The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Tuesday, February 28, 2017

Heavy shelling on LoC, Afghan border

 
A tit-for-tat response from the Pakistani security forces silenced the enemy guns. The Inter Services Public Relations (ISPR) said two girls and two women were injured by the unprovoked Indian firing on a civilian house in the Khoi Ratta area along the Line of Control (LoC) in Azad Kashmir.
“The injured women were evacuated by the army to a nearby hospital,” the statement said. Pakistan and India had declared ceasefire along the LoC and working boundary in 2003. The Pakistan Army soldier was injured when terrorists opened fire from across the border in Mangrotai, South Waziristan Agency (SWA).
According to the military media wing, the injured soldier was evacuated by a copter to a medical facility in Wana. Meanwhile, the Afghan Foreign Office on Sunday summoned Pakistan’s Ambassador Syed Abrar Hussain and complained that due to the closing of the Pak-Afghan border people were facing difficulties.
The Afghan officials charged that Pakistan was shelling across the border.  Setting the record straight, the Pakistani ambassador told the Afghan officials that the Pakistani posts were being attacked and the army was only retaliating.
He said Pakistan wanted peace in Afghanistan and had initiated Operation Raddul Fasaad. “To ensure peace, closing the border was imperative,” he said. On Feb 24, the Pakistan Army conducted targeted strikes across the Afghan border, killing two high-profile terrorists affiliated with the terrorist outfit Jamaat-ul-Ahrar.
Those killed included Wajihullah alias Ahrar, who was sponsored by a hostile intelligence agency for terrorist activities in Pakistan, security sources said.  He was the mastermind of the recent suicide attack in Lahore and earlier incidents in Punjab.
Earlier, Pakistan was hit by five terrorist attacks in a week. In the wake of terrorist attacks, the Pakistan-Afghan border was shut down and an operation was initiated to eliminate terrorism.


کراچی گلستان جوہر بلاک 5چشتی نگر میں لگنے والی آگ

سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا چھوڑ دیا

جس خاتون نے بھی یہ تحریر لکھی ہے کمال لکھا ہے۔
"مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا"
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے "رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں"
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے. غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا.
مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے لیے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے.
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے. اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ "تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے "
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے.
مجھے اچھا لگتا ہے جب  وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے.
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان پر تارے گنتے ہوئے وہ مجھے ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے.
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مظبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے.
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے "ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ "تم صرف میری ہو"
لیکن افسوس ہم سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں.
شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کر دیا ہے.
جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے. تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے.

Monday, February 27, 2017

کیا آپ جانتے ہیں !


 پاکستان دنیا کا واحد ملک ھے جسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ھے جو کہ 3600 کلو میٹر طویل ھے اور بدقسمتی سے پاکستان ھی دنیا کا واحد ملک ھے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ھے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں- آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!

پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ھے جو انڈین جنگی حکمت عملی ھے جسکے لئے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ھو چکی ہیں - یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ھے اور اس ڈاکٹرائین کے لئے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لئے سڑکوں ، پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رھے ہیں- اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ھے وہ تیزی سے داخل ھوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ھوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ھوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ھے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ھوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رھی ھے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ھوگا کہ پاکستان آرمی کی "عظم نو " مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رھا ھے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رھی ھے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ھمارے خلاف ھے- انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ھماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ھے کیونکہ باقی امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ھے ۔۔۔۔۔۔!!

امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی پاکستان کے خلاف جنگی حکمت عملی ھے جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ھے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ھے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ھے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ھے اور اب تک ھم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ھونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ھے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لئے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ھے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ھے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ھنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لئے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ھونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ھے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ھونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ھے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ھیں اور اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ھے !!

فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ھے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ھے- مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ھے ، صوبائیت کو ھوا دے جاتی ھے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ھیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ھے ۔۔۔۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ھے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ھے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رھا ھے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ھو چکی ھے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ھیں- باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے- آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لئے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائینگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ھے ۔۔۔!!

یہ واحد جنگ ھوتی ھے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی، آرمی اس صلاحیت سے محروم ھوتی ھے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ھے نہ سول حکومتوں کی اور نہ ھی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ھے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ھوتی ھے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ھیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ھر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ھوگا۔۔۔!!
اس حملے کا سادہ جواب یہی ھے کہ عوام ھر اس چیز کو رد کر دیں جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ھو" ۔
حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم  تمام محب وطن پاکستانیوں سے استدعا ھے کہ ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ھرفرد اپنے اور ملک دشمن عناصر کو پہچان سکے ۔   
                    Please Stand with Pakistan Army to Save Pakistan...Contribute to Share this Msg with Others...

ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور


اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
'' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ''
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ''
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ''
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ''
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ''
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ''
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر.

