The NTS News: روبینہ عبد القدیر
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected
Showing posts with label روبینہ عبد القدیر. Show all posts
Showing posts with label روبینہ عبد القدیر. Show all posts

Friday, May 10, 2019

گندی عادت

روبینہ عبد القدیر

اسماعیل ایک اچھا بچہ تھا وہ بہت ذہین اور محنتی تھا۔ اسکول میں ہمیشہ اس کی پوزیشن آتی اور مدرسے میں بھی روزانہ استاد سے شاباشی ملتی۔ لیکن اب کچھ دنوں سے اسماعیل میں ایک گندی عادت دیکھی جا رہی تھی۔ وہ ہر وقت ناک میں انگلی ڈالے رکھتا، جیسے ہی فارغ بیٹھتا اس کا یہی مشغلہ ہوتا تھا۔اسماعیل کی اس عادت سے اسے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اس کے آس پاس کے لوگوں کو بہت گھن آتی اور گھن آنی بھی چاہیے اب کوئی آپ کے پاس بیٹھ کر ناک کی صفائی کرنے لگ جائے تو آپ کا دل کرے گا اس سے بات کرنے کو؟ اسماعیل کی امی جان اسے بہت منع کرتیں اور سمجھاتی لیکن اب ناک میں انگلی ڈالنا اس کی پکی عادت بنتی جا رہی تھی۔ امی کے سامنے آنے پر وہ یہ گندی حرکت چھوڑ دیتا لیکن اب ہر وقت امی جان اس کے پاس تو نہیں ہوتی تھیں۔ اسماعیل کی اس عادت کی وجہ سے اس کا گہرا دوست عثمان بھی اب اس سے دور رہنے لگا تھا۔ اسے بہت برا لگتا کہ اسماعیل کھانے کے دوران بھی ناک میں انگلی ڈالتا ہے لیکن وہ ناراضگی کے ڈر سے اسماعیل کو کچھ نہ بولتا لیکن رفتہ رفتہ اس نے اسماعیل سے ملنا چھوڑ ہی دیا۔
عثمان کے دور رہنے کو اسماعیل نے محسوس کیا اس کا اپنے پیارے دوست کے بغیر دل نہیں لگتا تھا۔ وہ عثمان سے ملنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو وہ اٹھ کر چلا جاتا۔ اب اسماعیل سے سب ایسے ہی پیش آنے لگے۔ اسکول میں اس کے سب دوستوں نے ایک پارٹی رکھی تھی۔ مزے مزے کے کھانے اور رنگ برنگے غبارے پھلا کے بہت مزا آتا لیکن اسماعیل کو کسی نے پارٹی میں شریک نہیں کیا۔ اسماعیل کو بہت دکھ ہوا وہ گراونڈ میں بیٹھ کر رو رہا تھا۔ ان کے اسلامیات کے سر نے اسے روتا دیکھ کر پاس بلایا اور پیار سے رونے کی وجہ پوچھی۔ ”سر مجھے کوئی اپنے ساتھ نہیں کھلاتا نہ کوئی میرے ساتھ کھیلتا ہے۔ آج پارٹی میں بھی کسی نے مجھے شریک نہیں کیا“، اسماعیل نے روتے ہوئے بتایا۔سر اسے ساتھ لے کر جماعت میں داخل ہوئے۔ سب بچے سر کو دیکھ کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ سر نے بچوں سے پوچھا کہ آپ اسماعیل کے ساتھ کیوں نہیں کھیلتے؟ ”سر یہ گندا بچہ ہے یہ ہروقت ناک میں انگلی ڈالتا ہے“، احمد نے کھڑے ہو کر بتایا۔ پوری کلاس کے بچے کھی کھی کھی کرکے ہنسنے لگے۔
سر نے سب کو ہنسنے سے منع کیا اور سمجھانے لگے ”دیکھو بچویہ آپ لوگوں کا دوست ہے سب بچے مل کر کھیلتے ہیں اگر اسماعیل ناک میں انگلی ڈالتا ہے تو اسے آپ سب مل کر سمجھاتے آپ لوگوں نے اس سے دوستی ختم کر کے اسے دکھ پہنچایا گناہ تو آپکو بھی ملے گا نا۔ سب بچوں کے سر اثبات میں ہلے اور اسماعیل بیٹا آپ ناک میں انگلی کیوں ڈالتے ہیں؟ یہ بہت گندی عادت ہے۔ ہر نماز سے پہلے وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنی چاہیے۔ اگر آپ دن میں پانچ وقت وضو کرتے وقت اچھی طرح ناک کی صفائی کریں گے تو ان شاءاللہ آپ کو ناک میں انگلی ڈالنے کی عادت ہی نہیں پڑے گی۔ سر کی بات سب بچوں کی سمجھ میں آگئی تھی اور اسماعیل کو اچھی طرح سبق ملنے کے بعد اس گندی عادت کو چھوڑنے میں بالکل وقت نہیں لگا۔

