The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Thursday, February 7, 2019

ماسکو کانفرنس، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق ،اعلامیہ جاری

غیر ملکی انخلا کے بعد افغان سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی

ملک کے لیے اسلامی اصولوں کی روشنی میں افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ اور شہریوں کے آزادی اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق
یکم مئی سے قبل افغانستان سے آدھی امریکی فوج کا انخلا ہوجائے گا،طالبان رہنما عبدالسلام حنفی کی میڈیا سے گفتگو

ماسکو(این ٹی ایس رپورٹ)ماسکو کانفرنس میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق ہوا جبکہ غیر ملکی انخلا کے بعد افغان سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ،کانفرنس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا گیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔روس کے دارالحکومت ماسکو میں مسئلہ افغانستان پر دو روز تک امن مذاکرات ہوئے جن میں افغانستان کی سیاسی جماعتوں، سابق صدر حامد کرزئی سمیت نمایاں سیاست دانوں اور طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی تاہم کابل حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ میں افغانستان میں پائیدار امن کے لیے امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے مکمل انخلا پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ دنیا کے تمام ممالک افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ افغان فریقین نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔شرکا ء نے ملک کے لیے اسلامی اصولوں کی روشنی میں افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ اور شہریوں کے آزادی اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں طالبان حکام نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے وعدہ کیا کہ یکم مئی سے قبل افغانستان سے آدھی فوج واپس بلالی جائے گی تاہم دوسری جانب امریکی فوج کے مطابق فوج کے انخلاف کا ٹائم فریم فی الحال طے نہیں ہوا۔ماسکو میں طالبان اور افغان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر سائڈ لائن ملاقاتوں کے موقع پر بات کرتے ہوئے طالبان رہنما ء عبدالسلام حنفی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے عہد کیا ہے کہ افغانستان سے فوج کا انخلا رواں ماہ سے شروع ہوجائے گا۔عبدالسلام حنفی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے طالبان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فروری کے ابتدائی ایام سے اپریل کے اختتام تک افغانستان سے آدھی فوج کو واپس بلالیا جائے گا۔دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان کنرل روب میننگ کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں تاہم امریکی فوج یا محکمہ دفاع کو اب تک افغانستان سے انخلا کا کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔یاد رہے کہ روس کے شہر ماسکو میں طالبان اور افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے جس کے دوران افغان تنازع کے حل کیلئے افغانوں کے مابین مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔اگلی امن کانفرنس قطرمیں کرانے پراتفاق کیا گیا جبکہ اسلامی بنیادی قوانین کا احترام اور پاسداری افغانستان کے ہرعلاقے میں یقینی بنانے پراتفاق کیا گیا۔

آشیانہ اسکینڈل‘احتساب عدالت کا شہباز شریف پر فردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

عدالت کا شہباز شریف کو 18 فروری کو پیش ہونے کا حکم ۔۔۔آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش کیا جائے ‘عدالت

لاہور (این ٹی ایس رپورٹ) احتساب عدالت نے شہباز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لاہور کی احتساب عدالت میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس میں گرفتار ملزمان احد چیمہ اور فواد حسن فواد عدالت میں پیش ہوئے جب کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔ احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شہباز شریف کو 18 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو ا?ئندہ سماعت پر ہر صورت موجود ہونا چاہیے کسی قسم کا عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ عدالت نے ملزم اسرار سعید کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا اسرار سعید کو نیب نے لاڈلا رکھا ہوا ہے۔ نیب پراسکیورٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے کسی کو لاڈلا نہیں رکھا۔ تاہم عدالت نے وکلا کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز کا ریفرنس ابھی تک کیوں فائل نہیں کیا گیا ہے ؟۔ نیب پراسکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفرنس منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو بھجوا دیا گیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کیوں پیش نہیں ہوئے۔ ان کو صحت کا مسئلہ ہے یا پی اے سی کی میٹنگ میں ہیں ؟ کیس ایسے تو نہیں چل سکتا۔ ڈی ایس پی اعزاز شاہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شہباز شریف کو صحت کے مسائل بھی ہیں اور پی اے سی کی میٹنگ بھی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس تو صرف چوکیدار ہے اسٹیٹ جواب دے۔ شہباز شریف کو کس نے اسلام آباد میں رہنے کی اجازت دی ہے ؟ انہیں میڈیکل کی اجازت اس لیے نہیں دی کہ وہ عدالت میں پیش ہی نہ ہوں۔ نیب پراسکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کو پیش کرنا نیب کی نہیں پولیس کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز شریف ٹھیک تھے لیکن لگتا ہے کہ بستر میں پڑے پڑے بیمار ہو گئے ہیں۔

رمضان شوگر ملز ریفرنس ‘احتساب عدالت کا شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم

لاہور (نمائندہ جسارت) احتساب عدالت کے جج نے رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے ریفرنس میں ملوث ملزم اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے وکیل کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ شہباز شریف کو آئندہ پیشی پر ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے۔ دوران سماعت عدالت نے شہباز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ شہباز شریف عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ شہباز شریف کی طبیعت خراب ہے اور وہ اسلام آباد میں میڈیکل چیک اپ کروانے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے کیونکہ ڈاکٹر نے انہیں سفر کرنے سے منع کیا ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا انہیں اسلام آباد سے لاہور لانے کے لئے ائیر ایمبولینس کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے استفسار پر عدالت میں موجود نیب اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو نیب نے نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں نے عدالت میں پیش کرنا ہے جس پر عدالت نے ملزم شہباز شریف کے وکیل کو 7 دن کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ پیشی پر شہباز شریف کو پیش کیا جائے اور اگر انہیں پیش نہ کیا گیا تو عدالت جو حکم دے گی اس سے آپ کو تکلیف ہو سکتی ہے۔ 

Jokes


قدرت کے حیرت انگیز کمالات پیاز سے مہلک امراض سے نجات جسم طاقتور‘ چہر ہ سرخ و بارونق بنانے کا رازز

پروفیسر ڈاکٹر حکیم سید عسکری کا یہ تحقیقاتی  مضمون صدقہ جاریہ ہے
 فیض عام کے لئے شیئر کریں 


