The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Tuesday, March 5, 2019

غیر اخلاقی بیان: پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ منظور کر لیا،ترجمان وزیر اعلی ہاوس
صمصام بخاری کو وزیر اطلاعات پنجاب بنائے جانے پر غور

لاہور(این ٹی ایس رپورٹ) ہندو کمیونٹی سے متعلق غیر اخلاقی بیان پر وزیراعلی پنجاب کی جانب سے استعفیٰ طلب کیے جانے کے بعد وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ترجمان وزیر اعلی ہاؤس شہباز گل کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ منظور کر لیا۔وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے فیاض الحسن چوہان کے بیان سے مکمل لاتعلقی اور رنجیدگی کا اظہار کیا ہے۔عثمان بزدار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی ایسے بیان کی اجازت نہیں دے گی جس سے رنگ، نسل، مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی کی دل شکنی ہو۔ترجمان وزیراعلی کے مطابق عثمان بزدار نے فیاض چوہان سے ملاقات میں انہیں اپنی ناراضی سے آگاہ کیا جب کہ اس ملاقات کے بعد فیاض چوہان نے وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے فیاض چوہان کا وزارتِ اطلاعات کے قلمدان سے استعفے کو قبول کرلیا ہے،یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی فیاض الحسن چوہان کے بیان کا نوٹس لیا تھا اور وزیراعلی پنجاب کو فوری ایکشن لینے کا حکم دیا تھا۔یاد رہے کہ فیاض الحسن چوہان کے حوالے سے تیسرا بڑا ایشو سامنے آیا ہے جب انہوں نے ہندو برادری کے حوالے سے نامناسب الفاظ استعمال کیے اس پر نہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا حتیٰ کہ فیاض الحسن چوہان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو دی گئی وضاحت سے بھی پارٹی قیادت قطعی طور پر مطمئن نہیں ہوئی۔فیاض الحسن کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ انہیں ہر صورت استعفیٰ دینا ہے ان کی جگہ صمصام بخاری کو وزیر اطلاعات پنجاب بنائے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وفاقی اور پنجاب دونوں سطح پر بات بڑی واضح طور پر کہہ دی گئی کہ فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے لیا جائے گا لیکن اس کے باوجود فیاض الحسن چوہان مسلسل اپنے ویڈیو پیغام میں تردید کررہے ہیں اور وضاحت کر رہے ہیں کہ میری آج ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات ہوئی ہے اپنے بیان سے متعلق وزیر اعلیٰ کو وضاحت دے دی ہے استعفیٰ کی خبروں میں صداقت نہیں ہے میرا بیان پاک بھارت کشیدگی سے متعلق بھارتی افواج اور مودی کے خلاف تھا۔پاکستان میں موجود ہندو برادری سے معذرت کر چکا ہوں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں کام کرتے رہیں گے۔

گوگل میپ میں ’آے آر نیوی گیشن فیچر‘ پیش کرنے کی تیاری



سان فرانسسكوگوگل نے اپنے نقشے اور اسے وابستہ معلومات سے دنیا کو فائدہ پہنچایا ہے اور اب گوگل نے آگمینٹڈ ریئلٹی (اے آر) کو گوگل مپیس کا لازمی حصہ بنانے کا فیصلہ کیا جس کے تحت آپ کسی بھی مقام پر عمارت، سڑک یا کسی تعمیرات کی تفصیل معلوم کرسکیں گے۔
اس ضمن میں گوگل نے ایک ویڈیو بھی ریلیز کردی ہے۔ جیسے ہی آپ کیمرہ آن کرکے کسی سڑک کی جانب اس کا رخ کریں گے تو گوگل میپ پر ٹیگ کردہ سڑکیں اور دیگر تفصیلات نمودار ہوجائیں گی اور یوں آپ پورے منظر سے واقفیت حاصل کرسکیں گے۔ اس طرح کسی بھی جگہ جاکر وہاں اس مقام کی تفصیلات کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور بس فون ایپ کھولیے اور سارے علاقے سے خود واقف ہوجائیں۔
اگر آپ غلط رخ پر جارہے ہوں گے تو تیر کا رخ اس کی نشاندہی کرکے آپ کی رہنمائی کرتا ہے۔ تاہم گوگل نے اس کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا ہے۔  بعض افراد کو یہ فیچر ٹیسٹ کرنے کے لیے دیا گیا ہے اور اسی بنا پر وال اسٹریٹ جرنل نے اس کی اطلاع دی ہے۔ تاہم دیگر ڈویلپر اور کوڈر بھی اسے استعمال کررہے ہیں۔
فیچر کے آن ہونے پر اگر آپ کیمرہ سامنے رکھیں گے تو اس کے فیچر آن ہوجائیں گے جبکہ فون کا رخ زمین کی جانب کرنے پر صرف کیمرا ہی ایکٹو ہوتا ہے۔ اے آر کی صورت میں اب منزل تلاش کرنا اور بھی آسان ہوجائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسے آئی او ایس اور اینڈروئڈ دونوں کے لیے ہی استعمال کیا جائے گا۔