Sunday, February 26, 2017

Architect got idea while looking out of a New York skyscraper

Saturday, February 25, 2017

پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی


تفسیر روح البیان میں ایک قصہ منقول ہے کہ شہر بخارا میں ایک جیولر کی مشہور دکان تھی اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس جیولر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہوت سے دبایا اور چلاگیا عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران جیولر کهانا کها نے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا پوچھنے پر صورتحال کی خبر ہوئی تو جیولر کی آنکھوں میں آنسو آگئے بیوی نے پوچھا کیا ہوا جیولر نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہوت کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تها لہذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دباکر چکادیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا
البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے جیولر کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا
عجیب بات ہے کہ جیولر نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی. (تفسیر روح البیان)
ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکهو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے بتاؤ شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکهتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا کسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو نے لگی تو راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگا یا بوسہ لیا اور بهاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹها اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا.
سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے.
( تفسیر روح المعاني )
ہمیں مندرجہ بالا واقعات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہمارا اولادیں چکاتی پھریں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتیں پاکدامن بن کر رہیں اسے چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے بے طمع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں کہ ہمارے خاوند نیکو کاری کی زندگی گذاریں بے حیائی والے کاموں کو چھوڑ دیں انہیں چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر اٹها نا بهی چھوڑ دیں تا کہ "پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی" کی صورت میں مل جائے
رہ گئی بات کہ اگر کسی نے پہلے یہ کبیرہ گناہ کیا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کو منائیں تاکہ دنیا میں قصاص سے بچ جائیں اور آخرت میں ذلت و رسوائی سے چھٹکارا پائیں.
........................................................اسے اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے دوسروں تک پہنچائیں اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس کبیرہ گناہ سے محفوظ رکھے
( آمين یارب العالمین )

Tuesday, February 21, 2017

Plane carrying five people crashes into Australian shopping mall

 
SYDNEY: A small plane carrying five people crashed into a shopping center near an airport outside Melbourne, Australia's second-largest city, on Tuesday and officials said an unknown number of people may have been killed.
"It appears to be a very, very tragic accident that's occurred out here ... that's potentially caused fatalities," Victoria state police minister Lisa Neville told Sky News.
The network broadcast pictures showing smoke billowing from the shopping mall near Essen don airport, a small airfield close to Melbourne, and firefighters hosing down the burning wreckage.
Neville said five people were on board the plane, which was a charter flight to King Island in Bass Strait between the Australian mainland and the southern island state of Tasmania.
Police said the plane crashed just before 9 am (2300 GMT Monday), about an hour before the Direct Factory Outlet shopping mall was due to open.
"At this stage we do not have information regarding possible casualties," Victoria state police said in a statement.
Essen don Airport is a small airfield mainly used by light planes. A spokeswoman for Air services Australia said flights in and out of Melbourne's main airport were not affected.


Monday, February 20, 2017

Pakistan moves artillery to border with Afghanistan (پاکستان نے افغان سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کر کے بھاری توپ خانہ پہنچا دیا)

 
RAWALPINDI:  The security forces have moved heavy artillery and other military equipment closer to Afghanistan’s border to counter terrorists that pose a serious threat to Pakistan.
Pak Army on Monday also tightened security at Pak-Afghan border to strictly monitor terrorists’ movement.
Earlier today, Pakistan Air Force (PAF) jets killed dozens of militants in a series of airstrikes in a tribal region along the Afghan border.
A statement from the military confirmed that the attacks targeted militant hideouts in the Wuhan Bibi area of North Waziristan.
The army has been battling TTP militants in North Waziristan since mid-2014. That campaign has been stepped up after a series of suicide bombings last week killed more than 100 people -- including 88 worshippers at a Sufi shrine.
Pak Army said it had information that terrorists from across the border were behind Thursday’s suicide bombing at the Lal Shahbaz Qalandar Sufi shrine in southern Sindh. Hours after the bombing, Pakistani security forces launched a nationwide operation killing more than 100 terrorists.
The army on Friday had summoned Afghan diplomats and handed them a list of 76 militants who, they say, were supporting terror activities in Pakistan.
The Pakistan army reportedly targeted a training camp of Jamaat-ul-Ahrar — the banned terror group which had claimed responsibility for the February 13 suicide bombing on Mall Road in Lahore and another suicide attack on the headquarters of the Mohmand Agency’s political administration on February 15. Some reports said several militants, including the deputy commander of Jamaat-ul-Ahrar, Adil Bacha, were killed in the strikes.