مرگی سے نجات کیلئے پیاز گھوٹ کر تین کپ پانی ایک ہفتہ متواتر پئیں اور حالت دورہ میں آب پیاز کے دو قطرے ناک میں ٹپکانے سے درد ختم ہوجاتا ہے۔ سن سٹروک میں پیاز بطور سلاد کھائیں‘ درد سر میں پیاز گھوٹ کر پاؤں کے تلوؤں کی مالش کیجئے۔
پیاز ایک پودے کی جڑ ہے جو پوری دنیا میں روزانہ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے کہ اگر پیاز کو ہلکی آنچ پر پکائیں تو کچی پیاز کی نسبت اس میں وٹامنز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ قدیم طبی مکتب میں اطباء کرام نے پیاز کے بے شمار فوائد رقم کیے ہیں۔ امام رازی رحمہ اللہ کے بقول پیاز معدے کے لیے مقوی ہے۔ بھوک کو برانگخیت کرتا ہے۔ یہ جسم کو طاقتور‘ چہرہ سرخ و بارونق اور عضلات کو قوی بناتا ہے۔ ابن بیطار کا قول ہے کہ پیاز بھوک‘ پیاس‘ پیشاب اور قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے۔ نامور طبیب داؤ والعطا کی کے نزدیک پیاز مفتح سدد‘ مشتی‘ مقوی باہ‘ مفتت حصاۃ اور مدر حیض خصوصیت کا حامل ہے۔ فرانسیسی ڈاکٹر جارج لاکو فسکی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس نے پیاز سے انجکشن تیار کرکے بہت سے مریضوں پر آزمائے تو وہ مریض مختلف امراض خصوصاً سرطان سے بالکل شفایاب ہوگئے۔
اینٹی بائیوٹک ہونے کی وجہ سے یہ بدن کو امراض فساد خون‘ خارش‘ پھوڑے پھنسیوں اور دوسرے زہریلے اثرات اور حشرات الارض کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی جسمانی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ نیز یہ تمام موسمی اثرات میں تریاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے جو لوگ پیاز روزانہ اپنی خوراک میں شامل رکھتے ہیں وہ لذیذ اور مزیدار کھانے والوں کی نسبت زیادہ صحت مند‘ خوبصورت‘ قوی اور سڈول جسم کے مالک ہوتے ہیں۔
زمانہ قدیم سے لے کر آج تک اہل مصر پیاز بھون کر تناول کرتے ہیں اور وہاں یہ بطور ترکاری بھی کھایا جاتا ہے۔ نامور مؤرخ ڈاکٹر ہیر روڈ لکھتے ہیں کہ مجھے تعجب و حیرانی ہے کہ مصر کے لوگ لیموں اور پیاز کی موجودگی میں امراض کا شکار ہوتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ پیاز کو بہت سے فوائد و منافع کے حامل ہونے کی وجہ سے گولڈن بال یعنی سنہری گیند قرار دیتے ہیں۔ پیاز مرگی‘ سن سٹروک‘ ثقل سماعت‘ بالوں کا قبل از وقت سفید ہونا‘ آنکھوں کی خارش‘ کان کے میل کا خاتمہ‘ نکسیر‘ ہیضہ‘ سادہ خونی پیچش‘ خناق‘ ورم لوزتین‘ ہچکی‘ بواسیر‘ حصاۃ کلیہ و مثانہ‘ نزلہ زکام‘ نمونیا‘ کھانسی‘ کچے پھوڑے کے مواد کو پکا کر خارج کرنے کیلئے‘ زہریلے جانورمثلاً سانپ‘ بچھو‘ بھڑ‘ شہد کی مکھی اور باؤلے کتے کے کاٹنے سے اس کے زہریلے اثرات کے خاتمہ اور مرض طاعون میں بے حد فائدہ دیتا ہے۔
دمہ میں شہد اور آب پیاز کو ملا کر ایک ماہ تک صبح وشام ایک کپ پینا مفید ہے۔ التہاب ریہ میں پھیپھڑوں کے مقام پر رات سوتے وقت روزانہ پیاز کے گودے کا نیم گرم ضماد بے حد فائدہ دیتا ہے۔ مرگی سے نجات کیلئے پیاز گھوٹ کر تین کپ پانی ایک ہفتہ متواتر پئیں اور حالت دورہ میں آب پیاز کے دو قطرے ناک میں ٹپکانے سے درد ختم ہوجاتا ہے۔ سن سٹروک میں پیاز بطور سلاد کھائیں‘ درد سر میں پیاز گھوٹ کر پاؤں کے تلوؤں کی مالش کیجئے۔ انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔ بال سیاہ اور چمکدار رکھنے اور جوؤں کے خاتمہ کیلئے پیاز کو باریک کوٹ کر سر پر لیپ کریں۔ ٹماٹر اور آب پیاز سفید ہمراہ نمک حسب ذائقہ استعمال کرنے سے قوت و نشاط پیدا کرتا ہے۔ بھیڑ کے دودھ میں تلے ہوئے پیاز بدن میں بے پناہ قوت پیدا کرتے ہیں۔ کان درد‘ میل اور ثقل سماعت کیلئے آب بصل مقطر نیم گرم کرکے تین، تین قطرے کان میں ڈالیں۔ نکسیر کے تدارک کیلئے اب بصل مقطر دو، دو قطرے ناک میں ٹپکائیں۔ ہاضمہ کی خرابی‘ بھوک کی کمی اور اپھارہ کے خاتمے کیلئے پیاز‘ پودینہ‘ اناردانہ‘ دھنیا سبز‘ زیرہ سفید اور کالی مرچ حسب ذائقہ چٹنی بنا کر کھانے کے ساتھ کھائیں۔ ہیضہ میں آب پیاز پچاس گرام‘ ست پودینہ چار گرام‘ کافور بارہ گرام ملا کر محلول تیار کریں اور ہیضہ کے مریض کو آدھے گھنٹے کے وقفہ سے دو، دو چمچ پلائیں۔ پیاز گھوٹ کر دس گرام ہمراہ دہی ایک پاؤ کھلانے سے پیچش خونی و سادہ میں فائدہ دیتا ہے۔ پیاز کاٹ کر دھولیں‘ روز نمک لگا کر کھانے سے ہچکی فوراً بند ہوجاتی ہے۔ چند روز مسلسل استعمال سے ہچکی کی شکایت بالکل نہیں ہوتی۔ گردہ و مثانہ کی پتھری کے اخراج کیلئے آب پیاز تیس گرام آب تازہ میں ملا کر پلائیں۔ انشاء اللہ پتھری ریزہ ریزہ ہوکر خارج ہوجائے گی۔ آب پیاز کو شہد میں ملا کر پلانا نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتا ہے۔ ذہنی پریشانیوں اور دماغی امراض کا خاتمہ کرتا ہے۔
شفاء بحکم خدا بفضل تعالی 
پروفیسر حکیم سید اے این عسکری
(بی یو ایم ایس پاکستان،  ایم ڈی ،این ایم ڈی، ایم ڈی ایچ امریکا  پی ایچ ڈی امریکہ ) 
غیر ممالک و پاکستان کے دیگر شہروں کے مریض  موبائل پر تفصیلات بتائیں  وٹسپ پر لائیو چیک اپ کروائیں رپورٹ سینڈ کرکے طبی مشورے حاصل کریں اور بزریعہ کوریر گھر بیٹھے ادویات حاصل کریں  .  شکریہ .   وعلیکم اسلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

Wednesday, February 6, 2019

سینیٹ قائمہ کمیٹی توانا ئی میں لاکھڑا کول پاور پلانٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش

کمیٹی نے رپورٹ کی منظوری دیدی، وزارت توانائی کو اس پر آئندہ اجلاس میں اپنا جواب جمع کرنے کی ہدایت