Monday, March 4, 2019

امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے،قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں، طالبان ترجمان

کابل (این ٹی ایس رپورٹ)افغان طالبان نے کہا ہے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم تاحال فریقین کے درمیان کسی معاہدے یا معاہدے کے مسودے پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا دور دو دن کے وقفے کے بعد ہفتہ کو شروع ہوا تھا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فریقین کے درمیان بات چیت قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زیرِ بحث معاملات انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے ہیں اس لیے مذاکرات کو بہت دیکھ بھال کے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوری میں ہونے والی بات چیت میں افغانستان سے ’قابض طاقتوں‘ کے انخلا اور اس ملک کو دوبارہ دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاقِ ہوا تھا اور مذاکرات کے اس دور میں ان دونوں معاملات کی نوعیت اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ تاحال فریقین کے درمیان کسی معاہدے کی دستاویز یا معاہدے پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا ہے۔خیال رہے کہ ہفتہ کو شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل گذشتہ پیر سے مذاکرات کا تین روزہ دور منعقد ہوا تھا۔مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد نے اپنیٹویٹ میں کہا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ہونے والی یہ بات چیت سست روی سے مگر مستحکم طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اتفاقِ رائے اور حتمی طور پر افغانستان میں امن کے لیے آہستگی سے قدم بڑھائے جا رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فریقین چار کلیدی معاملات پر توجہ مرکوز رکھیں گے جن میں افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا، القاعدہ اور داعش کے خلاف جنگ میں طالبان کا تعاون، جنگ بندی اور افغان حکومت سمیت تمام دھڑوں کی بات چیت میں شمولیت شامل ہیں۔طالبان نے اب تک کابل میں افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے اور اْن کا موقف ہے کہ افغان حکومت صرف ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔اس ماہ کے آغاز میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ملک کے کسی بھی شہر میں دفتر کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم طالبان نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری دوحہ میں موجود طالبان کے دفتر کو تسلیم کرے۔کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں بلکہ وہ صرف امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق طالبان اور امریکا کے درمیان جس معاہدے پر بات ہو رہی ہے اس کے تحت غیر ملکی افواج ایک مقررہ مدت (18 ماہ) کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پر عائد سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو گا۔نیز طالبان اس بات کی ضمانت بھی دیں گے کہ افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہوں گی۔خیال رہے کہ 2014 میں بین الاقوامی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے اس ملک میں طالبان کے اثر و رسوخ اور زیرِ کنٹرول علاقے میں اضافہ ہوا ہے اورایک اندازے کے مطابق افغانستان کی تقریباً نصف آبادی، یعنی ڈیڑھ کروڑ لوگ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آباد ہیں۔

پاک ۔بھارت حالیہ کشیدگی میں وزیراعظم عمران خان نے دانشمندی کا مظاہرہ

ایسے اقدامات کئے جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوا، اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، مودی انتخابات میں شکست سے بچنے کیلئے خطہ میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے…سینئر حریت رہنماء محمد فارق رحمانی اور سیّد عبداﷲ گیلانی کا نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (این ٹی ایس رپورٹ) سینئر حریت رہنماء محمد فارق رحمانی اور سیّد عبداﷲ گیلانی نے کہا ہے کہ پاک۔بھارت حالیہ کشیدگی میں وزیراعظم عمران خان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوا، اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، نریندرا مودی انتخابات میں شکست سے بچنے کیلئے خطہ میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے پیر کو نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع حریت رہنماء سیّد اعجاز رحمانی، محمد رفیق ڈار اور شیخ متین ان کے ہمراہ تھے۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ بھارت کے مذموم مقاصد سے دنیا اب واقف ہو چکی ہے اور مودی خطرناک کھیل کے ذریعہ خطہ کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک۔بھارت کشیدگی کے دوران وزیراعظم عمران نے نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اور پوری دنیا پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے خلاف گرفتاریوں کی ریاست گیر مہم چلائی گئی اور غلام نبی سمجھی اور سمیت دیگر رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے قائدین اور کارکنوں کو سینکڑوں کی تعداد میں کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر عرصہ دراز سے اس خطہ میں پرامن جمہوری طریقوں سے دعوت اسلامی کا فریضہ انجام دیتی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس موقع پر سیّد عبداﷲ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کشمیریوں پر ہونے والے مظالم میں بھارت کے ساتھ برابر کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور مودی سرکار ہر قیمت پر اقتدار کے ایوانوں پر عوامی مخالفت کے باوجود قابض رہنا چاہتی ہے اور وہ جموں و کشمیر پر بھی مسلط رہنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس لئے وہ خطہ میں جنگ ماحول پیدا کرنے کی کوشش رہی ہے ۔

