The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Wednesday, April 22, 2020

دوکمپنیوں کے درمیان ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ فراہم کرنے کا معاہدہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) نے کرم لاٹ (خیبر پختونخوا) میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ فراہم کرنے کے لئے جاز کے ساتھ 92 ملین کا معاہدہ طے کیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام میں منعقدہ ایک تقریب میں کرم (ایف آر کرم، لوئر کرم اور بالائی کرم کی تحصیل) میں پائیدار ترقیاتی منصوبے کے لئے نیکسٹ جنریشن براڈبینڈ کا افتتاح کیا۔ اس معاہدے پر سی ای او یونیورسل سروس فنڈ، حارث محمود چوہدری نے چیف کارپوریٹ اینڈ ریگولیٹری امور آفیسر جاز، سید فخر احمد نے دستخط کیے۔کرم میں اس منصوبے کے ذریعے 224 موضع میں براڈ بینڈ کوریج فراہم کی جائے گی جس کا رقبہ 2,980 مربع کلومیٹر ہے۔

ملازمین کی برطرفی روکنے کے لیے ا سٹیٹ بینک کا اعلان

 اضافی سہولتوں سے شرح میں مزید کمی، اجرتوں کی واپس ادائیگی آسان ہو گی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے 10 اپریل 2020 کو ’’کاروباری اداروں کے کارکنوں اور ملازمین کو اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کی ری فنانس اسکیم ‘‘ کے عنوان سے ترغیباتی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ان کاروباری اداورں کو پے رول فنانس کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جائیں گے، جو یہ اقرار کریں کہ وہ اپنے ملازمین کو آئندہ تین مہینوں تک ملازمتوں سے نہیں برطرف نہیں کریں گے۔ اب اسٹیٹ بینک نے اسی اسکیم کے تحت ملک میں روزگار کو تقویت دینے اور برطرفیوں کو روکنے کے لیے مزید سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔ ان اضافی سہولتوں میں ضمانت کے تقاضوں میں نرمی، حتمی صارف کی شرح میں مزید کمی، اجرتوں کی واپس ادائیگی، اجرتیں وصول کرنے کے لیے ملازمین کے خصوصی کھاتوں، پے رول برقرار رکھنے کے علاوہ بینکوں سے قرض لینے، ایس ایم ایز کے لیے درخواست فارم کو آسان بنانے اور بینکوں کے ایکسپوژرکی حد میں رعایت دینا شامل ہیں۔ یہ اضافی اقدامات فوری طور پر نافذالعمل ہوں گے۔ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے فیڈبیک کی بنیاد پر وینڈرز اور ڈسٹری بیوٹرز سمیت ایس ایم ایز کو خاص طور پر سیکورٹی/ضمانت کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے اب بینکوں کو اجازت دی ہے کہ وہ قرض گیروں سے ویلیو/سپلائی چین روابط رکھنے والی کمپنیوں کی کارپوریٹ ضمانتوں پر فنانسنگ فراہم کریں، مزید برآں بینکوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے کہ وہ کسی ضمانت کے بغیر قرضے فراہم کریں یعنی 5 ملین روپے تک کا کلین ایکسپوژر لے سکتے ہیں۔اسٹیٹ بینک نے اسکیم کا دائرہ ایسے کاروباری اداروں تک وسیع کر دیا ہے جو فعال ٹیکس دہندگان ہیں اور ان کے لیے پہلے مقرر کی گئی مارک اپ شرح کو 4 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک بینکوں کو صفر شرح پر ری فنانس فراہم کرے گا ، اس طرح فعال ٹیکس دہندگان اور ٹیکس نادہندگان کاروباری اداروں سے چارج کی جانے والی شرح کے فرق کو بڑھا دیا گیا ہے کیونکہ مؤخرالذکر سے 5 فیصد اینڈ یوزر مارک اپ ریٹ چارج کیا جا سکتا ہے۔اسکیم کے تحت ملازمین کو براہ راست اجرتیں وصول کرنے میں سہولت دینے کے لیے بینکوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ان کے کھاتے آجرین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کی بنیاد پر کھولیں بشمول حلف نامہ جس میں یہ درج ہو کہ یہ افراد حقیقی ملازمین/کارکن ہیں۔ بینک ایسے کھاتوں کو فعال کرنے سے قبل نادرا سے ملازمین کی توثیق یقینی بنائیں گے، تاہم ان کھاتوں کو صرف تنخواہیں دینے اور نکالنے کے مقصد سے ہی استعمال کیا جاسکے گا۔کاروباری اداروں کو بھی سہولت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی بینک سے اسٹیٹ بینک کی ری فنانس اسکیم کے تحت قرضے حاصل کریں اور وہ بینکوں سے پے رول کا انتظام کرنے کے علاوہ دیگر قرضے بھی حاصل کر سکتے ہیں، مزید برآں کاروباری ادارے اپریل 2020 کے مہینے کی تنخواہوں کی رقم واپس حاصل کر سکیں گے جو انہوں نے اپنے مالی وسائل سے دی ہیں بشرطیکہ وہ رقم کی ادائیگی سے قبل فنانسنگ کے لیے درخواست دے چکے ہوں اور بعد ازاں بینک اس کی منظوری دیں۔ 


ایس ایم ایز اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک کے مجوزہ سادہ درخواست فارم پر فنانسنگ حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔اسکیم کے تحت قرض دینے میں بینکوں کی مزید حوصلہ افزائی کے لیے اسکیم کے تحت بینکوں کے exposure کو فی فریق یا فی گروپ قرضی جاتی اکتشاف اس کی حد سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس طرح وہ ان قرض گیروں کو قرضے دے سکیں گے جو اپنی حدود استعمال کر چکے ہیں۔یہ تمام فوائد ایسے کاروباری اداورں کو بھی حاصل ہوں گے جو اسلامی بینکاری اداروں کی اسکیم کے تحت فنانسنگ سے استفادہ کر رہے ہیں۔