 اسلام آباد(این ٹی ایس رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فدا محمد کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں لاکھڑا کول پاور پلانٹ کے حوالے سے سینیٹر نعمان وزیرخٹک کی سربراہی میں قائم کی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی ۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ لاکھڑا کول پاور پلانٹ ایک اچھا منصوبہ ہے ،اس کی پیدوار صلاحیت 150میگاواٹ تھی ،یہ منصوبہ مقامی کوئلے کی بنیاد پر لگایا گیا تھا ، بدقسمتی سے منصوبہ لگاتے وقت اس میں پرانی ٹیکنالوجی کی مشینیں استعمال کی گئی،اس منصوبے میں وفاقی حکومت کی مائننگ کمپنی کام کر رہی ہے اور تقریباً سات ہزار مزدور کام کر رہے ہیں ،یہ منصوبہ 600میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اس منصوبے سے 4روپے 70پیسے میں فی یونٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ، منصوبے کو چلانے کیلئے 30ملین ڈالر کے اخراجات کی فوری ضرورت ہے ،حکومت کو اس منصوبے کو فوری طور پر سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے چلانا چاہیے ۔ کمیٹی نے رپورٹ کی منظوری دی اور وزارت توانائی کو اس پر آئندہ اجلاس میں اپنا جواب جمع کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت 422ارب کے ٹیکس آئی پی پیز کو پروڈکشن کیپیسٹی کی مد میں دے رہی ہے ۔وزارت توانائی سے اس حوالے سے تفصیلات طلب کی جائیں ۔وزارت توانائی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کمیٹی کی سفارشات کے تحت بجلی چوری کو ختم کرنے کیلئے سخت اقدامات کر رہے ہیں ۔ اس حوالے سے میڈیا نے مہم چلائی ہے اور ٹاسک فورس بنائی گئی ہے اور ایکپورٹل بنایا ہے جس پر تمام معلومات جمع کی جاتی ہیں ،30اکتوبر2018تک ٹاسک فورس نے 31اکتوبر2018سے اب تک 67.9ملین یونٹس کی نشاندہی کی ہے۔ٹاسک فورس نے خیبر پختونخوا میں 676ملین ریکور کئے ہیں جبکہ 31634کنڈے ختم کئے ہیں۔جبکہ کرپٹ ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ کرپشن میں ملوث ملازمین کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں ان کی فہرست پیش کی جائے ۔وزارت توانائی کے حکام نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کو راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا اس کیلئے مسلسل ایک سال کی کوششیں درکار ہیں جس پر کمیٹی چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایک سال سے پہلے وزارت توانائی کا وجود نہیں تھا اور بجلی چوری کی روک تھام فرشتوں نے کرنی ہے ،اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی اور اب بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک سال درکار ہے ۔نیپرا کے حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ ملک بھر میں قائم 93شاپنگ مالزغیر قانونی طور پر دکانداروں کو زائد نرخوں پر بجلی فروخت کر رہے ہیں ان کو تین ماہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے ،نوٹس ختم ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور شاپنگ مالز کی بلنگ کیلئے جے کیٹیگری متعارف کرا رہے ہیں جس کے تحت ان سے آئندہ بلنگ کی جائے گی ۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ اس وقت بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت 30ہزار میگاواٹ کی ہے جبکہ طلب آج کل 13ہزار میگاواٹ ہے پھر لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے ۔وزارت توانائی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے کام جاری ہے ،آئیسکو نجکاری کے حوالے سے ٹاپ لسٹ پر ہے جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ آئیسکو منافع میں ہے اور خسارے والے ڈسکوز کو چھوڑ کر اس کی نجکاری کیوں کی جا رہی ہے ،حکومت خسارے میں چلنے والے ڈسکوز کی نجکاری کرے ۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ گلیکسی ٹیکسٹائل کمپنی جو ایک سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر کی ملکیت تھی جس کے ذمے 2کروڑ کا بجلی کا بل واجب الادا تھا جس کی اطلاعات ہیں کہ کمپنی نے 3ہزار ماہانہ قسطیں کرائی ہیں جو 1880سال میں مکمل ہوں گی اس معاملے کی حکومت وضاحت پیش کرے کہ یہ کس نے غیر قانونی طور پر اس طرح قسطوں کی اجازت دی ہے ۔اجلاس میں پارلیمنٹ لارجز میں رہائش کیلئے پارلیمنٹرینز کے بلوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نئے آنے والے ارکان پارلیمنٹ کو ان کے جاری ماہانہ بل ادا کئے جائیں اور سابقہ ارکان کے بقایا جات ان کے کھاتے میں مت ڈالے جائیں ۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ یہ کون سے ارکان ہیں جن کے ذمے بجلی کے بقایا جات ہیں ، بجلی چوری کی بات سب کرتے ہیں لیکن ان سے ریکوری کیوں نہیں کی گئی اور یہ بقایا جات کسی کو بھی معاف نہ کئے جائیں اور وصول کئے جائیں ۔ کمیٹی کو آ گاہ کیا گیا کہ لیسکو نے بجلی چوری کے حوالے سے مقصود احمد اور عبدالجبار کے خلاف کاروائی کی۔ اس کی ہائیکورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔کمیٹی نے ملزمان کو ضمانت کی منسوخی کے بعد فور ی طور پر گرفتار نہ کرنے پر بر ہمی کا اظہار کیا اور آ ئندہ اجلاس میں بجلی چوری میں ملوث لوگوں اور ان کے خلاف کی گئی کاروائیوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

