The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Wednesday, February 6, 2019

حج سبسڈی


حج سبسڈی کیا ہے؟ یہی کہ حکومت سفرِ حج کو آسان بنائے اور اگر اس کارِ خیر کے لیے کچھ مالی اسباب فراہم کرنا پڑیں تو کر گزرے۔ اگر کوئی حکومت ایسے اقدامات کرتی ہے تو نہ صرف یہ جائز ہو گا بلکہ میری نگاہ میں مستحسن بھی ہے؛ تاہم اگر اس کے پاس وسائل نہیں تو یہ اس کے لیے لازم بھی نہیں۔ اس باب میں شریعت (اسلامی قانون) کی بحث بس اتنی ہی ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، اس کا تعلق انتظامات اور سماجیات سے ہے۔
پاکستان کا آئین بھی اس معاملے میں خاموش نہیں۔ اس کے آرٹیکل 31 میں، ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان پاکستانیوں کو اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ اسلام کے مطابق زندگی گزاریں، اقدامات کرے گی۔ میرے نزدیک اس کی تعبیر یہ ہے کہ ریاست مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مسلمان شہریوں کی مدد گار ہو گی۔ اس آرٹیکل میں سہولتوں کی فراہمی کا ذکر ہے۔ میں اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ یہی سہولت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ملنی چاہیے۔
مذہب، تاہم صرف قانون کا نام نہیں۔ اس کا ایک پہلو تہذیبی اور معاشرتی بھی ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ملک میں جو تہذیبی رنگ غالب ہو گا، اس میں اسلام کے آثار نمایاں ہوں گے، بالکل ایسے ہی جیسے مسیحی اکثریتی معاشرہ مسیحیت کے رنگ میں رنگا ہو گا۔ یہ فطری ہے کہ ہر مذہبی اکائی اپنی تہذیبی ساخت کے بارے میں حساس ہو۔ اس کے لیے وہ جو مظاہر اختیار کرتی ہے، اس کے جواز یا عدم جواز پر بات ہو سکتی ہے مگر اس حساسیت کا جواز اپنی جگہ موجود ہے۔ یہی سبب ہے کہ دنیا میں ایک مہذب معاشرے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے باب میں فراخ دل ہوتا ہے‘ اور انہیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے تہذیبی وجود کو زندہ رکھیں۔
یہ حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ عوام کے تہذیبی وجود کی حفاظت کرے۔ مراسمِ عبادت کی ادائیگی کو ان کے لیے آسان بنائے۔ ان کے لیے عبادت گاہیں تعمیر کرے۔ انہیں موقع دے کہ وہ اپنے مذہبی تہوار اچھے انداز میں منا سکیں۔ یہ بات جہاں اقلیتوں کے لیے ضروری ہے وہاں اکثریت کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے۔ قرآن مجید ایک مسلمان حکومت کے جن مذہبی فرائض کا ذکر کرتا ہے، ان میں ایک نماز کا اہتمام بھی ہے۔ اس سے مراد نظمِ صلوٰۃ کا قیام ہے۔ ظاہر کہ اس کے لیے وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اگر نماز کے لیے ریاستی وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں تو حج کے لیے کیوں نہیں؟
میں نے جس تہذیبی حساسیت کی بات کی، اس کو مزید واضح کرنا ضروری ہے۔ برصغیر کے مسلمان کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اس کے لیے حج ایک ایسی تمنا ہے جو اس کی گھٹی میں پڑی ہے۔ وہ اس کو فقہی کے بجائے قلبی پیراڈائم میں دیکھتا ہے۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ وہ حج کو سفرِ مدینہ سے الگ کر کے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس کے لیے یہ سمجھنا کم و بیش ناممکن ہے کہ مدینہ جائے بغیر بھی حج ہو سکتا ہے۔ آپ اسے قانونِ حج پڑھاتے رہیں لیکن وہ حج کو مسجدِ نبوی اور مزارِ اقدس کی زیارت کے بغیر کوئی معنی دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایسا آدمی حج کو استطاعت نہیں، محبت کے پیرائے میں دیکھتا ہے۔ اس کے لیے فقہی دلائل کارگر نہیں۔ یہاں تو مانگنے والا دعا دیتا ہے: ''اللہ تمہیں مدینے کا حج کرائے‘‘۔
وہ عمر بھر اس خواہش کو پالتا ہے کہ پروردگار اسے کبھی مدینہ لے جائے۔ ایک عام سرکاری ملازم زندگی کے مسائل میں گھرا ہوتا ہے۔گھر میں بیٹھی نوجوان بیٹیاں شادی کی منتظر ہوتی ہیں۔ ماں سوچتی ہے کہ باپ کو ریٹائر ہونے پر جو رقم ملے گی، وہ اس سے بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر دے گی۔ باپ کے دل میں اگر کوئی جھانکے تو اس کے نزدیک اس رقم کا سب سے اچھا مصرف یہ ہے کہ وہ حج کر آئے۔ ذرا سوچیے کہ جب اسے یہ رقم ملتی ہے اور ساتھ ہی یہ خبر بھی کہ یہ رقم حج کے اخراجات کے لیے کفایت نہیں کرتی تو اس کے دل پر کیا گزرے گی۔