کراچی میںسخت لاک ڈاؤن کیوں؟ صنعتکار

صنعتکاروں کا، سندھ حکومت کی پالیسیوں پرکڑی تنقید ، متفقہ قراردار منظور کر لی ،زبیر موتی والا
اسمارٹ لاک ڈاؤن میں بدل کرتجارتی وصنعتی سرگرمیاں بحال کی جائیں، سلیمان چاؤلہ 
 ہنگامی اجلاس میں سینئر نائب صدر سلیم ناگریا، نائب صدر فرحان اشرفی، یونس ایم بشیر، جاوید بلوانی کی شرکت
طارق یوسف، سلیم پاریکھ، انور عزیز، عارف لاکھانی کے علاوہ صنعتکاروں نے بڑی تعداد ہنگامی اجلاس میں شرکت کی


کراچی(اسٹاف رپورٹر)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سرپرست زبیرموتی والا اور صدر سلیمان چاؤلہ نے کراچی کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے امتیازی سلوک پر احتجاج کیا ہے اورسندھ حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے موجودہ لاک ڈاؤن کو اسمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ سائٹ ایسوسی ایشن کے صدرسلیمان چاؤلہ کی جانب سے موجودہ حالات میں صنعتوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں سینئر نائب صدر سلیم ناگریا، نائب صدر فرحان اشرفی، یونس ایم بشیر، جاوید بلوانی،طارق یوسف، سلیم پاریکھ، انور عزیز، عارف لاکھانی کے علاوہ صنعتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ہنگامی اجلاس میں صنعتکاروںنے کاروبار وصنعتوں کی بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور درپیش مسائل پر رائے دیتے ہوئے متفقہ طور پرقرار منظور کی جس میں سندھ حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن اور غیر یقینی صورتحال میں کراچی کی صنعتکار برادری کی مشکلات کو سمجھے اور موجودہ لاک ڈاؤن کو اسمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرے تاکہ تجارتی وصنعتی سرگرمیاں بتدریج بحال ہوسکیں۔قرارداد میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے ساتھ تھوک فروشوں، ریٹیل مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے اور ساتھ ہی تمام صنعتوں کو فوری طور پر پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی دے۔اجلاس میں صنعتکاروں نے حکومت کو باور کروایاکہ ملک کے دیگر حصوں کی نسبت کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہاہے کیونکہ صرف کراچی میں ہی سخت لاک ڈاؤن ہے۔

صنعتکاروں نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہو نے کوہے اور یہ تاجربرادری کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے سب سے اہم مہینہ ہوتا ہے کیونکہ ماہ رمضان میں کاروباری سرگرمیاں بند ہونے کا مطلب سال بھر کا نقصان ہے لہٰذ اکاروباری سرگرمیاں بدتریج بحال کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔قرارداد میںکارکنوں اور صنعتی ورکرز کو بے روزگاری سے بچانے کے لیے اسٹیٹ بینک کی ’’ ری فنانس اسکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو دی ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس‘‘ کی طویل شرائط پر شدید تنقید کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ 70فیصد کاروبار سود کی بنیاد پر نہیں چلائے جاتے لہٰذا یہ وقت کی ضرورت ہے کہ شرح سود صفر کیاجائے اور اور شرائط کی طویل فہرست کو ایک کیا جائے نیز بینکس بعداز تاریخ کے چیک بھی قبول کریں جس سے تاجربرادری کوفوائد حاصل ہوں گے۔

صنعتکاروں کو احتیاطی تدابیرپر سختی سے عمل کرنا ہو گا،ممتاز علی شاہ

 سیسی کے پاس دستیاب فنڈز کو ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وزیرمحنت سعید غنی سے رجوع کیا جائے
کے الیکٹرک کے یوٹلیٹی بلز اور سیسی، ای او بی آئی کی شراکت داری کو ایک سال کے لیے مؤخر کیا جائے، مجید عزیز

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے کہاکہ سندھ حکومت کو فیکٹریوں کی بندش کے معاشی اثرات کا ادراک ہے اور وہ صنعتوں کو بتدریج کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے پرعزم ہے تاہم صنعتکاروں کو یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ وہ تمام طے کردہ احتیاطی تدابیر ( ایس او پیز ) پر سختی سے عمل کریں گے تاکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو ممکن حد تک روکا جاسکے۔ یہ بات انہوں نے ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) کے صدر مجید عزیز، ای ایف پی کے ڈائریکٹر خالد جونیجو اور سیکریٹری جنرل فصیح الکریم سے اپنے دفتر میں ملاقات کے موقع پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے میں کہی۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری عثمان چاچڑ،سیکریٹری محنت عبدالرشید سولنگی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ممتاز علی شاہ نے ای ایف پی کے صدر مجید عزیز کی جانب سے ورکر ویلفیئر فنڈز اور سیسی کے پاس دستیاب فنڈز کو ورکرز کی اجرت اور تنخواہوں کے لیے استعمال کرنے کے مطالبے کواہمیت دیتے ہوئے سیکریٹری محنت کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سیسی کے بورڈ کے ساتھ فوری اجلاس بلانے کے لیے وزیرمحنت سعید غنی سے تبادلہ خیال کریں اور سود سے پاک قرضے دینے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں یا پھر ان فنڈز سے کم ازکم 50 فیصد سبسڈی دی جائے۔

