The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Thursday, April 11, 2019

ہماری دم توڑتی روایات


 انصرمحمودبابر
یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب دولت کی ریل پیل نہیں تھی۔ جب مکان کچے اور رشتے پکے ہواکرتے تھے۔ سفرکا سب سے بڑا ذریعہ تانگہ یا محض گھوڑا ہوا کرتا تھا۔ یہ سواریاں بھی سب کو میسر نہیں تھیں۔ عام طور پہ سفر پیدل کیے جاتے۔ کچے پکے راستوں پہ کہیں کہیں مکان ہوتے جن میں عام طورپرسادہ، غریب مگر مخلص لوگوں کا بسیرا ہوتا۔ مسافر راستے میں آنے والے کسی بھی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور صاحب ِ خانہ کا مہمان قرار پاتا۔ حقہ، پانی، سادہ سا کھانا اور ساتھ میں اگر کوئی بچہ ہوتا تو اس کے لیے دودھ بھی پیش کیا جاتا۔
گھروں میںسرسوں کا ساگ اور مکئی یا باجرے کی روٹیاں پکتیں تو پورا ماحول مہک اٹھتا۔ آس پاس کے کئی گھرمل جل کر کھاتے۔ چاٹی کی لسی اور مکھن، دیسی گھی کی پنیاں اور جلیبیاں تو ہماری نہایت شاندار روایات رہی ہیں۔ سردی کی راتوں میں جب گھر کے بزرگ آگ کی انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر بے فکری سے حقہ گڑگڑاتے تو زندگی کھل کر سانس لیتی محسوس ہوتی۔ خالص خوراک اور خالص رشتوں کی تاثیر زندگی میں رنگ اور خوشیاں بکھیرتی توکسی کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا تھا اور زیادہ تر لوگ لمبی عمر پاتے اور طبعی موت مرتے۔ سوائے ماچس اور نمک کے کوئی چیز خریدنی نہیں پڑتی تھی۔ جوتی، کپڑا اور دیگر ضروریات ِ زندگی کی تیاری مختلف پیشہ ور لوگ کرتے اور سارا معاشرہ استعمال کرتا۔
ابھی کل کی بات ہے کہ گھرمیں جب مہمان آجاتا تو پورے محلے کو خوشی ہوتی۔ ایک گھر کا مہمان گویا سارے محلے کا مہمان ہوا کرتا۔ گھر کے بڑے بتاتے ہیں کہ دیسی مرغی، دیسی انڈے، گڑ، شکر، دودھ اور چاول ایک دوسرے کے گھر سے تحفتاً مل جاتے تھے۔ کتنے بلند کردار تھے ہمارے اسلاف کہ جس کو بھائی بول دیا تو دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے بھائی ہونے کا حق ادا کردیا۔ اگر کسی کے ساتھ چادر یا پگڑی کا تبادلہ کرلیتے تو حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر بھائی چارہ ہوتا۔ ہمارے گاﺅں دیہات میں آج بھی کہیںنہ کہیں ”ونگار“ ڈالی جاتی ہے۔ مثلاً ابھی چند دن بعد گندم کی کٹائی شروع ہونے والی ہے توسب لوگ مل کراپنی اپنی درانتی لے کر پہلے کسی ایک کے کھیتوں میں چلے جا تے ہیں اور کٹائی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک ایک کرکے سب کی کٹائی بھی ہو جاتی ہے اور مزدوری بھی بچ جاتی ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی آپ بیتیاں ہیں۔ یہ ساری روایات انہی کے ساتھ مخصوص تھیں اورانہی کے ساتھ چلی گئیں۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے ایک دوسرے کے حال سے ناواقف ہیں۔ اب اگرچہ دولت کی ریل پیل ہے مگر بے سکونی بھی انتہا کی ہے۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ جیسے جیسے دلوں میں دوریاں آرہی ہیں اسی طرح گھر کے آنگن میں دیواریں بن رہی ہیں۔ گھر میں کسی کا ایک باتھ روم، ایک ٹیلی ویژن یا ایک بیٹھک پہ گزارا نہیں ہوتا۔ سرِ شام ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میںجا گھستا ہے اور جیسے جیسے رات ڈھلتی ہے ویسے ویسے سازشیں پروان چڑھتی ہیں۔
اپنی روایات سے دوری کا یہ عالم ہے کہ آج آپ کو ہر گھر میںکولڈ ڈرنکس تو مل جائےں گی لیکن شکنجبین، کچی لسی یا دودھ سوڈا شاید نہیں ملے گا۔ آپ کو چائے کے ساتھ سنیکس اور سموسہ تو مل جائے گا لیکن دیسی گھی کی پنجیری، چاولوں کے آٹے کی پنیاں اورخالص گڑ نہیں ملے۔ جوں جوں مکان پکے ہورے ہیں ویسے ویسے دلوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ آج ہم اپنی چیزوں کو تو سنبھال کر رکھتے ہیں اور رشتوں اور جذبات و احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ چیزیں استعمال کے لیے اور رشتے سنبھالنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اتفاق و اتحاد، اخوت و یک جہتی، ایثار و محبت، خلوص اور بے غرضی بھی ہماری دیگر روایات کی طرح دیمک زدہ کتابوں میں الماریوں کی زینت بن کر رہ جائیںگی۔ ہماری نفس پرستی کا اگر یہی عالم رہا تو آنے والی نسلیں محض کاروباری اور پیسہ کمانے کی مشینیں بن کر رہ جائیں گی۔ تو پھر لمبی عمر اور طبعی موت کوئی نہیں پائے گا۔ شوگر، ہارٹ اٹیک، برین ہیمرج اور حادثات ہمارا مقدر بن جائیں گے۔

