The NTS News: این ٹی ایس رپورٹ
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected
Showing posts with label این ٹی ایس رپورٹ. Show all posts
Showing posts with label این ٹی ایس رپورٹ. Show all posts

Thursday, March 28, 2019

خلاء میں اینٹی میزائل تجربہ امریکہ نے بھارت کو تنبیہ جاری کردی

بھارت خلاء کو آلودہ نہ کرے ،خلا تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہے جس کو اینٹی میزائل تجربے جیسے اقدامات سے آلودہ نہیں کیا جانا چاہئے، پیٹرک شیناہن

واشنگٹن ، نئی دہلی( این ٹی ایس رپورٹ )مودی سرکار نے الیکشن جیتنے کیلئے اینٹی میزائل تجربے کا تھیٹر تو لگا لیا لیکن امریکہ نے خلا کو گندا کرنے پر بھارت کو تنبیہ کی ہے اور ساتھ ہی ناسا نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس تجربے کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات سے پہلے اینٹی میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا ایک اور شوشہ تو چھوڑ دیالیکن امریکہ کی طرف سے نہ صرف تجربے پر تشویش ظاہر کی گئی بلکہ اس کے نتائج سے خبردار بھی کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شیناہن نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ خلا کو آلودہ نہ کرے۔ خلا تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہے جس کو اینٹی میزائل تجربے جیسے اقدامات سے آلودہ نہیں کیا جانا چاہئے۔پیٹرک شیناہن کا کہنا تھا کہ انسانوں کا خلا پر انحصار بڑھ رہا ہے اس لئے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔دوسری جانب امریکی ائیر سپیس کمانڈ کے وائس کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ تھامسن نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ بھارتی تجربے کے نتیجے میں ملبے کے 270 ٹکڑے وجود میں آئے ہیں اور ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ناسا کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ خلائی ملبہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ ملبہ پھیل جائے تو اس کو سمیٹنا ناممکن ہوتا ہے۔یاد رہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم کے سلسلے میں کئے گئے ایک جلسے کے دوران اسپیس ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے کا دعوی کیاہے۔بھارتی وزیراعظم نے خطاب کے دوران کہا کہ امریکا روس اور چین کے بعد بھارت چوتھا ملک ہے جس نے میزائل کے ذریعے اسٹیلائٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔

Wednesday, March 27, 2019

پاک روس تعلقات میں بہتری آ رہی ہے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں روس نے اہم کردار ادا کیا، سیکرٹری خارجہ

باہمی تجارت میں اضافہ اور عوام کے درمیان رابطے سے پاک روس تعلقات مزید مضبوط ہونگے ،تہمینہ جنجوعہ
پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ معاہدے کی وجہ سے تجارت میں اضافہ ہو گا، روسی سفیر  
تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے 23 مارچ پر روسی جنگی ہیلی کاپٹرز پریڈ میں شامل کییالیگزے وائی ویدوف
 پاک روس تعلقات کی مضبوطی کے لیے باہمی تجارت بڑھنا انتہائی ضروری ہے ظفراقبال چیمہ
افغان امن عمل میں روس کا کردار اہم ہے،دونوں ممالک کو ایک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے مقررین