ہائی اوکٹین کی قیمتیں کمپنیاں مقرر کرتی ہیں حکومت نہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ میں انکشاف

 سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کاپیٹرولیم مصنوعات پر 40 روپے اور گیس کی قیمتوںمیں10 سے143 فیصد اضافے پر شدید تشویش کا اظہار 
گیس اورپیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم و ذیادتی، اوگرا کو گیس کی قیمتوں کاجائزہ لے کر رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی کمیٹی
 بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے پاکستان میں ٹیکسوں کی بھر مارکردی گئی ۔چیئرمین
 عوام کا گیس کا بل 2 ہزار کی بجائے 40 سے 50 ہزار روپے آنا اضافی بوجھ اور جینے کا حق چھیننے کے برابر ہے 

اسلام آباد( این ٹی ایس رپورٹ)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ میں انکشاف ہواہے کہ ہائی اوکٹین کی قیمتیں کمپنیاں مقرر کرتی ہیں حکومت نہیں،حکام کیاانکشاف پر ارکان کمیٹی حیران وپریشان ہوگئے، کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات پر 40 روپے فی لیٹر ٹیکس اور گیس کی قیمتوں میں10 سے143 فیصد اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر ظلم و ذیادتی قرار دیا اور اوگرا کو گیس کی قیمتوں کاجائزہ لے کر رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں ٹیکسوں کی بھر مار کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ۔ عوام کا گیس کا بل 2 ہزار کی بجائے 40 سے 50 ہزار روپے آنا اضافی بوجھ اور جینے کا حق چھیننے کے برابر ہے جس سے لوگوںکی مشکلات میں ہوشربا اضافہ ہو چکاہے ۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اوگرا کے کام کے طریقہ کار ، کارکردگی کے علاوہ وزارت پیٹرولیم سے جی آئی ڈی سی (گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سس)پر بریفنگ ، گیس لوڈشیڈنگ ، گیس کے نئے کنکشن پر حکومتی پالیسی اور اوگرا کے گیس کے حوالے سے شکایات سیل کی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اوگرا2002 میں قائم کیا گیا۔پیٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوںکیلئے نیٹ ورک اور دیگر کرائے شامل کر کے سمری وزارت پیٹرولیم کو بھیج جاتی ہے جو کیبنٹ میں منظوری کیلئے پیش کی جاتی ہے ۔ ادارے کا ایک شکایات سیل بھی ہے جس میں لوگ اپنی شکایات تحریری طور پر پیش کرتے ہیں جن کا روزانہ کی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے ۔سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں دسمبر سے مارچ تک درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے گر جاتا ہے اور صوبے کی عوام کو ایک منٹ کیلئے بھی گیس فراہم نہیں کی جاتی لوگ سردی سے بچنے کیلئے قیمتی جنگلات کو کاٹ کر ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ کراچی میں بھی یہی صورتحال ہے بچے گیس نہ ہونے کی وجہ سے بغیر ناشتے کے سکول جاتے ہیں ۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے عام عوام جن کا گیس کا بل2 سے5 ہزار آتا تھا اب35 سے50 ہزار آنا شروع ہوگیا ہے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری کوئی ادارہ قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ جس پر چیئرپرسن اوگرانے کمیٹی کو بتایا کہ پہلے گیس کے بل تین سیلبوں تک مقرر تھے اب 7سلیب کر دیئے گئے ہیں پہلے سلیب میں 10 فیصد اضافہ ، دوسرے میں15، تیسرے میں20 اور چھٹے اور ساتویں میں143 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو کل صارفین کا2 فیصد ہے اور بہت زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جن کے بل زیادہ آئے ہیں وہ 4 اقساط میں ادا کر سکتے ہیں ۔جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2 سے5 ہزار روپے والا بل 35 سے50 ہزار کس طرح ہو سکتا ہے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں سالانہ 8 فیصد گیس کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گیس کی کمی کا سامنا بھی ہے ۔ صوبہ سندھ سے کل 65 فیصد گیس نکلتی ہے ، بلوچستان سے 13 فیصد ، خیبر پختونخواہ سے 10 فیصد اور پنجاب سے 2 سے3 فیصد ۔ صوبہ بلوچستان کو کل 2 فیصد گیس فراہم کی جارہی ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ سے 400 ملین کیوبک فٹ گیس نکلتی ہے جبکہ صوبے کی ضرورت 300 ملین کیوبک فٹ ہے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گھریلو صارفین کو گیس دینے میں پہلی ترجیح دی جاتی ہے پھر زیرو ریٹڈ صنعت اور پھر دیگر شعبوں کو فراہم کی جاتی ہے ۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کہ آئین کے مطابق جن صوبوں سے گیس نکلتی ہے پہلے ان صوبوں کی ضرورت کو پورا کیا جائے پھر باقی صوبوں کو فراہم کی جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو جی آئی ڈی سی کے معاملے پر تفصیلاًآگاہ کیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا کہ جنوری2011 میں ایکٹ ریگولیٹ ہوا۔ کچھ لوگوں نے جی آئی ڈی سی بھی ادا کرنا شروع کی اور یہ مسئلہ دو دفعہ عدالت میں چیلنج کیا گیا اور ابھی بھی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ ڈی جی گیس نے کمیٹی کو بتایا کہ سی این جی سیکٹر نے 6 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے ۔ قانون میں درج نہیں ہے کہ ادائیگی نہ کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے ۔معاملہ وزارت قانون کو بھیجا ہے جس نے تجویز دی کہ اسے ایکٹ میں شامل کرایا جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ 10 سے18 فیصد لیوی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں انکشاف ہوا کہ ہائی اوکٹین کی قیمتیں کمپنیاں مقرر کرتی ہیں حکومت نہیں ۔قائمہ کمیٹی کے ہائی اوکٹین پر اضافی ٹیکسوں کی بھر مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا مناسب قرار دیا ۔ چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ جب بین الاقوامی سطح پر آئل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومت ٹیکسز میں اضافہ کر دیتی ہیں اور جب قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت ٹیکسز کم کر دیتی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نادرا کو تصدیق کیلئے غیر ملکیوں کے 350 کیسز بھیجے تھے جن کی ابھی تک رپورٹ فراہم نہیں کی گئی چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سمیت افغان ایجنسیوں کے لوگوں کو نادرا سے شناختی کارڈ جاری کیے گئے تھے ان لوگوں کے پاسپورٹ پر بھارت اور افغانستان کے ویزے بھی لگے ہوئے ہیں ۔نادرا نے کس قانون کے تحت ایسے لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کیے ملوث لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز نجمہ حمید، روبینہ خالد ، نصیب اللہ بازئی ، ستارہ ایاز ، ڈاکٹر اسد اشرف ، ڈاکٹر اشوک کمار ، سیمی ایذی،ڈاکٹر سکندر میندرو اور محمد اکرم کے علاوہ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ ، چیئر پرسن اوگرا، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس پائپ لائن ، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس پائپ لائن و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ 

