The NTS News: ظلم
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected
Showing posts with label ظلم. Show all posts
Showing posts with label ظلم. Show all posts

Tuesday, March 19, 2019

سردار ظلم پیشہ ہوں گے


عابد علی جوکھیو

اسلام انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت پر زور دیتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں۔ اسلام انسان کو دنیا کے اجتماعی معاملات میں اپنا کردار ادا کرکے اپنی عاقبت سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کا یہ تصور نہیں کہ لوگ آبادیوں سے نکل کر کہیں دور جنگلوں میں بسیرا کرلیں یا گھر کے کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کا ورد کرکے صرف اپنی عاقبت کی فکر کریں۔ بلکہ اسلام کا تصورِ عبادت اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، جو تمام اجتماعی معاملات میں نہ صرف شریک ہوتے تھے بلکہ خود مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی قیادت کرتے… دن میں اسلام کی تبلیغ و ترویج اور مسلمانوں کے دنیوی معاملات کے حل کے لیے کوشاں ہوتے تو رات اللہ کی عبادت میں بسر کرتے۔ اسلام اسی طرزعمل کی تعلیم دیتا ہے کہ انسان اس معاشرے کا جزوِ لاینفک ہے، اس لیے اسے لازماً اس معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ جب انسان کو اسی معاشرے میں اپنے شب و روز گزارنے ہیں اور اس دوران پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کا بھی سامنا کرنا ہے تو لامحالہ اس بات کی اشد ضرورت پڑتی ہے کہ انسان ایک ضابطے اور طریقے کے مطابق اس دنیا میں زندگی گزارے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام بنیادی اصول وضاحت کے ساتھ بیان کردیے ہیں۔ اب اگر انسان ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارے گا تو لازماً اس کی زندگی پُرسکون اور خوشگوار گزرے گی، اور اگر اس کے بتائے ہوئے طریقوں کے برخلاف زندگی گزارے گا تو پوری زندگی پریشان اور غیر مطمئن رہے گا۔ 
چونکہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور دوسرے انسانوں سے ربط و تعلق قائم کیے بغیر زندگی کا تصور محال ہے، اس لیے اس بات میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ زندگی گزارنے کے لیے ایک معاشرہ قائم کیا جائے۔ اسی لیے اسلام میں اجتماعیت کے قیام کو واجباتِ دین میں شمار کیا گیا ہے۔ جہاں انسانوں کی اجتماعیت ہوگی وہاں انہیں اس اجتماعیت کو چلانے کے لیے ایک نظام کی ضرورت ہوگی۔ ایک مسلم معاشرے کے لیے تو اس کے سوا اور کوئی راستہ نہ ہوگا کہ وہ نظمِ اجتماعی کو چلانے کے لیے اللہ کے نظام کے علاوہ کوئی اور نظام منتخب نہ کرے۔ اسلام اجتماعی نظام چلانے کے لیے انسانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنا کوئی امیر مقرر کریں تاکہ وہ ان کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو۔ تاریخِ اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ اس کی واضح اور روشن مثال ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی باگ ڈور اللہ کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق سنبھالی اور اس کا حق ادا کیا۔ اسی طرح رہتی دنیا تک جہاں بھی انسانوں کی اجتماعیت ہوگی وہاں انہی اصولوں کے مطابق ایک فرد نظمِ اجتماعی کا ذمہ دار ہوگا جو معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرے گا۔ 
اسلام امیر کے انتخاب کے لیے بھی انسانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کسی کو اپنا امیر منتخب کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس فرد میں امیر کی مطلوبہ تمام صفات موجود ہیں۔ ان صفات میں امیر کی بہادری، امانت داری، عدل، انصاف پسندی، خیر خواہی، دینی اور دنیوی معاملات میں اچھی گرفت اور فراست وغیرہ شامل ہیں۔ جب لوگ کسی شخص میں یہ اور دیگر اوصافِ حمیدہ دیکھ کر اسے اپنا امیر منتخب کریں تو دونوں یعنی رعایا اور امیر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مل کر اس نظام کو چلانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ایسا نہیں کہ امیر تو اپنی طرف سے خوب محنت سے کام کر رہا ہو لیکن عوام اُس کا ساتھ نہ دیتے ہوں، یا پھر عوام اجتماعی معاملات کو بہتر طرز پر چلانے کے خواہاں ہوں لیکن ان کا امیر عوامی امنگوں کے برخلاف معاشرے کے بگاڑ کا باعث بن رہا ہو۔ اسلام امارت کو خیر خواہی سے تعبیر کرتا ہے۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دین خیر خواہی ہے‘‘۔ ہم نے پوچھا: ’’کس کے لیے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے سرداروں اور ان کے عام آدمی کے لیے‘‘ (مسلم)۔ حدیث کے آخری الفاظ کے مطابق اجتماعی معاملات کے ذمہ داران اور عام لوگوں‘ دونوں کے لیے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے دین کے متعلق خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ امیر یا سردار عام لوگوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے ان کی بھلائی کا کام کرے، اور عام افراد اپنے امیر کی خیر خواہی کرتے ہوئے نیک کاموں میں اُس کا ساتھ دیں، اور جہاں کہیں وہ راہِ راست سے بھٹک رہا ہو اسے متنبہ کریں۔ اسلام اجتماعی معاملات کے ذمہ داران کو راعی (نگہبان)، اور اس کے ساتھ لوگوں کو اس کی رعیت تصور کرتا ہے۔ یعنی امیر ان تمام افراد کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہے۔ راعی کے لفظ سے امیر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ راعی اپنے زیراثر تمام افراد کی ذاتی زندگی کی اصلاح سے لے کر ان کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس طرح امیر پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرے جہاں فرد کی ذاتی اصلاح کے تمام مواقع موجود ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تمام راستے بند ہوں جہاں سے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔ 
اگر امیر اپنے فرضِ منصبی کے برخلاف خود ایسے کام کرنے لگ جائے جو معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتے ہوں تو آپ خیال کیجیے کہ وہ معاشرہ کس قدر تباہ حال ہوگا۔ اسی لیے علاماتِ قیامت میں امراء یا سرداروں کے ظالم ہونے کو شامل کیا گیا ہے کہ جب معاشرے میں امن قائم رکھنے اور انصاف فراہم کرنے کے ذمہ دار خود ظالم بن جائیں گے تو معاشرہ کس طرح قائم رہ سکتا ہے! اللہ تعالیٰ نے ظلم کی خوب مذمت کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 (ترجمہ) ’’برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الشوریٰ۔ 40) 
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
(ترجمہ) ’’ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (الشوری۔ 42)
 ان آیات میں اللہ تعالیٰ ظالموں کو دردناک عذاب کی وعید سنا رہے ہیں کہ جو لوگ اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کسی دوسرے کا حق مارتے اور ظلم کرتے ہیں، اللہ اُن کو ہرگز معاف نہ کرے گا۔ احادیث میں بھی ظلم اور مظلوم کی بددعا سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ظلم، قیامت کے دن کئی اندھیرے ہوگا‘‘ (متفق علیہ)۔ مطلب یہ کہ ظالم اس روز کئی مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہوگا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: 
’’مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔‘‘ (متفق علیہ) 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین ظلم سے ہتھیا لیتا ہے تو اس کی وجہ سے قیامت کے دن سات زمینیں طوق بناکر اُس کے گلے میں ڈالی جائیں گی۔‘‘ (متفق علیہ) 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’جس شخص پر بھی اپنے بھائی کا اُس کی عزت یا اُس کی کسی چیز کے متعلق حق تلفی کا کوئی  بوجھ ہو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے عہدہ برآ ہوجائے، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جب کوئی دینار ہوگا نہ درہم۔ اگر اس شخص کے نیک عمل ہوئے تو وہ (صاحبِ حق کو دینے کے لیے) اس کے ظلم کے مطابق لے لیے جائیں گے، اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو پھر صاحبِ حق کی برائیاں لے کر اس پر لاد دی جائیں گی۔‘‘ (بخاری)
آج کل لوگ اجتماعی معاملات کا ذمہ دار بننا جتنا آسان سمجھتے ہیں حقیقت میں یہ اتنا ہی سخت اور بھاری معاملہ ہے۔ اجتماعی معاملات کا ذمہ دار بن کر اپنا فرضِ منصبی ادا نہ کرنا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال ایک ایسی آزمائش ہے جو انسان کو سراسر تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’اے اللہ! میری امت میں جو شخص امیر یا ذمہ دار بنایاگیا اور اُس نے لوگوں کو مشقت میں مبتلا کیا تُو بھی اُس پر مشقت ڈال دے۔ اور جس نے نرمی برتی تُو بھی اس سے نرمی برت۔‘‘ (مسلم)
 ایک دوسری روایت میں ہے کہ’ ’اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو امیر بنایا اور اُس نے اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کیا تو اُس پر جنت حرام ہوگی۔‘‘ (مسلم) 
ان دونوں احادیث ِمبارکہ سے امارت کی اہمیت اور مقام کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر انسانوں کے اجتماعی معاملات کے ذمہ داران اپنی رعایا کے ساتھ ظلم کریں تو پورا نظام بگڑ جائے گا۔ سربراہان کے طرزِعمل اور ناانصافی کو دیکھ کر رعایا میں بھی ظلم کا عنصر بڑھے گا، جس کے نتیجے میں لاقانونیت جنم لے گی جہاں سب ایک دوسرے پر ظلم کرکے اپنی دنیا اور عاقبت خراب کر رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

