائض کا ذکر کرتا ہے، ان میں ایک نماز کا اہتمام بھی ہے۔ اس سے مراد نظمِ صلوٰۃ کا قیام ہے۔ ظاہر کہ اس کے لیے وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اگر نماز کے لیے ریاستی وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں تو حج کے لیے کیوں نہیں؟
میں نے جس تہذیبی حساسیت کی بات کی، اس کو مزید واضح کرنا ضروری ہے۔ برصغیر کے مسلمان کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اس کے لیے حج ایک ایسی تمنا ہے جو اس کی گھٹی میں پڑی ہے۔ وہ اس کو فقہی کے بجائے قلبی پیراڈائم میں دیکھتا ہے۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ وہ حج کو سفرِ مدینہ سے الگ کر کے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس کے لیے یہ سمجھنا کم و بیش ناممکن ہے کہ مدینہ جائے بغیر بھی حج ہو سکتا ہے۔ آپ اسے قانونِ حج پڑھاتے رہیں لیکن وہ حج کو مسجدِ نبوی اور مزارِ اقدس کی زیارت کے بغیر کوئی معنی دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایسا آدمی حج کو استطاعت نہیں، محبت کے پیرائے میں دیکھتا ہے۔ اس کے لیے فقہی دلائل کارگر نہیں۔ یہاں تو مانگنے والا دعا دیتا ہے: ''اللہ تمہیں مدینے کا حج کرائے‘‘۔
وہ عمر بھر اس خواہش کو پالتا ہے کہ پروردگار اسے کبھی مدینہ لے جائے۔ ایک عام سرکاری ملازم زندگی کے مسائل میں گھرا ہوتا ہے۔گھر میں بیٹھی نوجوان بیٹیاں شادی کی منتظر ہوتی ہیں۔ ماں سوچتی ہے کہ باپ کو ریٹائر ہونے پر جو رقم ملے گی، وہ اس سے بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر دے گی۔ باپ کے دل میں اگر کوئی جھانکے تو اس کے نزدیک اس رقم کا سب سے اچھا مصرف یہ ہے کہ وہ حج کر آئے۔ ذرا سوچیے کہ جب اسے یہ رقم ملتی ہے اور ساتھ ہی یہ خبر بھی کہ یہ رقم حج کے اخراجات کے لیے کفایت نہیں کرتی تو اس کے دل پر کیا گزرے گی۔
ایک عوامی حکومت کوئی پالیسی بناتے وقت اس عام پاکستانی کے جذبات کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟ پھر یہ جذبات کچھ ایسے ناجائز بھی نہیں۔ حج کے جو فضائل اسے بتائے گئے ہیں، ان میں بجا طور پر یہ بھی شامل ہے کہ حجِ مقبول کا بدلہ عمر بھر کے گناہوں کی معافی ہے، اس شرط کے ساتھ کہ اب وہ انہیں دھرائے گا نہیں۔ پاکستان سے بالعموم اُس وقت لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، جب سفرِ حیات کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ مغفرت کی خواہش دیگر خواہشات پر غلبہ پا لیتی ہے۔ ایسے میں اگر اسے خبر ملے کہ حکومت اس کے اور اس کی مغفرت کے مابین حائل ہو گئی ہے تو ایسی حکومت کے بارے میں اس کے جذبات کیا ہوں گے؟
ریاست شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ انسانی ضروریات صرف مادی نہیں ہوتیں۔ یہ روحانی اور جمالیاتی بھی ہوتی ہیں۔ سیدنا مسیحؑ نے فرمایا تھا کہ انسان صرف اس رزق سے زندہ نہیں رہتا جو اسے روٹی کی صورت میں ملتا ہے۔ وہ رزق بھی اس کی ضرورت ہوتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے۔ اس لیے ایک ریاست کو صرف مادی حوالے ہی سے نہیں سوچنا چاہیے۔ حکومت نے سینما کی صنعت کو زندہ کرنے کے لیے سبسڈی دی ہے۔ میں اس کو درست سمجھتا ہوں کہ اس کا تعلق شہریوں کی جمالیاتی ضرورت کے ساتھ ہے۔ انسان کی روحانی ضرورت جمالیاتی ضرورت سے کسی طرح کم اہم نہیں۔