خوش آمدید رمضان

رانیا میر

شعبان کا چاند نظر آتے ہی رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو، ایک معزز مہمان کی آمد ہے جو سب کے لیے خوشیاں، برکتوں اور رحمتوں کے سیلاب لاتا ہے۔ جس میں ہر طرف سے رب کے خزانے بہہ نکلتے ہیں، اگر ہم اپنے آس پاس غور کریں تو ہمیں علم ہوگا کہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو گزشتہ رمضان میں عبادت کر رہے تھے۔ مگر! آج وہ دنیا میں موجود نہیں، آج وہ مسجدوں میں کہیں نظر نہیں آ رہے، ان کے بغیر ہی سحری و افطاری کریں گے جو ہمیں روزہ رکھنے کو جگاتے، ہماری فکر کرتے آج وہ ہم میں موجود ہی نہیں، آج وہ قبرستانوں کے مہمان بن گئے ہیں۔
کتنے ہی لوگ جو جسمانی، یا ذہنی بیماریوں کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے وہ اس ثواب سے محروم ہیں۔ پس وہ خوش نصیب جنہیں یہ رمضان نصیب ہو رہا ہے وہ اس کے اجر سے محروم نہ رہیں بلکہ نیکوں میں سبقت حاصل کریں اور سوچیں کہ پتا نہیں یہ موقع پھر نصیب ہو کہ نہ ہو ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، ”اور ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے، اے نیکیوں کے طالب! آگے بڑھ اور اے برائیوں کے طالب! باز آجا“۔اپنے ذہنوں کو پہلے ہی رمضان کے حوالے سے مکمل تیار کر لیں۔ شعبان کے نصف اول میں اپنے تمام قضا روزے رکھ لیں، لیکن کوشش کریں کہ 15 شعبان کے بعد رمضان کی تیاری کے لیے اپنے جسم کو کمزوری سے بچائیں۔ روزے کے متعلق ایسی کتابیں پڑھیں جس سے ایمان بھی تازہ ہو اور پورے آداب کے ساتھ روزہ بھی رکھ سکیں۔
اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو اچھی کتابیں، کیسٹس، تحفہ کے طور پر دیں۔ اپنے گھروں کی صفائی وغیرہ تمام ضروری کام مثلاً راشن، اپنے گھر والوں ملازمین اور جن کو بھی آپ نے عید کے کپڑے یا عید کے تحائف وغیرہ دینے ہیں، ان کی خریداری رمضان سے پہلے ہی کر لیں۔جتنا ہو سکے کثرت سے رمضان میں صدقہ و خیرات کریں۔ اس بات کا پختہ عزم کریں اس رمضان میں ایمانی و روحانی، اخلاقی بہتری لانی ہے اور ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ اس رمضان کو پچھلے رمضان سے بہتر بنایا جا سکے۔
یاد رکھیں! یہ گنتی کے چند دن ہیں لہذا زیادہ وقت عبادت اور نیکی کے کاموں میں لگائیں۔ غیر ضروری مصروفیات ترک کر لیں۔ جس سے جتنا ہو سکے وہ اپنے رب کو راضی کر لے یہ ہی موقع ہے رب کو منانے، اس کا قرب حاصل کرنے کا، اللہ ہمیں اپنے مقرب بندوں میں شامل فرمائے اور ہمیں ہدایت پر استقامت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائے۔ آمین 

ہم کہاں جا رہے ہیں

فری ناز خان

کسی بھی معاشرے کا وجود وہاں کے بسنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔ لوگوں کے رہن سہن اور عادات و اطوار کا کسی بھی معاشرے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ معاشرہ لوگوں کی پہچان ہوتا ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہ ایک اسلامی ملک ہے۔ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور کسی بھی اسلامی ملک کی پہچان کے لیے اس ملک کے لوگوں کا رہن سہن اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کیا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزار سکیں مگر وہیں کچھ ایسی حدود بھی بنا کر دی ہیں جن کو عبور کرکے ہم صرف اور صرف بربادی اور بدنامی کے اندھیروں میں غرق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنی حدود کو عبور نہ کریں۔
پچھلے دنوں میری نظر سے ایک خبر گزری۔ خبر کچھ یوں تھی کہ گوجرہ چک نمبر 337کے قریب نہر جھنگ کے کنارے سے ایک بوری میں بند ایک لڑکی کی لاش برآمد لڑکی کی عمر 20 سال اور اس کا سر اس کے جسم سے بڑی بے رحمی سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا۔ پہلے میں اس خبر کو پڑھ کر جھوٹ سمجھی مگر جب اس لڑکی کی لاش کی تصویر دیکھی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ کافی دیر کے بعد تصویر کا بغور جائزہ لیا تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا حادثہ ہوا ہے اور اسے کیوں مارا گیا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے مگر مجھے ایک بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا کہ جب ہم اپنے رب کی بنائی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہیں تو اس کا انجام کچھ اسی طرح کا سامنے آتا ہے۔کیونکہ ہماری نوجوان نسل اور خاص طور پر ہماری نوجوان لڑکیوں کے سروں پر جو آزادی کا بھوت چڑھا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے کافی احتجاج اور ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں ان کے کچھ تو اثرات نظر آنے تھے۔ 
انہیں اس انجام تک پہنچانے میں خود ان کی اپنی مائیں بھی شامل ہیں۔ آج کل لڑکیاں اپنی آزادی اور تعلیم کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ بعض اوقات تعلیم کے نام پر بہت سے نام نہاد تعلیمی ادارے بھی نوجوان لڑکیوں کو گمراہیوں کے اندھیرے دلدل میں دھکیل رہے ہیں اور لبرل ازم کا نام لے کر آزادی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور اپنے تعلیمی معیار کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور آج کل کی لبرل مائیں خوشی خوشی اس نظام کو آزادی کے نام پر قبول کر رہی ہیں۔ فیشن اور لبرل ازم کے نام پر اپنی بیٹیوں کو آزادی دینے والی مائیں خود بھی اپنے آپ کو اتنا ہی جوان رکھنے میں کوشاں ہیں۔ اگر کوئی انھیں ان کی بیٹی کے ساتھ دیکھ کر بیٹی کی بڑی بہن کا لقب دے تو ان کی خوشی کی انتہاء نہیں رہتی اور وہ اس لقب کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر محنت میں لگ جاتی ہیں۔ جب مائیں بیٹیوں کی ماں بننے کے بجائے ان کی بڑی بہن اور آنٹیاں کہلوانا پسند کرنے لگیں تو ان نوجوانوں کی رہنمائی کون کرے گا اور کون ان لڑکیوں کو صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا سکھائے گا۔
جن معاشروں میں مائیں خود اپنی بیٹیوں کو سجا سنوار کر رونقِ محفل بنانا چاہتی ہوں اور انہیں اتنی آزادی دیں کہ وہ کسی کے بھی ساتھ جب چاہیں اور جہاں چاہیں جاسکتی ہیں تو ہر مثبت سوچ رکھنے والے اس کا انجام سوچ سکتے ہیں۔ آج کل آزادی کے نام پر مردوں سے دوستی کرنا ایک عام سی بات بن گئی ہے اور ان ماوں کا حال یہ ہے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں کہ یہ دوستی کس حد تک پہنچ چکی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ خود بھی اپنی نام نہاد دوستیاں استوار کر رہی ہوتی ہیں۔ انہیں خود اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر نظر رکھ سکیں اور جس کا انجام بلا آخر کسی نہر کے کنارے پڑی لاش کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ مگر پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلتی ہم کسی دوسری لڑکی سے نصیحت نہیں لیتے بلکہ اس پر مزید اور دس بارہ الزامات لگا کر وہاں سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اگر مائیں لڑکیوں کی بہنیں اور آنٹی کہلوانے پر فخر کرنے کے بجائے ماں کہلوانا پسند کریں تو شاید ان حادثات میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی ہونا شروع ہو جائے مگر نہجانے وہ دن کب آئے گا جب مائیں اپنا فرض اور اپنا رتبہ پہچانیں گی اور بیٹیوں کی صحیح معنوں میں پرورش کر پائیں گی یا پھر یہ صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ انہیں کب اس بات کا احساس ہو گا کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔

Wednesday, April 10, 2019

بھارتی دعوی بے نقاب ،بالاکوٹ کا مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے۔۔۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا بالاکوٹ کے علاقے کا دورہ

بالاکوٹ (این ٹی ایس رپورٹ)رواں برس 26 فروری کو انڈیا کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ اس کے جنگی طیاروں نے پاکستان میں بالاکوٹ کے نزدیک جابہ کے مقام پر کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سب سے بڑے تربیتی کیمپ کو حملہ کر کے تباہ کر دیا ہے۔انڈیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں اس تنظیم کے 'دہشت گرد'، تربیت دینے والے سینیئر کمانڈر اور جہادیوں کے گروہ ہلاک کر دیے گئے ہیں۔انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی واقعے کے بعد ایک تقریر میں کہا تھا کہ فضائی کارروائی میں ڈھائی سو سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔پاکستان کی جانب سے ان دعووں کی فوری تردید کی گئی اور کہا گیا کہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی 'کیمپ' یا 'مدرسے' کو تباہ کیا گیا ہے۔بدھ کو پاکستانی فوج نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے چند نمائندوں کو بالاکوٹ کے اس مقام کا دورہ کرایا جہاں وہ مدرسہ قائم ہے جسے انڈیا نے تباہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔ بی بی سی کے عثمان زاہد بھی اس جگہ کا دورہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ انھوں نے وہاں کیا دیکھا، جاننے کے لیے پڑھیے اس دورے کا آنکھوں دیکھا حال۔اس دورے کے دوران نہ صرف ہمیں اس مقام پر لے جایا گیا جہاں پر انڈین فضائیہ کی جانب سے حملے کا دعوی کیا گیا تھا بلکہ اس مدرسے میں بھی لے جایا گیا جس کے بارے میں انڈین حکام نے دعوی کیا تھا کہ وہ جیش محمد کا ٹھکانہ تھا اور جسے تباہ کر دیا گیا ہے۔ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد اس پہاڑی مقام تک دشوار گزار چڑھائی پر سفر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے جاری رہا۔وہاں پہنچ کر فوج نے ہمیں پہلے وہ مقام دکھایا جہاں درمیانی سائز کا ایک گڑھا تھا۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ وہ گڑھا ہے جو انڈین طیاروں کے پیلوڈ گرانے سے بن گیا ہے۔واضح رہے کہ انڈین فضائیہ نے دعوی کیا تھا کہ اس نے ایک ہزار کلو گرام وزنی بم استعمال کیے تھے۔یہ مقام آبادی سے بہت دور پہاڑی پر ہے اور وہاں پر صرف ایک گھر موجود ہے جسے تھوڑا نقصان ہوا ہے اور وہاں ایک شخص بھی ملا جو زخمی ہوا تھا۔اس کے بعد ہم چوٹی تک گئے جہاں پر مدرسہ واقع ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 26 فروری کے بعد ذرائع ابلاغ کے کسی بھی نمائندے کو وہاں تک رسائی دی گئی۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک بڑا سا کمپلیکس ہے جس میں بچوں کے کھیلنے کے لیے ایک میدان بھی ہے جہاں فٹبال پوسٹ بھی موجود ہے۔لوہے کی باڑ چاروں جانب لگی ہوئی ہے اور مرکزی ہال میں ایک مسجد ہے اور مدرسہ بھی، جہاں ڈیڑھ سو سے دو سو طلبہ قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔وہاں موجود طلبہ میں سے کسی کی بھی عمر 12 یا 13 سال سے زیادہ نہیں تھی۔ہم نے وہاں موجود چند لوگوں سے بات بھی کی اور اساتذہ سے بھی معلوم کیا کہ یہ مدرسہ کس کے زیر انتظام ہے۔میں نے خود ایک استاد سے معلوم کیا کہ کیا اس کا تعلق جیش محمد سے تو نہیں ہے، تو جواب میں انھوں نے کہاں کہ ہمیں نہیں معلوم یہ کس کا ہے۔اس دورے میں ہمارے ساتھ دس سے زیادہ ممالک کے دفاعی اتاشی بھی شامل تھے جنھوں نے وہاں تصاویر لیں اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ سے بھی بات کی۔مدرسے کا دورہ تقریبا 20 منٹ تک کا تھا جس کے بعد فوج کے شعب تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی میڈیا سے بات چیت کی اور ہمارے سوالات کے جواب دیے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مدرسے کی ایک معمولی سی بوسیدہ عمارت ہے لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ انڈین دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ مدرسہ ہمیشہ سے یہیں ہے۔فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے اور ہر کسی کو یہاں آنے جانے کی اجازت تھی۔

مسئلہ کشمیرسْلگتا ہوا نہیں رہ سکتا اسے حل کرنا ہی ہوگا، وزیراعظم

دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جوکہ کشمیر ہے، جوہری طورپرمسلح ہمسائے اپنے اختلافات کوصرف مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں، آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں میں پاکستان چھوڑکرچلی جائیں گی،عمران خان کا برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویو

اسلام آباد(این ٹی ایس رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیرکا مسئلہ حل کرنا ہوگا یہ مسئلہ سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے اوربھارت کے ساتھ متنازع علاقے کشمیرمیں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویودیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو پیغام میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، یہ مسئلہ سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے اوربھارت کے ساتھ متنازع علاقے کشمیرمیں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہوگا۔ جوہری طورپرمسلح ہمسائے اپنے اختلافات کوصرف مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کوکشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیرمیں جوکچھ بھی ہورہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پرعائد کیا جائے گا اورہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت دونوں ممالک کی اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اوردونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جوکہ کشمیرہے۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگربھارت پاکستان پردوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اوراس صورتِ حال میں دوجوہری مسلح ممالک نے جو کیا وہ میرے خیال میں بہت غیرذمہ دارتھا۔وزیراعظم نے جیش محمد سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیرمسلح کررہے ہیں۔ ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں۔ یہ جنگجو گروہوں کوغیرمسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ دہشت گروہ سے متعلق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم ان جنگجو گروہوں کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔ اس حوالے سے بیرونی دباؤ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے توہین مذہب کے الزام میں بری ہونے والی آسیہ بی بی سے متعلق کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اورمیں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں میں پاکستان چھوڑکرچلی جائیں گی۔

وزیر اعظم کا مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

لاہور میں وزیراعلیٰ عثمان بزردار سے ملاقات میں آئندہ بجٹ میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کرنے کی ہدایت
پنجاب کا بجٹ مثالی اور عوام دوست ہونا چاہیے جب کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں رہیں، عمران خان

