Friday, January 20, 2017
Monday, October 24, 2016
قضا نمازوں کے حوالے سے سعودی مفتی اعظم الشیخ
عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا فتوٰی ملاحظہ کیجیے:
“علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر اس کی قضا واجب نہیں ہے۔ کیونکہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے جو آدمی کو اسلام سے نکال کر زمرہ کفار میں داخل کر دیتا ہے۔ اور کافر پر حالت کفر میں چھوڑے ہوئے کاموں کی قضا نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے:
“آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز کو چھوڑ دینے (کا فرق) ہے۔
(صحيح مسلم الإيمان (82),سنن الترمذي الإيمان (2620),سنن أبو داود السنة (467
,سنن ابن ماجه إقامة الصلاة والسنة فيها (107,مسند أحمد بن حنبل (3/370),سنن الدارمي الصلاة (1233).
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ سابقہ نمازیں دہرائیں جو ان پر حالتِ کفر میں فرض تھیں نہ ان کے بعد صحابہ نے ان لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جو مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔
بھول جانے،سوئے رہنے کی وجہ سےاور بے ہوشی کی وجہ سے رہ جانے والی نمازوں کو قضا کیا جائے گا۔
بہت سے لوگ سابقہ نمازوں کی قضا کے خوف سے نماز کی باقاعدہ ادائیگی شروع نہیں کرتے۔دین آسان ہے، اسے اسی طرح رہنا چاہیے جیسے اللہ کے نبی ﷺ نے پیش کیا تھا۔ ادھر تو یہ حال ہے کہ کوئی مسجد میں چلا جائے تو آسانی پیدا کرنے کی بجائے اسے کہا جاتا ہے کہ میاں پچھلے بیس تیس برس کدھر تھے، سابقہ نمازوں کی گنتی پوری کرو، پھر آگے چلنا۔ یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ توبہ کرنے والے انسان کو حوصلہ دینے کی بجائے الٹا پچاس سال کی نمازوں کی قضا کا مژدہ سنا دیا جائے۔
فرمان رسول ﷺ ہے:
"بَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا
“خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ”
"يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا
“لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو مشکلات نہ بناؤ”
صحيح بخارى:69
قضا نمازوں کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا مسئلہ کفر اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّل اللَّه سَيِّئَاتهمْ حَسَنَات (الفرقان:70)
“ الا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرے اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگے، ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکی سے بدل دے گا”۔
اور فرمایا:
وَإنّي لَغَفَّار لمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَملَ صَالحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طہ:82)
“ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں”
اگر كسى شخص نے شرعى عذر كى بنا پر نماز ترک كى مثلا نيند يا بھول كر تو اس كا كفارہ يہ ہے كہ جب اسے ياد آئے اور سويا ہوا بيدار ہو تو اسى وقت نماز ادا كر لے، اس كے علاوہ كوئى اور كفارہ نہيں.
جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جو كوئى بھى نماز بھول جائے يا اس سے سويا رہے تو جب اسے ياد آئے وہ نماز ادا كر لے، اس كا كفارہ يہى ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر :572 صحيح مسلم:1564
کوئی فدیہ چھوڑی ہوئی نماز کے لیے نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ بات دین میں ثابت نہیں ہے۔
جس نے ايک يا زيادہ فرض نمازيں بغير كسى عذر كے ترک كرديں اسے اللہ تعالى كے ہاں سچى توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ذمہ كوئى قضاء اور كفارہ نہيں، كيونكہ فرضى نماز جان بوجھ كر ترک كرنا كفر ہے.
كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" ہمارے اور ان كے مابين عہد نماز ہے، جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "
مسند احمد حديث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2621 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 462 ).
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" آدمى اور شرک اور كفر كے مابين نماز كا ترك كرنا ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 242 ).
اور اس ميں سچى اور پكى توبہ كے علاوہ كوئى كفارہ نہيں.
والله اعلم بالصواب
Wednesday, October 19, 2016
پیاری سی دْنیا۔ ام سعد
کرو مہربانی تم، رومیصاء حسن
فل اسٹاپ، فائزہ طارق
Tuesday, October 18, 2016
غذائیت سے بھرپور ناشتہ ، موٹاپے سے بچاﺅ کا آسان حل ۔
Saturday, October 15, 2016
💢مسلمانو سنبھل جاؤ ایک اور دجالی فتنہ آنے والا هے💢
💢مسلمانو سنبھل جاؤ ایک اور دجالی فتنہ آنے والا هے💢
_____________________________
مکمل پڑھنا دوستو
مسلمانوں سے گزارش ہے
کہ انڈیا میں بننے والی Film
Allaah Banday
جوکہ release ہو چکی ہے
اسے انڈیا میں روکا جائے.