پاکستان نے افغان سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کر کے بھاری توپ خانہ پہنچا دیا
راولپنڈی :سانحہ لاہور اور سہون کے بعد دہشت گردوں کی سرحد پار سے آمد و رفت روکنے کے لئے پاک فوج نے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر کے بھاری توپ خانہ بھی سرحد پر پہنچا دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک میں جاری حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر جہاں ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں وہیں چند دنوں میں ہونے والے دھماکوں کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے شواہد کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے مؤثر نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور پاک فوج کی جانب سے بھاری توپ خانہ بھی سرحد پر پہنچا دیا گیا ہے، سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد ورفت کی مؤثر نگرانی کے لئے بھاری آرٹلری بھیج کر سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پہلے لاہور اور پھر سہون میں لعل شہباز قلندر پر ہونے والے خود کش حملے کے تانے بانے افغانستان سے جا ملنے کے شواہد کے بعد ملک بھر میں کومبنگ آپریشن بھی تیز کر دیا گیا ہے جبکہ پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں کالعدم تنظیم جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔


مریخ پر پہلے اسلامی ملک کی جانب سے شہر بنانے کا منصوبہ

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے ’’مارس 2117‘‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ 100 سال میں مریخ پر پہلا انسانی شہر آباد کیا جائے گا۔
اگرچہ مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے حوالے سے یہ کوئی پہلا منصوبہ ہرگز نہیں لیکن یہ پہلا موقع ضرور ہے جب کسی مسلم ملک کی جانب سے اس طرح کا کوئی اعلان سامنے آیا ہے ورنہ اب تک اس معاملے میں امریکی، روسی، چینی، بھارتی اور یورپی اداروں اور افراد کے نام ہی سامنے آتے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی 2014 میں قائم کی گئی تھی اور اپنے ابتدائی 2 سال ہی میں خلائی تحقیق کے مختلف منصوبے پیش کرچکی ہے تاہم ’’مارس 2117‘‘ اس کا اب تک کا سب سے بڑا، طویل مدتی اور ممکنہ طور پر سب سے مہنگا منصوبہ ہے۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مریخ پر خودکار کھوجی (پروبز) بھیجے جائیں گے جب کہ دوسرے ملکوں کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مریخ پر انسانی شہر کے لیے موزوں ترین مقام کا تعین کیا جائے گا۔ اس بارے میں ریاست ابوظہبی کے فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے صدر، شیخ خلیفہ بن زائد النہیان کا کہنا تھا کہ مریخی کھوجی، خلائی تحقیق کے عہد میں اسلامی دنیا کی آمد کے نمائندہ ہوں گے۔ ’’مارس 2117‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے دوسرے ممالک سے بھرپور مشاورت اور رہنمائی حاصل کی جائے گی۔
فی الحال متحدہ عرب امارات کی نوزائیدہ خلائی ایجنسی کے پاس ایسی مقامی افرادی قوت موجود نہیں جو اتنے بڑے منصوبے کی ذمہ داریاں پوری کرسکے اس لیے قوی امکان ہے کہ اسے کم از کم آئندہ 50 سال تک غیرملکی ماہرین کی خدمات درکار ہوں گی جب کہ اسی دوران مقامی سطح پر تربیتی اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے ایسے مقامی افراد تیار کرنا ہوں گے جو ’’مارس 2117‘‘ کے علاوہ اس نوعیت کے کسی بھی دوسرے بڑے خلائی منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کرواسکیں۔
علاوہ ازیں اس وقت صرف مریخ تک پہنچنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ وہاں انسانی بستیاں بسانا بہت دور کی بات ہے کیونکہ یہ ایک ایسی منزل ہے جو آج تک دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی پہنچ سے بھی بہت دور ہے۔

اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اپنے مجوزہ مریخی شہر کی خیالی تصاویر اور اینی میٹڈ ویڈیوز ضرور جاری کردی ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس منصوبے کو کس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور مرحلہ وار پیش رفت کے ساتھ کیسے بروقت مکمل کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

All electric trains in the Netherlands now run on wind energy

 
The Netherlands has been harnessing the power of the wind to drain bodies of water, saw timber and to produce oil for centuries. Now, the country is also using it to run all its electric trains. The Dutch railways network (NS) started using wind energy generated by the turbines owned by electric company Enesco two years ago when they signed a ten-year agreement. They planned to power all of the country's electric trains with wind-generated energy by 2018, but they're clearly a shining example of Dutch efficiency and reached their goal a year earlier than planned.
According to Bright vibes, the country's electric trains shuttle 600,000 people to their destinations in around 5,500 train trips per day. Those trips use up 1.2 billion kWh of energy per year, which can power all households in Amsterdam for the same time period. At this point in time, it takes an hour for a wind turbine to generate enough power to run a train for 120 miles. However, NS is looking for ways to lower their machines' consumption by 35 percent before 2020, so they can go farther for smaller amounts of energy.