ایک عوامی حکومت کوئی پالیسی بناتے وقت اس عام پاکستانی کے جذبات کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟ پھر یہ جذبات کچھ ایسے ناجائز بھی نہیں۔ حج کے جو فضائل اسے بتائے گئے ہیں، ان میں بجا طور پر یہ بھی شامل ہے کہ حجِ مقبول کا بدلہ عمر بھر کے گناہوں کی معافی ہے، اس شرط کے ساتھ کہ اب وہ انہیں دھرائے گا نہیں۔ پاکستان سے بالعموم اُس وقت لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، جب سفرِ حیات کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ مغفرت کی خواہش دیگر خواہشات پر غلبہ پا لیتی ہے۔ ایسے میں اگر اسے خبر ملے کہ حکومت اس کے اور اس کی مغفرت کے مابین حائل ہو گئی ہے تو ایسی حکومت کے بارے میں اس کے جذبات کیا ہوں گے؟
ریاست شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ انسانی ضروریات صرف مادی نہیں ہوتیں۔ یہ روحانی اور جمالیاتی بھی ہوتی ہیں۔ سیدنا مسیحؑ نے فرمایا تھا کہ انسان صرف اس رزق سے زندہ نہیں رہتا جو اسے روٹی کی صورت میں ملتا ہے۔ وہ رزق بھی اس کی ضرورت ہوتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے۔ اس لیے ایک ریاست کو صرف مادی حوالے ہی سے نہیں سوچنا چاہیے۔ حکومت نے سینما کی صنعت کو زندہ کرنے کے لیے سبسڈی دی ہے۔ میں اس کو درست سمجھتا ہوں کہ اس کا تعلق شہریوں کی جمالیاتی ضرورت کے ساتھ ہے۔ انسان کی روحانی ضرورت جمالیاتی ضرورت سے کسی طرح کم اہم نہیں۔
کوئی سبسڈی ایسی نہیں ہوتی جس سے سب استفادہ کر رہے ہوں۔ ریاست مختلف طبقات کو اٹھاتی ہے اور بالآخر وہ پوری اجتماعیت کی قوت بنتے ہیں‘ جیسے ایک پرزہ دوسرے کے ساتھ جڑجاتا ہے۔ ایک کی قوت سب کی قوت بن جاتی ہے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے کہ حکومت ہر قدم موجود وسائل ہی میں اٹھا سکتی ہے۔ حکومت سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے جو ماورائے وسائل ہو؛ تاہم حکومت سے یہ مطالبہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ وسائل تقسیم کرتے وقت توازن کو پیشِ نظر رکھے۔ 
اس سارے عمل میں ایک کردار وزارتِ مذہبی امور کا بھی ہے۔ اس وزارت کا نیا نام 'وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی‘ ہے۔ جہاں تک مذہبی امور کا معاملہ ہے تو حج پالیسی کے علاوہ اس کی کوئی افادیت اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون سے مذہبی امور ہیں جو یہ وزارت سرانجام دیتی ہے۔ سالانہ سیرت کانفرنس اب کوئی ایسا کام نہیں کہ جس کے لیے ایک پوری وزارت مختص کر دی جائے۔ رہی بین المذاہب ہم آہنگی تو اس میدان میں بھی کوئی قابلِ ذکر سرگرمی ہم نے نہیں دیکھی۔ اگر اس وزارت کی کارکردگی کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو غیر ضروری اخراجات کم کر کے، حج سبسڈی کو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ 
پھر یہ کہ معاشی معاملات کی اصلاح صرف ماہرینِ معیشت کا کام نہیں۔ اس کے لیے سماج کی تفہیم رکھنے والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوریت کو نظام ہائے حکومت میں اسی لیے فوقیت حاصل ہے کہ عوامی نمائندے سماج کا بہتر شعور رکھتے ہیں۔ اگر یہ کام ماہرین کا ہوتا تو ٹیکنو کریٹس کی حکومت دنیا میں سب سے بہتر شمار ہوتی۔ سماجیات کا علم رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ ایک معاشی پالیسی کے سماجی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو میرا مشورہ یہ ہو گا کہ وہ کابینہ میں متنوع پس منظر رکھنے والوں کو جمع کرے۔ اسی سے متوازن پالیسی بنانا ممکن ہو گا۔ سب سے اچھا تو یہ تھا کہ اس نوعیت کے فیصلے پارلیمنٹ میں زیرِ بچث آتے۔ 
حج پالیسی کے سیاق میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ سفر وہ کرے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس بحث کا محل نہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس باب میں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ رہا فرد تو اس کو الگ سے نصیحت کی جا سکتی ہے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ حج پر سبسڈی دینی چاہیے یا نہیں؟ توجہ اسی سوال کے جواب پر مرتکز ہونی چاہیے۔