پوسٹر پہ اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ
گندی لڑکیوں کی تصویر ہوں گی
CD ،، DVD اسے روکا جائے
اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے
اگر تم اپنے لوگوں کے سامنے مجھے
رد کرو گے
تو میں تمہیں اپنی نظروں میں
رد کرونگا
دوستوں کی خوشی کے لئے بہت
Sms کرتے ہو
دیکھتے ہیں اللہ پاک کی
رضا کے لئے کتنے لوگ اسے
آگے پہنچاتے ہیں
اسکوPlease جتنی جلدی ممکن ہوmsg کو پھیلا دیں
copy کر کے دوستو کو send کریے
Film میں ہمارے پیارے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار
ادا کرنے والے لعنتی
شخص کی تصویر آنے
والی ہے
جو کہ ہمارے آقا کی بہت بڑی توہین ہے
پوری دنیا کے مسلمانوں سے گزارش کی جاتی ہے
کہ یہ Film نہ دیکھیں
یہ ایک پلان ہے جس کا مقصد ہے کہ جب کبھی بھی
مسلمان Hazrat MOHAMMAD Sallallahu Ta'ala Alaihi Wasallam کے بارے
میں سوچیں تو فورا یہ تصویر
ان کے دماغ میں آجائے
Please جتنی جلدی ممکن ہو اس msg کو پھےلادے
Please میرے کہنے سے نہیں تو
اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اس پوسٹ کو
پھیلا دینا میرے بھائیو
______________________________
نوٹ👉: بالی ووڈ کے مسلم نام والے آرٹسٹ اگر کوئی بات ان کے خلاف بول دے تو یہ لوگ سنیما گھروں کو پھوڑتے ہے، انکے فلمو کے پوسٹر جلاتے ہے، فلم چلنے نہیں دیتے .....
🌟 جس طرح اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے، اسی طرح نبی کریم صلی الےيهي علیہ وسلم کے جیسا کسی کو اور کو سمجھنا بھی شرک ہے ..!
⭕ اگر یہ فلم اس بات سے بے خبر کسی مسلمان نے دیکھ لی تو، اس کے شرک کے ذمہ دار ہم ہوں گے، کیونکہ یہ بات ہمیں معلوم تھی مگر ہم نے دوسروں تک نہیں پہنچائی۔
-
جنگ ہوتی کیا ہے؟"*
اگر آپ بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں کہ جن کی پچھلے چند دنوں سے ایک بڑی خواہش بن چکی کہ "ہند و پاک جنگ ضرور ہونی چاہیے" تو یہ کالم ضرور پڑھیں ۔
*"جنگ ہوتی کیا ہے؟"*
پورے ملک میں توپوں کی دھنا دھن‘ جنگی طیاروں کی چنگھاڑ اور ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ تھی‘ سڑکوں پر دور دور تک لاشیں پڑی تھیں‘ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں‘ سڑکیں ختم ہو چکی تھیں‘ بجلی اور پانی بند تھا‘پبلک ٹرانسپورٹ دم توڑ چکی تھی‘ خوراک سپلائی ٹوٹ چکی تھی اور ہر گلی‘ ہر محلے سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور زخمیوں کی دہائیوں کے سوا کوئی آواز نہیں آتی تھی‘ پندرہ لاکھ زخمیوں کا علاج ممکن نہیں تھا چنانچہ ملک میں محب وطن شہریوں کے دو اسکواڈ بن گئے‘ ایک اسکواڈ شہر میں نکلتا تھا‘ اسے جہاں کوئی معمولی زخمی ملتا تھا‘ وہ زخم پر مرہم پٹی کے بجائے زخمی کی آنکھیں بند کرتا تھا اور اس کا پورا عضو کاٹ کر پھینک دیتا تھا‘ دوسرا اسکواڈ سنگین زخمی تلاش کرتا تھا اور انھیں گولی مار کر زندگی کے عذاب سے رہائی دے دیتا تھا‘ یہ پولینڈ کی صورتحال تھی‘ جرمن فوج نے یکم ستمبر 1939ء کو پولینڈ پر حملہ کیا‘ یہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز تھا‘ یہ حملہ ستمبر کمپیئن کہلاتا ہے۔
یہ کمپیئن ایک مہینہ چھ دن چلی‘ پولش فوج کی تعداد ساڑھے نو لاکھ تھی‘ جرمنی‘ سلواکیہ اور سوویت یونین کی بیس لاکھ فوج نے پولینڈ پر حملہ کر دیا‘ جارح فوج کو 4959توپوں‘ 4736 ٹینکوں اور 3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی‘ یہ آئے اور پولینڈ میں مہینے میں ایک لاکھ 99 ہزار 700 لاشیں بچھا دیں اور یوں آرٹ‘ کلچر اور موسیقی کا مرکز پولینڈ ایک مہینے میں راکھ کا ڈھیر بن گیا‘ ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک لاشیں ہی لاشیں تھیں اور انھیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا‘ میں چھ بار پولینڈ گیا‘ میں جس شہر میں بھی گیا مجھے وہ وار میوزیم لگا‘ اس کی دیواروں پر 75 سال بعد بھی جنگ کے زخم تھے‘ آپ کو آج بھی وارسا اور کراکوف شہر کی گلیوں‘ بازاروں اور محلوں سے خون کی بو آتی ہے۔