لاہور(این ٹی ایس رپورٹ ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والے افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے جہاں انہوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے پنجاب کے آئندہ بجٹ میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو رمضان المبارک میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے اور شیلٹر ہومز کی تعمیر کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی تیز کرنے اور پنجاب کے آئندہ بجٹ میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی بھی ہدایت کی۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ مثالی اور عوام دوست ہونا چاہیے جب کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں رہیں۔ وزیر اعظم نے مصنوعی مہنگائی کرنے والے افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلی پنجاب کو رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔عمران خان کا ادویات کی قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم 72 گھنٹو ں میں ادویات کی قیمتوں کو پرانی سطح پر واپس لانے کی ہدایت کر دی۔وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جو طے شدہ شیڈول میں شامل نہیں تھا۔ عمران خان نے فوری طور پر لاہور آمد کے بعد کابینہ اجلاس طلب کیا۔ جس میں ارکان کو نئے بلدیاتی نظام پر بریف کیا جائے گا جب کہ بلدیاتی نظام کے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد حتمی شکل بھی دی جائے گی۔اجلاس میں اشیائے خورد نوش کی قیمتوں پر قابو پانے اور رمضان میں مہنگائی کی روک تھام کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔

قائد اعظم کا پاکستان

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے 
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
خدا کرے میرے ہر ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

پاکستان کی پاک سر زمین جو دو قومی نظریے کی بنیاد پہ الگ کی گئی اور اسے غلامی سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگایا۔ آج کیا اس اکہتر سالہ پاکستان میں بابائے قوم کے پاکستان کی جھلک آتی ہے؟ قائداعظم کا خواب تو پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا۔ پاکستان میں ایسا نظام قائم کرنا تھا جہاں سب کو بنیادی اور مساوی حقوق دیے جائیں۔ جہاں تمام شہری امن اور سلامتی سے زندگی گزار سکیں۔ جو فرقہ واریت اور لسانی فسادات سے پاک ہو۔ جس میں سستا اور فوری انصاف فراہم کیا جائے لیکن آج ہمارا پاکستان بابائے قوم کے خوابوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ آج ووٹ دے کر ایک نئے پاکستان کے لیے ایک نئی حکومت کا انتخاب کیا ہے۔ تمام پاکستان کو عمران خان سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں وہ ایسے لیڈر بنیں 
جو دل کا موسم سہانہ کر دے
 وطن سے غربت روانہ کر دے
 جو آستینوں کے سانپ مارے
 جو بم دھماکے فسانہ کر دے
اداس چہرے گلاب کر دے
جو ظلمتوں کا نظام بدلے
جو روشنی بے حساب کر دے
عبد الرحمان خان
پاکستان جس مشکل دور سے گزر رہا ہے۔اس کے کچھ بنیادی اور فوری حل طلب مسائل ہیں جن کے بعد ہی وہ اپنے پاوں پہ کھڑا ہو سکتا ہے۔
غربت:
پہلا مسئلہ غربت کا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ غریب غریب سے غریب تر ہو رہا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا پہ بلا وجہ ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔
حل: 
تمام پیسہ جو چوروں نے بیرون ملک منتقل کیا ہے اسے واپس لایا جائے تاکہ اس ملک میں خوشحالی آئے۔ اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ بلا ضرورت ٹیکس لگانے سے گریز کیا جائے۔ آئے دن بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔
بے روزگاری:
یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اچھی نوکری کا فقدان اور سفارش کی وجہ سے ضرورت مند کا حق مارا جانا عام سی بات ہے۔ اسی بے روزگاری کی وجہ سے لوگ بیرون ملک ملازمت پر مجبور ہیں۔
حل:
میرٹ پہ نوکری دی جائے۔ سفارش اور رشوت سے پاک نظام قائم کیا جائے۔ کوئی ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں تعلیم یافتہ لوگ اپنی صلاحتوں کا لوہا منوا سکیں اور انہیں ملک میں ہی ترقی کے مواقع میسر آئیں۔
زیادہ سے زیادہ فیکٹریاں لگائی جائیں تاکہ لوگوں کو روزگار میسر آئے۔ ملک کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ باہر سے لوگ ادھر سرمایہ کاری کریں۔
پانی کی دستیابی:
پانی کا مسئلہ دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی نا گزیر ہے۔
حل:
زیادہ سے زیادہ ڈیم بنائے جائیں تاکہ پانی کے ذخائر ضائع نہ ہو۔ کوئی ایسا نظام قائم کیا جائے جس کے ذریعے کھارے پانی یا گندے پانی کو قابل استعمال بنایا جائے۔
دیگر ممالک کی طرح پانی کے بے دریغ استعمال پہ ٹیکس لگایا جائے اور قانونی کاروائی کی جائے تاکہ سڑکوں پہ پانی بہانے والے اس کی قدر کر سکیں۔
بجلی کی فراہمی:
لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی درپیش مسائل میں اولین ہے۔
حل:
زیادہ سے زیادہ بجلی گھر قائم کیے جائیں۔ ڈیم بنائے جائیں جس سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے۔ شمسی توانائی کے یونٹ قائم کیے جائیں جس سے بجلی کا حصول ممکن ہو۔ بجلی کے متبادل ذرائع روشناس کروانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں سرمایہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس کام کو بڑے پیمانے پہ کر سکیں۔
تعلیم:
کسی ملک کی ترقی میں تعلیم یافتہ افراد کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اقتصادی ترقی کے اس دور میں جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر ہی ملک دیگر ممالک کے شانہ بشانہ چل سکتا ہے۔
حل:
ریاست بنیادی پرائمری تعلیم مفت اور لازمی کرے۔ عورتوں کی مڈل تک تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ بجٹ میں تعلیم کے لیے زیادہ حصہ مختص کیا جائے۔ طلبہ کے لیے زیادہ سے زیادہ وظائف کا اعلان کیا جائے۔ اسکولوں میں ٹیکنیکل ایجوکیشن لازمی جز بنا دی جائے۔
کرپشن:
کرپشن کا میدان پاکستان میں ہر جگہ گرم ہے۔ تب ہی پاکستان کو بری طرح نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
حل:
کرپشن کے لیے ایسا مونیٹرنگ سسٹم بنایا جائے کہ ہر فرد اپنے فعل کا جواب دہ ہو۔
صحت:
علاج معالجے کی سہولیات شہریوں کا بنیادی حق ہیں۔
حل:
زیادہ سے زیادہ ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کی جائیں۔ فلاحی مراکز قائم کیے جائیں۔ بزرگ افراد کا علاج معالجہ مفت ہو۔ پیدائشی معذور اور خصوصی بچوں کا علاج مفت کیا جائے۔
عدالتی نظام:
عدالتی نظام میں بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ دیوانی مقدمات میں لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
حل:
شرعی عدالتیں قائم کی جائیں۔ سستا اور فوری انصاف مہیا کیا جائے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کا خاتمہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے تاکہ ملک میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کا مل کر کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان تمام مسائل کے حل کے بعد ہی پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم مملکت بن سکتا ہے۔ کیونکہ ہر فرد کی خواہش ہے وہ ایک ایسا ملک چاہتا ہے جہاں بھوکے کو اناج ملے، بیمار کو علاج ملے، مفلس کو روزگار ملے، یقین ملے اعتبار ملے، بلاتفریق انصاف ملے، کرپشن سے نجات ملے، تعلیم کا یکساں نظام ملے، کشکول سے براءت ملے، قاضی و حاکم آزاد ہو، بلا تفریق احتساب ہو، مہنگائی کا ستیاناس ہو، بدعنوانی کا حساب ہو، زینب جیسی کلیاں کھل سکیں، تھر کے بچے پیٹ بھر سکیں، قصور کے بچے سر اٹھا سکیں، اسکولوں سے بچے واپس آ سکیں، ہم ایسا دیس چاہتے ہیں جہاں، نہ بارود کی بو رچی ہو، نہ خون کے چھینٹے بکھرے ہوں، نہ خود کش حملہ آور ہوں، نہ دہشت گردی کا عفریت ہو، نہ بجلی کا فقدان ہو، نہ گیس کا کوئی بحران ہو، نہ پانی سے کوئی پریشان ہو، ہر شہری کو اطمینان ہو۔
اللہ تعالی نئی حکومت کو توفیق دے کہ وہ عوام کے وعدوں اور قائد کے خوابوں پہ پوری اتر سکے آمین۔