چیف سیکریٹری نے مشکل کی اس گھڑی میں ای ایف پی کی جانب سے سوئی سدرن گیس، کے الیکٹرک کے یوٹلیٹی بلز اور سیسی، ای او بی آئی کی شراکت داری کو ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہاکہ ایسے وقت میں جب صنعتوں کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے حقیقتاً یہ ایک جائز مطالبہ ہے اور اس حوالے سے انہوں نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ وفاقی حکومت سے صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے بات کریں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 55سال عمر کی حد انتظامیہ کے لیے نہیں بلکہ صرف ورکرز کے لیے ہے۔انہوں نے اس مطالبے سے بالکل اتفاق نہیں کیا کہ اقرار نامہ جس پر آجروں نے دستخط کرنا ہو اس شرط کو واپس لیا جانا چاہیے۔ممتاز شاہ نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ ایس ایم ایز کا استحکام برقرار رکھنے اور انہیں مالی بحران سے ہونے سے بچانے کے لیے مکمل تعاون کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں حکومت نے متعلقہ اقدامات کیے ہیں۔حکومت برآمدی صنعتوں سے جڑے کاروباری اداروں کو کام کرنے کی اجازت دینے کو ضروری سمجھتی ہے کیونکہ ان کے تیار کردہ سامان کی مسلسل فراہمی کے بغیر برآمدی صنعتیںنہیں چل سکتیں۔چیف سیکریٹری نے حالیہ بحران میں آجروں سے حکومت کی مدد کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ انہیں امیدہے کہ نجی شعبہ ملک کے بہتر ترین مفاد میں قانونی چارہ جوئی سے گریز کرے گا۔ انہوں نے موجودہ بحران کے دوران ای ایف پی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کا دفتر ای ایف پی کے ساتھ مستقل بنیاد پر مشاورت جاری رکھے گا۔

ایک سال کے لیے شرح سود کو صفرکردیا جائے،کراچی چیمبر

 پالیسی ریٹ موجودہ9.0 فیصد سے 4.0 فیصد پرلانے کا مطالبہ کردیا ،چھوٹے کاروبارکو ریسکیو پیکیج دیا جائے
 ڈاکٹر رضا باقر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ٹکڑوں میں پالیسی ریٹ میں کمی کے معیشت کو فوائدحاصل نہیں ہوگا،، آغا شہاب

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے غیر معمولی حالات اور دنیا بھر میں جاری معاشی بحران کے مدنظر رکھتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک سے پالیسی ریٹ موجودہ9.0 فیصد سے کم کرکے 4.0 فیصد پرلانے کا مطالبہ کردیا کیونکہ عالمی اقتصادی بحران کے یقینی طور پر پاکستان کی معیشت پر بھی طویل عرصے تک منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔کے سی سی آئی کے صدر نے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کو لکھے گئے ایک خط میں اس بات پر زور دیا کہ ٹکڑوں میں پالیسی ریٹ میں کمی کے معیشت کو مطلوبہ فوائدحاصل نہیں ہوپارہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ موجودہ غیرمعمولی بحران میں کاروباری اداروں کی مدد کرنے کے لیے شرح سود میں ایک ہی بار نمایاںکمی کردی جائے۔انہوں نے کہاکہ پالیسی ریٹ میں کمی کا اب کافی جواز موجود ہے کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، اجناس اور خام مال کی قیمتیںکم ہونے اور مانگ بھی رکنے سے افراط زر میں بھی تیزی سے کمی آرہی ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے کرونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث مالی بحران ودیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے صنعت وبرآمدکنندگان کی مدد کے اقدامات کو سراہاجبکہ فائلرز کے لیے 4 فیصد اور نان فائلرز کے لیے 5 فیصد شرح سود کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے تجویز دی کہ موجودہ سنگین صورتحال کے پیش نظر کم ازکم ایک سال کے لیے اس شرح سود کو صفرکردیا جائے تاکہ معیشت کا استحکام ممکن ہوسکے اور صنعتیں اپنی بقا قائم رکھ سکیں۔انہوں نے تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ چھوٹے کاروباری اداروں اور ایس ایم ایز کو تباہی سے بچانے کے لیے ریلیف پیکیج کی انتہائی ضرورت ہے جن کی جی ڈی پی میں شراکت40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بدقسمتی سے چھوٹے کاروباری اداروں اور ایس ایم ایز کے لیے اب تک ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا جو بڑے پیمانے کے کاروبار کے مقابلے میںشدید مالی بحران کا شکار ہیں اور ان کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہاکہ قرضوں کے حصول کے لیے نچلی سطح پر اور چھوٹے کاروباری اداروں کے بینکوں کے ساتھ تعلقات کچھ خاص نہیں ہوتے اور ان کے وسائل بھی انتہائی محدود ہیں اس کے باوجود یہ شعبہ بڑی تعداد میں ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو روزگار فراہم کررہاہے۔ سپلائی چین کی اہم کڑی ہونے کی وجہ سے ایس ایم ایز کی مدد بہت ضروری ہےجو اپنی بقا قائم رکھنے کی جدوجہد تو کررہے ہیں تاہم انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے ورکرز کو نکال دیں لہٰذا اس طرح کے شعبوں کو دیگر شعبوں کی نسبت زیادہ مدد اور بچانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی کہ ایس ایم ایز کی مدد کے لیے خصوصی ریسکیو پیکیج ترتیب دیا جائے اور کمرشل بینکوں کے ذریعے ایک لاکھ سے پندرہ لاکھ تک قرضے دیے جائیں۔ اس ریسکیو پیکیج کے تحت شرح سود صفر ہونا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ دستاویزات طلب کئے بغیر فوری قرضوں کی فراہمی یقینی بنانا چاہیے۔بینکوں کو صرف مالک کے شناختی کارڈ کی ضرورت ہونی چاہیے اورکاروباری مقام کے تصدیق کی جانی چاہیے۔بینکوں کو کسی بھی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اور ذاتی ضمانت پر قرضوں کی منظوری دینی چاہیے۔آغا شہاب نے درآمدکنندگان کی حالت زار اور مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ لاک ڈاؤن اور مارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پوری سپلائی چین کی وصولیاں رک گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں درآمدکنندگان کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ بینکوں کو ادائیگیوں کے کے درآمدی دستاویزات کو ریٹائر کروانے اور بندرگاہوں سے درآمدی کنسائمنٹس کلیئر کراوانے سے قاصر ہیں۔ وہ درآمدی مرحلے پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتے۔ درآمدی مال کے ہزاروں کنٹینرز بندرگاہ پر پڑے ہیںجن پر بھاری بھرکم پورٹ چارجز اور ڈیمرج لگ رہا ہے۔انہوں نے خدشے ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرا رہی تو درآمدکنندگان کی بڑی تعداد دیوالیہ ہوجائے گی اور وہ قومی خزانے کو واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز بھی جمع نہیں ہوسکیںگی۔ درآمدی مال کا بیشتر حصہ صنعت اور برآمدکنندگان کا ہے جس میں خام مال اور ضروری سامان ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے گورنر اسٹیٹ بینک سے درخواست کی کہ تمام درآمدکنندگان کو ری فنانس اسکیم کے تحت فوری طور پر ریلیف فراہم کیا جائے۔ درآمدی بل جو واجب لادا ہیں اس کے لیے اسٹیٹ بینک کے ذریعے ایک سال کی مدت تک 4فیصد کی شرح سود پر مالی اعانت فراہم کی جاسکتی ہے۔کمرشل بینکوں کو درآمدی مال کی ضمانت پر غیر ملکی سپلائز کو درآمدی بلوں کی ادائیگی کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔ بینکوںکو یہ ہدایت بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے 4فیصد کی شرح پر رننگ فنانس کو منظورکریں۔آغا شہاب نے کہاکہ ان اقدامات سے درآمدکنندگان کو بندرگاہ پر رکھے مال کو کلیئر کروانے اور بھاری بھرکم پورٹ چارجز کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔موجودہ غیر معمولی حالات میں چھوٹے کاروباری ادارے،ایس ایم ایز اور درآمدکنندگان کو بچانا بہت ضروری ہے جو سپلائی چین کا لازمی حصہ ہیں اور مقامی صنعتوں، تھوک فروشوں، ریٹیل مارکیٹوں سمیت برآمدکنندگان کو سپورٹ کرتے ہیں۔