Tuesday, February 5, 2019

تھِنک ٹینک کی عالمی درجہ بندی میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی پاکستان میں سہرفرست ، جنوبی ائشیا، میں پندرویں ، دنیا بھر میں ننانویں درجہ پر قرار پایا*


اسلام آباد (این ٹی ایس رپورٹ) ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آ ف پینسلو نیہ کے زیر انتظام تھنک ٹینک و سوِل سوسائٹی پروگرام نے عالمی سطح پر کام کرنے والے 8162 تھِنک ٹینک کی2018 کی سالانہ درجہ بندی کر کے فہرست شائع کر دی ہے۔ جو کہ دنیا بھر میں بیک وقت جاری کی ہے۔ 
اس عا لمی درجہ بندی کے مطابق پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) پاکستان میں پہلے نمبر پر ، جنوب مشرقی ایشیاء و پیسفک میں 15 ویں اور عالمی (Non-US) تھِنک ٹینکس میں99 نمبر پر رہا۔ تھنک ٹینک و سوِل سوسائٹی پروگرام گذ شتہ 13 سالوں سے عالمی سطح پر کام کرنے والے تھِنک ٹینک کی کا رکردگی کا مختلف پیمانوں اور زاویوں سے کڑا جائزہ لینے کے بعد ان کے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے۔ 
2018کی تھِنک ٹینک کی عالمی درجہ بندی کا اجرا ء کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، ایس ڈی پی آئی ،ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ عالمی سول سوسائٹی اور تھِنک ٹینکس کو درپیش تمام روکاوٹوں کے باوجود، ایس ڈی ڈی آئی نے اپنی درجہ بندی کو برقرار رکھا ہے اور عالمی سطح پر 44 ویں بہترین کوالٹی اشورینس، 53 ویں خودمختار و آزاد تھِنک ٹینک اور67 ویں بہتر ین ماحولیاتی پالیسی کے ادارے کے طور پرُ ابھرا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے عالمی سطح پر Non-US تھِنک ٹینکس میں 99 ویں پوزیشن حاصل کی ہے ، اور اس زمر میں ایس ڈی پی آئی پاکستان سے ایک واحد ادارہ ہے جسے 144 اعلی غیر امریکی تھِنک ٹینکس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے 25 پالیسی ریسرچ کے اداروں میں ایس ڈی پی آئی سہر فہرست رہا ۔
وائس چانسلر کمیٹی کے چیئرمین اور ریکٹر انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ پاکستانی تھِنک ٹینک کا عالمی درجہ بندی میں نمائیاں حیثیت پوری قوم کے لئے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کا دنیا کے اعلیٰ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ درجہ بندی پاکستان کے سافٹ امیج کی ایک اچھی مثال ہے، جس کی حمایت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں کو چوتھے صنعتی انقلاب کے محرکات کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاشرے کی ضرورت کے مطابق اپنی تحقیق اور نصاب کا جائزہ لینا ہو گا۔ 
اس موقع پر سابق سفیراورچیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر، ایس ڈی پی آئی شفقت کاکا خیل نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ایس ڈی پی آئی مسلسل دنیا کے 100 بہترین ریسرچ تھِنک ٹینکس میں شمار ہوتا ہے ۔ اگرچہ ، ایس ڈی پی آئی کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اس ادارے کے عملے، ماہرین اور قیادت کی لگن او ر انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ ادارہ دنیا کے بہترین اداروں کے درمیان اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ .
ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ سماجی تنظیموں کے لیے مواقع محدود ہو رہے ہیں جس کے باعث وہ مالی مشکلات کاشکار ہیں ۔ اس صورتحال میں سماجی خدمات کی انجام دہی انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر کے تھِنک ٹینکس کی کارکردگی دباو کا شکار ہے اور وہ پالیسی سازی اور اس کے عمل درآمد میں خاطر خواہ کردار ادا کرنا ممکن نہیں رہا ۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر محمود خواجہ نے کہا کہ پاکستان کے ہر شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جدید ریسرچ سے استفادہ کرناضروری ہے۔ ساری دینا میں ریسرچ پر سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی یقینی بنائی جاتی ہے۔

کچرے کے پیسوں کے بٹوارے پر ایم کیو ایم پاکستان کے ٹاؤن ممبر نے یوسی چئیرمن پر تھپڑوں کی بارش کردی


تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان گلستان جوہر ٹاؤن کے ممبر سمیع صدیقی نے کچرے کے پیسوں کے بٹوارے پہ تنازعہ کھڑے ہوجانے پر یوسی27 کے چیئرمین احترام الحق پر ٹاؤن انچارج ذیشان اسماعیل کی موجودگی میں تھپڑوں کی بارش کردی، اس بے عزتی سے شدید دل برداشتہ ہو کر احترام الحق نے کام کرنے سے انکار کردیا ہے اور گھر بیٹھ گئے ہیں، واضح رہے کہ سمیع صدیقی ممبر رابطہ کمیٹی ارشادظفیر کے انتہائی قریبی رشتے دار ہیں اور یوسی27 کے تمام معاملات میں ناصرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ چئیرمن اور وائس چیئرمین کو بھی آزادی سے کام نہیں کرنے دیتے۔

Monday, February 4, 2019

اسپیکر قومی اسمبلی کا شیخ رشید اور سعد رفیق کو پی اے سی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ

فیصلہ اجلاس میں بد نظمی سے بچنے کیلئے کیا گیا،اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیا

اسلام آباد( رپورٹ این ٹی ایس)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر ریلوے شیخ رشید اور ن لیگی رہنما سعد رفیق کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شیخ رشید اور سعد رفیق کو کمیٹی میں نہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پبلک اکائو نٹس کمیٹی میں بدنظمی پیدا نہ ہو۔سپیکر نے اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومت سے بھی بات چیت مکمل کر لی ہے۔ یاد رہے کہ شیخ رشید نے شہبازشریف کو چیئرمین پبلک اکائو نٹس کمیٹی بنانے پر شدید احتجاج کیا تھا تاہم بعدازاں انہوں نے حکومت کو پی ا ے سی کمیٹی کا رکن نامزد کرنے کیلئے درخواست کی تھی جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے شیخ رشید کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں رکنیت کیلئے نامزد کیا تھا۔

