The NTS News: مودی
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected
Showing posts with label مودی. Show all posts
Showing posts with label مودی. Show all posts

Friday, March 8, 2019

بھارت غلط فہمی میں نہ رہے ہم آخری دم تک لڑیں گے،عمران خان کا مودی کو انتباہ

تھر پارکر(این ٹی ایس رپورٹ)وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستانیوں کا خون کریں گے، ہمیں غلام بنا لیں گے تو کسی غلط فہمی میں نہ رہے ہم آخری دم تک لڑیں گے، تین سالوں میں تھرپارکر میں 1300بچے بھوک کی وجہ سے مر ے ، آج ایک لاکھ 12ہزار خاندانوں میں صحت کارڈ تقسیم کررہے ہیں۔ جو کہ فی خاندان 7لاکھ 20ہزار کی رقم سے جہاں چاہے علاج کروائے، دو موبائل ہسپتال کے ساتھ 40ایمبولینس بھی تھرپارکر میں دے رہے ہیں۔ پانی کیلئے 100پلانٹ فوری لگارہے ہیں اور یہاں پر کالا سونا کوئلہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ یہاں پر ہندو بھی کثیر تعداد میں ہیں وہ بھی برابرکے شہری ہیں۔ ، بعض اوقات یوٹرن کافی مشکلات سے بچا لیتا ہے، ہمارے نبی کریمﷺرحمت العالمین ہیں نہ کہ رحمت المسلمین اور ہمارا خدا رب العالمین ہے۔ ہمار ا ہیر و ٹیپو سلطان ہے جس نے غلامی سے موت کو ترجیح دی ۔ ہم نے پاکستان کو غربت سے نکالنا ہے،سندھ کا لیڈر اپنا نام تبدیل کرکے لیڈر بنا وہ زرداری سے بھٹو بن گیا ، لیڈر کاغذ کی پرچی سے نہیں نظریہ سے بنتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کی یہاں کے لوگوں کو انگریزی آتی ہی نہیں، اسمبلی میں بیٹھے ارکان کو انگریزی نہیں آتی، اسمبلی میں غلط طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے حکم پر آپ کے والد زرداری کو این آر او دیا ، سرے محل کا آپ نے اسمبلی کہا تھا کہ ہمارا نہیں ہے پھر اسکے پیسے ہضم کرگئے۔ وزیراعظم نے چھاچھر اور تھرپارکر میں انصاف صحت کارڈ تقسیم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد میرا یہ پہلا جلسہ ہے اور تھرپار کر سارے پاکستان میں بہت زیادہ پسماندہ ہے اور یہ سارے پاکستان میں سب سے پیچھے ہے۔ یہاں پر 75فیصدلوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے تین سال سے 1300بچے خوراک اور بھرک کی وجہ سے مرگئے ہیں۔ میرا اقتدارمیں آنے کا مقصد پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے اور تھرپارکر میں سب سے زیادہ غربت ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد تمام تر اختیارات صوبوں کو دئیے گئے ہیں۔ آج ہم تھرپارکر میں ایک لاکھ 12ہزار گھرانوں میں صحت کارڈ تقسیم کررہے ہیں۔ جس میں 7لاکھ 20 ہزار کی رقم ہر گھرانے کیلئے ہوگی کہ وہ جہاں سے چاہیں اپنے علاج کروائیں۔تھرپارکروالوں کو دو موبائل ہسپتال دے رہا ہوں جس میں تمام تر سہولیات ہونگی اور وہ تھرپار کر میں ہر جگہ پہنچیں گے ۔ اس کے ساتھ ایمرجنسی کیلئے 4ایمبولینس بھی دی جارہی ہیں۔ تھرپارکروالوں کے پاس کالا سونا ہے ۔ اس کوئلہ سے تھرپارکر سندھ اور پاکستان کی حالت بدل جائیگی ۔ جس علاقے سے جو معدنیات تیل ، سونا ، چاندی ، تانبا ہے وہاں کے لوگوں میں تقسیم ہوگا۔ اور وہان مقامی لوگوں کا پہلے حق ہے۔ ہم نے پسماندہ علاقوں کو اتھانا ہے ۔ یہاں پر پینے کے پانی کا مسئلہ ہے ایک سو آر او پلانٹس بھی لگائیں گے۔ اس علاقے میں دھوپ ہے تو وہاں سولر سسٹم کے ذریعے بجلی دی جائیگی۔ جو کہ بہتے سستی ہے ، وفاقی حکومت آپ کیلئے جو کرسکتی ہے کریگی ۔ میرا دوسرا مقصد یہاؔ ں پر آنے کا یہ تھا کہ یہاں کی آبادی ہندو ہے ہندوستان میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا ہے ان پر تشدد ہوتا ہے پاکستان میں ہم اقلیتوں کے ساتھ ہیں ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ قائد اعظم محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے آج ہندوستان میں ہندو کہہ رہے ہیں جو قائد اعظم کہتے تھے وہ ٹھیک کہتے تھے۔ پاکستان میں اقلیت برابر کے شہری ہیں اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک آدمی نے اقتدار کی خاطر ظلمتیں پھیلائیں اگر کراچی میں نفرتوں کی سیاست نہ ہوتی تو آج کراچی دوبئی ہوتا اور کاروباری لوگ چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں نہ جاتے۔ پاکستان میں کوئی پشتو کوئی بلوچی اور کوئی پنجابی کے نام پر ملک تقسیم کررہاہے۔ جب جیل جاتے ہیں تو سندھ کارڈ استعمال کرلیتے ہیں۔ سب مسلمانوں کیلئے ماہتما گاندھی نے کئی دفعہ پھو ک ہرتال کی اور کھانا نہیں کھایا کہ مسلمانوں پر ظلم نہ کریں۔ ہمارے نبی ﷺ رحمتہ العالمین ہیں اور ہمارا رب رب العالمین ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں چاہتے ۔ میں نے مودی سے کہا کہ برصغیر میں سب سے زیادہ غربت ہے ملکر عوام کے لئے کچھ کریں۔ لیکن اسکے ارادے کچھ اور تھے ۔ میں آزاد ملک میں پیدا ہوا ہوں اورمیرے والدین ہندوستان میں غلامی میں پیدا ہوئے۔ ٹیپو سلطان ہمارا ہیرو ہے جس نے فیصلہ کیا کہ غلامی سے موت بہتر ہے اور تلوار سے آخری دم تک لڑے۔ ٹیپو سلطان ہمارا ہیرو ہے ، تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلح گروپ پاکستان میں نہیں ہونگے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائیگا۔ اور پاک سرزمین میں کسی قسم کی دہشت گردی کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہم نے باہر سے سرمایہ کاری کروائی ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ کراچی میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور اب اندرون سندھ تحریک انصاف ہرضلع میں جائے گی ۔ ہمیں پڑھے لکھے لوگ چاہیں جو پیسہ نہیں عوام کی خدمت کیلئے جذبہ سے کام کریں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ دس سالوں میں سندھ میں 5315ارب خرچ ہوئے حالانکہ سندھ کا ترقیاتی فنڈ 15ارب تھا۔ سندھ کا لیڈر اپنا نام تبدیل کرکے لیڈر بنا وہ زرداری سے بھٹو بن گیا ، لیڈر کاغذ کی پرچی سے نہیں نظریہ سے بنتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کی یہاں کے لوگوں کو انگریزی آتی ہی نہیں۔ اسمبلی میں بیٹھے ارکان وک انگریزی نہیں آتی ۔ اسمبلی میں غلط طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے حکم پر آپ کے والد زرداری کو این آر او دیا ۔ این آر او کے وقت چھ کروڑ ڈالر آپ کے سوئٹزرلینڈ اکاؤنٹ میں تھے وہ مل گئے۔ اور سرے محل کا آپ نے اسمبلی کہا تھا کہ ہمارا نہیں ہے پھر اسکے پیسے ہضم کرگئے۔ یوٹرن لیڈر کا کام ہوتاہے اگر آپ اس وقت کرپشن پر یوٹرن لیتے تو آج عدالتوں اور نیب کے چکر نہ کاٹتے ۔ یوٹرن کی دفعہ بڑی اچھی چیز ہوتی ہے اور کئی مشکلات سے نکال لیتی ہے۔ تھر کے لوگومیں آپکے پاس آتا رہوں گا سالانہ ساڑھے پانچ ہزارارب فیڈل گورنمنٹ ہوتے ہیں۔ جس میں سے دو ہزار ارب قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں نکل جاتے ہیں۔ اور 1700ارب سیکیورٹی کے معاملات پر خرچ ہوتے ہیں جیسے ہی ہمارا پیسہ بڑھے گا جو پسماندہ علاقے ہوں گے سب سے پہلے ان میں لگایا جائیگا۔ جیسے تھرپارکر ، راجن پور اور فاٹا کے علاقے ہیں ان پر پہلے پیسہ خرچ کریں گے۔ 