اسلام آباد(این ٹی ایس رپورٹ)سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاک روس تعلقات میں بہتری آ رہی ہے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں روس نے اہم کردار ادا کیا۔باہمی تجارت میں اضافہ اور عوام کے درمیان رابطے سے پاک روس تعلقات مزید مضبوط ہونگے روسی سفیر الیگزے وائی ویدوف نے کہا کہ پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ معاہدے کی وجہ سے تجارت میں اضافہ ہو گا ۔تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے 23 مارچ پر روسی جنگی ہیلی کاپٹرز پریڈ میں شامل کیے۔مقررین نے کہا کہ پاک روس تعلقات کی مضبوطی کے لیے باہمی تجارت بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔افغان امن عمل میں روس کا کردار اہم ہے۔دونوں ممالک کو ایک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔بدھ کو اسٹریٹجیک ویژن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام پاکستان روس دفاعی تعلقات کے حوالے سے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا کانفرنس سے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ ،روسی سفیر الیگزے وائی ویدوف صدر ایس وی آئی ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ و دیگر نے خطاب کیا۔سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنائو کم کرنے میں روس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔وقت کے ساتھ روس کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں گے ۔دونوں ممالک میں تجارت بہت کم ہے اس کو بڑھنے کی ضرورت ہے۔دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی ضرورت ہے۔عوام کے درمیان رابطے کو بڑھایا جائے اور سکالر شپ دی جائے۔دفاعی معاہدوں کے ساتھ بھارت کو محصوض جنگی سامان نہ دیا جائے جو کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے سی پیک میں روس کو شامل ہونا چاہیے اور شنگھائی کارپوریشن کے تحت رابطوں کو مزید موثر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ روس کا افغانستان کے حوالے سے نمائندہ خصوصی جلد پاکستان آئیں گے اور پاکستانی اعلیٰ حکام بھی روس کا دورہ کریں گے پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے تین مشترکہ فوجی اور دو نیوی کے ساتھ مشقیں کی گئی ہیں پاکستان روس سے ہیلی کاپٹرز اور دیگر جنگی سامان خریدتا ہے پاکستان وسطیٰ ایشیاء کے لیے گیٹ وے کا درجہ رکھتا ہے ہمیں اپنی باہمی تجارت مزید بڑھانی ہوگی ۔روسی سفیر الیگزے وائی ویدوف نے کہا کہ پاکستان اور روس اہم اتحادی ہیں اور دونوں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کے جون میں کرغستان میں ہونے والے اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام ملیں گے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا روس کے اعلیٰ حکام سے ملے ہیں۔پاکستان ہمارے لیے اہم ملک ہے افغان امن عمل کے حوالے سے دونوں ممالک میں مسلسل رابطہ ہے 2017ء میں سندھ حکومت کے ساتھ تجارت کے مختلف معاہدے کیے پاکستان بھارت ایران گیس پائپ لائن یہ بھی کام ہو رہا ہے پاکستان کو جنگی ہیلی کاپٹرز اور صوبہ پنجاب اور بلوچستان کو بھی ہیلی کاپٹرز فروخت کیے ہیں جنگی ہیلی کاپٹروں پہلی بار 23مارچ کی پریڈ کا حصہ بھی بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان بینکنگ کے حوالے سے سے معاہدہ 2018ء میں ہوا ہے جس سے دونوں ممالک کے بینکوں کے ذریعے رقم منتقل کی جا سکتی ہے۔معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں بہت زیادہ رکاوٹ تھی جو اب ختم ہو گئی ہے روس اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم بہت کم ہے اس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔روس پاکستان میں توانائی،ریلوے انفارمیشن ٹیکنالوجی،سٹیل مل،ادویات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہش مند ہے۔