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس

 وائس ایڈمرل (ر) احمد حیات، سابق چیئرمین کے پی ٹی،سابق وائس چانسلرعبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے، سابق آئی جی ایف سی/سابق آئی جی پولیس ملک نوید خان کے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری

اسلام آباد ۔ 6 فروری (این ٹی ایس رپورٹ) قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بدعنوانی کے3 ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وائس ایڈمرل (ر) احمد حیات، سابق چیئرمین کے پی ٹی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزمان پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر زمین کی الاٹمنٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو 18.18 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میں ڈاکٹر احسان علی سابق وائس چانسلرعبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزمان پر مبینہ طور پرگاڑیوں اور فیول کی خریداری کیلئے مختص فنڈزمیں خوردبرد کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو 23.48 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میںایاز احمد ایگزیکٹو انجینئر ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ ایسٹ ڈویژن خیرپور اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظورری دی گئی، ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری سکیموں کے فنڈز میں خورد برد کرنے اور من پسند افراد کو قواعد کے خلاف ٹھیکے دینے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو تقریباً 89.3  ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میں ملک نوید خان سابق آئی جی ایف سی/سابق آئی جی پولیس کے خلاف انوسٹی گیشنز جبکہ آفیسرز/آفیشلز میاں رشید حسین شہید ممیوریل ہسپتال پبی نوشہرہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، نیب بدعنوانی کے خاتمہ کو نہ صرف اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے بلکہ کرپشن فری پاکستان کیلئے بھرپور کاوشیں کر رہا ہے۔ نیب نے اپنی اسٹیٹ آف دی آرٹ فرانزک لیبارٹری اسلام آباد میں قائم کی ہے، نیب نے میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کی تحقیقات نہ کرنے کی صلاحیت کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب نے نہ صرف وائٹ کالر میگا کرپشن کے 1210 مقدما ت کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ملک بھر کی معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جن کی تقریباً مالیت 900 ارب روپے ہے جو کہ اس وقت ملک کی معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اس کے علاوہ نیب کی موجودہ قیادت نے گزشتہ 13 ماہ میں 590 وائٹ کالر میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ملک بھر کی معزز احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں جو کہ زیر سماعت ہیں۔ نیب اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، تمام انکوائریز  اور انویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو کہ حتمی نہیں، نیب قانون کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا مؤقف معلوم کرے گا جس کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