Saturday, February 16, 2019

ظلم عام ہوجائے گا…


عابد علی جوکھیو
abidjokhio2001@gmail.com

ظلم اسلام کی ایک ایسی جامع اصطلاح ہے جو اپنے اندر کئی مضامین اور ابواب رکھتی ہے۔ علماء نے کسی چیز کو اُس کے اصل مقام و مرتبے پر نہ رکھنے کو ظلم کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیار و محبت اور ایثار و قربانی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیتے ہیں تاکہ ان اعمال کے ذریعے انسانوں کے تعلقات مضبوط اور خوشگوار رہیں۔ چونکہ خالقِ کائنات نے یہ دنیا انسانوں کے لیے بنائی ہے اس لیے وہ انسانوں سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ باہمی تعلقات کی مضبوطی کے ذریعے ایک مثالی معاشرہ قائم کریں۔ انسان میں ظلم کا عنصر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کا دل میں ہوس اور لالچ پیدا ہوجائے۔ ایسے میں وہ اپنی موجودہ مِلک پر اکتفا کرنے کے بجائے اس میں اضافے کے لیے ہر وہ راستہ اختیار کرتا ہے جو اس کی مِلک میں اضافے کا باعث بنے۔ ایسے میں جب انسان اپنی حدود سے نکل کر دوسرے کے مال، جان اور عزت کے پیچھے پڑے گا تو یہ پورا نظامِ زندگی تباہ و برباد ہوجائے گا۔ انسان سے انسانی وصف ختم ہوجائے گا۔ انسان جانوروں سے بھی ابتر حالت میں ہوگا۔ ایسے میں اس کے سامنے سے پوری دنیا اوجھل اور صرف اپنی ذات ہی مرکزِ نظر ہوگی۔ جب انسان میں خودغرضی کا عنصر پیدا ہوتا ہے تو وہ پھر کسی کو نہیں دیکھتا، اسے کسی کے حق کی فکر نہیں ہوتی، اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے کسی فعل سے کس کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک خودغرضانہ زندگی بالآخر انسان کو تباہی کی طرف لے جائے گی اور لامحالہ یہ تباہی صرف اس ایک شخص کی نہیں بلکہ پورے معاشرے اور دنیا کی تباہی ہوگی۔ اس لیے اللہ نے ظلم کے عام ہونے کو اِس دنیا کے اختتام کی علامت کے طور پر ہمیں بتایا ہے۔ 
عموماً ظلم کو صرف انسانوں کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے کہ کوئی انسان کسی پر ظلم کررہا ہے۔ کسی کا حق مار رہا ہے۔ لیکن علماء نے اس کے علاوہ بھی ظلم کی درج ذیل اقسام کا ذکر کیا ہے۔ 
1۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق ظلم:
اس کی سب سے بڑی قسمیں کفر، شرک اور نفاق ہے، کیونکہ مشرک اللہ کا حق مخلوق کو دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ترجمہ) ’’یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ (لقمان: 31۔13)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے: (ترجمہ) ’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ (ہود:11/ 18)
2۔ لوگوں پر ظلم:
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ) ’’برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الشوریٰ: 42/ 40)
مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ) ’’ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (الشوریٰ: 42/42)
3۔ اپنی جان پر ظلم:
ارشادِ باری تعالیٰٰ ہے: (ترجمہ) ’’پھر ان میں بعض اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘ (الفاطر: 35/ 32) اور فرمایا: (ترجمہ) ’’میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کرڈالا۔‘‘ (القصص: 28/ 16)
ان تینوں قسموں میں درحقیقت انسان اپنے آپ پر ہی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان سب کا وبال اس کی جان پر ہی پڑنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔‘‘ (الاعراف: 7/ 160)
ان تین اقسام سے واضح ہوگیا کہ ظلم ایک وسیع معنی اور مفہوم رکھتا ہے۔ پہلی قسم اللہ تعالیٰٰ کے ساتھ ظلم کی بیان کی گئی ہے کہ بندہ اپنے خالق کے ساتھ ظلم کرے۔ قرآن مجید میں اس ظلم کی مثال شرک اور اللہ کو جھٹلانے سے دی گئی ہے۔ ایک عام سی بات ہے کہ ملازم ہمیشہ اپنے مالک کا ہی حکم مانتا ہے، اگر وہ مالک کا حکم نہیں مانتا تو باغی قرار دے کر قابل سزا ٹھیرتا ہے۔ اسی طرح اس ہستی کا حکم نہ ماننے کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جس نے صرف انسان ہی نہیں پوری کائنات کو پیدا کیا۔ اب اس مخلوق (انسان) کی کیا حیثیت کہ وہ اپنے خالق کے حکم کی خلاف ورزی کرے۔ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یقینا ظلم کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس لیے کہ اس کائنات میں اگر کوئی عبادت کے لائق ہے تو وہی خالق ہے جس نے پوری کائنات کو پیدا کیا۔ 