صدر اسٹریٹجیک ویژن انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ نے کہا کہ روس افغانستان میں امن کے حوالے سے مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہا ہے روس کے ساتھ پاکستانی تجارت کم ہے مگر ان قریب پاکستان روس کے ساتھ 50 ارب ڈالر کی گیس خریدنے کا معاہدہ کررہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی تو تعلقات مزید مضبوط ہوںگے۔روس کی اکیڈمی آف سائنس ماسکو کی ڈاکٹر آرین نیلو لیوینہ سیرینکو(Dr. Lvina Nikolaevna)  نے کہا کہ روس پاکستان کو باہمی تعلقات سے مکمل فائدہ حاصل کرنا چاہیے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کے بعد روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے روس جلد پاکستان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں روس نے اہم کردار ادا کیا۔ سابق سفارت کار عارف کمال نے کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات درست سمت میں جانا شروع ہو گئے ہیں۔روس خطے میں اپنے آپ کو دوبارہ فعال کر رہا ہے۔روس کے ایران اور عرب ممالک دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کے صرف عرب ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں روس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہونگے جبکہ دوسری طرف بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھے گا۔سینٹر فار پولیٹیکل سٹڈیز آف رشیا ڈاکٹر یولیا(Dr. Yulia Sveshnikova) نے کہا کہ حالیہ دنوں میں روس پاکستان تعلقات میں بہتری آئی ہے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ملائیشیاء کے وزیر اعطم مہاتیر محمد نے روس کے دورے کیے ۔روس خطے کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کررہا ہے۔افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے روس اور پاکستان ایک طرف تھے جبکہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کے خلاف تھا مگر بعد میں اس کو بھی طالبان سے مذاکرات کے لیے آنا پڑا۔سابق رابطہ کار نیکٹا حامد علی خان نے کہا کہ امریکہ کو پتہ چل گیا کہ افغانستان میں جنگ کرنے سے فتح حاصل نہیں ہوگی اب وہ بھی مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔نائن الیون کے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن ملک تھا جس کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا اور ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے مگر آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قوم نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کو ہر حال میں ختم کرنا ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے نام سے 22 نکات بنائے اوردہشت گردی کی جنگ میں ہم کامیاب ہوئے ہم نے خون دے کر اپنی سرزمین کا ایک ایک انچ دہشت گردوں سے صاف کیا امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے افغان طالبان سے مذاکرات شروع کیے۔اب بھی کچھ لوگ اس کی کامیابی کے حوالے سے زیادہ پر امید نہیں ہے کیونکہ ہر پاور اور خطے کے ممالک کے درمیان عدم تعاون ہے اگر امریکہ افغانستان میں امن کے بغیر نکل جائے تو یہ اس سے زیادہ خطرناک ہوگا وہاں پر خانہ جنگی ہو سکتی ہے اس سے طالبان کو مزید طاقت ملے گی اور امریکہ میں بھی حملہ ہو سکتا ہے افغان طالبان دن بدن طاقت حاصل کررہے ہیں ۔چین افغانستان میں امن چاہتا ہے تاکہ سی پیک کے حوالے سے افغانستان میں معاشی سرگرمیاں شروع ہوں۔روس اور پاکستان کے درمیان منشیات کی روک تھام ،دہشت گردی،دفاعی سازو سامان میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔افغانستان میں امن عمل کے لیے دیگر ممالک کو سہولیات دینی چاہیے۔