امریکی ادارے نے بھارتی الزام مسترد کردیا

بھارتی طیارے کو گرانے کے لیے ایف16کے استعمال کے شواہد نہیں،رپورٹ 
واشنگٹن(این ٹی ایس رپورٹ)امریکی ادارے نے آزاد کشمیر میں بھارتی دراندازی کے خلاف کارروائی میں ایف 16طیارے کے استعمال کے بھارتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی طیارے کو مار گرانے کے لیے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کا استعمال کیا‘ جے ایف 17 تھنڈر چینی ساختہ جنگی طیارہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا.امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی طیارے کو گرانے اور پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں لینے کی کارروائی میں ایف سولہ طیارہ استعمال ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں.رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارتی طیارہ روسی ساختہ ایم آئی جی21 تھاجو 1960 سے بھارتی فضائیہ کے زیر استعمال ہے اور پاکستان کی جوابی کاروائی میں تباہ ہونے والا طیارہ مگ21ہی تھا.اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایشیا اسپیسفک کالج آسٹریلیا کے ایک نشانک موٹوانی نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ یہ طیارے مختلف حادثات کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی پائلٹس اس جہاز کو اڑتا تابوت قرار دیتے ہیں. رپورٹ کے مطابق بھارت کے بھاری دفاعی بجٹ کے باوجود ان طیاروں کا استعمال مسائل کی نشاندہی کرتا ہے کیوں کہ بجٹ میں ایک بڑی رقم اس کی دیکھ بھال اور تنخواہوں کی مد میں مختص کی جاتی ہے.رپورٹ میں بھارتی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیقات کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ طیاروں کو جدید بنانے کے لیے بجٹ کی رقم کا 14 فیصد حصہ خرچ ہوتا ہے جو قطعی طور پر ناکافی ہے. قبل ازیں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کارروائی میں اے آئی ایم-120سی 5 ایڈوانس میڈیم رینج فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل فائر کیا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایف16 وائپر طیاروں کا استعمال کیا گیا. اس کے علاوہ بھارت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک پاکستانی طیارے کو مار گرایا تھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے ایف 16 طیارے کا استعمال ہی نہیں کیا تو مار گرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں لڑاکا طیارے کی تباہی بھارتی فوج کے لئے ’’ منحوس گھڑی‘‘ ہے، نیویارک ٹائمز

واقعہ نے نہ صرف بھارتی فوج کی صلاحیتوں بارے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں بلکہ امریکا کو چین کا اثر و رسوخ روکنے کے لئے بھارتی فوج پر تکیہ کرنے کی اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے
ایک ایسے ملک جس کی فوج کی افرادی قوت بھارتی فوج سے تقریباً نصف اور جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے دفاعی بجٹ کا ایک چوتھائی ہے کے ساتھ معمولی جھڑپ میں بھارت کا ایک لڑاکا طیارہ گرجانا اور اس کے پائلٹ کا گرفتار ہوجانا بہت کچھ کہہ رہا ہے، امریکی اخبار کی رپورٹ

نیو یارک (این ٹی ایس رپورٹ)امریکا کے موقر روزنامے ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں لڑاکا طیارے کی تباہی بھارتی فوج کے لئے ’’ منحوس گھڑی‘‘ہے۔امریکی اخبار نے کہا ہے کہ بھارتی طیارے کی تباہی نے نہ صرف بھارتی فوج کی صلاحیتوں کے بارے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں بلکہ امریکا کو بھی چین کامسلسل بڑھتا ہوا اثر و رسوخ روکنے کے لئے بھارتی فوج پر تکیہ کرنے کی اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔اخبار نے اپنے خصوصی مضمون میں بھارت کی فوجی صلاحیت بارے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کو جو چینلجز درپیش ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ،ایک ایسے ملک جس کی فوج کی افرادی قوت بھارتی فوج سے تقریباً نصف اور جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے دفاعی بجٹ کا ایک چوتھائی ہے کے ساتھ ایک معمولی جھڑپ میں بھارت کا ایک لڑاکا طیارہ گرجانا اور اس کے پائلٹ کا گرفتار ہوجانا بہت کچھ کہہ رہا ہے۔نیویارک ٹائمزکی نمائندہ ماریہ ابی حبیب کی رپورٹ میں بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے حقائق کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بھارتی فوج اس وقت ’’خطرناک صورتحال ‘‘ سے دوچار ہے، باقاعدہ جنگ چھڑ جانے کی صورت میں بھارتی فوج کے پاس صرف10 دن کا ایمونیشن دستیاب ہے،68 فیصد بھارتی فوج کے پاس دفاعی سازوسامان اتنا پرانا ہے کہ ان کو باضابطہ طور ’عہد رفتہ کی یاد ‘کہا جا سکتا ہے۔انھوں نے ایک سرکاری امریکی ڈسپیچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا طیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد مجبور ہو چکا ہے کہ وہ بھارت کو اپنا مرکزی اتحادی بنانے کے فیصلے کا از سر نو جائزہ لے کیونکہ وہ پہلے ہی بھارت کی خاطر پاکستان سے اپنے تعلقات خراب کر چکا ہے۔نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ پانچ دہائیوں میں پہلی بار ہونے والی یہ فضائی جھڑپ بھارتی کی دفاعی صلاحیت کا ایک امتحان بن کر سامنے آئی ہے جس نے مبصرین کو بھی گنگکر دیا ہے۔انھوں نے لکھا کہ بھارتی مسلح افواج میں اتحاد کا بھی فقدان ہے۔بری، فضائی اور بحری بھارتی فورسز مل کر کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مقابلہ بازی میں مصروف رہتی ہیں۔بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے رکن گوراو گوگائی کا کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کو جدید آلات کی قلت کا سامنا ہے لیکن انہیں اکیسویں صدی میں فوجی کارروائیاں کرنا ہیں۔نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کنٹرول لائن سے پاکستانی حدود میں گرنے والے بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کے ملبے کی تصویر بھی شامل کی ہے جس کے پاس ایک پاکستانی فوجی اہلکار کھڑا ہے۔