کتب بینی کی اہمیت

محمد عارف خلجی 

کتب بینی ایک ایسا بہترین شوق اور محبوب مشغلہ ہے جس کے بدلے ہفت اقلیم کی سلطنت بھی ہیچ ہیں۔ اگر آپ کتب بین واقع ہوئے ہیں اور رات کو اپنی خواب گاہ سے محض اس لیے دور رہتے ہیں تاکہ آپ اپنا قیمتی وقت عظیم لوگوں کی صحبت میں گزاریں تو یہ آپ کے لیے بہت ہی مبارک اور اچھا شگون ہے۔ یہ عادت جس شخص کے اند ر پیدا ہوگئی، اُس کو سارے جہاں کے خزانوں کی چابیاں مل گئیں۔ اِس کے برعکس جو شخص کتب بینی کی لذت سے محروم رہا، وہ دنیا کی بہترین نعمت کے ذوق سے محروم رہا۔
یاد رکھیں! کتب بینی ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو فرش سے عرش اور خاک سے افلاک تک پہنچادیتا ہے۔ علم کی دولت سے مالا مال شخص خود بھی راہِ راست پر چلتا ہے اور دوسرے کے لیے بھی مشعل ِ راہ کا کام دیتا ہے۔ یہ کسی کی اجارہ داری نہیں بلکہ ہر وہ شخص جس کے اندر جذبہ، لگن، شوق اور مستقل مزاجی کی صفات موجود ہو، اِس عمل کو پروان چڑھا کر علم کے سمندر سے دُرِ نایاب سمیٹ سکتا ہے۔
ہمارے اسلاف میں یہ وصف ِ حمیدہ بدرجہءاتم موجود تھی اسی لیے آج ایک طویل زمانہ گزرنے کے باوجود بھی اُن کے نام آسمانِ علم کی اُفق پر جگمگا رہے ہیں۔ امام غزالی، ابونصر الفارابی، ابن سینا، ابن رشد، ابن الہیثم، جابر بن حیان اور الکندی جیسے جلیل القدر اشخاص کی کتابیں آج بھی یورپ اور امریکہ کے کتب خانوں کی زینت ہیں۔ ویسے تو ہمارے اسلاف میں علمی دنیا کے وہ وہ قد آور ستون موجو د ہے جن کے ناموں اور کا رناموں کا احصاءدشوار ہے مگر اُنہوں نے ہمیشہ اپنے اخلاف کو ”مطالعہ“ اور ”کتب بینی“ کا ذوق اُبھارنے کا درس دیا۔ اسلامی دنیا کے علاوہ دنیا کے دیگر گوشوں میں علم کی تابانی سے عالم کو منور کرنے والے اور ہر سُو اُجالا پھیلانے والے ایسے لوگ گزرے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی کتب بینی اور کتاب دوستی تھا۔
 اپنے ذوق ِ مطالعہ کا حال بتاتے ہوئے حکیم ابو نصر الفارابی فرماتے ہیں کہ ”تیل کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں سے کھڑے کھڑے کتاب کا مطالعہ کرتا تھا“۔ امام زہری ؒ کے مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ ادھر اُدھر کتابیں ہوتیں او راُن کے مطالعہ میں ایسے مصروف ہوتے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی، بیوی اُن کے اس عادت سے سخت پیچ و تاب کھاتی، ایک دفعہ بیوی نے بگڑ کر کہا، ”اللہ کی قسم یہ کتابیں مجھ پر تین سو کنوں سے زیادہ بھاری ہیں“۔ میکالے کا قول ہے کہ ”وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں“۔ مشہور انگریز شاعر شیلے کہتا ہے، ”مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لیے اور اس کی ترقی کی لیے بہت ضروری ہے“۔ امریکہ کا مشہور صدر ابراہم لنکن کہتا ہے، ”کتابوں کا مطالعہ دماغ کو روشن کرتا ہے“۔ والٹیئر کا قول ہے، ”وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں“۔ رینے ڈیس کارٹیس کتب بینی کے بارے میں کہتا ہے کہ، ”تمام اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنا ایسے ہی ہیں جیسے ماضی کی بہترین اشخاص کے ساتھ گفتگو کی جائے“۔
کتب بینی ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ چنانچہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے زندہ کردار موجود ہیں جو کتب بینی جیسے عظیم الشان کام کو بطور مشغلہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور دن دوگنی رات چوگنی علم کے خزانوں میں سے موتی چننے میں مصروف اور اپنا حصہ سمیٹنے میں مشغول ہیں۔ اِن لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں کتب بینی کا ذوق تقریباََ دم توڑ چکا ہے۔ بہت کم نوجوان ایسے ہیں جو ذوقِ کتب بینی کی حلاوت سے آشنا، کتاب دوستی پہ نازاں اور کتابوں کی معیت میں فرحاں و شاداں ہیں ورنہ اکثر نوجوان کتب بیزار ہی واقع ہوئے ہیں۔ وہ اپنی نظروں کے سامنے ”کتاب“ کے علاوہ ہر چیز کی موجودگی برداشت کرسکتے ہیں۔ کتاب پڑھنا اُن کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ وہ دنیا کی رنگینیوں، فضول اور واہیات مجلسوں، ڈراموں اور فلموں کو کتب بینی کے عوض خرید چکے ہیں اور اس سودا پر بہمہ وجود راضی و قانع ہے۔
ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی ایسی بھی ہے جو کھیل کود، ناچنے تھرکنے، نت نئے فیشن اختیار کرنے، ملبوسات کے نئے سٹائلز زیبِ تن کرنے، بالوں کی تراش خراش درست کرنے اور خوب سے خو ب تر بلکہ خوب رُو ہونے میں اپنا قیمتی وقت گنوارہے ہیں۔ اِن اُمور سے کئی گنا اہم کام اُن کی نگاہ میں فضول، بے معنی، بے وقعت اور ہیچ ہیں۔ ایسے لوگوں کے ان معاشرتی رویوں اور بے کار مشغولیات کا ایک سبب اِن کے والدین بھی ہیں جو ان کی اصلاح و تربیت کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ چکے ہیں۔ وہ اپنے بچوں یا نوجوان بیٹوں کو عمر عزیز کی بہاروں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کا درس دے کر اُن کے مستقبل کو ہی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کو بھی مخدوش کردیتے ہیں۔ اس لیے کہ یہی نو نہالان ِ قوم کل ملک و ملت کی کشتی کے ناخدا بنیں گے۔ نتیجہ کے طور پر ایک ایسی نسل پیدا ہورہی ہے جو تعلیم کے زیور سے محروم اور لغویات کی بھرمار کا پلندا ہے۔
یہ کتب بینی سے دوری اور بُعد ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں اپنے اسلاف کی قدر دانی اور مرتبہ شناسی کا عنصر ناپید ہے۔ اساتذہ اور ہمسایہ کے حقوق سے عدم واقفیت اپنے عروج پر ہے۔ اِس سے زیادہ پر خطر، باعث تشویش، قابل ِ غور اور قابل ِاصلاح بات یہ ہے کہ نئی نوجوان نسل کا رویہ اپنے والدین کے ساتھ بھی قابلِ افسوس، قابلِ ماتم اور قابلِ مذمت ہے۔ 
اگر ہم اپنی نئی نسل کو کتب بینی کی لذت ، حلاوت، شیرینی اور چاشنی سے آگاہ کریں اور اُنہیں مطالعہ کا خوگر بنائیں، اپنے مشرقی روایات کی پاسداری کا پابند بنائیں اور سچے مسلمان ہونے کا درس دیں تو قوی اُمید اور امکان ہے کہ ہمارے معاشرے میں پڑے پیمانے پر حقیقی معنوں میں تبدیلی آجائے گی اور ملک و ملت کا نام دنیا کی مہذب ترین اقوام میں شمار ہونے لگے گا۔

