The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Monday, March 6, 2017

Meet Australia's youngest snake catcher: The one-year-old boy

What American Women Who Wear Hijab Want You to Know

ewish Communities Confront Wave of Anti-Semitic Attacks

16-year-old Naina Jaiswal becomes youngest post-graduate in Asia

Saturday, March 4, 2017

Pakistan in Karachi Kings wounded by a ball in hand, will not take part ...

فرعون اور فرعونیت

میں نے ان سے پوچھا’’ خواجہ صاحب پورا عالم اسلام زوال کاکیوں شکار ہے ، ہم دنیا کے ہر کونے، ہر خطے میں مار کھا رہے ہیں‘‘ خواجہ صاحب مسکرائے اور ذرا سے توقف سے بولے’’ فرعونیت کی وجہ سے ‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا، ، انہوں نے فرمایا’’ فرعون کے بے شمارمعانی ہیں، ان معنوں میں ایک مطلب بڑے گھر والا بھی ہوتا ہے ، فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، اس کی اس جسارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا ‘جب اللہ تعالیٰ کسی کو ناپسند فرماتے ہیں تو وہ اس شخص کی ہر ادا ، ہر عادت کو خرابی بنا دیتے ہیں اور آنے والے زمانوں میں جو بھی شخص اللہ کے اس مشرک کی پیروی کرتا ہے ، جو بھی اس کی عادات اپناتا ہے اللہ اسے بھی اس زوال، اس انجام کا شکار بنا دیتا ہے ‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا، انہوں نے فرمایا’’ فراعین مصر کو بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں بنانے کا شوق تھا، ان کا خیال تھا محلات، دربار، قلعے اور دروازے طاقت اور اختیار کی علامت ہوتے ہیں ، اگر انہوں نے خود کو خدا ثابت کرنا ہے تو انہیں پہاڑوں سے بلند عمارتیں بنانی چاہیں چنانچہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو گئے‘‘ وہ ذرا دیر کیلئے رکے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس کے بعد بولے’’ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی قبریں تیار کیں، آپ اہرام مصر دیکھیں، یہ کیا ہیں یہ وسیع و عریض قبریں ہیں، سائنس آج تک حیران ہے یہ لوگ اتنے بڑے بڑے پتھر کہاں سے لائے، انہوں نے یہ پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑے اوران لوگوں نے کرینوں کے بغیر یہ پتھر ایک دوسرے کے ا وپر کیسے رکھے، یہ مقبرے دراصل ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں ،یہ ثابت کرتے ہیں فرعون حقیقتاً بڑے گھروں والے لوگ تھے اور وہ اپنے بڑے بڑے گھروں، قلعوں اور قبروں سے خود کو خدا ثابت کرنا چاہتے تھے‘‘۔ خواجہ صاحب مکمل طور پر خاموش ہو گئے۔میں نے عرض کیا’’ لیکن فرعون کے گھروں کا ہمارے زوال کے ساتھ کیا تعلق ‘‘ وہ مسکرائے’’ بڑاگہر ا تعلق ہے ، فرعون اللہ کا دشمن تھا اوراللہ اپنے دشمن کی عادتوں کو پسند نہیں کرتا چنانچہ دنیا کے تمام بڑے گھروں والے لوگ جلد یا بدیر فرعون جیسے انجام کا شکار ہوتے ہیں، وہ ، ان کی خدائی اور ان کے بڑے بڑے گھر زوال کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا ، وہ بولے’’تم دنیا میں ترقی اورپستی پانے والے لوگوں ، معاشروں ، قوموں اور ملکوں کا جائزہ لو تو تمہیں چھوٹے گھروں،چھوٹے دفتروں اورچھوٹی گاڑیوں والے لوگ، ملک اورمعاشرے ترقی پاتے نظر آئیں گے جبکہ ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیرہوگا‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا، انہوں نے فرمایا’’پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے، اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ، عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ‘‘ وہ خاموش ہوئے،ذرا دیر سوچا اور پھر بولے’’ تم پاکستان کو دیکھو، تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو، یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب بڑے گھر ہیں، پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر106کنال پر مشتمل ہے، اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے، لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے اورایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے ‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا’’ تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو، ان کی شان و شوکت دیکھو، ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو، کیا یہ سب فرعونیت نہیں، کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا جبکہ اس کے برعکس تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو، بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے دنیا میں صرف18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں باقی192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے ، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ، وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں، وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے اس کے پاس 50برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے ، اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے ، برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے ، جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے ، اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے ، اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے ، بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا، وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں، اوول آفس میں صرف چارکرسیوں کی گنجائش ہے اور جاپان کے وزیراعظم کو شام چاربجے کے بعد سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں چنانچہ تم دیکھ لو چھوٹے گھروں والے یہ لوگ ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں، یہ آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم دن رات پیچھے جا رہے ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گئے۔میں نے عرض کیا’’گویا آپ کا فرمانا ہے ہم ترقی نہیں کر سکتے ؟‘‘ انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے’’ ہاں جب تک ہم فرعون کے دربار سے نکل کر موسیٰؑ کے خاک ساروں میں شامل نہیں ہوتے ، جب تک ہم بڑے گھروں سے نقل مکانی کر کے چھوٹے گھروں میں نہیں آتے اور جب تک ہم قلعوں، ایوانوں اور محلوں سے نکل کر مکانوں، گھروں اور فلیٹوں میں شامل نہیں ہوتے ‘ہم اس وقت تک ترقی نہیں کریں گے، ہم اس وقت تک بڑی قوم نہیں بنیں گے‘‘ وہ رکے ، انہوں نے کچھ سوچا اور مسکرا کر بولے ’’اللہ نے جو قانون اپنے نبیوں کیلئے نہیں بدلہ تھا وہ یہ قاعدہ ہمارے لئے کیوں تبدیل کرے گا‘‘۔