مودی وضاحت کریں کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، کانگرس

خود غرضانہ مفادات اور رافیل طیاروں پر سیاست کے باعث ملک کو نقصان اٹھانا پڑا،بھارتی اپوزیشن 
 نئی دہلی(این ٹی ایس رپورٹ)بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت کو بھی اپنے مشن کی کامیابی پر شکوک و شبہات ہیں. بھارتی وزیراعظم نے ایئر فورس کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصان کی وجہ قرار دیا تھا.کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی یہ بیان دے کر کہ ملک کو رافیل طیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اگر یہ طیارے بھارت کے پاس ہوتے ہوئے تو نتائج مختلف ہوتے بذات خود پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں. نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہاکہ آخر اس بیان کا مطلب کیا ہے بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کانگریس نے کہاکہ نہ تو ہم نے پہلے فضائی کارروائی کے ثبوت مانگے نہ اب اس کا مطالبہ کررہے ہیں.انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم خود اس بات کی وضاحت کریں کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، اس کے ساتھ انہوں نے نریندر مودی کو فرانسیسی ساختہ طیاروں کی خریداری کے اولین معاہدے کو منسوخ کرنے پر ان کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا. واضح رہے کہ نریند مودی نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا.  رافیل طیاروں کی آمد میں تاخیر کی سراسر ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے‘انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’’جناب وزیراعظم کیا آپ کو کوئی شرمندگی نہیں آپ نے 30 ہزار کروڑ روپے چرا کر اپنے دوست انیل امبانی کو دے دیے، رافیل طیاروں کی خرایداری میں تاخیر کے ذمہ دار صرف اور صرف آپ ہیں۔

پاکستان کے خلاف بہت سی سازشیں ہورہی ہیںجن کے متعلق وزیر خارجہ سے ملاقات کر کے آگاہ کر وں گا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر

مظفرآباد(این ٹی ایس رپورٹ)لائن آف کنٹرول پر جاری بھارتی جارحیت ،شہری آباد ی پر گولہ باری ، فائرنگ اور ملک میں ہنگامی صورتحال کے تناظر میں آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اہم اجلاس سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان ، لیڈر آف دی اپوزیشن چوہدری محمد یاسین ، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمدخان ، جماعت اسلامی کے سابق امیر عبدالرشید ترابی، سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ، تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عبدالماجد خان نے علیحدہ علیحدہ قراردادیں پیش کیں ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اپنی قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نومبر 1947میں جموں میں دو لاکھ مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ 1971,1965اور 1989کے بعد ہزاروں افراد کو بالخصوص پونچھ ،بارہ مولا ، مقبوضہ کشمیر سے جان بچا کر آزادکشمیر آنا پڑا، مہاراجہ نے دونوں حکومتوں کو معاہدہ قائمہ کی پیشکش کی پاکستان نے تجویز مان لی لیکن بھارت نے نہ مانی ، بھارت طاقت سے آزادکشمیر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ 27اکتوبر کو مہاراجہ سے زبردستی الحاق ہندوستان کی دستاویز پر دستخط کرائے گئے، اس پر بھی لکھا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ 5جنوری 1949کو باضابطہ جنگ بند ہوئی۔ پاکستان کو نامساعد حالات میں کشمیریوں کو بچانے کے لیے مداخلت کرنا پڑی، 1971میں بھارت کی سازش سے پاکستان کو دولخت کیا گیا۔ دہشت گردی کی جنگ میں 75ہزار سویلین شہید ہوئے ۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود وطن عزیز قائم ودائم ہے۔ پاکستان کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اٹھا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کے مختلف ادوار ہیں۔ ایک دور1947 والا ہے جب شیخعبداللہ کو وزرات عظمی سے برطرف کیا گیا پھر 1987میں مقبوضہ کشمیر میںانتخابی اتحاد قائم ہوا جس کے نتیجہ میں الیکشن لڑا گیا لیکن بھارتی الیکشن کمیشن اپنی غیر جانبداری برقرار نہ رکھ سکا اور جیتے ہوئے اتحاد کو ناکام کیا گیا۔افغانستان میں روس کی ناکامی کے بعد کشمیریوں میں بھی خواہش ہوئی کہ منحوس لکیر کو ختم کیا جائے اور اس طرح یہاں پر بھی مزاحمتی تحریک شروع ہوئی ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق محکوم قوموں کو مسلح جدوجہد کی اجازت ہے۔ اس کے بعد بھی کشمیر بھر میں بھارت کو موقع دیا اور بندوق کو نیچے رکھا ،2016میںپھر برہان وانی کی شہادت کے بعدمزاحمتی تحریک میں نیا فیز آیا۔ اس سے قبل مقبول بٹ کو تہاڑ کی جیل میں شہید کیا گیا ۔ اس کے بعد افضل گوروکو شہید کیا گیا۔ افضل گورو کی سزائے موت کے متعلق بھارتی سپریم کورٹ نے لکھا کہ اسے بھارت کے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے پھانسی دی گئی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد یہ تحریک کشمیر کے نوجوانوں کے ہاتھ منتقل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے پی ایچ ڈی، ایم فل ، اور انجینئرزکے ہاتھوں میں بندوق ہے۔اس پر بھی دنیا کو توجہ دینا ہوگا۔ سی آر پی ایف کے ذریعہ کشمیریوں کی تذلیل کی جار ہی ہے۔ ،خواتین کی عصمت دری کی جاری ہے۔ پلوامہ واقع میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی اور اس حوالہ سے بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ بھارت جھوٹ بول رہا ہے۔ مودی کے دور اقتدار میں کوئی اقلیت محفوظ نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ہندوستانی وزیر خارجہ کو او آئی سی میں بلانا غلط اقدام تھا۔ بھارت نے نہ صرف ایل او سی بلکہ انٹرنیشنل بارڈر کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ اب شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھارت نے کی ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق دیا ہے کہ پاکستان کی فوج آزادکشمیر میں کشمیریوں کی حفاظت کے لیے ہے جبکہ بھارت کی فوج قابض فوج ہے۔پاکستان پر جب بھی کوئی الزام لگایا جاتا ہے تو کشمیریوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ آزادکشمیر حکومت کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ دیا جائے۔ ۔فلسطین کوبھی دیا گیا تھا۔ آزادکشمیر کی حکومت اور حریت کانفرنس پر مشتمل تحریک کو مبصر کا سٹیٹس دیا جائے۔ پاکستان کے خلاف بہت سی سازشیں ہورہی ہیںجن کے متعلق وزیر خارجہ سے ملاقات کر کے آگاہ کر وں گا۔ او آئی سی نے جو قرارد اد پاس کی ہے اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کے دورہ لائن آف کنٹرول کے دوران چڑی کوٹ سیز فائر لائن پر بھارت فائرنگ سے شہیدہونے والوں کیلئے معاوضوں کی رقم تین لاکھ سے بڑھا کر10لاکھ کرنے کی بات کی تھی جس سے انہوں نے اتفاق کیا تھا مگر ا س پر عملدرآ نہ ہو سکا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور آزادکشمیر کی عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی جان ومال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ وطن عزیز کے موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت کو چاہیے کہ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے الزامات اور کیس واپس لیے جائیںتاکہ ملک میں قومی اتفاق کی فضا برقرار رہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے وطن کے خلاف باہر کی دنیا میں سازشیں ہورہی ہیں ان سے بچنے کی پوری کوشش کی جانی چاہیے۔ اس وقت وطن عزیز کو یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے ، یہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ نواز شریف ایک محب وطن رہنما ہیں۔ وفاقی وزراء کو غیر ذمہ دارانہ اگفتگو سے گریز کر نا چاہیے۔ اگر مشرف ،واجپائی ملک سکتے ہیں تو عمران خان ، شہباز شریف اور آصف زرداری ہاتھ نہیں ملا سکتے ۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں قوم میں کمزوری پیدا کرتی ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر وطن کی خاطر چوہدری مجید،چوہدری یاسین، سردار عتیق احمد ، عبدالماجد خان ہم سب ایک ہیں۔ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کانفرنس کا انعقاد کیا جائے ۔ جس میں لائحہ عمل بنایا جائے اور کشمیر کے حوالہ سے حکومت پاکستان کو مشترکہ تجاویز دی جائیں ۔ سفارت کاری میں جارحانہ رویہ اپنایا جائے۔ ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل وفود باہر بجھوائے جائیں۔ نارتھ امریکہ سے لیکر یونان تک تمام Diaspora کو متحرک کیا جائے تاکہ وہ کشمیر کے حوالہ سے کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں جو لوگ شہید ہوئے ان کے حوالہ سے بھی بات کی جانی چاہیے۔ اپنی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے۔ بھارت نے سیز فائر لائن پر جو باڑ لگا رکھی ہے اور اتنی بڑی باڑ لگا رکھی ہے ، ایسے حالات میں یہاں سے کیسے کوئی مقبوضہ کشمیر داخل ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو عالمی برادری سے بات کرنی چاہیے۔ conflict Managment میں پاکستان اور بھارت فریق ہیں۔ دو طرفہ بات چیت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ آزادکشمیر ، گلگت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یقین دلاتا ہوں ،پاکستان کے 22کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ صحافی ندیم صدیقی کے خاندان کی مالی معاونت کی جائے گی۔ لیڈر آف دی اپوزیشن چوہدری محمد یاسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اوآئی سی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بروقت قراردادپاس کرنے پر مشکور ہیں۔ حکومت پاکستان کو او آئی سی وزیر خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی کوئی منطق نہ تھی اس اجلاس میں پاکستان وزیر خارجہ کو شرکت کرنی چاہیے تھی۔ تمام جماعتیں مشاورت کر کے لندن میں بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرسکیں۔