Monday, March 4, 2019

مودی وضاحت کریں کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، کانگرس

خود غرضانہ مفادات اور رافیل طیاروں پر سیاست کے باعث ملک کو نقصان اٹھانا پڑا،بھارتی اپوزیشن 
 نئی دہلی(این ٹی ایس رپورٹ)بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت کو بھی اپنے مشن کی کامیابی پر شکوک و شبہات ہیں. بھارتی وزیراعظم نے ایئر فورس کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصان کی وجہ قرار دیا تھا.کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی یہ بیان دے کر کہ ملک کو رافیل طیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اگر یہ طیارے بھارت کے پاس ہوتے ہوئے تو نتائج مختلف ہوتے بذات خود پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں. نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہاکہ آخر اس بیان کا مطلب کیا ہے بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کانگریس نے کہاکہ نہ تو ہم نے پہلے فضائی کارروائی کے ثبوت مانگے نہ اب اس کا مطالبہ کررہے ہیں.انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم خود اس بات کی وضاحت کریں کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، اس کے ساتھ انہوں نے نریندر مودی کو فرانسیسی ساختہ طیاروں کی خریداری کے اولین معاہدے کو منسوخ کرنے پر ان کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا. واضح رہے کہ نریند مودی نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا.  رافیل طیاروں کی آمد میں تاخیر کی سراسر ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے‘انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’’جناب وزیراعظم کیا آپ کو کوئی شرمندگی نہیں آپ نے 30 ہزار کروڑ روپے چرا کر اپنے دوست انیل امبانی کو دے دیے، رافیل طیاروں کی خرایداری میں تاخیر کے ذمہ دار صرف اور صرف آپ ہیں۔

Thursday, February 21, 2019

پاکستان کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلئیر پاور ہے،سابق بھارتی جج مودی پر برس پڑے

گر اس بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی گئی تو بھارت کو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا ہو گا،
مرکنڈے کاٹجو نے اپنی حکومت کو اوقات یاد دلا دی

نئی دہلی (این ٹی ایس رپورٹ ) بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی حکومت کو اوقات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے جنگ کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ وہ ایک نیو کلیئر پاور ہے ،اگر ایسی کوئی غلطی کی تو صدیوں پچھتانا پڑے گا،میں بھی ایک کشمیری ہوں ،آج کل کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں ،میں نے ڈنڈا سنبھال کر رکھا ہے جو آئے گا اس کا ’’سر‘‘ کھول دوں گا ۔ایک انٹرویو میں سابق جج مرکنڈے نے کہا کہ پلوامہ حملے میں جو 42 نوجوان مارے گئے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ آج کل جو لمبی چوڑی باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم نے بدلہ لینا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے جن لوگوں نے یہ حملہ کیا ہے وہ تو غائب ہو گئے۔ بھارت نے جو کچھ کشمیر میں کیا ہے اس کے بعد ساری کشمیری عوام بھارت کے خلاف ہو گئی ہے۔دوسری طرف پاکستان پر حملے کرنا کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلئیر پاور ہے۔اور جو بھارت نے وہاں سرجیل سٹرائیک کی وہ بلکل ایسے ہی جیسے ایک آدمی رات کو گھر میں سو رہا ہے اور آپ چپکے سے اس کے گھر میں گھسں اور ایک تماچہ مار کر بھاگ جائیں۔ لیکن اب وہ آدمی سو نہیں رہا ہے اب پاکستانی فوج تیارہے۔اگر اس بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی گئی تو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ بھارت کے سرجیک اسٹرائیک کرنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس بار بھارت سرجیل سٹرائیک نہیں کر سکے گا۔ جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ یہ بھارتی رہنماؤں کی نااہلی اور بیوقوفی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام کشمیری عوام بھارت کی مخالفت میں کھڑی ہے۔ جسٹس مرکنڈے کا کہنا تھا کہ بدلہ کیسے لیا جائے گا؟ کیا نہتے لوگوں پر حملہ کرنا بہادری ہے۔جب آپ ایک نہتے آدمی پر حملہ کریں گے تو پھر اس کے دوست رشتہ داروں میں بھی بدلے کی آگ بھڑک اٹھ سکتی ہے۔ جسٹس مرکنڈے انٹرویو دینے کے دوران ڈنڈا لے کر بیٹھے رہے جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو مرکنڈے کاٹجو کا کہنا تھا کہ میں نے اس لیے ڈانڈا پکڑا ہوا ہے کیونکہ میں بھی ایک کشمیری ہوں اور لوگ کشمیریوں پر حملے کر رہے ہیں۔میں بھی کشمیر ہوں میرے پاس اگر ہمت ہے تو میرے پاس آؤ یہ ڈنڈا تمہارا انتظار کر رہا ہے اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو اس ’’ سر‘‘ کھول دوں گا۔