Monday, March 11, 2019

بالاکوٹ کے نواح میں ہندوستانی فضائیہ کا ناکام حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے، کل جماعتی کشمیر کانفرنس

اقوام متحدہ ہندوستانی افواج کی جانب سے ورکنگ بائونڈری اور سیز فائر لائن پر شہری آبادیوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کا نشانہ بنانے کا  فوری نوٹس لے
 مقبوضہ کشمیرمیں طاقت،تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے  ہتھکنڈے ترک کیے جائیں ،کالے قوانین کو ختم کیا جائے،گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے، جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر سے پابندی اٹھائی جائے  

اسلام آباد(این ٹی ایس رپورٹ) کل جماعتی کشمیر کانفرنس نے  بھارت کی جانب سے پلوامہ واقعہ کو بنیاد بنا کر سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے بالاکوٹ کے نواح میں ہندوستانی فضائیہ کے ناکام حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہندوستان کی  اس جارحیت کو اقوام متحدہ کے چارٹر ، بین الاقوامی قوانین اور بین الریاستی اقدار کی صریح خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قراردیا دیاہے ۔ کانفرنس نے  اس جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی سر زمین پر جانی و مالی نقصانات کے بلا ثبوت ہندوستانی دعوئوں کو جھوٹ کا پلندہ ، حقائق کے برعکس اور مضحکہ خیز قرار د یاہے۔ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے زیر اہتمام آزادکشمیر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میںکانفرنس نے ہندوستان کی اس جارحیت کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار د یا ہے  کیونکہ اس کے نتیجے میں دو ایٹمی طاقتیں ایٹمی جنگ کے دھانے پر آن پہنچی ہیں۔اعلامیے میں کانفرنس نے  پاک فضائیہ اور افواج پاکستان کو ہندوستانی جارحیت کا موثر اور دندان شکن جواب دینے پر خراج تحسین پیش کر تے ہوئے یقین دلا یا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر ، گلگت بلتستان کے عوام اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان ہندوستانی جارحیت کے خلاف پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم مستعد اور صف آرا ء ہیں۔ کل جماعتی کشمیر کانفرنس  نے  ہندوستانی افواج کی جانب سے ورکنگ بائونڈری اور سیز فائر لائن پر شہری آبادیوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے  جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ،اعلامیہ میں کانفرنس نے  اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لے۔ کانفرنس نے  بھارتی حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر پابندی ،اس کے اداروں اور اثاثہ جات حتیٰ کہ ذمہ داران کے گھروں کی ضبطی اور امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت چار سو سے زائد قائدین اور کارکنان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کی سیاسی ،تعلیمی، فلاحی و تربیتی میدان میں خدمات اور مسئلہ کشمیر زندہ رکھنے اور نامساعد حالات میں حق خودارادیت کے اصولی موقف کی آبیاری پر اسے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اعلامیہ میں کانفرنس نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اہم رہنمائوں کی گرفتاریوں ،بزرگ رہنما اور تحریک آزادی کی علامت سید علی گیلانی، قائدین حریت میرواعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ،محمد اشرف صحرائی ،شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم ، آسیہ اندرابی اور دیگر قائدین حریت کی مسلسل نظر بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے  ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام بھارتی ہتھکنڈے اس کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں قبل ازیں وہ ہر طرح کی ریاستی دہشت گردی سے تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام ہو چکا ہے ،بلکہ قتل و غارت گری کی اس کی ہر تدبیر اللہ تعالیٰ نے اس پر پلٹ دی ہے اوریہ اس کی جارحیت کا ہی نتیجہ ہے کہ شہید برہان مظفر وانی اور عادل ڈار جیسے نوخیز اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنا تعلیمی مستقبل قربان کرتے ہوئے زندگیاں بھی قربان کرنے کے لیے مجبور ہوئے اور بھارتی فوجی قبضہ کے خلاف مزاحمت اور جہاد کے ہیرو بن گئے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کو یقین ہے کہ جس قدر ہندوستانی جبر پرامن جدوجہد کا راستہ بند کرے گا ،اسی شدت سے نوجوان زیادہ جوش وخروش سے کاروان حریت کا حصہ بنیں گے اور تحریک کمزور ہونے کے بجائے اس میں مزید طاقت ، توانائی اور جوش پیدا ہو گا، اس لیے یہ کانفرنس بھارتی حکمرانوں اور سیاست دانوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ طاقت،تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے یہ ہتھکنڈے ترک کیے جائیں ،کالے قوانین کو ختم کیا جائے،گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر سے پابندی اٹھائی جائے۔کل جماعتی مشاورتی کانفرنس نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی اور تشدد کی نئی لہر ،معصوم کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل عام اور وادی میں فوج کی تعداد میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی فوری طور پر ختم کی جائے ،مقبوضہ ریاست سے قابض افواج کو واپس بلایا جائے اور انسانی حقوق کی بدترین خلا ف ورزیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔اعلامیہ میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلبہ اور جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ہندو جنونیوں کے متشددانہ سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے  اور بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے اس جنونی اور انتہا پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لینے اور ہندوستانی حکومت کی سرزنش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،مشاورتی کانفرنس نے  پاکستان کی پارلیمنٹ ، حکومت اور اپوزیشن اور پوری پاکستانی قوم کو ہندوستانی جارحیت کے مقابلے میں مثالی قومی اتحاد ، یکجہتی کا مظاہرہ ، متفقہ موقف اختیار کرنے اور اخوت کی فضا قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی واشگاف حمایت پر شکریہ ادا کیا  ہے جس کے نتیجے میں اہل کشمیر کے حوصلے بلند ہوئے اور ہندوستان کو یہ واضح پیغام پہنچا کہ پوری پاکستانی قوم دشمن کے مذموم عزائم کے مقابلے اور اہل کشمیر کی تحریک آزادی کی پشتی بانی کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد اور منظم ہے۔