کشمیر میںگورنر راج نافذ کیا گیا تا کہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے عبدالرشید ترابی

 بھارتی منصوبے میں بری رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے پابندی عائد کی گئی 

مظفرآباد(این ٹی ایس رپورٹ) کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل ممبر قانو ن ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کی 70سال سے تعلیمی،سماجی اور سیاسی سطح پر حق خودارادیت کو زندہ رکھنے میں بڑی گراں قدر قربانیاں ہیں ،جماعت اسلامی نے شیخ عبداللہ کا مقابلہ کیاجماعت اسلامی کے اداروں کی خدمات کے ہم متحرف ہیں آر ایس ایس کا طویل عرصے سے ایجنڈا تھا جس کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا تا کہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے جس میں بری رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے منصوبہ بندی کے تحت جماعت اسلامی پابندی عائد کی گئی ،ان خیالا ت کااظہار انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،عبدالرشید ترابی نے کہاکہ نریندر مودی دوسر ہٹلر بن چکا ہے پاکستان کے خیر سگالی اقدامات کے باوجود جنگی جنون میں مبتلا ہو کر خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے اقوا م متحدہ ،عالمی برادری اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور ہندوستان پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق فراہم کرے ،انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی اپنا حق مزاحمت سیاسی،سفارتی اور عسکری جدوجہد ہندوستان کے جبر وتشدد کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے نوجوانوں کے ہیرو برہان وانی شہید اور عادل ڈا ر ہیں نوجوان ہندوستان کے ہتھکنڈوں کے ردعمل کے طور پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حق مزاحمت کو اقوا م متحدہ کا چارٹر تسلیم کرتا ہے دنیا کی آزادی کی تحریکیں سفارتی ،سیاسی اور عسکری حمایت سے آگے بڑھتی ہیں کشمیری ہندوستانی فوجی قبضے کے خاتمے کے لیے سیاسی ،سفارتی اور عسکری جدوجہد کررہے ہیں ان کی ہر سطح پر مدد کی جانی چاہیے ،انہوں نے کہاکہ کشمیری پرامن حل چاہتے ہیں اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں پوری قوم،مسلم امہ اور زند ضمیر شخصیات کشمیریوں کی پشت پرہیں ،عبدالرشید ترابی نے کہاکہ او آئی سی کے اجلاس میں ہندوستان کی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے کی ہم مذمت کرتے ہیں پاکستان کی عدم موجودگی کے باوجود کشمیریوں کے حق خودارادیت کی قرارداد خوش آئند ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اہم دارلحکومتوں کا دور کریں اور پارلیمانی وفود بھیجنے کا اہتمام کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اور ہرسطح پر جو یکجہتی کا ماحول پیدا ہوا ہے اس کو قائم رہنا چاہیے بین الاقوامی ادارے سلامتی کونسل،اوآئی سی کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ بیس کیمپ کے حقیقی کردار کو فعال کرنا چاہیے اسمبلی اور حکومت کو عالمی اداروں میں مبصر کا سٹیٹس حاصل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے ،انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے غیر اعلانہ جنگ شروع کررکھی ہے وزیر اعظم ،ممبران اسمبلی کوعوام کے درمیان رہنا چاہیے اور متاثرین کے مسائل ان کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ کسی سطح پر بھی احساس محرومی سے دوچار ہونے سے بچایا جائے ۔

At least 23 dead after tornadoes touch down in Alabama and Georgia


A devastating series of tornadoes ripped through Alabama on Sunday, killing at least 23 people in one county.