Tuesday, April 14, 2020

استقبال رمضان


Ramadan Clipart - Free Clip Art Images - FreeClipart.pw | Ramadan ...
تحریر: مریم صدیقی، کراچی

ماہ رمضان کی آمدکے ساتھ ہی عموما استقبال رمضان کے کلمات سن کر جو ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے وہ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ہوتا ہے۔ خواتین کی بات کریں تو نت نئی ریسیپیز اور مختلف پکوان بنانے کے حوالے سے تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ کیامعاشرے میں رائج استقبال رمضان کا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا ماہ رمضان کا استقبال ایسا ہی ہونا چاہیے؟ کیا یہ ماہ رحمت اسی لیے آتا ہے کہ اسے بازاروں میں شاپنگ کرتے اور انواع و اقسام کے کھانے پکاکر گزارا جائے۔ یہ ماہ مبارک سال میں فقط ایک بار آتا ہے اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس ماہ کو پائے اور اللہ تبارک و تعالی کو راضی کرلے۔
نبی اکرم ﷺ پورے سال اس ماہ کا انتظار فرماتے۔ آپﷺ رجب کے مہینے سے اپنی دعاو ¿ں میں اس کا اضافہ فرماتے کہ، ”اے اللہ! ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان کے مہینے تک ہمیں پہنچا۔ (مسند احمد:2257) آپﷺ یہ دعا بھی فرماتے تھے، ”اے اللہ! مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھیے اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کا ذریعہ بنادیجیے۔ (الدعاءالطبرانی، حدیث نمبر:839) 





ماہ صیام کا استقبال نہ صرف نبی اکرم ﷺ خود فرمایا کرتے بلکہ اپنے اہل و عیال اور صحابہ کرام ؓ کو بھی تلقین فرماتے۔ ماہ رمضان اسلامی سن ہجری کانواں مہینہ ہے۔ اس کو ”سید الشہور“ یعنی تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے۔ یہ مہینہ بے شمار برکات کا مہینہ ہے۔ یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اسی ماہ کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے۔ جس کا ذکر رب تبارک و تعالی نے قرآن کریم میں یوں فرمایا، ”رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو، تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرواور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو“۔ (پ 2، سورة البقرہ، آیت (185 رمضان المبارک کا مہینہ وہ تحفہ الہی ہے جو اس نے امت محمدیہ کو عطا کرکے ان پر احسان عظیم کیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہر نیکی اور عبادت کا ثواب بڑھا کر ستر گنا کردیا جاتا ہے۔
ماہ رمضان جس کی ہرساعت میں اللہ کریم نہ جانے کتنے گناہ گاروںکو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ روزہ اللہ کی پسندیدہ ترین باطنی عبادت ہے کیوں کہ انسان صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے ہی حلال اور طیب اشیاءسے خود کو روکے رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزاءبھی میں ہی دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا، ”تمہارا رب فرماتا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے اور روزہ کی عبادت تو خاص طورپر میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزاءدوں گا یا میں خود اس کا بدلہ ہوں“۔ (ترمذی۔ ابواب الصوم)
لیکن ہم اس سنہر ی موقع کو بھی غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں تو بھی برائے نام، وقت گزاری کے لیے فلموں ڈراموں اور گانے باجوں سے دل بہلاتے ہیں۔ گویا روزے میں فقط کھانے پینے سے رکنا مقصود ہو۔ روزے کا مقصد تقوی کا حصول اور تزکیہ نفس ہے لیکن جب یہ روزہ لہو و لعب میں گزرے گا تو اس کا مقصد کیوں کر حاصل ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ”جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اس کا بھوکا پیاسا رہنے کی اللہ کو حاجت نہیں“۔ (صحیح بخاری، جلد:2، ص: (279 معلوم ہوا کہ روزہ صرف فاقہ کرنے کا نام نہیں بلکہ تمام اعمال بد سے رکنے کا نام ہے۔ یہ تیس ایا م کے روزے انسان کو پورے سال صبراور تحمل سے رہنے کا درس دیتے ہیں۔ لغو اور بری عادات سے چھٹکار ا دلانے میں معاونت کرتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ: ”جو بندہ خدا کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے آگ دور کردیتاہے“۔ (صحیح مسلم و ابن ماجہ) روزہ اس کے تمام آداب کے ساتھ رکھا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالی ہمارے گمان سے بھی کہیں زیادہ عطا فرمائے گا۔
زکوة یوں تو سارا سال ادا کی جاسکتی ہے لیکن چوں کہ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب بڑھادیا جاتا ہے تو عموما لوگ اس ماہ میں ہی زکوة ادا کرتے ہیں۔ کوشش کریں کہ اپنی زکوة ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں ہی ادا کردیں تاکہ مستحقین اپنے رمضان اور عید کا اہتمام مناسب انداز سے کرسکیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اگلے سال جب ماہ رمضان آئے گا تو ہم اس کی رحمتیں اوربرکتیں اپنے دامن میں سمیٹنے کے لیے موجود ہوں گے بھی کہ نہیں۔ اس لیے ہمیںجو موقع میسر ہے اسے غفلت کی نذر نہ کرتے ہوئے اس ماہ رمضان عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ حسب توفیق صدقات کرکے رضائے الہی حاصل کرنے کی تگ و دو کرنی چاہیے۔