موبیو گرافی

 علی عبداللہ

یہ غالباً جون 2000 کی بات ہے جب سام سنگ نے جنوبی کوریا میں اپنا پہلا کیمرا موبائل V200 متعارف کروایا۔ 1.5 انچ کی سکرین کے ساتھ 0.36 میگا پکسل کیمرے والا یہ فون بیس فوٹو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کے فوری بعد جاپانی کمپنی شارپ اور امریکی کمپنی نے مختلف خصوصیات والے کیمرا فون مارکیٹ میں متعارف کروائے۔ 2003 کے آخر تک پوری دنیا میں 80 ملین سے زائد کیمرہ فون فروخت ہوئے۔ اسی طرح 2004 کے آخر تک کیمرہ فون کی مانگ نہایت تیزی سے بڑھتی چلی گئی اور اس میں فن لینڈ کی کمپنی نوکیا کا بہت بڑا حصہ تھا۔ 2005 میں N90 اور 2006 میں سونی ایرکسن کا k800i جب کہ 2007 میں N73 اور پھر N95 منظر عام پر آئے۔ اسی سال آئی فون کا پہلا ماڈل بھی لانچ ہواجس نے فون کی دنیا میں باور کروایا کہ صرف کیمرہ ہی نہیں دیگر خصوصیات بھی کسی فون کو صارفین کے لیے دلچسپی کا باعث بناتی ہیں جن میں کم وزن، ٹچ سکرین اور دیدہ زیب ہونا شامل ہے۔ 2009 میں سام سنگ کا pixon 12 اور 2010 میں نوکیا کے N8 اور سونی ایرکسن کے S006 نے کیمرہ موبائل کی دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اس کے بعد ایل جی، سونی، سام سنگ، ہواوے، بلیک بیری اور دیگر بے شمار کمپنیوں نے بہترین خصوصیات والے کیمرہ فون متعارف کروانے شروع کر دیے۔ اب یہ حال ہے کہ سمارٹ فون کیمرے پروفیشنل کیمروں کے مقابل آ چکے ہیں اور روزمرہ کی فوٹو گرافی موبیو گرافی اور آئی فونوگرافی میں بدل گئی ہے۔
موبیوگرافی کی اصطلاح موبائل اور فوٹوگرافی سے اخذ کی گئی ہے جس کے معنی موبائل سے فوٹو لینا یا ویڈیو بنانا ہے۔ اسی طرح آئی فونوگرافی کی اصطلاح آئی فون اور فوٹوگرافی سے اخذ ہوئی جس کا مطلب ہے آئی فون سے فوٹوگرافی کرنا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں لوگ سوشل ہونے کی چاہ میں پل پل کی صورت حال تصاویر کی صورت پیش کرنا پسند کرتے ہیں، وہیں موبیوگرافی ایک باقاعدہ فن کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ دفتروں، بازاروں، گھروں اور دیگر جگہوں پر روزانہ لاتعداد لوگ موبائل کیمروں سے فوٹو بناتے دکھائی دیتے ہیں لیکن تمام بنانے والے اس لمحے یا منظر کو چند بنیادی غلطیوں کے باعث صحیح طریقے سے کیمرے میں قید نہیں کر پاتے اور پھر مجبوراً اسے ڈیجیٹل ردی میں پھینک دیتے ہیں۔
ایک بہترین کیمرہ وہ ہوتا ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزمرہ فوٹو گرافی ڈیجیٹل اور پروفیشنل کیمروں کے بجائے سمارٹ فون کیمروں میں سمٹ آئی ہے۔ چونکہ موبیو گرافی اب ایک فن کی صورت اختیار کر چکی ہے، چناچہ اسی خاطر فون کمپنیاں اب مشہور کیمرہ بنانے والی کمپنیوں، لائیکا، کارل زیوس وغیرہ کی مدد سے پروفیشنل کیمروں جیسی خصوصیات سمارٹ فون میں متعارف کروا رہی ہیں جس سے صارفین کی توجہ روایتی کیمروں سے ہٹ کر سمارٹ فون پر ہی مرکوز ہو رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ہواوے کا نیا متعارف کروایا جانے والا موبائل P30 pro ہے، جس کے کیمرے کو پروفیشنل کیمرے کے قریب ترین کہا جارہا ہے۔