لاہور ، سپریم کورٹ نے تہرے قتل کے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تہرے قتل کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ دبئی میں ملازمت کے دوران پاکستان میں تہرے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو بیرون ملک ہونے کے تمام ثبوت دیئے مگر پاکستان واپس آنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ مدعی کے وکیل کا موقف تھا کہ گواہان کی شہادتیں ریکارڈ ہو چکی ہیں ضمانت منظور نہ کی جائے۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا مسئلہ ہے ہم قانون نہیں پڑھتے۔قانون کے مطابق فیصلہ سے ایک روز پہلے بھی عدالت درست سمجھے تو ضمانت لے سکتی ہے۔ کسی بے گناہ کو ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہیے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بیٹی کا خرچہ نہ دینے پر والد کیخلاف کیس کی سماعت

 آئندہ سماعت پر لڑکی فریحہ ملک کو پیش کرنے کا حکم

لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بیٹی کا خرچہ نہ دینے پر والد کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ابھی تک بیٹی کو عدالت میں پیش کیا نہ والد سے ملاقات کروائی۔ والدہ صبیجہ ملک نے بتایا کہ بیٹی بیرون ملک پڑھ رہی ہے اس لیے پیش نہیں ہوئی۔ خاوند عدالتی حکم کے باجود بیٹی کا خرچہ نہیں دے رہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ کے وسائل محدود ہیں تو بچی کو باہر کیسے پڑھ رہی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچے جب پائوں پر کھڑے ہو جائیں تو انہیں والدین کا سہارا بننا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ بچوں کی کفالت والد کی ذمہ داری ہے مگر یہ ایک حد تک ہے۔ 26 سالہ بچی کو تو اپنے 64 سالہ باپ کا سہارا بننا چاہیے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر لڑکی فریحہ ملک کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ :چیک بونس کے مقدمے میں ملزم گرفتار

تفتیش میں کسی کو گنہگار یا بے گناہ کرنا پولیس کا کام نہیں ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ
لاہور (رپورٹ این ٹی ایس) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیک بو نس کے مقدمے میں نامزد ملزم عدالت سے گرفتارکر لیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش میں کسی کو گنہگار یا بے گناہ کرنا پولیس کا کام نہیں یہ کام عدالت کا ہے۔ ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس شہادتیں اکٹھی کیوں نہیں کرتی۔ اس مقدمے میں پولیس نے ثبوت کیوں اکٹھے نہیں کئے۔ جو چار سوال عدالت نے پوچھے انہیں پر تفتیشی افسر نے کام کرنا تھا۔ تفتیش کرنا عدالت کا کام نہیں، اگر تفتیش کرنا ہمارا کام ہوتا تو انہی خطوط پر تفتیش کرتے ۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ جب سے چیک بونس کا قانون بنا ہے دستخط شدہ چیک چوری ہونے کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے۔چیک پر دستخط کر کے اپنے پاس کیوں رکھے جاتے ہیں دئیے کیوں نہیں جاتے۔اگر عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کی تو ملزم کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ مدعی اللہ رکھاکا کہنا تھا کہ ملزم کوکاروبار کے لیے رقم دی واپسی کا تقاضا کیا تو چیک دے دیا گیا جو بعد میں بونس ہو گیا۔ 

Wednesday, January 30, 2019

Hundreds of thousands of fish dead in Australia


TNS REPORT: Locals around the Darling River were confronted with a sea of white, as dead fish carpeted the waters near the Outback town of Menindee.
It comes weeks after up to a million fish were killed - with scientists pointing to low water and oxygen levels as well as possibly toxic algae - in another mass death in the food-growing region.
Inspectors from the New South Wales Department of Primary Industries visited the site and said they found "hundreds of thousands of fish have died".
"Further fish deaths in the Darling River are anticipated as a significant number of fish have been observed under stress," the department said.
With temperatures expected to rise and no rain forecast, there remained a "high risk of further fish kills over the coming days and week".
Experts and locals said they stem from the systemic depletion and pollution of the river.