اس ماہ مبارک میں رب تعالی کے حضور خصوصی دعا کیجیے کہ وہ ہمیں اس عالمی وبا سے نجات عطا فرمائے۔ یہ وبا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے اپنوں کو نگل رہی ہے اور عالم تو یہ ہے کہ ہم کوئی دلاسہ کوئی تسلی کے دو حروف ان کو نہیں دے سکتے۔ یہ وبا ہے جو نہ امیر غریب دیکھ رہی ہے نہ بچہ بوڑھا۔ ہمیں اس کے شر و آفت سے فقط خدائے پروردگار کی رحمت محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس ماہ مبارک میں اپنے رب کو منالیجیے، گڑگڑا کر، ہاتھ اٹھا کر، سجدے میں گر کر، رو رو کر اس کی رضا طلب کرنی چاہیے تاکہ وہ ہمارے اعمال کے سبب آنے والی اس آزمائش کو ہم سے دور فرمادے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Friday, February 28, 2020

عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی کے فیصلے کا خیر مقدم

   

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عرب پارلیمنٹ، (جی سی سی) سمیت مختلف اداروں اور ممتاز شخصیات نے عمرہ، زیارت اور سیاحت پر سعودی پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی قیادت نے یہ فیصلہ زائرین کی سلامتی کی خاطر کیا ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ روز 27 فروری کو کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خدشے کے باعث عمرے یا مسجد نبوی کی زیارت کے لیے آنے والے افراد کا مملکت میں داخلہ عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

(ذرائع ہیلپ لائن 786 نیوز) کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے اپنے بیان میں کہا کہ ’وہ زائرین، مقامی شہریوں اور یہاں مقیم  غیر ملکیوں کی سلامتی کے لیے انتہائی حفاظتی تدبیر کے طور پر عمرہ، زیارت اور سیاحت پر پابندی کے سعودی فیصلے کو معقول اور مناسب سمجھتی ہے۔ وہ اس احتیاطی تدبیر کی تائید و حمایت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب کا یہ فیصلہ صحت کے حوالے سے عالمی اداروں اور تنظیموں کے مقرر کردہ معیار کے عین مطابق ہے۔‘


عمرہ ویزہ پر آنے والوں کے لیے سعودی عرب کی پابندی نئی نہیں ہے، اس سے قبل (ایبولا کی وبا) کے پیش نظر کانگو سمیت کئی ملکوں کے زائرین پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی عہدیدار ڈاکٹر سلایا نویا کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو سعودی عرب کی طرح حج موسم میں انسانوں کے جم غفیر کو نہایت مربوط شکل میں اعلیٰ معیار کے ساتھ منظم کرتا ہو۔

'سعودی عرب یہ کام ہر سال کر رہا ہے۔
جنوبی افریقہ نے ورلڈ کپ کی میزبانی کے دوران سعودی عرب کے اسی تجربے سے فائدہ اٹھایا تھا۔
سعودی خبررساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق عمرہ زائرین کے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے علما نے واضح کیا ہے کہ یہ زائرین کی سلامتی اور حفظان صحت کے حوالے سے ضروری احتیاطی تدبیر ہے، اس کی تائید کی جاتی ہے۔

پابندی عائد کیے جانے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ عمرہ  اور زیارت پر آنے والوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے، جو لوگ عمرہ یا زیارت پر سعودی عرب آتے ہیں وہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں حاضری دیتے ہیں۔
ان دونوں مقامات پر دنیا بھر کے ملکوں سے آنے والے زائرین کثیر تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔
کورونا وائرس سے متاثر بعض افراد کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ اس عارضے میں مبتلا ہیں، ایسے میں خدشہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے مذکورہ پابندی اسی تناظر میں لگائی ہے تاکہ زائرین کی سلامتی یقینی ہو سکے۔

سعودی حکام بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ابھی تک مملکت میں کورونا وائرس کا کوئی مریض ریکارڈ پر نہیں آیا تاہم احتیاطی تدبیر کا تقاضا ہے کہ عمرہ موسم میں دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے ذریعے ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی منتقلی کا سدباب کیا جائے۔

سعودی حکومت اور عوام زائرین کی سلامتی کو اپنی بھرپور ذمہ داری سمجھتے ہیں وہ زائرین کو اس آفت میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لیے جملہ اقدامات کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔

الشرق الاوسط کے مطابق عرب وزرائے صحت آئندہ ماہ قاہرہ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی اجلاس کریں گے۔

مصر کے وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ نے کہا کہ یہ فیصلہ نقصان سے بچاو اور زائرین کے مفاد کی خاطر کیا گیا ہے۔

اسکینڈی نیویا کونسل کے چیئرمین حسین الداودی نے کہا کہ سعودی حکام نے یہ فیصلہ سب کے مفاد میں کیا ہے، اس پر وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔

Friday, February 14, 2020

غربت ایک سنگین مسئلہ

تحریر: مریم صدیقی

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ جب سر پر بھوک منڈلائے اور بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لیے معقول وسائل نہ ہوں تو خوشحال زندگی کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کے کئی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ غربت ہے جس سے دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ جرائم، جہالت، معاشرتی و اقتصادی پسماندگی ان کی جڑ غربت ہی ہے۔ غربت پر قابو پائے بغیر کسی بھی معاشرے کا ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ممکن نہیں۔ 
 غربت زدہ معاشرے کا سب سے مظلوم طبقہ بچے ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات اور والدین کی عدم توجہ کے باعث شخصیت سازی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جس کا اثر نہ صرف ان کے آنے والے کل پر ہوتا ہے بلکہ معاشرہ اور آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔آپ نے اکثر اپنے ارد گرد ایسے کئی چہرے دیکھے ہوں گے جن کی آنکھوں میں یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ ہم سے امتیازی سلوک کیوں کرتا ہے؟ وہ سراپا سوال چہرے یہ جاننا چاہتے ہیں کے کیوں ان کی آنکھیں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتیں۔ وہ اپنے گھر کے بڑے کب تک گیراجوں اور ہوٹلوں کے چھوٹے بن کر زندگی گزاریں گے؟ انہیں کیوں بے فکر بچپن، سکون کی نیند اور کھیلنے کودنے کے لیے سہہ پہریں میسر نہیں؟ان کی آنکھیں ہر راہ گیر سے یہ سوال کرتی ہیں کے ان میں اور ان شان دار گاڑیوں میں بیٹھے بچوں میں کیا فرق ہے؟ ان کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب اور ہمارے ہاتھوں میں مزدوری کے اوزار کیوں ہیں؟ ہم بھی تو بچے ہیں، ہمارا بھی تو بچپن ہے۔ ہم بھی خواب دیکھنے والی آنکھیں اور خواہشات کرنے والا دل رکھتے ہیں پھر اس معاشرے میں ہمارا کوئی پرسان حال کیوں نہیں۔
ہمارے معاشرے میں غربت و امارت کی اس تقسیم نے کئی معصوموں کا بچپن چھین لیا ہے۔ ہمیں روز اپنے ارد گرد کبھی کسی فٹ پاتھ پر تو کبھی کسی ہوٹل یا شاہراہ پر ننھے ننھے معصوم مزدور دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کچرا چنتے نظر آتے ہیں تو کبھی رزق حلال کی تلاش انہیں ادھ موا کردیتی ہے۔ ہماری بے حسی ہے کے روز ایسے کئی مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں۔ ہم چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے کیوں کے در پردہ اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ بچے ان ننھی کلیوں اور کونپلوں کی مانند ہوتے ہیں جومستقبل میں کسی بھی ملک و قوم کے لیے شجر سایہ دار بنتے ہیں۔ یہی ہمارے مستقبل کا معمار ہیں جن سے ہم نے ان کا آج چھین لیا ہے۔ یہی بچے کل کو حقوق کی عدم دست یابی و استحصال کے سبب غلط راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کے ہم ہماری آنی والی نسلوں کوغربت و جہل زد ہ معاشرہ وراثت میں سونپ کر جا رہے ہیں۔ یہ بچے جہاں رزق، تعلیم و صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں وہیں جبری مشقت، اغواءبرائے تاوان اور جنسی تشدد جیسے مظالم کا بھی شکار ہیں۔ 
دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے آئین میں بھی بچوں کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود ہیں لیکن ان کی ضروریات کی طرح ان کے تحفظات کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، اغوا کرکے ان کے جسمانی اعضاءفروخت کیے جاتے ہیں لیکن اہل اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے برعکس اگر کسی امیر شخص کا بچہ اغوا ہوجائے تو اس کی بازیابی کے لیے تمام ادارے حرکت میں آجاتے ہیں۔ ان بچوں کے حقوق کا استحصال صرف اس لیے کے ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے جہاں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ یہ طبقہ حکمرانوں کی ترجیحات کا کبھی حصہ نہیں رہا۔ 
یہی بچے جو آنے والے کل میں اس ملک و قوم کا مستقبل ہیں طبی سہولیات کی عدم فراہمی اورخوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ گزشتہ چند سال کے دوران پاکستان کے ریگستانی علاقے تھرپارکر اور چولستان میں خوراک کی کمی کے باعث سینکڑوں بچوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔دیگر بنیادی سہولیات کی طرح اس طبقے میں شرح خواندگی بھی صفر ہے۔ صحت و خوراک کے ساتھ تعلیم کا حصول بھی ان بچوں کی پہنچ سے دور ہے۔ غریب والدین تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرنے کے باعث انہیں تعلیم دلوانے کا تردد نہیں کرتے بلکہ انہیں چھوٹی عمروں سے ہی محنت و مشقت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔
 اس طبقے میں بچوں سے محنت مشقت اور مزدوری کروانا معمول کی بات ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریبا ڈھائی کڑوڑ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے۔ اس کے برعکس امراءو وزراءکے بچوں کو پر تعیش زندگی بسر کرنے کے لیے نہ صرف ہر آسائش میسر ہے بلکہ جدیدو معیار ی تعلیم کی فراہمی کے لیے باقاعدہ غیر ملکی تربیت یافتہ اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے۔ یہ معاشرتی سطح پر کھلا تضاد نہیں تو کیا ہے۔ 
یہ بچے تعلیم، خوراک، کھیل کود، تفریح ہر شے سے محروم کردیے گئے ہیں۔ غریب ہونا گویا گناہ عظیم ہوگیا ہے۔ وسائل کی کمی کے سبب یہ پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن سماجی و معاشرتی رویے انہیں جنسی، جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ غربت سے بر سر پیکار ہونے کے ساتھ ساتھ جنسی و نفسیاتی بقا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ ان بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت، صحت و خوراک کی فراہمی ان کے حقوق کا تحفظ ریاستی فرائض میں شامل ہے۔ امراءکے بچوں کی طرح پر آسائش زندگی نہ سہی لیکن بنیادی حقوق سے آراستہ پر سکون زندگی گزارنا ان کا حق ہے آخر یہ بھی تو بچے ہیں ۔ 