پاکیزہ کمائی کی صفات

کمائی کے پاکیزہ اور حلال ہونے میں کیا صفات ہونی چاہیں ، یہ ہمارےآقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے بیان فرمادیں۔
جس کی تجارت میں یہ باتیں شامل ہوگئیں اس کی کمائی پاکیزہ بھی ہو گئی اور حلال بھی۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب کسی کے اندر یہ چار باتیں ہوں گی ،اس کی کمائی حلال اور پاکیزہ ہوگی:-
مفہوم حدیث؛
1-خریدےتو برائی نہ کرے، 2-بیچے تو تعریف نہ کرے ، 3-اگر چیز میں کمی یاعیب ہے تو چھپائے نہیں، 4-درمیان میں قسمیں نہ کھائے۔
 خریدے تو چیز کی برائی نہ کرے:-
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی چیز بکنے کے لیے آ جائے تو اس کے عیب اور نقص اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اگلا بندہ پریشان ہوکر گھاٹے میں/کم قیمت پر دے کر چلا جائے۔ تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا جائے، ہاں واقعتا اس میں عیب ہو تو عیب اس کو بتا دیا جائے لیکن کم پیسوں پر نہیں بلکہ اس کی جو قیمت بنتی ہو اسی کے مطابق خریدا جائے۔ عیب دار چیز کو عیب دار چیز کے حساب سے خریدا جائے اور صحیح چیز کو صحیح چیز کے حساب سے خریدا جائے۔
تو صحیح چیز کے عیب کو بیان کرنا غلط ہے اور اس کو سستا خرید لینا آپ کی تجارت کو حرام کر سکتا ہے۔
فروخت کرے تو تعریف نہ کرے:-
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان تعریف میں مبالغہ نہ کرے اتنی زیادہ تعریف نہ کرے کہ اگلا اس کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر اس وقت چیز لے لے اور بعد میں اس کو افسوس ہو۔ ہاں اگر اس میں کوئی اوصاف ہوں تو بیان کر دے لیکن اس بات کا خیال رکھے کہ اپنی چیز کی تعریف کرتے ہوئے دوسرے کی چیز کی برائی نہ بیان کرےاور مبالغہ آرائی سے بچے۔
کیوں کہ قرآن کریم  میں آتا ہے،
مفہوم :-زبان سے جو جملہ نکلتا ہے وہ لکھ دیا جاتا ہے۔
چیز کے عیب کو نہ چھپائے:-
اگر چیز میں کوئی عیب ہو تو اس کو کھول کر بیان کر دے ،چھپائے نہیں۔ ایسا کرنا دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ نبی علیہ السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔
قسم نہ کھائے:-
نبی علیہ السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ قسم کھانے سے مال تو بک جاتا ہے پر برکت نہیں رہتی۔ قسم کھائی بھی اللہ رب العزت کے نام کی جاتی ہے۔ اللہ کے نام کو اتنا حقیر کر دیا جاتا ہے کہ معمولی سے نفع کے لیے اللہ کا نام درمیان میں آ جاتا ہے۔ تو ایسے تاجر یا دوکاندار کی برکت اٹھالی جاتی ہے۔
معاملات صاف رکھے:-
اگر اسے کسی کا ادھار دینا ہو کہیں پےمنٹ کرنی ہو تو جس وقت کا وعدہ کیا ہو اس کے مطابق پے منٹ کرنے کی کوشش کرے، ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے وعدہ خلافی نہ کرے۔
ہاں اگرکسی وقت  حالات خراب ہو گئے یا کوئی اور پریشانی آ گئی تو محبت و عاجزی کے ساتھ معاملے کو سلجھائے۔
لیکن نیت یہی ہو کہ جلد ادائیگی کرنی ہے ورنہ رقم ہوتے ہوئے نہ ادا کرنے والے کو ایک حدیث کے مطابق ظالم کہا گیا ہے۔
مقروض سے معاملہ:-
اگر کسی کا اس کے ذمے قرض ہے تو اس پر سختی نہ کرے، گالم گلوچ اور غصہ نہ کرے بلکہ محبت و حکمت سے کام لے۔
یہ چیزیں جس تاجر میں ہوں گی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ رزق حلال کمانے والا ہے۔
اللہ ہمیں بھی رزق کو جائز اور حلال طریقے سے حاصل کرنے والا بنائے اور ہماری کمائیوں میں برکتیں عطا فرمائے۔ آمین
ماخوذ از بیان
حافظ ابراہیم نقشبندی دامت برکاتہم
خلیفہ مجاز حضرت شیخ ذوالفقار نقشبندی دامت برکاتہم

