The NTS News: شہزادہ محمد بن سلمان
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected
Showing posts with label شہزادہ محمد بن سلمان. Show all posts
Showing posts with label شہزادہ محمد بن سلمان. Show all posts

Saturday, February 16, 2019

وزیراعظم عمران خان کا ویژن پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کرنا ہے،درحقیقت شہزادہ محمد بن سلمان کے خیالات بھی انہی اقدار پر مبنی ہیں

اسلام آباد ۔ 16 فروری (این ٹی ایس نیوز) اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کیا جائے جس کی بنیاد رواداری کی اقدار پر استوار ہو، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں جو اقتصادی روابط اور اسلامی اخوت کے رشتوں میں بندھے ہیں، پاکستان میں مرحوم سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیزاور ان کے شاہی خاندان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا  ہے جس کا ثبوت اسلام آباد میں واقع شاہ فیصل مسجد ہے جو دونوں برادر اسلامی ممالک کے مضبوط رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سعودی ٹی وی چینل الاخباریہ کوخصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔وزیراطلاعات نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید وسعت وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دوروں سے ملی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات عشروں پر محیط ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ سعودی حکومت کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ایشیا کے دورے کا آغاز بھی پاکستان سے کررہے ہیں، پاکستان سعودی عرب کا تہہ دل سے شکرگزار ہے کہ اس نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو تذویراتی شراکت داری میں بدل دیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب کے موقف کی خاص طو رپر مشرق وسطیٰ، خطے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے پاک سعودی میڈیا تعلقات پر اثرات کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا حقیقت حال کی عکاسی کرتا ہے اگر صورت حال مثبت ہے تو میڈیا مثبت تاثر دے گا اوراگر منفی ہو تو منفی تاثر ہی دے گا، جیسا کہ ابھی دیکھا جارہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں مثبت صورتحال ہے تو دونوں ملکوں میں مثبت صورتحال کی عکاسی ہو رہی ہے،پاکستان میں دہشت گردی اور دھماکوں سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ ہم جرات مندی کے ساتھ مقابلہ کرنے والی قوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اس بات کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان میڈیا تعاون کو مضبوط کیا جائے اور یہی صورتحال سعودی عرب اور پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہم پاکستان میں سعودی وزارت اطلاعات کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور سعودی شہریوں کے لئے ہم نے ویزہ کی مخصوص سہولتیں فراہم کی ہیں تاکہ سعودی شہریوں کو پاکستان آنے میں مشکلات نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے شمار سیاحتی مقامات ہیں جن کو دیکھ کر اکثر لوگ سوئٹزرلینڈ کو بھی بھول جاتے ہیں۔ پاکستان میں دنیا کی بلند ترین برفانی چوٹیاں ، سمندر اور قدرتی مناظر موجود ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عرب ممالک کے لوگ اور خاص طور پر سعودی شہری یورپ جانے کی بجائے سیرو سیاحت کے لئے پاکستان کا رخ کریں، سیاحت کے فروغ سے ہمارے تعلقات میں مزید استحکام آئے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان مزید تفاہم اور ہم آھنگی پیدا ہوگی۔ وزیر اطلاعات نے کہا سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر اس سلسلے میں ایک جامع مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے اور اس حوالے سے ہم نے ایک مشترکہ کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ پاکستانی اور سعودی وزارت اطلاعات کے درمیان تعاون اور رابطوں کے بارے میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ دونوں ممالک کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے اور ہر مرحلے میں خاص چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔ ماضی میں اسلحے کی جنگوں کی دوڑ کا چیلنج تھا لیکن اب ویژن کا چیلنج درپیش ہے لیکن پاکستان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن پر عملدرآمد کرکے ان چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں اور اس بات کو پاکستان اور سعودی عرب کے عوام بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کی تائید اور حمایت کرتے ہیں اور ہم سعودی وزارت اطلاعات کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہے ہیں تاکہ اسلامی رواداری کو فروغ دیا جائے۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک ریاست بنایا جائے جس کی بنیاد رواداری کی اقدار پر استوار ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رواداری ، اسلامی اخوت ، غریبوں کی دادرسی اور انصاف پر مبنی پر معاشرے کی بنیاد ڈالی تھی جوحیٰ علی الفلاح کی بنیاد پر قائم تھی، درحقیقت شہزادہ محمد بن سلمان کے خیالات بھی انہی اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہی خیالات نئے معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں اور اسی بنیاد پر شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنا 2030ء کا ویژن قائم کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی فلسفہ صرف سعودی عرب کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ سعودی عرب عالم اسلام کی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھر رہا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل اپنا یا جائے گا۔ 