Friday, January 24, 2020

Asian shares hold steady as China virus fears persist

National Australia Bank estimates viral outbreak could reduce China's economic growth rate by one percentage point.
Image result for coronavirus
With many people around Asia preparing for the Lunar New Year, share prices held steady on Friday despite investors' fears that a new coronavirus in China could spread faster as millions of people would be travelling over the weeklong holiday.
Markets had steadied overnight, as investors took some solace from the World Health Organization (WHO) labelling the outbreak an emergency for China, where 25 people have died and at least 800 have been infected, but not, as yet, for the rest of the world.
MSCI's broadest index of Asia-Pacific shares outside Japan rose 0.1 percent, while Japan's Nikkei fell a marginal 0.05 percent and Australian stocks added 0.3 percent. Hong Kong's benchmark Hang Seng Index gained 0.15 percent.
Financial markets in mainland China, Taiwan and South Korea were all closed on Friday.
"Investors are worried that the outbreak of coronavirus will dampen consumption in China when the Chinese economy has been already cooling down," said Yasuo Sakuma, chief investment officer at Libra Investments.
Indeed, National Australia Bank's research team tentatively estimated China's gross domestic product (GDP) growth for the first quarter could be hit by approximately 1 percentage point by the latest deadly coronavirus outbreak.
"The impact on Chinese growth could be significant given the outbreak coincides with the Chinese New Year," said Tapas Strickland, NAB's director of economics.
"Measures to isolate the outbreak has meant 26 million people in cities or near urban areas are in lockdown or have limited travel. New Year festivities are also curbed in Beijing and Macau."
The stance taken by WHO over epidemic provided enough relief for US markets to advance further.
The Nasdaq Composite rose 0.2 percent to a record closing high, while the S&P 500 added 0.1 percent and the Dow Jones Industrial Average eased 0.1 percent.
"So far, reports of the fatalities show them to be largely amongst the elderly, and those with pre-existing chronic conditions," Robert Carnell, chief economist and head of research for the Asia-Pacific region at Dutch bank ING said in an emailed note.
"That doesn't mean there won't be an economic or market response to this. But it does suggest that the response will be manageable, and hopefully fairly short-lived, weeks and months, not quarters or years," he added.
In the currency market, the concerns about the virus supported the safe-haven yen.
The Japanese currency traded at 109.47 per dollar, having risen to a two-week high of 109.26 yen on Thursday.
The euro fell to a seven-week low versus the dollar of $1.1036 overnight after the European Central Bank left its policy rates unchanged but President Christine Lagarde struck a slightly dovish tone than some had expected.
The common currency last stood at $1.1053, down a marginal 0.05 percent on the day.
The offshore yuan softened to 6.932 per dollar, a day after hitting a two and a half weeks low of 6.942 yuan.
Coronavirus fears continued to weigh on commodity prices.
Oil prices remained under pressure on the growing concern that fuel demand will weaken as the spread of a respiratory virus from China dents travel and darkens the economic outlook.
Brent crude futures shed as much as 0.16 percent to below $62 a barrel in early Asian trade on Friday, its lowest since December 4, after falling 1.9 percent in the previous session.
US West Texas Intermediate (WTI) futures declined as much as 0.22 percent to $55.47 and were on course for a 5 percent fall for the week.
Elsewhere, copper prices fell to their lowest in more than six weeks overnight.