جنگ کیا ہوتی ہے آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں‘ یہ آپ کو بتائیں گے جنگیں ہوتی کیا ہیں اور انسان کو ان سے کیوں نفرت کرنی چاہیے‘ آپ پولینڈ نہیں جا سکتے تو آپ یورپ کے کسی شخص‘ کسی خاندان سے پوچھ لیں ’’جنگ کیا ہے؟‘‘ آپ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے‘یورپ نے یکم ستمبر 1939ء سے دو ستمبر 1945ء تک مسلسل چھ سال جنگ بھگتی‘ ان چھ برسوں میں یورپ‘ امریکا اور جاپان کے 6 کروڑ لوگ ہلاک ہو گئے‘ امریکا نے آخر میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرائے‘ ہیرو شیما میں دو منٹ میں ایک لاکھ 40 ہزار لوگ جب کہ ناگاساکی میں 75 ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور جو زندہ بچے وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے‘ جنگ عظیم دوم میں یورپ کا کوئی شہر سلامت نہیں رہا تھا‘ بجلی‘ پانی‘ سڑکیں‘ ریل کا نظام‘ اسکول‘ کالج اور خوراک ہر چیز مفقود ہو گئی تھی۔
آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی یورپ میں عالمی جنگوں سے قبل سور نہیں کھایا جاتا تھا‘ لوگ پورک سے نفرت کرتے تھے لیکن جب جنگوں کے دوران خوراک کی قلت ہو گئی تو لوگوں نے سور کھانے شروع کر دیے اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے پورک اب پورے یورپ کی خوراک بن چکا ہے‘ جنگ کے بعد یورپ سے مرد ختم ہو گئے تھے چنانچہ یورپ شادی کا سسٹم ختم کرنے پر مجبور ہوگیا‘ عورت صرف عورت اور مرد صرف مرد بن کر رہ گیا‘ آپ جنگوں کے دوران یہودیوں کی داستانیں پڑھیں‘ آپ اندر سے دکھی ہو جائیں گے‘ سیکڑوں ہزاروں یہودی خاندان دو دو برس گٹڑوں میں رہے‘ ان کی ایک پوری نسل گٹڑوں میں پیدا ہوئی اور اس نے سیوریج کا پانی پی کر کھڑا ہونا سیکھا‘ آپ یورپ کی پہلی جنگ عظیم بھی دیکھئے‘ یہ جنگ 28 جولائی 1914ء سے 11 نومبر 1918ء تک چار سال تین ماہ چلی‘ یورپ نے ان سوا چار برسوں میں ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی قربانی دی۔
یہ جنگ آسٹریلیا اور نیوزی کی ہر ماں کی گود اجاڑ گئی‘ ترکی کا جزیرہ گیلی پولی قبرستان بن گیا‘ آپ آج بھی جزیرے کے کسی کونے سے مٹی کی مٹھی بھریں‘ آپ کو اس میں انسان کے جسم کی باقیات ملیں گی‘ آپ ان باقیات سے پوچھیں‘ جنگ کیا ہوتی ہے؟ یہ آپ کو جنگ کا مطلب سمجھائیں گی اور آپ کو پھر بھی پتہ نہ چلے تو آپ ویتنام‘ افغانستان اور افریقہ کے جنگ زدہ ملکوں سے پوچھ لیں‘ ویتنام کے لوگوں نے ساڑھے 19 سال جنگ بھگتی‘ افغانستان پچھلے 35 برسوں سے لاشیں اٹھا رہا ہے جب کہ افریقہ کے ملکوں نائیجیریا‘ لائبیریا‘ سیرالیون‘ایتھوپیا‘ صومالیہ‘ یوگنڈا ‘ گنی اورسوڈان میں جنگ نے قحط پڑ گیا۔
افریقہ کے ہر شخص کی آنکھوں میں لکھا ہے‘ آپ ان آنکھوں سے پوچھ لیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ یہ آپ کو بتائیں گی انسان جب اپنے والد‘ اپنے بچے اور اپنی بیوی کا گوشت ابال کر کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے یا یہ جب اپنے لخت جگر کو زخموں سے رہائی دلانے کے لیے گولی مارتا ہے تو اس کا دل‘ اس کی روح کہاں کہاں سے زخمی ہوتی ہے‘ یہ باقی زندگی کیسے زندہ رہتا ہے؟ یہ لوگ آپ کو بتائیں گے!