کوئی سبسڈی ایسی نہیں ہوتی جس سے سب استفادہ کر رہے ہوں۔ ریاست مختلف طبقات کو اٹھاتی ہے اور بالآخر وہ پوری اجتماعیت کی قوت بنتے ہیں‘ جیسے ایک پرزہ دوسرے کے ساتھ جڑجاتا ہے۔ ایک کی قوت سب کی قوت بن جاتی ہے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے کہ حکومت ہر قدم موجود وسائل ہی میں اٹھا سکتی ہے۔ حکومت سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے جو ماورائے وسائل ہو؛ تاہم حکومت سے یہ مطالبہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ وسائل تقسیم کرتے وقت توازن کو پیشِ نظر رکھے۔ 
اس سارے عمل میں ایک کردار وزارتِ مذہبی امور کا بھی ہے۔ اس وزارت کا نیا نام 'وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی‘ ہے۔ جہاں تک مذہبی امور کا معاملہ ہے تو حج پالیسی کے علاوہ اس کی کوئی افادیت اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون سے مذہبی امور ہیں جو یہ وزارت سرانجام دیتی ہے۔ سالانہ سیرت کانفرنس اب کوئی ایسا کام نہیں کہ جس کے لیے ایک پوری وزارت مختص کر دی جائے۔ رہی بین المذاہب ہم آہنگی تو اس میدان میں بھی کوئی قابلِ ذکر سرگرمی ہم نے نہیں دیکھی۔ اگر اس وزارت کی کارکردگی کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو غیر ضروری اخراجات کم کر کے، حج سبسڈی کو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ 
پھر یہ کہ معاشی معاملات کی اصلاح صرف ماہرینِ معیشت کا کام نہیں۔ اس کے لیے سماج کی تفہیم رکھنے والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوریت کو نظام ہائے حکومت میں اسی لیے فوقیت حاصل ہے کہ عوامی نمائندے سماج کا بہتر شعور رکھتے ہیں۔ اگر یہ کام ماہرین کا ہوتا تو ٹیکنو کریٹس کی حکومت دنیا میں سب سے بہتر شمار ہوتی۔ سماجیات کا علم رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ ایک معاشی پالیسی کے سماجی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو میرا مشورہ یہ ہو گا کہ وہ کابینہ میں متنوع پس منظر رکھنے والوں کو جمع کرے۔ اسی سے متوازن پالیسی بنانا ممکن ہو گا۔ سب سے اچھا تو یہ تھا کہ اس نوعیت کے فیصلے پارلیمنٹ میں زیرِ بچث آتے۔ 
حج پالیسی کے سیاق میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ سفر وہ کرے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس بحث کا محل نہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس باب میں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ رہا فرد تو اس کو الگ سے نصیحت کی جا سکتی ہے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ حج پر سبسڈی دینی چاہیے یا نہیں؟ توجہ اسی سوال کے جواب پر مرتکز ہونی چاہیے۔