Friday, March 3, 2017

" ھم نازی جنگ ھار چُکے ھیں

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جرمن فوج کو فرانس خالی کرنے کا حکم ملا تو جرمن کمانڈنٹ نے افسروں کو جمع کر کے کہا " ھم نازی جنگ ھار چُکے ھیں ، فرانس ھمارے ھاتھ سے نکل رھا ھے۔ یہ سچ ھے اور یہ بھی سچ ھے کہ شاید اگلے 50 برسوں تک ھم کو دوبارا فرانس میں داخلے کی اجازت بھی نہ ملے اس لیئے میرا حکم ھے کہ پیرس کے عجائب گھروں ، نوادرات سے بھرے نمائش گھروں اور ثقافت سے مالا مال ھنر کدوں سے جو کچھ سمیٹ سکتے ھو سمیٹ لو۔ جب فرانسیسی اس شھر کا اقتدار سنبھالیں تو انہیں جلے ھوئے پیرس کے علاہ کچھ نہ ملے"
جنرل کا حکم تھا سب افسر عجائب گھروں پر ٹوٹ پڑے اور اربوں ڈالرز کے نوادرات اُٹھا لائے۔ اُن میں ڈوئچی کی مونا لیزا تھی ، وین گوہ کی تصویریں ، وینس ڈی ملو کا مرمریں مجسمہ غرض کہ کچھ نہ چھوڑا ۔ جب عجائب گھر خالی ھو گئے تو جنرل نے سب نوادرات ایک ٹرین پر رکھے اور ٹرین کو جرمنی لے جانے کا حکم دیا۔ ٹریں روانہ تو ھو گئی لیکن شھر سے باھر نکلتے ھی اس کا انجن خراب ھو گیا۔ انجئنیر آئے انجن ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن 10 کلومیٹر طے کرنے بعد اس کے پہیے جام ھو گئے۔ انجئنیر آئے مسئلہ ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن چند کلومیٹر بعد بوائلر پھٹ گیا۔ انجئنیر آئے بوائلر مرمت ھوا اور ٹرین پھر چل پڑی ، ابھی تھوڑی دور ھی گئی تھی کہ پریشیر بنانے والے پسٹن جواب دے گئے۔انجئنیر آئے پسٹن مرمت ھوئے اور ٹرین روانہ ھوئی ۔ٹرین خراب ھوتی رھی اور جرمن انجئنیر اسے ٹھیک کرتے رھے یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار فرانسیسیوں نے سنبھال لیا اور ٹرین ابھی فرانس کی حد میں ھی رھی۔
ٹرین کے ڈرائیور کو پیغام ملا کہ " موسیو بہت شکریہ پر اب ٹرین جرمنی نہیں واپس پیرس آئے گی" ۔ ڈرائیور نے مکے ھوا میں لہرائے اور واپس پیرس روانہ ھو گیا ، جب وہ پیرس پہینچا تو فرانس کی ساری لیڈرشپ اس کے استقبال کے لیئے کھڑی تھی ، ڈرائیور پر گُل پاشی کی گئی پھر اس کے ھاتھ میں مائیک دے دیا گیا ، ڈرائیور بولا " جرمن گدھوں نے نوادرات تو ٹرین میں بھر دیئے لیکن یہ بھول گئے کہ ڈرائیور فرانسیسی ھے اور اگر ڈرائیور نہ چاھے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی"