فوٹوگرافی کرنے والے عموماً اب اپنا ڈیڑھ کلو والا پروفیشنل کیمرہ اٹھانے کے بجائے 140 گرام والے سمارٹ فون کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ چاہے پروفیشنل کیمرہ سے فوٹو بنائیں یا سمارٹ فون کیمرہ سے، مقصد سوشل میڈیا یا کسی ویب گاہ پر ہی دینا مقصود ہوتا ہے اور ان سب کے لیے تصویر کا سائز لازماً کم ہونا ہوتا ہے، چاہے وہ 22 میگا پکسل کا پروفیشنل کیمرہ ہو یا 12 میگا پکسل کا سمارٹ فون کیمرہ، اس بنیاد پر ہر جگہ اور ہر وقت پروفیشنل کیمرے کے بجائے سمارٹ فون کیمرے کا استعمال ہی آسان حل سمجھا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موبیو گرافی کیسے سیکھی جائے؟ یاد رکھیے ایک بہترین کیمرہ اچھی فوٹو گرافی کا ضامن نہیں ہو سکتا جب تک اسے استعمال کرنے والا چند بنیادی باتوں کو نہ جانتا ہو۔ ہمارے اردگرد کئی لوگ موبائل کیمروں سے فوٹو بناتے نظر آتے ہیں۔ مگر فوٹو لینے کے بعد انہیں احساس ہوتاہے کہ وہ دلکش یا خوبصورت نہیں اور اس کے بعد کچھ لوگ اسی خراب طریقے سے لیے گئے فوٹو پر ایڈیٹنگ کی ایسی ایسی تکینیک آزمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فوٹو دیکھتے ہی غیر دلچسپ اور غیر قدرتی سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ فوٹوگرافی کی طرح موبیو گرافی کے بھی چند بنیادی اصول ہیں جنہیں سیکھ کر اور مسلسل مشق کرنے سے آپ اپنے سمارٹ کیمرہ سے ہی بہترین تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر اگر آپ کیمرہ فوکس، ایکسپوژر یعنی روشنی اور امیج ایڈیٹنگ پر مشق کریں تو نہایت شاندار تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔
موبیو گرافی کے لیے سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ آپ اپنے سمارٹ کیمرہ کے لینز کو ہمیشہ صاف رکھیے۔ اکثر لوگ اسے نظر انداز کرنے کی بنا پر اچھی تصاویر نہیں لے پاتے۔ لینز صاف نہ ہونے کی بنا پر تصاویرمدھم یا بلر آتی ہیں۔ کیمرہ کا ڈیجیٹل زوم استعمال کرنے کے بجائے کوشش کی جائے کہ آپ اپنے سبجیکٹ کے خود قریب جائیں۔ فوٹو میں توازن یعنی سیمٹری ہونا لازم ہے۔ یہ سیمٹری ہی آپ کی تصویرکو دلچسپ یا غیردلچسپ بناتی ہے۔ اس کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے فون کیمرہ کی آپشن سے گرڈ لائنز آن کر لیں اور کوشش کریں اپنے سبجیکٹ یعنی جس کا فوٹو بنا رہے ہیں وہ اس جگہ ہو جہاں افقی اور عمودی لائنز مل رہی ہوتی ہیں۔ اسے رول آٰف تھرڈ بھی کہا جاتا ہے۔ بہت سارے سمارٹ فون کیمروں میں بیک گراونڈ بلر یعنی مدھم کرنے کا آپشن بھا ہوتا ہے۔ 
اس کا صحیح استعمال آپ کی تصویر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے لیکن یاد رہے ہر پکچر کا بیک گراونڈ بلر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کیمرے کو ایک ہی زاویہ پر رکھنے کے بجائے مختلف زاویوں سے تصویربنانے کی کوشش کیجیے۔ ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر فوٹو بنانے سے تصاویر توجہ نہیں کھینچ پاتیں۔ اکثر فوٹوگرافی کرنے والے لوگ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مزید اگر آپ انسانوں کے علاوہ کسی منظر کا فوٹو لے رہے ہیں تو اسے HDR موڈ میں بنائیے۔ اس سے تصویر زیادہ واضح اور دلکش آئے گی۔ مزید کوشش کیجیے کہ سمارٹ فون سے تصویر لیتے ہوئے آپ کے ہاتھ ساکت ہوں۔ اگر آپ کے ہاتھ لرزتے ہیں یا جگہ متوازن نہ ہو تو سمارٹ فون ٹرائی پوڈ کا استعمال لازمی کیجیے تاکہ فوٹو مکمل واضح آئے خصوصا رات کے وقت فوٹوگرافی کے لیے۔
ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ کہ آپ کے ذہن میں موبیو گرافی کے لیے کوئی تھیم ہونا چاہیے۔ قدرتی مناظر ہوں یا بازار کی عکاسی یا چہرے، اگر آپ کے پاس کوئی تھیم نہ ہو تو فوٹوبے مقصد اور غیر دلچسپ ملیں گے اور وقت بھی ضائع ہوگا۔ آخرمیں اینڈروئیڈ یا آئی فون کے لیے دستیاب کوئی فوٹو ایڈیٹنگ ایپ لازمی انسٹال کیجیے تاکہ لیے گئے فوٹو کو مزید بہتر اور دلچسپ بنایا جا سکے۔ اس کے لیے بہت سی ایپس موجود ہیں مگر سنیپ سیڈ اور ایڈوب لائٹ روم نہایت بہترین فوٹوایڈیٹنگ ایپس ہیں جنہیں باآسانی استعمال میں لا کر موبیو گرافی کو مزید جدت بخشی جا سکتی ہے۔