SOURCE:  NEWS AGENCIES


Corona Vires


Tuesday, December 10, 2019

ڈیئر سیلری ! تم کب آﺅ گی؟



تحریر: عارف رمضان جتوئی

نیوز ون کے رپورٹر ایس ایم عرفان انتقال کرگئے۔ کراچی پریس کلب کے رکن اور ہمارے ایک بہترین ساتھی ہم سے بچھڑ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر ملی تو دل مغموم ہوا. پھر پتا چلا وجہ انتقال ہارٹ اٹیک ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نیوز ون میں سیلریز نہیں مل رہیں۔ یہ صورتحال اب تقریبا صحافتی ہر ادارے کی ہے۔ ایس ایم عرفان بھی بہت پریشان تھے، ان کے گزشتہ روز کے واٹس ایپ پر ایک مزاحیہ انداز میں اسٹیٹس تھا ”ڈیئر سیلری ! تم کب آﺅ گی، آئی مس یو سو مچ ۔۔“اب وہ سیلری آکر شاید مس ٹو کہے گی۔
آپ سمجھ سکتے ہیں اس وقت کی مہنگائی اور پھر اس پر محدود اور میسر سیلری بھی وقت پر نہ ملے تو کرایے دار کو مالک بھی نوٹس جاری کردیتا ہے۔ بل چاہیے بجلی کا ہو یا گیس کا یا 5سو تک کی کیبل کا وہ بھی کٹ جاتا ہے۔ بچوں کی فرمائشوں کا گلا گھونٹ بھی دیں تو پیٹ کی آگ کا ایندھن تو بھرنا ہی پڑتا ہے آخر کو جینا تو ہے ناں۔ موسم بھی بدل چکا ہے، پرانے کپڑے دھوپ لگا کر نکال بھی لیں تو ممکن ہے وہ اب چھوٹے ہوچکے ہوں۔ ماں باپ سردی میں رات کو سو بھی لیں تو بچوں کے کپ کپانے کو دل کیسے مان لے۔
اللہ جانے ایس ایم عرفان کے حالات ہماری سوچ سے کتنا زیادہ پریشان کن تھے۔ وہ حالات کی سنگینیوں کو جانتے تھے...... پڑھے لکھے بھی تھے... .خود کشی کو وہ حرام سمجھتے تھے مگر یہ دل.... اس کا کیا کیا جائے... . کبھی تو مان لے مگر ہر بار تھوڑی مانتا ہے... بہت تڑپا ہوگا کئی بار سوچا ہوگا جا کر مالکان کا گلا دبا دے مگر پھر اپنی تعلیم اور مہذب ہونا یاد کر کے خاموش بیٹھ جاتا ہوگا۔ دل ہے ناں کب تک... بالآخر زور سے دھڑکا اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ایس ایم عرفان کی تدفین کے بعد صحافیوں نے کراچی میں نیوز ون کے ہیڈ آفس پر دھرنا دیا احتجاج کیا۔ یہ حل ہے تو یقینا یہی کرتے رہنا چاہیے مگر شاید یہ حل نہ تھا نہ ہے۔ البتہ کچھ نہ ہونے کے لیے یہ کرنا بھی بہت ہے۔
ایس ایم عرفان کا انتقال صحافت سے منسلک ہر فرد کی پریشانی کو عیاں کرتا ہے۔ موجودہ حکومت نے میڈیا کو جس طرح کے بحران دیے وہ شاید صدیوں بھلائے نا جاسکیں گے۔ بڑوں کا کچھ ہوا یا نہیں کم از کم نچلی سطح پر سب ہی پس گئے۔ مالکان اور ایڈیٹران کو جیسے موقع ہی مل گیا۔نکالو ، پھر نکالو اور بار بار نکالو یہاں تک کوئی صرف وہ رہ جائے جو ضرورت سے زیادہ ضروری ہے۔ یوں جسے نکال دیا وہ رل گیا۔ جو رہ گیا اسے سیلری بھی محدود دی گئی اور وہ بھی اپنی مرضی سے۔ کچھ حکومت نے حالات بگاڑے اور کچھ اداروں نے ہاتھ صاف کیا۔ مل بانٹ کر دونوں نے چھوٹے صحافیوں کو رگڑ دیا۔
حکومت کے آتے پہلی فرصت میں بے شمار ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ پھر جو بچے ان کو سیلری نہ دے کر نکلنے پر مجبور کیا گیا پھر بھی جو بچ گئے ان کو کئی ماہ سے سیلری نہیں مل رہی۔ حالات یہاں تک گھمبیر ہوچکے ہیں کہ اب ایک اچھا باعزت میڈیا سے منسلک فرد سب چھوڑ کر یا تو جنرل اسٹور چلا رہا ہے یا پھر کہیں مزدور بنا ہوا ہے ورنہ اکثر نے تو اپنا چپس اور برگر کا ٹھیلا سجایا ہوا ہے۔
ایسا ہرگز نہیں کہ میڈیا میں بحران حقیقی ہے۔ مصنوعیت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جس کی پرچی جاندار تھی وہ آج بھی اپنی جگہ پر ذرا برابر بھی ہلے کام کر رہا ہے۔ اب کام آتا ہے یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بے شمار نیوز پیپر اور چینلز ہوچکے ہیں اب معیار کون دیکھتا ہے۔ اب یہ سلسلہ چل رہا ہے اور یوں چلتا رہے گا۔ ایسے بے شمار صحافی جو بہت کمال کے تھے اب وہ گمنام ہوچکے وجہ وہی کہ ان کے لیے اداروں میں جگہ نہ رہی۔ یہ وہ صحافی ہیں جن کو پہلے باہر نکل کر اپنی جان کی فکر رہتی تھی۔ اب ان کو اپنے آفس میں جان بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے موت ہوتی تھی ایک گولی کھا کر اب موت ہوتی ہے روٹی نہ کھا کر۔
ایم ایس عرفان کی موت کو حادثاتی قرار دیا جائے یا پریشانی کی وجہ کیا فرق پڑتا ہے۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ وہ سب کے لیے مقرر ہے، جب آنا ہے آکر رہتا ہے۔ نیوز چینل نے چند روپے ہی تو روکے ہیں اب اس میں کوئی مر ہی جائے تو ان کا کیا لینا دینا۔ ایسا کبھی کسی چینل مالکان کے بچوں کے ساتھ ہوتو شاید ان ہیں اس درد یا تکلیف کا احساس ہو۔ ویسے مالک کائنات کی لاٹھی بے آواز ہے، ایسی کئی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں بڑے بڑے اداروں کے بچے بیرون ملک بھی جا کر صرف تابوت میں واپس آئے۔ اللہ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
صحافتی تنظیموں کو ان معاملات کے لیے اپنا بھرپور فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پھر ہم کسی دوست ساتھی کا اللہ نہ کرے جنازہ پڑھنے جارہے ہوں۔ خدارا اس ڈوبتی صحافتی کشتی کو بچانے کے لیے آگے آئیں۔ وہ بھی جو صحافتی تنظیموں کے بڑے ہیں وہ بھی جو اداروں میں اچھی پوزیشن پر ہیں۔ وہ بھی جو روز انہیں کیمرہ مین رپورٹرز اور ٹیکنیشنز کے ذریعے ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر بھڑکیں مار رہے ہوتے ہیں۔ اللہ ایس ایم عرفان بھائی کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے، آمین