عرصے بعد ہالی وڈ نے اس ڈرائیور پر "دی ٹرین" فلم بنائی۔ اگر اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی "دی ٹرین" کی سٹوری سے کم نہیں ، کبھی انجن فیل ھو جاتا ھے کبھی پہیہ جام ، کبھی پسٹن پھٹ جاتا ھے تو کبھی بوائلر ۔ پہلے دن سے اب تک بحران ھی بحران ھے۔ اس ٹرین کا ڈرائیور اصل میں کوئی اور ھے جو اس کو منزل تک نہیں پہنچنے دے رھا - ہم سب کو ملکر اس ڈرائیور کو ڈهونڈنا هے۔

نیشنل جونیئر والی بال چیمپئن شپ ،


پاکستان آرمی اور واپڈا نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
پشاور(سپورٹس رپورٹر)پشاور میں جاری چیف منسٹر جونیئر نیشنل جونیئر والی بال چیمپئن شپ میںپاکستان آرمی اور واپڈا کی ٹیموں نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا ، فائنل آج کھیلا جائے گا۔پہلے سیمی فائنل میں پاکستان آرمی نے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد خیبرپختونخوا کو تین دو سے شکست دی جبکہ واپڈا نے پی او ایف کو تین صفر سے ہراکر فائنل تک رسائی حاصل کی ۔ اس موقع پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر سید عاقل شاہ مہمان خصوصی تھے ان کے ہمراہ پاکستان والی بال فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری محمد یعقوب‘ذوالفقار بٹ‘صوبائی سیکرٹری والی بال ایسوسی ایشن خالد وقار اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں ‘گزشتہ روز ہونیوالے پہلے سیمی فائنل میچ میں آرمی نے خیبر پختونخوا کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین دو سے ہرایا ، پہلے سیٹ میں خیبرپختونخوا نے آرمی کو پچیس 19 ، دوسرے اور تیسرے سیٹ میں آرمی نے 25-23,25-18 ، چوتھے سیٹ میں خیبرپختونخوا نے 26-24 سے کامیابی حاصل کرکے مقابلہ دو دو سے برابر کیا جس کے بعد فائنل سیٹ میں آرمی نے پندرہ نو سے فتح حاصل کرکے مقابلہ تین دو سے اپنے نام کیا۔ دوسرا سیمی فائنل پاکستان واپڈا نے پی او ایف کو تین صفر سے شکست دی سکورپچیس پندرہ ‘پچیس سولہ اور پچیس انیس رہا ‘پول اے میں واپڈا اور خیبر پختونخواجبکہ پول بی سے آرمی اور پی او ایف کی ٹیمیں سرفہرست رہے ‘اس سے قبل ہونیوالے لیگ راﺅنڈکے آخری مرحلے کے میچوں میں آرمی نے پی او ایف کو ایک کے مقابلے میں تین ‘پی او ایف نے پنجاب کو صفر کے مقابلے میں تین ‘واپڈا نے پاکستان بورڈز کو صفر کے مقابلے میں تین ‘خیبر پختونخوا نے فاٹا کو صفر کے مقابلے میں تین ‘پنجاب نے آزاد کشمیر کو صفر کے مقابلے میں تین جبکہ واپڈا نے بلوچستان کو صفر کے مقابلے میں تین گیمز سے شکست دی تھی۔فائنل آج منعقد ہوگا جس کے لئے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔

Thursday, March 2, 2017

This man lost his life in a terrible road accident

Wednesday, March 1, 2017

*جلدی سونے کے لیے اس بات کو ذہن میں رکھیں.

کہ اس طریقہ سے اللہ نے ہمیں بنایا...رات کو سوئیں اور دن میں کام کریں..

*آج مجھے کچھ نیا پتہ چلا....ایک قدرتی کینسر وکسین کا۔*

 اللہ فرماتا ہے:(ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشکل میں ہوں) 20:2

اللہ نے ہم سب کے دماغ میں ایک *گلینڈ* رکھا ہے جسے *پاینیل گلینڈ* کہتے ہیں,اسے *انسانی جسم کا حیاتیاتی گھڑیال* بھی کہتے ہیں اور یہ ہمارے بصری اعصاب سے منسلک ہوتا ہے.یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے جتنا ایک مٹر.

*ہر روز عشاء کے بعد یہ گلینڈ ایک مادہ تیار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے میلاٹونین کہتے ہیں جو خون کی نالیوں میں بہتا ہےاور جسم کو کینسر سے بچاتا ہے.*

*یہ صرف اندھیرے میں کام کرتا ہےاگر محض آنکھ ہی روشنی میں رہے تو بھی یہ کام نہیں کرتا کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ ابھی رات نہیں ہوئی...*

پھر اگر آپ رات کو بھی روشنی میں رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قدرتی ویکسین سے محروم کر رہے ہیں...

اللہ فرماتا ہے:(ہم نے رات کے آثار ختم کیے اور روشن دن بنایا) 17:12

بدقسمتی سے,ہم نے آجکل رات کے آثار کو دن کی نسبت زیادہ دیدنی کر دیا ہے کہ ہم رات بھر جاگتے ہیں اور سارا دن سوتے ہیں.۔
۔
ہمارے آباواجداد جو رات کو جلد سونے اور جلدی جاگنے کے عادی تھےوہ کینسرکا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی ایسی کسی بیماری کا جن کا آجکل ہم سنتے ہیں

*فارمی مرغیوں پر ایک تحقیق کی گئی,ایک قدرتی طور پر پلتی مرغی جو جلدی سوتی ہے اور کھانے کے لیے جلدی جاگتی ہے جبکہ مصنوعی طریقے سے رکھی گیی مرغی کو کھانا رات کو جاگتا رکھ کر کھلایا جاتا ہے*

*%30 کینسر مصنوعی طریقے سے پالی گئی مرغیوں کی وجہ سے ہوا جبکہ قدرتی طریقہ سے پالی گئی مرغیاں کسی بھی بیماری سے پاک تھیں..*

اللہ نے ہماری حفاظت کے لیے یہ قدرتی ویکسین ہمارے اندر رکھی ہے آئیں جلدی سو کر اس سے فائدہ حاصل کریں..

*یہ گلینڈ عشاء کے فوراً بعد اپنا کام شروع کرتا ہے جو فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جاری رہتا ہے!!!*

سبحان اللہ جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جو رات کا تیسرا پہر ہے

اپنے ہدایت نامہ(قرآن) پہ عمل کریں اور ہمیشہ تندرست رہیں
ان شاءاللہ

کینسر کا علاج احادیث سے بھی ثابت ہے اور سائنس سے بھی...

اس شاندار علاج (جسے اللہ نے انسان کے اندر رکھا ہے...) کو لازمی پڑھیں اور آگے شئیر کریں