The victims including children, died in Lee County, said Sheriff Jay Jones. At least 12 of those deaths occurred in an area about 5 to 6 miles south of the city of Opelika, he said.
Jones initially reported 14 deaths. Later Sunday, he updated the number and told CNN affiliate WRBL "that number may rise yet again."
Jones described massive damage that appeared "as if someone had taken a blade and just scraped the ground." He estimated a path of destruction about half a mile wide that stretched several miles to the east from where the tornado touched down.
It appeared that two tornadoes hit Lee County back-to-back within the span of an hour, CNN Meteorologist Gene Norman said. At least a dozen tornadoes touched down in Alabama and Georgia on Sunday afternoon, according to the National Weather Service.
The 23 deaths reported on Sunday marked what would be deadliest day for tornadoes in the state since the deadly Tuscaloosa-Birmingham tornado that killed more than 200 people in 2011.
Several people were transported to East Alabama Medical Center with serious injuries, Jones said. Authorities were prioritizing search and rescue efforts on Sunday evening, but were hampered by the dwindling light, he said.
Alabama Gov. Kay Ivey extended the state of emergency that had been issued last month statewide due to tornadoes and severe weather.
"Our hearts go out to those who lost their lives in the storms that hit Lee County today," she tweeted. "Praying for their families & everyone whose homes or businesses were affected. Officials from @AlabamaEma & other agencies are quickly working to provide assistance."
President Donald Trump tweeted "to the great people of Alabama and surrounding areas: Please be careful and safe." He also said "to the families of the victims, and to the injured. God bless you all!"
Footage broadcast by CNN affiliate WRBL showed trees destroyed by the powerful winds and debris from leveled homes piled up on the side of the road.
Multiple homes suffered significant damage, Jones told WRBL, and multiple agencies are working to assist in the search for injured people inside their homes.
Norman said that according to the National Weather Service, an airport in Eufaula, Alabama, along the Alabama-Georgia border was destroyed, along with a fire station.
In Talbotton, Georgia, at least 15 structures were destroyed in a tornado on Sunday, including multiple homes and at least one apartment building, said Leigh Ann Erenheim, the emergency management director for Talbot County.
Six people suffered injuries, with the most severe being a possible broken leg, she said. Crews were checking on residents in the outer areas of town and working to open a shelter for people who have been displaced.
Tornado watches were expected to remain in place for parts of Georgia and South Carolina through 11 p.m. ET Sunday, Norman said.
The tornadoes are part of the same system that is expected to bring winter weather to much of the eastern United States this week, he said.

Impending Mueller report may just be the beginning of Trump's investigation woes


The impeachment of President Donald Trump suddenly looks like much more than just a theoretical possibility.