اعلامیہ میں  وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیش کش اور گرفتار پائلٹ کی رہائی سمیت امن کے پیغامات کی تحسین کی گئی ہے اور نریندر مودی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جنگی ماحول اور جنون پروان چڑھانے کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اس بات پر تشویش کا اظہا رکیا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالا گیا اور ایٹمی جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا گیاہے۔ کانفرنس  نے عالمی امن کی داعی طاقتوں اور اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے اس جنگی جنون اور پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کا نوٹس لیں اس پر اخلاقی ، سفارتی دبائو بڑھایا جائے ، ہندوستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرتے ہوئے ان کا مسلمہ اور بنیادی حق حق خود ارادیت دینے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اعلامیہ  میں  اس امر کو واضح  کیا گیا  ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی حیثیت محض قابض اور غاصب کی ہے جس کے خلاف مختلف محاذوں پر کشمیریوں کی تحریک مزاحمت اقوام متحدہ کے چارٹر اور مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت معروف اور جائز تحریک آزادی ہے جس کو دہشت گردی سے جوڑنا بلا جواز بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ اگروہاں کوئی دہشت گرد ی ہے تو وہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی ہے جس کے تحت 8لاکھ فوج ، کالے اور ظالمانہ قوانین کے ذریعے بے لگام اختیارات کے بل پر نہتے کشمیریوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہے۔ کانفرنس نے  اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC) کے جموں کشمیر پر رابطہ گروپ کے جدہ میں منعقدہ حالیہ اجلاس میں کشمیریوں کے موقف اور حق خودارادیت کے لیے جاری تحریک آزادی کشمیر کی مکمل حمایت کے اعلان ، اقوام متحدہ اور OICکی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دینے ،مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج کی طرف سے روا رکھے جانے والے ریاستی جبراور معصوم کشمیریوں کی ظالمانہ شہادتوں کی مذمت اور انہیں بند کرنے کے مطالبے اور پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر اظہار تشکر کیا ہے ،البتہ تنظیم کے بانی ممبر پاکستان سے مشاورت کیے بغیر اور اس پر جارحیت کے مرتکب اور کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ہندوستان کو تنظیم کے اجلاس میں بطور معزز مہمان مدعو کرنے اور تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا تذکرہ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار  کیا ہے اور اسے اہل کشمیر کے لیے تکلیف دہ اور باعث رنج قرار د یتے ہوئے اپیل کی ہے کہ آئندہ اس طرح کے اقدام سے گریز کیا جائے۔اعلامیہ میں تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت اور جموں وکشمیر میں ہندوستانی حکومت اور افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزریوں کی مذمت کرنے پر  ترکی ، برطانیہ ، چین ،یورپی یونین اور دیگر ممالک اور تنظیموں کا شکرایہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہندوستان پر دبائو مزید بڑھائیں اور اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں ۔ کانفرنس  نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں ایک جارحانہ بین الاقوامی سفارتی مہم کا آغاز کیا جائے اور وزیر اعظم قومی قائدین اور ممبران پارلیمنٹ کے وفود کا اہم دارلحکومتوں کے دورہ کا اہتمام کیا جائے اوراسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔کانفرنس  نے مطالبہ کیا  ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھیجے جانے والے وفود میں کشمیریوں کو بھرپور نمائندگی دی جائے تا کہ کشمیریوں کا مسئلہ کشمیریوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر زیادہ موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔اعلامیہ میں کانفرنس نے  اقوا م عالم بالخصوص عالمی طاقتوں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو محسوس کریں اور اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے اپنا کردار اوراثر ورسوخ استعمال کریں۔ کانفرنس  نے کہا کہ  مسئلہ کشمیر کا پر امن ، منصفانہ اور دیر پا حل جنوبی ایشیا کے امن ، خوشحالی اوراستحکام کے علاوہ عالمی امن کی بھی ضمانت ہے ۔اعلامیہ میں کانفرنس نے  قائدین تحریک حریت کی استقامت کو سلام اور شہدائے جموں وکشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شہداء کی ہی قربانیوں کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر ایک ناقابل تسخیر قوت بن چکی ہے۔کانفرنس نے  سیز فائر لائن پر ہونے والی بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے سویلین اور افواج پاکستان کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اعلامیہ میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلا یا گیا  ہے کہ آزادی کی اس جدوجہد میں بیس کیمپ کی حکومت اور عوام ان کی پشت پرہیں اور بھارت کی ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے اور تحریک آزادی میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہونے کے لیے تیارہیں۔ماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے زیر اہتمام آزادکشمیر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا  ،کل جماعتی کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان تھے ۔