Tuesday, March 26, 2019

کیا حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

روبینہ عبد القدیر

حجاب یا پردہ عورت کی زینت ہے۔حیا ہر انسان کی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے۔اس جدید اور فتنہ کے دور میں حجاب کو اس قدر مشکل بنایا جا رہا ہے اورپردے کو عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔یہاں تک کے کئی ممالک میں حجاب پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔آزادی نسواں کی علم بردار تنظیمیں تو اس قدر حدود پار کر رہی ہیں کہ چند لبرل اور معذرت کے ساتھ بے حیائی کو فروغ دیتی خواتین کو ”میرا جسم،میری مرضی“ اور اس جیسے دوسرے فحش پوسٹرز تھما کر سڑکوں پہ لا کھڑا کر رہی ہیں۔لیکن جنہوں نے پردہ اور حجاب کرنا ہوتا ہے وہ کسی چیز کو اپنی عزت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتیں۔
اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں سورہ نور کی آیت نمبر 31 میں ارشاد فرمایا ہے، ”مسلمان عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیںاور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں“۔ قرآن پاک میں اللہ سبحان تعالٰی کے اس حکم کے بعد کسی اگر مگر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس معاشرے میں پردہ کرنے والی لڑکی کو بے انتہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جو لڑکی حجاب میں نوکری بھی کر رہی ہو اسے ترقی کرتا دیکھ کر اس کی راہ میں حجاب کو ہی آڑ بنا کر اسے پیچھے کر دیا جاتا ہے اور جو لڑکی حجاب کے بغیر سج سنور کے آفس جاتی ہو اسے ترقی اور مختلف مراعات بغیر کسی قابلیت کے فراہم کی جاتی ہیںکیوں کے وہ آفس کے مردوں کا دل لبھاتی ہے ان کی تفریح کا باعث بنتی ہے۔ اب بیٹھے بٹھائے تفریح ملے تو اسے کون ہاتھ سے جانے دیتا ہے؟
حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے 
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک اسکول میں جاب شروع کی۔ اسکول میرے گھر کے بالکل قریب تھا اس کے باوجود میں حجاب میں ہی پڑھانے جاتی تھی۔ میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ میں باقی ساتھی ٹیچرز کی طرح بن ٹھن کے جاوں۔ یہاں اپنی تعریف کرنا میرا مقصد ہر گز نہیں ہے بلکہ اصل بات جو میں ذکر کرنا چاہتی ہوں کہ سب مجھے تنقید کا نشانہ بنایا کرتے۔میں جس کے ساتھ بیٹھ جاتی مجھ سے پہلا سوال یہی پوچھا جاتا ”تم اتنی گرمی میں برقع اتار کیوں نہیں دیتی؟“ اسکول میں کون سا مرد ہیں جو تم ان سے پردہ کرو؟ (اسکول پرائمری تک تھا) خیر میری سہہیلیاں بھی مجھے مجبور کیا کرتیں کہ میں حجاب اتار دوں بقول ان کے کہ مجھے گرمی میں برقع پہنے دیکھ کر انہیں بھی گرمی لگنے لگتی ہے۔
اکثر یہ بات کہا کرتیں کہ شاید میں اچھے کپڑے نہیں پہن کر آتی جب ہی برقع اوڑھ کے رہتی ہوں۔میں ان سب کی باتیں نظر انداز کیا کرتی رفتہ رفتہ وہ بے چاریاں بھی بول بول کے تھک ہی گئیں۔ ان کی تنقید اور ایسے طنزیہ جملے سن کے کئی دفعہ میرا ارادہ کمزور پڑ جاتا اور میں کہتی کہ حجاب اتار ہی دوں اور ان کی طرح میک اپ کی دکان چہرے پر سجا کے چست لباس پہن کے بچوں کو پڑھاوں۔ مگر آج کے بچے بھی بڑوں سے دس ہاتھ آگے ہیں۔بچے پڑھنے سے زیادہ ٹیچرکے حسن سے متاثر ہوتے ہیں۔ الحمد للہ میں نے جتنا عرصہ وہاں پڑھایا حجاب کا دامن نہیں چھوڑا۔ شاید دنیا کی چند روز کی گرمی برداشت کرنے کے بدلے اللہ مجھے آخرت کی جلا دینے والی گرمی سے محفوظ رکھے۔جو خواتین حجاب کرتیں ہیں لیکن انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ان کی ترقی کے راستے حجاب نے روک رکھے ہیں وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں اور حجاب کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ اللہ ان کی مدد کرے گا۔حجاب ہماری آبرو کی حفاظت کرتا ہے اور جن خواتین کو لگتا ہے کہ حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے وہ دوسری خواتین کو بھی راغب کریں۔حجاب اوڑھ کر ان لبرل عورتوں کو جواب دیں کہ ”جسم بھی اللہ کا دیا ہواورمرضی بھی اللہ کی“۔