The inspectors added that the latest bout of kills were likely linked to "critically low levels of dissolved oxygen" caused by a sharp drop in temperatures after an extended period of hot weather.
New South Wales Regional Water Minister Niall Blair said his government was out of options, with aerators in rivers only a "Band-Aid solution".
He added: "The only thing that will really change these conditions... is fresh water coming through the system and there is just no possibility of that at the moment."


سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن، مریض کہاں جائیں؟


سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث مریض کراچی کے اسپتال کے احاطے میں اسٹریچر پر بے یارو مددگار پڑے ہیں
کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے آج دوسرے روز بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھا ہے۔

کراچی کے جناح، سول، لیاری و دیگر اسپتالوں میں او پی ڈیز بند پڑی ہیں، ڈاکٹروں نے تنخواہیں، الاؤنسز اور ہیلتھ انشورنس میں اضافے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
سول اسپتال کراچی میں خواتین ڈاکٹرز احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بلند کر رہی ہیں
کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ینگ ڈاکٹرز تنخواہوں میں اضافہ نہ کیے جانے پر دوسرے روز بھی سراپائے احتجاج ہیں، ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے او پی ڈیز میں کام نہیں ہورہا ہے اور مریض رل رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بھی اس ہڑتال میں شامل ہوگئی ہے جس کی کال پر سندھ کے شہروں حیدر آباد، ٹھٹھہ، جیکب آباد، شکار پور، سکھر، کشمور اور پڈعیدن میں سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹراحتجاج کرتے ہوئے او پی ڈیز کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
سول اسپتال کراچی میں ڈاکٹرز کے احتجاج کا ایک منظر
سکھر، روہڑی، صالح پٹ، پنو عاقل اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں بھی ینگ ڈاکٹروں نے او پی ڈیز میں کام چھوڑ رکھا ہے۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا ہے۔

سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
سول اسپتال کراچی میں ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں
حیدرآباد کے سول اسپتال، شاہ بھٹائی، تعلقہ اسپتال سمیت تمام سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بھی بند ہیں۔

ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں دوسرے صوبوں پنجاب اور خیبرپختون خوا کے ڈاکٹروں کے مساوی مراعات دی جائیں۔

سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
کراچی کے اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے مریض خواتین او پی ڈی کے باہر ڈاکٹروں کی منتظر ہیں
ٹھٹھہ کے سول اسپتال جبکہ جیکب آباد، شکارپور اور کشمور کے اسپتالوں میں بھی ڈاکٹر آج دوسرے روز بھی احتجاجاً ہڑتال کیے ہوئے ہیں اورانہوں نے کام چھوڑ رکھا ہے۔

پی ایم اے کی کال پر پڈعیدن میں دوسرے روز بھی سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز ڈیوٹی پر نہیں آئے۔

سندھ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا دن،مریض کہاں جائیں؟
کراچی کے اسپتال میں ڈاکٹر ہڑتال کر رہے ہیں اور مریض خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ ان کا انتظار کر رہی ہیں
سب جگہ ڈاکٹرز کا یہی مطالبہ ہے کہ انہیں پروموشن کے ساتھ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو مستقل کیا جائے نیز سندھ کے ڈاکٹروں کی مراعات خیبر پختون خوا اور پنجاب کے ڈاکٹروں کے برابر کی جائیں۔