Monday, March 4, 2019

کشمیر میںگورنر راج نافذ کیا گیا تا کہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے عبدالرشید ترابی

 بھارتی منصوبے میں بری رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے پابندی عائد کی گئی 

مظفرآباد(این ٹی ایس رپورٹ) کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل ممبر قانو ن ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کی 70سال سے تعلیمی،سماجی اور سیاسی سطح پر حق خودارادیت کو زندہ رکھنے میں بڑی گراں قدر قربانیاں ہیں ،جماعت اسلامی نے شیخ عبداللہ کا مقابلہ کیاجماعت اسلامی کے اداروں کی خدمات کے ہم متحرف ہیں آر ایس ایس کا طویل عرصے سے ایجنڈا تھا جس کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا تا کہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے جس میں بری رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے منصوبہ بندی کے تحت جماعت اسلامی پابندی عائد کی گئی ،ان خیالا ت کااظہار انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،عبدالرشید ترابی نے کہاکہ نریندر مودی دوسر ہٹلر بن چکا ہے پاکستان کے خیر سگالی اقدامات کے باوجود جنگی جنون میں مبتلا ہو کر خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے اقوا م متحدہ ،عالمی برادری اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور ہندوستان پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق فراہم کرے ،انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی اپنا حق مزاحمت سیاسی،سفارتی اور عسکری جدوجہد ہندوستان کے جبر وتشدد کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے نوجوانوں کے ہیرو برہان وانی شہید اور عادل ڈا ر ہیں نوجوان ہندوستان کے ہتھکنڈوں کے ردعمل کے طور پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حق مزاحمت کو اقوا م متحدہ کا چارٹر تسلیم کرتا ہے دنیا کی آزادی کی تحریکیں سفارتی ،سیاسی اور عسکری حمایت سے آگے بڑھتی ہیں کشمیری ہندوستانی فوجی قبضے کے خاتمے کے لیے سیاسی ،سفارتی اور عسکری جدوجہد کررہے ہیں ان کی ہر سطح پر مدد کی جانی چاہیے ،انہوں نے کہاکہ کشمیری پرامن حل چاہتے ہیں اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں پوری قوم،مسلم امہ اور زند ضمیر شخصیات کشمیریوں کی پشت پرہیں ،عبدالرشید ترابی نے کہاکہ او آئی سی کے اجلاس میں ہندوستان کی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے کی ہم مذمت کرتے ہیں پاکستان کی عدم موجودگی کے باوجود کشمیریوں کے حق خودارادیت کی قرارداد خوش آئند ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اہم دارلحکومتوں کا دور کریں اور پارلیمانی وفود بھیجنے کا اہتمام کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اور ہرسطح پر جو یکجہتی کا ماحول پیدا ہوا ہے اس کو قائم رہنا چاہیے بین الاقوامی ادارے سلامتی کونسل،اوآئی سی کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ بیس کیمپ کے حقیقی کردار کو فعال کرنا چاہیے اسمبلی اور حکومت کو عالمی اداروں میں مبصر کا سٹیٹس حاصل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے ،انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے غیر اعلانہ جنگ شروع کررکھی ہے وزیر اعظم ،ممبران اسمبلی کوعوام کے درمیان رہنا چاہیے اور متاثرین کے مسائل ان کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ کسی سطح پر بھی احساس محرومی سے دوچار ہونے سے بچایا جائے ۔

Thursday, February 21, 2019

پاکستان کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلئیر پاور ہے،سابق بھارتی جج مودی پر برس پڑے

گر اس بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی گئی تو بھارت کو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا ہو گا،
مرکنڈے کاٹجو نے اپنی حکومت کو اوقات یاد دلا دی