بھارتی ظلم و بربریت کا کوئی ہتھکنڈا کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکتا، بھارت کے انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی پر مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا، بھارتی فوج کو کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دیا گیا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائی جائیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق لندن میں منعقدہ نمائش سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 فروری (این ٹی ایس رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی ظلم وبربریت کا کوئی ہتھکنڈا کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کرسکتا، بھارت کے انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی پر مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا، بھارتی فوج کو کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دیا گیا ہے، بھارت نے کسی ایک اہلکار کو جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم پر سزا نہیں دی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامیالیوں کو جانچنے کے لئے آزادتحقیقاتی کمیشن تشکیل دیاجانا ضروری ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق لندن میں منعقدہ نمائش سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب یہاں مقبوضہ جموں وکشمیر کے جرات مند اور بہادر کشمیریوں کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں، ہم شہداء کشمیر کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، شہداء کے خاندانوں، بچوں اور ورثاء کے غم میں شریک ہیں اور ان کے پیاروں کیلئے انصاف کے حصول کے مطالبے میں ہماری آواز بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سینٹ کے ارکان بھی آج کشمیریوں سے یک جہتی کیلئے یہاں موجود ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر میں نہتے اور بے گناہ عوام قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں بدترین مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں۔تصویری نمائش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر بھارتی مظالم اور بربریت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز استعمال کرکے کشمیریوں کو بصارت سے محروم کیاجارہا ہے، ہزاروں افراد کے شہید ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ نابینا اور معذور ہوئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی فوجی پیلٹ گنز کو مہلک ہتھیار نہیں سمجھتے اور بے دریغ نہتے عوام کے خلاف استعمال کررہے ہیں،کٹھوعہ کی آٹھ سالہ معصوم آصفہ بانو کو کون بھول سکتا ہے جسے اغوا کرکے اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا اور بے رحمی سے قتل کردیا گیا، یہ بھارتی بے رحمی اور سفاکی کی محض ایک مثال ہے جس کے پس پردہ سنگین جرائم کا پورا سمندر چھپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مطالبہ کرتا آرہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائی جائے۔ یو این انسانی حقوق کے لئے ہائی کمشنر کی رپورٹ نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی ہے، انسانی حقوق کے لئے یواین ہائی کمشنر کی رپورٹ نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے تحقیقاتی کمشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ استصواب رائے کا حق دینے کا وعدہ کشمیریوں سے خود اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کے ذریعے کررکھا ہے، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا، بھارت اپنے روئیے سے ثابت کرچکا ہے کہ وہ یہ وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کا بازار گرم کیا اور اسے فولادی پردے میں چھپا رکھا ہے، اس فولادی پردے کے پیچھے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم چھپے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے نزدیک حق آزادی کی بات کرنے والا ہر کشمیری دہشت گرد ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی جان، عزت وآبرو معنی واہمیت کھوچکا ہے،گھر گھرتلاشیوں اور چھاپوں کے نام پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم وبربریت کا کوئی ہتھکنڈا بہادر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کرسکا، تین دہائیوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج شہید کرچکی ہیں، تئیس ہزار سے زائد کشمیری خواتین بیوہ بنادی گئیں، مقبوضہ کشمیری میں خواتین کی بے حرمتی کے گیارہ ہزار سے زائد واقعات ہوئے۔مقبوضہ وادی میں ایک لاکھ آٹھ ہزار بچے یتیم ہوئے، ایک لاکھ نو ہزار سے زائد گھر مسمار اور نذرآتش ہوئے۔ مقبوضہ وادی میں ایسی خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جن کے نوبیاہتا شوہروں کوبھارتی افواج نے لاپتہ کردیا اور اب تک ان کا کچھ پتہ نہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی افواج تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے جنسی تشدد کو ظلم کے ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کررہی ہے۔کنن پوش پورہ کے دیہات میں تئیس فروری1991ء کی سرد رات جو ظلم ہوا، کشمیری عوام آج تک نہیں بھلاسکے، محاصرے کے نام پر سو خواتین کو بے آبرو کرنے کا قابل مذمت اقدام ہوا، مقبوضہ کشمیر میں نسل درنسل خوف کے سائے اورتشدد کے ماحول میں پل کر جوان ہورہی ہے، نومبر 2018ء میں شوپیاں کے علاقے میں بیس ماہ کی موصومہ حبا کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایاگیا۔انہوں نے کہا کہ آٓٓپریشن کے باوجود یہ ننھی پری حبا اپنی دائیں آنکھ کا نور کھو چکی ہے، انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کا کیا پیغام جارہا ہے، مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک تصویری نمائش کا افتتاح کیا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین اور چیئر پرسن ورلڈ کانگریس اوورسیز پاکستانیز ناہیدرندھاوانے مشترکہ طور پر نمائش کا اہتمام کیا۔ نمائش میں برطانوی پاریلمینٹیرینز، لوکل گورنمنٹ میئرز،کونسلرز،سول سوسائٹی کے ارکان،طلباء اور برٹش پاکستانیوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشلہ کشمیر کے پر امن حل کی ضرورت پر زور دیا ۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کیلئے آواز بلند کریں۔تقریب سے برطانوی ارکان پارلیمنٹ عمران حسین، لارڈ قربان حسین، ڈیبی ابراہیم سمیت ناہید رندھاوا، بیرسٹر سلطان محمود اور چوہدری یاسین نے بھی خطاب کیا۔