Democrats on Monday will launch an "abuse of power" investigation that could be easily transformed into an even more serious process, with an expansive demand for documents from Trump's government, his family and even his real estate empire.
The President reacted to his worsening plight with a vehement defense on Sunday, after a week in which testimony from his ex-lawyer Michael Cohen deepened his political vulnerability and ahead of the expected filing soon of special counsel Robert Mueller's report.
"Presidential Harassment by 'crazed' Democrats at the highest level in the history of our Country. Likewise, the most vicious and corrupt Mainstream Media that any president has ever had to endure," Trump tweeted Sunday night.
House Judiciary Committee Chairman Jerry Nadler, who would eventually lead any impeachment proceedings, on Sunday signaled a significant escalation into congressional inquiries into the President.
The New York Democrat plans on Monday to request documents from 60 people and entities close to Trump, including from the Department of Justice, the White House and the Trump Organization.
The document trawl will be used "to present the case to the American people about obstruction of justice, about corruption and abuse of power," Nadler said on ABC News' "This Week" on Sunday.
Nadler stuck to the House Democratic position that impeachment "is a long way down the road," apparently in order to avoid Republican arguments that the decision has already been made to try to oust Trump. The document requests are not taking place under the auspices of an official impeachment investigation.
But Nadler said nevertheless that he believes the President had obstructed justice, a potentially impeachable offense.
And given his responsibilities and powers, the warning from Nadler took the President's political and legal nightmare to a new plane, and opened a new, more serious stage of the showdown between House Democrats and Trump.
It was the latest sign that investigations sparked by accusations that Trump's campaign team cooperated with Russian election meddling has mushroomed into a relentless examination of Trump's political, personal and business life.
The latest blow to the President further intensified pressure on the White House as Washington waits for another shoe to drop — with Mueller expected to file his long awaited report from Monday onward.
The Nadler investigation, along with parallel probes into Trump's presidency by the House Oversight and Intelligence committees means that the structure of a political investigation into the President based in Congress is now in place, alongside the legal inquiries led by Mueller and prosecutors in New York and other jurisdictions.
Trump showing signs of stress
In the last week, partly through Cohen's testimony, it has become clear that even if the special counsel does not find direct wrongdoing by the President, Trump's legal troubles will linger deep into his presidency and probably beyond.
Trump is showing increasing signs of stress at being surrounded.
He spent much of the weekend laying out a likely defense should any of the multiple probes find him guilty of wrongdoing and bolstering his stranglehold on the Republican Party that could eventually be key to saving his presidency in a Senate trial if House Democrats opt for impeachment.
"I am an innocent man being persecuted by some very bad, conflicted & corrupt people in a Witch Hunt that is illegal & should never have been allowed to start - And only because I won the Election!" Trump tweeted Sunday.
In a mostly unscripted two-hour speech to the Conservative Political Action Conference on Saturday — one of the most demagogic and inflammatory appearances of his presidency, Trump lacerated Mueller and his investigation.
"So now we're waiting for a report, and we'll find out ... who we're dealing with ... We're waiting for a report by people that weren't elected," Trump said at CPAC.
"You put the wrong people in a couple of positions and they leave people for a long time that shouldn't be there, and all of a sudden, they're trying to take you out with bullshit, OK," Trump said.
Trump also sketched a defense for two potential areas of vulnerability: his call for Russia to find Hillary Clinton's missing emails during the 2016 campaign and his firing of former FBI Director James Comey in 2017.
He said he was being "sarcastic" when he asked Russia to find Clinton's emails and was having fun with his audience.
Mueller's team has already filed an indictment against 12 Russian intelligence operatives, accusing them of hacking into Clinton's personal emails for the first time on the same day — July 27, 2016 — as Trump's appeal.
Trump's comment is often cited by his critics as an instance in which his campaign colluded in plain sight with the Russian election meddling effort.
The President also used his speech at CPAC to knock back accusations that his firing of Comey was an attempt to shut down the Russia investigation and therefore fits the definition of obstruction of justice.
"I said, 'Melania, I'm doing something today, I'm doing it because it really has to be done ... he's a bad, bad guy,'" Trump said, arguing that he thought Democrats would welcome the move given their anger at Comey's handling of the Clinton email investigation.
"I said to the first lady, I said, 'but you know the good news, the good news is that this is going to be so bipartisan, everyone's going to love it' — so we fired Comey."
In May 2017, Trump told NBC News that he was thinking of the "Russia thing" when he dismissed Comey.
His lawyers have argued that since he is the titular head of the US government and legal system, the President has the right to dismiss anyone in the executive branch and therefore cannot be guilty of obstruction.
It may soon be Mueller time
Mueller has not so far produced any evidence that Trump is guilty of cooperating with the Russian election interference effort, or of obstructing justice.
He has however sprinkled tantalizing clues in indictments of a handful of Trump associates that have sparked intrigue about what his eventual findings — that will be presented to Attorney General William Barr — will show.
In a moment that will have dramatic overtones given the timing, Barr is due to deliver brief remarks on Monday at an event at the White House hosted by the President for state attorneys general, a Justice Department spokesman said.
Trump's fierce political campaign against what he calls Mueller's "Witch Hunt" and "hoax" investigation is apparently aimed at discrediting any conclusions that Barr choses to share with Congress and the public.
But his increasingly emotional denunciation of the various legal and political investigations — that are now focusing on his business, his campaign, his transition, his inauguration and his presidency is not giving the impression that he is a President who is confident there will be no charges to answer.
Nadler is expected to give further details of his document request on Monday.
But he said on ABC that it would stretch from the White House, to the Department of Justice to Trump's son, Donald Jr., and Allen Weisselberg, the chief financial officer of the Trump Organization.
Given that he believes that Trump obstructed justice, Nadler was asked on "This Week" whether the decision not to pursue a formal impeachment investigation at this point was merely a political distinction.
"We do not now have the evidence sorted out and everything to do an impeachment. Before you impeach somebody you have to persuade the American public that it ought to happen. You have to persuade enough of the opposition party voters, the Trump voters," Nadler said.
Republicans accused Nadler and fellow Democrats of lining up a fall back investigation to pursue the President in case Mueller does not find offenses that rise to the level of impeachment.
"I think Congressman Nadler decided to impeach the President the day the President won the election," House Minority Leader Kevin McCarthy said on "This Week."
"He talks about impeachment before he even became chairman and then he says, you've got to persuade people to get there."
McCarthy also argued that the hush money payments made by Trump to two women who accused him of affairs before the election did not amount to the standard of impeachable offenses.
Cohen last week produced a check for $35,000 which he said was proof that Trump was reimbursing him for what may amount to an infringement of campaign finance laws even while he was in office.
But McCarthy argued that campaign finance violations merit a fine, not the ultimate sanction Congress can take against a President.
"Those aren't impeachable in the process," he said.