دوسری قسم وہ ہے جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں۔ ایک انسان دوسرے پر ظلم کا مرتکب ہورہا ہے۔ ایک دوسرے کا حق مارا جارہا ہے۔ کسی کی زمین پر قبضہ کرلیا، کسی کی جائداد پر۔ کسی پر جھوٹا الزام لگا کر سزا دلوا دی،کسی کو زور زبردستی اپنے حق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ یہ وہ بڑے مظالم ہیں جو انسان اپنی طاقت اور جاہ و جلال کی بنیاد پر کرتا ہے۔ دنیوی طاقت کی بنا پر انسان یہ بات بھول جاتا ہے کہ کوئی زبردست ہستی بھی ہے جو اس کے اعمال کو دیکھ رہی ہے اور وہ انسان سے اس کے اعمال کا جواب طلب کرکے سزا اور جزا کا فیصلہ کرے گی۔ اس کے علاوہ دوسری صورت چھوٹے چھوٹے معاملات میں کسی کی حق تلفی اور ظلم کرنا ہے، چاہے وہ حق کسی معاملے میں پہل کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اکثر مواقع پر ایسے چھوٹے چھوٹے مظالم کا ارتکاب کررہے ہوتے ہیں اور ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ المیہ یہ ہے کہ اب ظلم کو ظلم نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اپنا حق سمجھ لیا جاتا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس کسی نے کسی کی ایک بالشت برابر زمین ہتھیاکر بھی اس پر ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ کی طر ف سے روزِ حشر اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) 
اس حدیث سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ چاہے کتنا ہی معمولی حق کیوں نہ مارا ہو، انسان کو روزِ حشر اس کا جواب ضرور دینا اور اس کا عذاب چکھنا ہوگا۔ آج ہم زمینوں کے بٹوارے یا تعمیرات کے دوران اکثر اپنی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں، اور اس بات کو بالکل بھی اہمیت نہیں دیتے کہ ہم کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں۔ اس حدیث سے اس کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں روزِ قیامت حق والوں کے حق ضرور ادا کرنے ہوں گے حتیٰ کہ بغیر سینگوں والی بکری کو سینگوں والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا‘‘ (مسلم)۔ اس حدیث سے اندازہ کریں کہ جانوروں کی مثال دے کر ظلم کی قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود مظلوم کی دادرسی کرتے ہوئے اس کو حق دلانے کے لیے موجود ہوں گے۔ بھلا اس دن کون ہوگا جو خالقِ کائنات کے سامنے کچھ کہہ سکے! 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص پر بھی اپنے بھائی کا اُس کی عزت یا اُس کی کسی چیز کے متعلق کوئی حق تلفی کا بوجھ ہو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے عہدہ برآ ہوجائے، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جب کوئی دینار ہوگا نہ درہم۔ اگر اس شخص کے نیک عمل ہوئے تو وہ (صاحبِ حق کو دینے کے لیے) اس کے ظلم کے مطابق لے لیے جائیں گے، اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو پھر صاحبِ حق کی برائیاں لے کر اس پر لاد دی جائیں گی۔‘‘ (بخاری)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ دیوالیہ اور مفلس کون ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’مفلس ہمارے یہاں وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کا مفلس اور دیوالیہ وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہوگا اور اسی کے ساتھ اُس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا، کسی کو ناحق مارا ہوگا، تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوم کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں گھسیٹ کر پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (مسلم)
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل ضرور دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو چاہے کرے۔ اسے اِس دنیا میں بھی اپنے ظلم کا حساب دینا ہوگا اور آخرت میں کوئی راہِ فرار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مظلوم کی آہ و زاری کو انتہائی اہمیت دی ہے اور اس کے متعلق فرمایا کہ مظلوم کی بددعا اور اس کی قبولیت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ مظلوم کو خود ظالم سے اس کا حق دلوائیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’'بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل اور مہلت دیتارہتا ہے، اور پھر جب پکڑتا ہے تو اسے نہیں چھوڑتا۔‘‘ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: (ترجمہ) ’’اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے۔ وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جب کہ وہ ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یقینا اس کی پکڑ نہایت دردناک ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
بلاشبہ ظلم نہایت قبیح فعل ہے۔ اس کا تعلق جہاں اللہ، بندوں اور اپنی ذات سے ہے وہیں اس کے اثرات بھی براہِ راست معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ ظلم جہاں انسان کی اپنی ذات کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا وہیں معاشرے میں بھی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ ظلم بڑھنے سے عام افراد میں بھی باغیانہ روش پیدا ہوگی اور وہ معاشرہ کے نظام کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ اس لیے معاشروں کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ وہاں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو۔ اگر عدل و انصاف کی جگہ ظلم کا دور دورہ ہو تو کوئی بھی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