آسیہ بی بی آزاد ہے ملک چھوڑناچاہے تو چھوڑ سکتی ہے اگرپاکستان میں رہنا چاہتی ہے تو حکومت تحفظ فراہم کرے گی ،شاہ محمود قریشی


 افغان مسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ، افغان مسئلہ کاواحد حل مذاکرات کے ذریعے سیاسی مفاہمت ہے ہے ،وزیر خارجہ کا انٹرویو

لندن(صباح نیوز)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی آزاد ہے ملک چھوڑناچاہے تو چھوڑ سکتی ہے اگرپاکستان میں رہنا چاہتی ہے تو حکومت تحفظ فراہم کرے گی ۔لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہاکہ آسیہ بی بی کو بری کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو واضح پیغام دیا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز بلند کرنے کیلئے برطانیہ کا دورہ کیا ۔ پاکستان خطے میں امن و خوشحالی کا خواہاں ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی گمراہ کن منظر کشی کررہاہے عالمی رپورٹس نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ ہم نے آزاد جموں کشمیر میں سب کو رسائی دی ہوئی ہے، ہم خوش آمدید کہتے ہیں آئیں اور وہاں صورتحال کا خود جائزہ لیں ۔ ہمارے پاس چھپانے کوکچھ نہیں ہے۔بھارت جو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم ڈھارہا ہے اسے چھپانے کیلئے رسائی نہیں دیتا۔ پاکستان ہمیشہ سے کہتارہا ہے کہ افغان مسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ہے افغان مسئلہ کاواحد حل مذاکرات کے ذریعے سیاسی مفاہمت ہے۔ جب امریکہ نے افغان سیاسی مفاہمت میں دلچسپی لی تو پاکستان نے سہولت کاری کی۔ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے سہولتکاری جاری رکھے گا۔ ہم اپنے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کوجڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ فوجی طاقت سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ افغانستان کو اپنی سرحد کے اندر ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ دہشت گردوں کی اگرکوئی پناہ گاہیں باقی ہیں تو وہ سرحد پار افغانستان میں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آرہی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے مفاد میں صدر ٹرمپ سمیت کسی سے بھی ملنے کو تیارہیں۔

عبدالعلیم خان زمین کی خریداری کیلئے موجود وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصررہے،نیب لاہور

لاہور۔6فروری(این ٹی ایس رپورٹ ) قومی احتساب بیورو لاہور کی جانب سے جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت کے طور پر سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتارکیاگیاہے۔ نیب لاہور کے مطابق عبدالعلیم خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی وجہ سے پاکستان و بیرون ممالک میں مبینہ طور پرآمدن سے زائد اثاثہ جات بنائے۔ عبدالعلیم خان نے رئیل اسٹیٹ بزنس کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں روپے مذکورہ بزنس میں انویسٹ کئے علاوہ ازیں انہوں نے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900کنال زمین خریدی جبکہ600کنال مزید زمین کی خریداری کیلئے بیعانیہ رقم بھی ادا کی گئی تاہم عبدالعلیم خان مذکورہ زمین کی خریداری کیلئے موجود وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصررہے۔ عبدالعلیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اثاثہ جات کے علاوہ2005اور2006کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جن میں ملزم کے نام موجود اثاثہ جات سے کہیں زیادہ اثاثے خریدے گئے جن کے حوالے سے نیب افسران تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں ، ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کے پیشِ نظر گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے تاہم دورانِ گرفتاری ملزم کے اپنے اور دیگر بے نامی اثاثہ جات کے حوالے سے قانون کے مطابق تحقیقات جاری رکھی جائیں گی۔نیب حکام عبدالعلیم خان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے آج جمعرات کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کرینگے۔