Tuesday, February 5, 2019

تھِنک ٹینک کی عالمی درجہ بندی میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی پاکستان میں سہرفرست ، جنوبی ائشیا، میں پندرویں ، دنیا بھر میں ننانویں درجہ پر قرار پایا*


اسلام آباد (این ٹی ایس رپورٹ) ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آ ف پینسلو نیہ کے زیر انتظام تھنک ٹینک و سوِل سوسائٹی پروگرام نے عالمی سطح پر کام کرنے والے 8162 تھِنک ٹینک کی2018 کی سالانہ درجہ بندی کر کے فہرست شائع کر دی ہے۔ جو کہ دنیا بھر میں بیک وقت جاری کی ہے۔ 
اس عا لمی درجہ بندی کے مطابق پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) پاکستان میں پہلے نمبر پر ، جنوب مشرقی ایشیاء و پیسفک میں 15 ویں اور عالمی (Non-US) تھِنک ٹینکس میں99 نمبر پر رہا۔ تھنک ٹینک و سوِل سوسائٹی پروگرام گذ شتہ 13 سالوں سے عالمی سطح پر کام کرنے والے تھِنک ٹینک کی کا رکردگی کا مختلف پیمانوں اور زاویوں سے کڑا جائزہ لینے کے بعد ان کے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے۔ 
2018کی تھِنک ٹینک کی عالمی درجہ بندی کا اجرا ء کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، ایس ڈی پی آئی ،ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ عالمی سول سوسائٹی اور تھِنک ٹینکس کو درپیش تمام روکاوٹوں کے باوجود، ایس ڈی ڈی آئی نے اپنی درجہ بندی کو برقرار رکھا ہے اور عالمی سطح پر 44 ویں بہترین کوالٹی اشورینس، 53 ویں خودمختار و آزاد تھِنک ٹینک اور67 ویں بہتر ین ماحولیاتی پالیسی کے ادارے کے طور پرُ ابھرا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے عالمی سطح پر Non-US تھِنک ٹینکس میں 99 ویں پوزیشن حاصل کی ہے ، اور اس زمر میں ایس ڈی پی آئی پاکستان سے ایک واحد ادارہ ہے جسے 144 اعلی غیر امریکی تھِنک ٹینکس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے 25 پالیسی ریسرچ کے اداروں میں ایس ڈی پی آئی سہر فہرست رہا ۔
وائس چانسلر کمیٹی کے چیئرمین اور ریکٹر انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ پاکستانی تھِنک ٹینک کا عالمی درجہ بندی میں نمائیاں حیثیت پوری قوم کے لئے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کا دنیا کے اعلیٰ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ درجہ بندی پاکستان کے سافٹ امیج کی ایک اچھی مثال ہے، جس کی حمایت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں کو چوتھے صنعتی انقلاب کے محرکات کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاشرے کی ضرورت کے مطابق اپنی تحقیق اور نصاب کا جائزہ لینا ہو گا۔ 
اس موقع پر سابق سفیراورچیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر، ایس ڈی پی آئی شفقت کاکا خیل نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ایس ڈی پی آئی مسلسل دنیا کے 100 بہترین ریسرچ تھِنک ٹینکس میں شمار ہوتا ہے ۔ اگرچہ ، ایس ڈی پی آئی کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اس ادارے کے عملے، ماہرین اور قیادت کی لگن او ر انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ ادارہ دنیا کے بہترین اداروں کے درمیان اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ .
ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ سماجی تنظیموں کے لیے مواقع محدود ہو رہے ہیں جس کے باعث وہ مالی مشکلات کاشکار ہیں ۔ اس صورتحال میں سماجی خدمات کی انجام دہی انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر کے تھِنک ٹینکس کی کارکردگی دباو کا شکار ہے اور وہ پالیسی سازی اور اس کے عمل درآمد میں خاطر خواہ کردار ادا کرنا ممکن نہیں رہا ۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر محمود خواجہ نے کہا کہ پاکستان کے ہر شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جدید ریسرچ سے استفادہ کرناضروری ہے۔ ساری دینا میں ریسرچ پر سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی یقینی بنائی جاتی ہے۔

کچرے کے پیسوں کے بٹوارے پر ایم کیو ایم پاکستان کے ٹاؤن ممبر نے یوسی چئیرمن پر تھپڑوں کی بارش کردی


تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان گلستان جوہر ٹاؤن کے ممبر سمیع صدیقی نے کچرے کے پیسوں کے بٹوارے پہ تنازعہ کھڑے ہوجانے پر یوسی27 کے چیئرمین احترام الحق پر ٹاؤن انچارج ذیشان اسماعیل کی موجودگی میں تھپڑوں کی بارش کردی، اس بے عزتی سے شدید دل برداشتہ ہو کر احترام الحق نے کام کرنے سے انکار کردیا ہے اور گھر بیٹھ گئے ہیں، واضح رہے کہ سمیع صدیقی ممبر رابطہ کمیٹی ارشادظفیر کے انتہائی قریبی رشتے دار ہیں اور یوسی27 کے تمام معاملات میں ناصرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ چئیرمن اور وائس چیئرمین کو بھی آزادی سے کام نہیں کرنے دیتے۔

Monday, February 4, 2019

اسپیکر قومی اسمبلی کا شیخ رشید اور سعد رفیق کو پی اے سی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ

فیصلہ اجلاس میں بد نظمی سے بچنے کیلئے کیا گیا،اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیا

اسلام آباد( رپورٹ این ٹی ایس)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر ریلوے شیخ رشید اور ن لیگی رہنما سعد رفیق کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شیخ رشید اور سعد رفیق کو کمیٹی میں نہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پبلک اکائو نٹس کمیٹی میں بدنظمی پیدا نہ ہو۔سپیکر نے اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومت سے بھی بات چیت مکمل کر لی ہے۔ یاد رہے کہ شیخ رشید نے شہبازشریف کو چیئرمین پبلک اکائو نٹس کمیٹی بنانے پر شدید احتجاج کیا تھا تاہم بعدازاں انہوں نے حکومت کو پی ا ے سی کمیٹی کا رکن نامزد کرنے کیلئے درخواست کی تھی جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے شیخ رشید کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں رکنیت کیلئے نامزد کیا تھا۔

لاہور ، سپریم کورٹ نے تہرے قتل کے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تہرے قتل کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ دبئی میں ملازمت کے دوران پاکستان میں تہرے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو بیرون ملک ہونے کے تمام ثبوت دیئے مگر پاکستان واپس آنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ مدعی کے وکیل کا موقف تھا کہ گواہان کی شہادتیں ریکارڈ ہو چکی ہیں ضمانت منظور نہ کی جائے۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا مسئلہ ہے ہم قانون نہیں پڑھتے۔قانون کے مطابق فیصلہ سے ایک روز پہلے بھی عدالت درست سمجھے تو ضمانت لے سکتی ہے۔ کسی بے گناہ کو ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہیے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بیٹی کا خرچہ نہ دینے پر والد کیخلاف کیس کی سماعت

 آئندہ سماعت پر لڑکی فریحہ ملک کو پیش کرنے کا حکم

لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بیٹی کا خرچہ نہ دینے پر والد کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ابھی تک بیٹی کو عدالت میں پیش کیا نہ والد سے ملاقات کروائی۔ والدہ صبیجہ ملک نے بتایا کہ بیٹی بیرون ملک پڑھ رہی ہے اس لیے پیش نہیں ہوئی۔ خاوند عدالتی حکم کے باجود بیٹی کا خرچہ نہیں دے رہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ کے وسائل محدود ہیں تو بچی کو باہر کیسے پڑھ رہی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچے جب پائوں پر کھڑے ہو جائیں تو انہیں والدین کا سہارا بننا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ بچوں کی کفالت والد کی ذمہ داری ہے مگر یہ ایک حد تک ہے۔ 26 سالہ بچی کو تو اپنے 64 سالہ باپ کا سہارا بننا چاہیے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر لڑکی فریحہ ملک کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ :چیک بونس کے مقدمے میں ملزم گرفتار

تفتیش میں کسی کو گنہگار یا بے گناہ کرنا پولیس کا کام نہیں ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ
لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیک بو نس کے مقدمے میں نامزد ملزم عدالت سے گرفتارکر لیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش میں کسی کو گنہگار یا بے گناہ کرنا پولیس کا کام نہیں یہ کام عدالت کا ہے۔ ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس شہادتیں اکٹھی کیوں نہیں کرتی۔ اس مقدمے میں پولیس نے ثبوت کیوں اکٹھے نہیں کئے۔ جو چار سوال عدالت نے پوچھے انہیں پر تفتیشی افسر نے کام کرنا تھا۔ تفتیش کرنا عدالت کا کام نہیں، اگر تفتیش کرنا ہمارا کام ہوتا تو انہی خطوط پر تفتیش کرتے ۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ جب سے چیک بونس کا قانون بنا ہے دستخط شدہ چیک چوری ہونے کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے۔چیک پر دستخط کر کے اپنے پاس کیوں رکھے جاتے ہیں دئیے کیوں نہیں جاتے۔اگر عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کی تو ملزم کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ مدعی اللہ رکھاکا کہنا تھا کہ ملزم کوکاروبار کے لیے رقم دی واپسی کا تقاضا کیا تو چیک دے دیا گیا جو بعد میں بونس ہو گیا۔