نئی دہلی (این ٹی ایس رپورٹ ) بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی حکومت کو اوقات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے جنگ کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ وہ ایک نیو کلیئر پاور ہے ،اگر ایسی کوئی غلطی کی تو صدیوں پچھتانا پڑے گا،میں بھی ایک کشمیری ہوں ،آج کل کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں ،میں نے ڈنڈا سنبھال کر رکھا ہے جو آئے گا اس کا ’’سر‘‘ کھول دوں گا ۔ایک انٹرویو میں سابق جج مرکنڈے نے کہا کہ پلوامہ حملے میں جو 42 نوجوان مارے گئے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ آج کل جو لمبی چوڑی باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم نے بدلہ لینا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے جن لوگوں نے یہ حملہ کیا ہے وہ تو غائب ہو گئے۔ بھارت نے جو کچھ کشمیر میں کیا ہے اس کے بعد ساری کشمیری عوام بھارت کے خلاف ہو گئی ہے۔دوسری طرف پاکستان پر حملے کرنا کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلئیر پاور ہے۔اور جو بھارت نے وہاں سرجیل سٹرائیک کی وہ بلکل ایسے ہی جیسے ایک آدمی رات کو گھر میں سو رہا ہے اور آپ چپکے سے اس کے گھر میں گھسں اور ایک تماچہ مار کر بھاگ جائیں۔ لیکن اب وہ آدمی سو نہیں رہا ہے اب پاکستانی فوج تیارہے۔اگر اس بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی گئی تو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ بھارت کے سرجیک اسٹرائیک کرنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس بار بھارت سرجیل سٹرائیک نہیں کر سکے گا۔ جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ یہ بھارتی رہنماؤں کی نااہلی اور بیوقوفی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام کشمیری عوام بھارت کی مخالفت میں کھڑی ہے۔ جسٹس مرکنڈے کا کہنا تھا کہ بدلہ کیسے لیا جائے گا؟ کیا نہتے لوگوں پر حملہ کرنا بہادری ہے۔جب آپ ایک نہتے آدمی پر حملہ کریں گے تو پھر اس کے دوست رشتہ داروں میں بھی بدلے کی آگ بھڑک اٹھ سکتی ہے۔ جسٹس مرکنڈے انٹرویو دینے کے دوران ڈنڈا لے کر بیٹھے رہے جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو مرکنڈے کاٹجو کا کہنا تھا کہ میں نے اس لیے ڈانڈا پکڑا ہوا ہے کیونکہ میں بھی ایک کشمیری ہوں اور لوگ کشمیریوں پر حملے کر رہے ہیں۔میں بھی کشمیر ہوں میرے پاس اگر ہمت ہے تو میرے پاس آؤ یہ ڈنڈا تمہارا انتظار کر رہا ہے اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو اس ’’ سر‘‘ کھول دوں گا۔

Thursday, February 14, 2019

ایبٹ آباد میں شادی کی تقریب میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق بچے سے متعلق کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے پیسکو کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی
ٹرائل کورٹ نے تمام نامزد ملزمان بری کر کے کمپنی کو سزا دیدی ،کیا کمپنی کو جیل بھیجا جا سکتا ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس 