ہم برصغیر پاک و ہند کے لوگوں نے بدقسمتی سے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی‘ ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں‘ ہم پنجابی سینٹرل ایشیا کے ہر حملہ آور کا اٹک کے پل پر استقبال کرتے تھے‘ اسے ہار پہناتے‘ سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارا دیتے تھے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے تھے‘ یہ ہماری تاریخ تھی‘ تاریخ نے ایک بار پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آ گیا‘ ہم نے اسے بھی ہار پہنائے اور سیدھا جلال آباد جھوڑ کر آئے‘ انگریز باقی زندگی افغانوں سے لڑتے رہے اور ہم ان کے سہولت کار بنے رہے‘ ہم 1857ء کی جنگ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ کہتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے‘ یہ جنگ دہلی سے 75 کلو میٹر کے فاصلے پر میرٹھ میں شر وع ہوئی اور دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔
یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئی تھی اور پنجاب‘ سندھ‘ ممبئی‘ کولکتہ اور ڈھاکا کے لوگوں کو جنگ کی خبر اس وقت ہوئی جب ملبہ تک سمیٹا جا چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ’’ کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں‘‘ لکھ رہا تھا‘ ہم اگر 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا تجزیہ بھی کریں تو یہ جنگیں ہمیں جنگیں کم اور جھڑپیں زیادہ محسوس ہوں گی‘ 1965ء کی جنگ چھ ستمبر کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر کو ختم ہو گئی‘ پاکستان اور ہندوستان 17 دن کی اس جنگ کو جنگ کہتے ہیں‘ یہ دونوں ملک ہر سال اس جنگ کی سالگرہ مناتے ہیں‘ 65ء کی جنگ میں چار ہزار پاکستانی ہلاک اور تین ہزار ہندوستانی ہلاک ہوئے تھے‘ یہ جنگ بھی صرف کشمیر‘ پنجاب اور راجستھان کے بارڈر تک محدود رہی تھی‘ ہندوستان اور پاکستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی جب کہ 1971ء کی جنگ تین دسمبر کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر کو ختم ہو گئی۔
اس جنگ میں میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور 26 ہزار بھارتی اور بنگالی ہلاک ہوئے‘ آپ کسی دن ٹھنڈے دل کے ساتھ 13 اور 17 دنوں کی ان جنگوں کو یورپ کی چار اور چھ سال لمبی جنگوں اور ان تین ہزار‘ چار ہزار‘ 9 ہزار اور 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور چھ کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں‘ آپ لاہور اور ڈھاکا پر حملے کو دیکھیں‘ آپ 1965ء کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملوں کو دیکھیں اور پھر ہیرو شیما‘ ناگا ساکی‘ پرل ہاربر‘ نارمنڈی‘ ایمسٹرڈیم‘ برسلز‘ پیرس‘ لندن‘ وارسا‘ برلن اور ماسکو پر حملے دیکھیں اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں ’’جنگ کیا ہوتی ہے؟‘‘ آپ کے جسم کا ایک ایک خلیہ آپ کو جنگ کی ماہیت بتائے گا‘ ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں‘ ہم جانتے ہی نہیں ’’جنگ کیا ہوتی ہے؟‘‘ چنانچہ ہم ہر سال چھ ماہ بعد ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں‘ بھارت ممبئی کے حملوں‘ پارلیمنٹ پر دہشت گردی‘ پٹھان کوٹ اور اڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد جنگ کی دھمکی دیتا ہے اور پاکستان معمولی واقعات پر ’’ہم نے یہ ایٹم بم شب برات پر چلانے کے لیے نہیں بنائے‘‘ کا اعلان کر دیتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ دونوں نہیں جانتے جنگ کیا ہوتی ہے‘ ایٹم بم کیا ہے اور یہ جب پھٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟۔
میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہو جانی چاہیے‘ یہ دونوں ملک جی بھر کر اپنے جنگی ارمان پورے کر لیں‘ یہ اپنے سارے ایٹم بم چلا لیں تا کہ یہ ایک بار برصغیر کے 110 شہروں کو موہن جو داڑو بنا دیکھ لیں‘ یہ خیر پور سے گوا تک پانچ دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں‘ یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں‘ یہ زندگی کو ایک بار بجلی‘ ٹیلی فون‘ پانی‘ سڑک‘ اسپتال اور اسکول کے بغیر بھی دیکھ لیں اور یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھیں‘ یہ تب جنگ کو سمجھیں گے‘یہ اس کے بعد جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے‘ یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائی بھائی بن کر زندگی گزاریں گے اور یہ اس وقت اڑی اور کوئٹہ کو امن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیں گے‘ راوی اس وقت چین ہی چین لکھے گا‘ اس سے پہلے ان بے چین لوگوں کو چین نہیں آئے گا‘ یہ ہیرو شیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے۔