Tuesday, April 9, 2019

قلم کا قرض

 زہرا تنویر 

ہم ترقی کی جتنی بھی منازل طے کر لیں لیکن اپنی پہلی درس گاہ اور وہ لوگ کبھی نہیں بھول سکتے جو آپ کو چلنا سکھاتے ہیں۔ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے فن و صلاحیتوں کا اظہار احسن طریقے سے کرے اور اس کے لیے کسی اچھے ادارے کا انتخاب کرے۔ آغاز میں قدم ڈگمگاتے بھی ہیں اور کچھ تجربہ ناکافی ہونے کی بدولت ٹھیک رستے کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ معاشرہ کوئی بھی ہو رنگ، نسل و علاقائی فرق بھی ہو تو لکھاری کی پہچان اس کا قلم ہوتا ہے۔ لکھاری کے الفاظ اس کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں لیکن بعض اوقات مثبت و تعمیری سوچ کے حامل لوگوں کو اپنی ایک خاص جگہ و مقام بنانے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔
مشکل وقت میں درپیش حالات و واقعات انسان کو مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں کافی مددگار ہوتے ہیں کیونکہ میرے نزدیک ”وہ انسان جہالت کے اعلی درجے پر فائز ہے جو مشکل وقت سے سبق حاصل نہ کرے“۔ بات ہو رہی تھی لکھاری کے الفاظ کی۔ تو ہر لکھنے والے کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ایک اچھا پلیٹ فارم ملے، جہاں وہ اپنے الفاظ کی روشنائی سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ حالاںکہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کتابی باتیں ہیں اور یہ باتیں کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، حقیقت سے ان کا کوئی لین دین نہیں۔ شاید یہ بات اپنی جگہ درست ہو لیکن ہم سب کو ایک کٹہرے میں ہرگز کھڑا نہیں کر سکتے۔ 
لکھنے والے کی طاقت اس کی قلم کی آواز ہوتی ہے اور معاشرتی، سیاسی، مذہبی و معاشی مسائل پر لکھنے والوں کے الفاظ کو جب حقیقت سے دور باتیں کہہ کر رد کیا جاتا ہے تو صاحب عاقلان پر افسوس و حیرت ہے جو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی خاطر طنز و تضحیک کا رستہ اپناتا ہے۔ میرے قلمی سفر کا آغاز کالج میگزین سے چلتا ہوا 2016 میں رائٹرز کلب تک آیا۔ تو سیکھنے کو وہ سب کچھ ملا جو ایک معیاری لکھنے والوں کے لیے ازحد ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ دس لائن سے ایک کالم لکھنے تک کا سفر رائٹرز کلب کی بدولت طے کیا تو ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے ہاں نئے لکھنے والوں کے لیے رہنمائی کرنے والے لوگوں کی بہت کمی ہے۔ اگر ہمارے گروپ کے ایڈمن عارف جتوئی صاحب نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی، نامی گرامی اخبارات و رسائل میں تحریر چھپنے تک رسائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تو اس کے پیچھے ان کا کوئی ذاتی مفاد تو شامل نہیں۔ بلکہ ایک سوچ، ایک عزم، ایک خواب اور ایک مقصد ہے۔ 
سوچ، عزم، خواب اور مقصد ایک ساتھ ہوں تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ رائٹرز کلب ایک گروپ نہیں بلکہ ایک تعمیری و عملی پلیٹ فارم کا نام ہے جہاں معیار کو اولین فوقیت دی جاتی ہے اور لکھنے کی ہر صنف (کالم، مضمون، مراسلہ، افسانہ، ناول) کے متعلق لیکچرز و ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ چند لوگوں کے گروپ سے شروع ہونے والا سفر اب سب اخبارات میں ایک ممتاز حیثیت و مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ سوشل ویب سائیٹ اور اردو و انگریزی ای میگزین کا کامیابی سے آغاز کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سالنامہ کتاب جو نئے لکھنے والوں کی تحاریر پر مبنی ہے اشاعت ہو چکی ہے جو رائٹرز کلب کے بانی و منتظم کی محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے۔ کتاب ”قلم کا قرض“ میں آپ کو ہر صنف کی تحریر پڑھنے کو ملے گی جو نوجوان لکھاریوں کے پرخلوص اور سچائی پر مبنی الفاظ پر مشتمل ہیں۔ سقراط کہتا ہے کہ ”وہ گھر جس میں کتابیں نہیں اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو“۔ کتابیں پڑھیں اور اپنی روح کو تسکین پہنچائیں اور کبھی اپنے فن کا سودا نہ کریں آپ کا قلم آپ کی پہچان ہے اپنی پہچان حق کہنے والوں کی صف میں بنائیں۔ باطل کو بے نقاب کریں کیونکہ ہمارا قلم ہی ہمارا ہتھیار ہے اور اس کو صرف حق بیانی کے لیے استعمال کریں۔ اگر آپ کو اچھا رہنما مل گیا ہے اور آپ اس قابل ہو چکے ہیں کہ دوسروں کی رہنمائی کریں تو پیچھے مت ہٹیں۔ دیے سے دیا جلتا رہے۔
پھر شعور و آگہی کے ہم کریں روشن چراغ
پھر جہاں میں فکر و فن کی رہ گزر پیدا کریں

دور حاضر کا حجاب، پردہ یا فیشن

 طوبی صدیقی

 سب سے پہلے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم حجاب کیوں کرتے ہیں اس کا کیا مقصد ہے؟ کیا فوائد ہیں؟ ہر کام کو کرنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے کسی بھی کام کے کرنے سے پہلے انسان اپنی فکر کو حرکت دیتا ہے آیا وہ یہ کام کر رہا ہے تو کیوں کر رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے۔ یہ کیا اور کیوں کے جوابات ہی انسان کو کسی بھی کام کا مقصد فراہم کرتے ہیں۔ انسان کسی بھی کام کا مقصد طے کر لیتا ہے تو وہ کام کرنا آسان ہوجاتا ہے کیوں کہ جس کام کے پیچھے کوئی مقصد کار فرما نہ ہو انسان اس سے جلد یا بدیر اکتا جاتا ہے یا پھر اس کام سے نفع بخش برآمد نہیں ہوتا۔ 
حجاب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں پردہ، ڈھانپنا، چھپانا وغیرہ۔ حجاب کی صورت میں اللہ نے عورت کو ظاہری پاکیزگی کے ساتھ باطنی بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بھی نسخہ عطا فرمایا ہے۔ حجاب یا پردہ عورت اپنی حفاظت کے لیے کرتی ہے۔ اپنے آپ کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لیے، اپنی زیب و زینت چھپانے کے لیے کرتی ہے اس کے علاوہ حجاب حصول تقوی کا ذریعہ بھی ہے۔ جب ایک عورت خود کو پردے میں چھپا کر رکھتی ہے تو وہ نہ صرف خود گناہ سے اور اپنی جانب آنے والے فتنوں سے محفوظ رہتی ہے بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی بدنگاہی سے بچاتی ہے۔ جب کہ ایک بے پردہ عورت خود بھی گناہ گارہوتی ہے اور اپنے ساتھ دیگر کئی لوگوں کو بھی بد نگاہی کرنے کا موقع دے کر گناہ گار کرتی ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعا لیٰ نے مختلف سورتوں میں عورتوں کے لیے حجاب کرنے کا حکم د یا ہے۔ سورہ نور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ”مسلمان عورتوں سے کہوکہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظا ہرنہ کر یں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گر یبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سا منے ظا ہر نہ کریں“۔ سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے، ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی بیویوں اور صا حبزادیوں سے اور مسلما نوں کی عورتوں سے کہہ دوکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستا ئی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس حکم ربانی کے آگے کوئی دلیل معنی نہیں رکھتی، یہاں آکر ہر حجت تمام ہوجاتی اور ہر بحث بے کار ہوجاتی ہے لیکن آج کل کے دور میںبکثرت دیکھا جاسکتا ہے کہ پردہ یا حجاب کوخواتین نے رنگا رنگ اور جالی داراسکارف کے ذریعے فیشن بنا لیا ہے تو کہیں فٹنگ کے عبایا کے ذریعے اپنی زینت ظاہر کرتی نظر آ تی ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان خود عورت ذات کو ہی پہنچ رہا ہے عورتوں کو بری نظر سے بچانے کے لیے پردہ کا حکم دیا گیا ہے جبکہ آج کا پردہ عورت کو مزید لوگوں کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔دیدہ زیب اور مختلف رنگوں کے عبائے حجاب کا مقصد پورا کرنے کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کا باعث بن رہے ہیں 

پردہ کرنا سر پر خوبصورتی کے ساتھ اسکارف لینا نہیں ہے۔ پردہ ایسا ہو جس میں عورت کا چہرہ، بال اور جسم چھپ سکے نہ کہ مزید نمایاں ہوں۔فیشن زدہ حجاب کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں خود یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایسا کام نہ کریں جو دین اٍسلام اور احکام الہیہ کے خلاف ہو۔اصلاح کا آغاز انسان کو ہمیشہ اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے سے بے حیائی، بے راہ ری اور زنا جیسے گناہ عظیم کا خاتمہ ہوجائے تو ہمیں احکام الہیہ کو اپنی زندگی میں اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