Saturday, February 16, 2019

مودی کو الزام تراشی کے بجائے مقبوضہ وادی میں انسانیت سوز مظالم پراظہار شرمندگی کرنا چاہیے ‘شہباز شریف


بھارتی رویہ چوری اور سینہ زوری کامظہر ہے،سرجیکل سٹرائیک کی باتیں حماقت ہیں، بھارتی قیادت عقل اور ہوش کے ناخن لے، ہماری بہادر مسلح افواج ہر مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے،بیان

لاہور (این ٹی ایس نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھارتی وزیراعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کو پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت سوز مظالم پراظہار شرمندگی کرنا چاہیے ،بھارتی رویہ چوری اور سینہ زوری کامظہر ہے،سرجیکل سٹرائیک کی باتیں حماقت ہیں، بھارتی قیادت عقل اور ہوش کے ناخن لے ،ہماری بہادر مسلح افواج دشمن کے ہر مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے چکے ہیں اور آئندہ انشااللہ اس سے بھی زیادہ موثر انداز میں جواب دیں گے۔اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ بھارتی رویہ چوری اور سینہ زوری کامظہر ہے،پیلٹ گن سے بیس ماہ کی معصوم کشمیری بچی کی بینائی چھیننے پر بھارتی وزیراعظم کو اتنا تائو دکھانا چاہئے تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارت کی پاکستان میں انتشار پھیلانے کی خواہش اور عزائم کا زندہ اور چلتا پھرتا ثبوت ہے،یہ وہ حقیقت ہے جس سے بھارت نظریں چرا نہیں سکتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کی پاکستان نے مذمت کی ہے ،کسی تحقیق کے بغیر ہی پاکستان کو اس واقعہ سے جوڑ دینا پہلی بار نہیں ہوا،اس سے پہلے بھی بھارت نے خود ایسے مشکوک واقعات رچائے جس پر پوری دنیا نے سوال اٹھائے،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت الیکشن اور دیگر مواقع پر ایسے واقعات کو تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتاآیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم بند کرے، وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کے مذموم ہتھکنڈوں سے باز آئے،پاکستان اور بھارت میں امن کی راہ کشمیر سے ہوکر ہی گزرتی ہے،پائیدار امن وسلامتی اور ترقی کے لئے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مظلوم کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا وعدہ پورا کیاجائے۔شہباز شریف نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک کی باتیں حماقت ہیں، بھارتی قیادت عقل اور ہوش کے ناخن لے ،پہلے سرجیکل سٹرائیک کی جھوٹی داستانوں کو اتنا مذاق بنا کہ بھارتی حکمرانوں نے اس پر بات کرنا ہی چھوڑ دی تھی،ہماری بہادر مسلح افواج دشمن کے ہر مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے چکے ہیں اور آئندہ انشااللہ اس سے بھی زیادہ موثر انداز میں جواب دیں گے،پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے ساتھ ہے۔