اسلام آباد (این ٹی ایس رپورٹ )سپریم کورٹ میں ایبٹ آباد میں شادی کی تقریب میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق بچے سے متعلق کیس کی سماعت، عدالت نے پیسکو کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، چیف جسٹسآصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ ٹرائل کورٹ نے تمام نامزد ملزمان بری کر کے کمپنی کو سزا دیدی کیا کمپنی کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔چیف جسٹسآصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایبٹآباد میں شادی کی تقریب مین کرنٹ لگنے سے جاں بحق بچے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آ صف سعید کھوسہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو ٹرائل کورٹ نے کمال ہی کر دیا، تقریب میں کرنٹ لگنے سے بچہ جاں بحق ہوا لواحقین نے واپڈا حکام کیخلاف مقدمہ درج کروایا ٹرائل کورٹ نے تمام نامزد ملزمان بری کر کے کمپنی کو سزا دیدی، کیا کمپنی کو جیل بھیجا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ نے بھی کمپنی کیخلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی اور بری ہونے والوں کے وارنٹ بھی جاری کر دیے پیسکو تو ملزمان کی فہرست میں موجود ہی نہیں تھی تو کسی کو سنے بغیر اس کیخلاف کوئی حکم جاری نہیں ہو سکتا کمپنی کو جیل بھجوا دیں تو رکھیں گے کہاں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیت کی ادائیگی کا حکم اس کمپنی کو کیسے دیں جس کیخلاف کیس ہی نہیں ، کیا کبھی فوجداری کیس میں کسی کمپنی کو سزا ہوئی ہے بہتر ہوگا کمپنی کیخلاف معاوضے کیلئے سول کیس دائر کریں۔عدالت نے پیسکو کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ملزمان کیخلاف جاری گزشتہ حکمنامے بھی واپس لے لیے۔ واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں 13 سالہ عثمان شادی کی تقریب میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا تھا، ٹرائل کورٹ نے پیسکو کو دیت ادائیگی کا حکم دیا جسے ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیدیا تھا۔

Friday, February 8, 2019

نوازشریف کو ہمہ وقت ماہرِ امراض قلب کی ضرورت ہے: میڈیکل بورڈ

نواز شریف کو ایسے ادارے میں شفٹ کیا جائے جہاں عارضہ قلب کی طبی سہولتیں بروقت میسر ہوں ، اسپیشل میڈیکل بورڈکی سفارشات
 حکومت نے نواز شریف کے علاج کے لیے ماہرین امراض قلب کا کوئی بندوبست نہیں کیا،ڈاکٹر عدنان 

لاہور (این ٹی ایس رپورٹ)میاں نوازشریف کا طبی معائنہ کرنے والے اسپیشل میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم کے لیے ہمہ وقت ماہرِ امراض قلب کو ضروری قرار دے دیا۔اسپیشل میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق میاں نواز شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، ان کے تھیلئم اسکین ٹیسٹ میں انجائنا کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔سفارشات میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو ہمہ وقت ماہر امراض قلب کی ضرورت ہے، ان کو ایسے ادارے میں شفٹ کیا جائے جہاں عارضہ قلب کی طبی سہولتیں بروقت میسر ہوں جب کہ ان کی ماضی کی طبی ہسٹری اور موجودہ طبی معائنوں کی رپورٹس بھی مد نظر رکھی جائیں۔میڈیکل بورڈ کا اپنی سفارشات میں کہنا ہے کہ نوازشریف کی موجودہ صورتحال ان کے پہلے معالج سے بھی ڈسکس کی جا سکتی ہے، ان کی کچھ ادویات تبدیل اور کچھ میں اضافہ کیا گیا ہے، سابق وزیراعظم کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول کنٹرول ہے، ان کے بلڈ پریشر اور شوگر کے باقاعدہ چارٹ بنائے جائیں۔بورڈ نے اپنی سفارشات میں نوازشریف کو کم نمک، کم چکنائی اور کم پروٹین والی غذا تجویز کی ہے۔دوسری جانب نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے تشکیل کردہ 3 میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا، تمام بورڈز نے نواز شریف کے دل کی تکلیف کی تصدیق اور اسپتال میں علاج کی سفارش کی، انہیں سروسز اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں امراض قلب کے علاج کی سہولیات ہی نہیں۔ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نواز شریف کے علاج کے لیے ماہرین امراض قلب کا کوئی بندوبست نہیں کیا، ایس ایچ ایل میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے فوری علاج کی سفارش کی تھی، نواز شریف کو غیر ضروری دبا ومیں رکھ کر دل کی تکلیف کا علاج بھی نہیں کرایا گیا۔واضح رہے کہ میاں نوازشریف کو خراب طبعیت کے پیش نظر گزشتہ دنوں کوٹ لکھپت جیل سے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے انہیں پی آئی سی بھی لے جایا گیا تھا، ڈاکٹروں نے نوازشریف کو مزید اسپتال میں رکھنے کی سفارش کی تھی تاہم سابق وزیراعظم کے اصرار پر انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا۔