Tamil Nadu Politician Arrested Over Morphed Photo Of PM Modi On Facebook



tns report
A member of Tamil Nadu party MDMK was on Sunday arrested for allegedly posting a morphed image of Prime Minister Narendra Modi on Facebook. The police said the accused caricatured PM Modi and depicted him with a begging bowl.
Sathiyaraj alias Balu, an MDMK worker in Sirkazhi town, was arrested on Sunday on the complaint of a local BJP leader, J Swaminathan. He has been charged with intent to disrupt peace and to create ill-will between classes, news agency AFP reported.
Sathiyaraj has been sent to judicial custody after being produced in court today, the police said.
The MDMK worker had allegedly posted the picture on January 26 when members of his party were protesting against PM Modi's visit to Madurai. The party accuses the PM of betraying the interests of Tamil Nadu.
The arrest comes barely a month after a Manipur journalist was sentenced to a year's detention under the National Security Act. Kishorechandra Wangkhem, 39, was initially detained on November 27 to "prevent him from acting in any matter prejudicial to the security of the state and maintenance of public order". The reason for his detention was a Facebook video that showed him criticising Chief Minister N Biren Singh as well as PM Modi.
Critics called the arrests alarming in the world's largest democracy.
"There has been a worrying crackdown on free speech and dissent in India, whether slogans, social media commentary against ruling leaders, or arrests of journalists and activists who criticise the government," Meenakshi Ganguly, South Asia director at Human Rights Watch,


Monday, January 28, 2019

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت


اسلام آباد ہائی کورٹ نے میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں،وفاق ،نیب اورجیل سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری 
کیا جیل میں نواز شریف کا میڈیکل چیک اپ نہیں ہورہا ؟جسٹس عامر فاروق کا استفسار
اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کیلئے وفاق ، چیئرمین نیب ، احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹس جاری کردیئے ۔ پیر کے روز نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر رہائی کی درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی ۔ لیگی رہنما مریم اورنگزیب ،راجہ ظفر الحق اور عرفان صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ سزا کے خلاف زیر سماعت اپیل کے فیصلے تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کیاجائے العززیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سزامعطل کرکے ضمانت پر رہا کیاجائے میڈیکل بورڈ کی سترہ جنوری کی رپورٹ بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کے قانونی مشیر نے عدالت میں پیش کی فاضل جج عامر فاروق نے استفسار کیا کیا جیل میں نواز شریف کو میڈیکل چیک اپ نہیں ہورہا نواز شریف کی میڈیکل گراؤنڈ پر پٹیشن الگ سے سنیں خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ میڈیکل بورڈ بنا ہوا ہے عدالت رپورٹ طلب کرے فاضل جج نے ایک بار پھر استفسار کیا آپ کے پاس رپورٹ کی کاپی موجود نہیں ہے خواجہ حارث نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انہیں رپورٹ کی کاپی دیر سے فراہم کی جاتی ہے بعد ازاں خواجہ حارث نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف عارضہ قلب اور گردے میں تیسرے درجے کی بیماری کا شکار ہیں نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو دیگر مرض بھی لاحق ہیں عدالت نے استفسار کیا نواز شریف کی تین میڈیکل رپورٹ ہیں خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل چیک اپ کے لئے میڈیکل بورڈ پچیس جنوری کو تشکیل دیا گیا عدالت نے استفسار کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس میڈیکل رپورٹس جاتی ہیں خواجہ حارث نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے عدالت کو بتایا جیل حکام کو رپورٹس فراہم کی جاتی ہیں کچھ ٹیسٹ کی رپورٹس انہیں فراہم نہیں کی گئیں نواز شریف کی فیملی کو بھی ان کی صحت کے حوالے سے خدشات ہیں خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی میڈیکل بورڈ نے گردہ اور دل کے عارضے کے باعث نوازشریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی ہے عدالت نیب کو نوٹس جاری کردیئے اور سپیشل بورڈ کی رپورٹ منگوا کر دیکھ لیں یہ درخواست پہلی سزا معطلی درخواست میں ایڈیشن ہے اس میں طبی بنیادوں پر سزا معطل مانگی گئی ہے جس کے بعد عدالت نے نواز شریف کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت چھ فروری تک ملتوی کردی۔