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شخصیت کے پوشیدہ گوشے، شاہ سلمان کی تیسری اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے، قانون کی ڈگری حاصل کی

واٹر سکینگ پسند،مہنگی اور نادر اشیاء کی خریداری کے شوقین،تمباکو نوشی اور رات گئے باہر گھومنے سے گریز کرتے ہیں،جاپان شہزادہ محمد کا پسندیدہ ملک

اسلام آباد (این ٹی ایس نیوز) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی تیسری اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے زندگی کا زیادہ وقت والد کے زیر سایہ گزارا ہے۔امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ 2015 کے ایک مضمون میں شہزادہ محمد بن سلمان کی زندگی کے بارے میں تفصیلات دی گئی تھیں۔جس کے مطابق سعودی ولی عہد کے پاس قانون کی ڈگری ہے جو انہوں نے ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے حاصل کی جبکہ وہ اپنے والد کے لیے کئی طرح کے مشیروں کے کردار ادا کرچکے ہیں۔انہیں واٹر سپورٹس جیسے ‘واٹر سکینگ’ پسند ہیں جبکہ آئی فونز اور ایپل کی دیگر ڈیوائسز کو استعمال کرتے ہیں، اسی طرح جاپان ان کا پسندیدہ ملک ہے جہاں وہ اپنے ہنی مون پر بھی گئے۔نیویارک ٹائمز کو سعودی شاہی خاندان کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا ‘محمد بن سلمان کو ہمیشہ اپنے عوامی کردار کے بارے میں فکر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تمباکو نوشی اور رات گئے باہر گھومنے سے گریز کرتے ہیں تاہم انہیں مہنگی اشیا کی خریداری کرنا پسند ہے اور برطانوی روزنامے ‘انڈپینڈنٹ’ کی 2016 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنوبی فرانس میں تعطیلات مناتے ہوئے ایک روسی تاجر کی کشتی کو پسند کر لیا اور پھر اسے 50 کروڑ یورو (اب کے 78 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خرید بھی لیا۔ خریداری کا معاہدہ چند گھنٹوں میں طے پاگیا تھا۔اسی طرح نومبر 2017ء میں معروف مصور لیونارڈو ڈاونچی کی ایک نایاب پینٹنگ کو ایک گمنام شخص نے 45 کروڑ ڈالرز (48 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خریدا تھا اور اس طرح یہ فن مصوری کا سب سے مہنگا شہ پارہ قرار پایا تھا۔اگلے ماہ یعنی دسمبر 2017 میں انکشاف ہوا کہ اس پینٹنگ کو خریدنے والا کوئی اور نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔دسمبر 2017 میں ابوظبہی میں قائم میوزیم ‘لوورے’ نے اعلان کیا تھا کہ اس پینٹنگ کو وہاں رکھا جائے گا۔اسی طرح دسمبر 2017ء میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد نے فرانس میں موجود ایک قلعے کو 30 کروڑ ڈالر سے زائد (33 ارب پاکستانی روپے) میں خریدا۔پیرس کے قریب واقع یہ گھر 56 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا اور اس کا ڈیزائن17 ویں صدی کے محلات سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا۔اس سے ہٹ کر سعودی ولی عہد اپنے ملک کو تیل سے ہٹ کر بھی معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے 2016 ء میں طویل المعیاد اقتصادی منصوبے ویژن 2030ء کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل سے ختم کرنا ہے۔اس منصوبے کے تحت 2017ء میں انہوں نے 500 ارب ڈالرز کا شہر نوم بحیرہ احمر کے کنارے تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔وہ سعودی خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بھی روح رواں قرار دیئے جاتے ہیں، جبکہ ایسی ہی کافی اصلاحات پر کام جاری ہے۔33 سالہ شہزادے کو سعودی عرب کی فوج، خارجہ پالیسی، معیشت اور روز مرہ کی مذہبی اور ثقافتی زندگی پر اثر و رسوخ حاصل ہے، سعودی ولی عہد کو ہی اسلامی مملکت میں 2017ء میں کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کا روح رواں سمجھا جاتا ہے جس کے دوران خزانے میں 100 ارب ڈالرز سے زائد جمع ہوئے۔