The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Saturday, July 13, 2019

ارطغرل غازی مجاہد اسلام

 ملک سعادت نعمان

مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔ میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔ 
سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔ اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

میں صحافی ہوں!

عارف رمضان جتوئی

حقیقت سے پرے مصنوعی سماجی شہر (سوشل میڈیا) کی دیوار پر لکھا تھا ”نامعلوم مسلح ڈاکوشہری کو لوٹ کر نامعلوم سمت میں فرار ہوگئے“۔ تفصیلات میں شہری بھی نامعلوم رہا اور ذرائع بھی نامعلوم رہے۔ جس کے بعد خبر کچھ یوں بن گئی ”نامعلوم مسلح ڈاکو نامعلوم شہری سے نامعلوم رقم لوٹ کر نامعلوم سمت فرار ہوگئے“۔ ایک اور خبر اسی دیوار کے نیچے پھر دیکھی ”۔۔۔ لڑکی کو اس کے بچے کے سامنے قتل کردیا گیا“۔ پھر کچھ روز بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو ایک اور خبر کی سرخی چسپاں تھی ”15برس کے بچے کی لاش برآمد“۔
مصنوعی سماجی شہر تھا اس لیے سوچا اس پر کیا بات کرنی، میں واپس دھول مٹی والے اپنے حقیقی شہر میں لوٹ آیا۔ نظریں نیچی رکھنے کی تاکید کے باوجود دل کے بالغ رویوں سے مجبور ادھر ادھر تاڑتے ہوئے سڑک کنارے لگے اسٹال پر منہ لٹکے اخبار کی ایک سرخ دکھائی دی۔ مہان اخبار کے عظیم سب ایڈیٹر نے بڑی مہارت سے سرخی جمائی ہوئی تھی۔ ”دفاعی بجٹ سے متعلق فوج کے ”سپاہ سالار“ کا بڑا اعلان“۔ سرخی پڑھ کر پہلی بارنظریں نیچی رکھنے والی تاکید پر سختی سے عمل کرنے کا احساس جاگا۔ اگر میں خود اخبار سے منسلک نہ ہوتا تو شاید مجھے اس وقت سرخی پر ندامت نہ ہورہی ہوتی۔ یہ تو میرے اپنے ہی پیٹی بھائی کی قائدانہ صلاحیتیوں کا ثمر تھا۔ 
پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید میں غلطی پر ہوں، دراصل حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ندامت کی جگہ میرا سینہ چوڑا ہوگیا۔ سب ایڈیٹر کو سلام پیش کرنے کو دل چاہا۔ موصوف کی ماہرانہ صلاحیتیں مجھ پر آشکارہ ہوچکی تھیں۔ ”سپاہ سالار کا اعلان اس قدر بڑا تھا کہ انہیں ایک بار فوج لکھنا کم لگا، فوج اور سپاہ سے اعلان میں وزن بڑھ گیا“۔ اتنی سی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سربراہ پاک فوج کا بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اقدام قابل تحسین ہے۔ یہاں تو ہم اپنے سب ایڈیٹر کی ماہرانہ صلاحیتوں پر دکھی ہوئے بیٹھے ہیں۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ 
مجھے مصنوعی سماجی شہر کی دیواروں پر لکھی سرخیوں پر اعتراض ہرگز نہیں تھا۔ کل ملا کر بات اتنی تھی کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔ جب گلی محلے میں ہر شخص صحافت کی اپنی برانچ کھول لے گا تو تھوک کے بہاﺅ رپورٹر مل ہی جائیں گے۔ اسی تعداد میں سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر بھی دستیاب ہوں گے۔ ایسے میں بچے کے سامنے قتل ہوتی ماں لڑکی ہی دکھائی دے گی، نامعلوم سے نامعلوم تک کا یہ سفر ایسے طے ہوجائے گا کہ سڑک سے پرنٹنگ تک سب کچھ نامعلوم ہی رہے۔ اخبار کے ادارے کو سیکورٹی کے نام پر رپورٹر چار روپے زیادہ دے کر آئے تو اسے اپنے جوان لڑکے کی طرح ہر 15برس کا لڑکا معصوم بچہ ہی لگتا ہے۔ میرے جیسے جمعہ جمعہ 8 دن والے صحافی اخبار کی فیلڈ میں بھرے پڑے ہیں۔ جب ایسا ہو تو پھر سرخیاں ”گرمی کے ستائے شہری ساحل سمندر کے کنارے نکل آئے“ ہی ملتی ہیں۔ ورنہ تو سمندر کا کنارہ اور ساحل کچھ الگ نہیں ہیں۔ 
علی احمد ساگر کی تحریر میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ایک صحا فی تانگے پر سفر کر رہا تھا جب وہ اپنی منزل پر پہنچا اور”کوچوان“ نے کرا یہ مانگا تو صحافی نے اپنا پریس کارڈ نکال کرپیش کردیا اور ساتھ ہی کہا کہ ”میں تو رپوٹر ہوں“۔ ”کوچوان“ نے اپنے گلے میں لٹکا کارڈ نکالا اور پیش کرتے ہوئے ”تم صرف رپورٹر ہو میں تو بیورو چیف ہوں“۔ 
یہ واقعہ فرضی بھی ہوسکتا ہے مگر حقیقتیں بھی کئی گھوم رہی ہیں۔ اس سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ پہلی بات تو یہ کو کوچوان بیوروچیف بن بیٹھا یا پھر بیور و چیف مشکل حالات سے تنگ آکر کوچوان بھی بن گیا۔ جو بھی ہے دونوں صورتوں میں نقصان تو صحافت ہی کا ہورہا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جن کا پیشہ کچھ اور ہے (اس اور میں بہت کچھ ہے) مگر وہ عظیم صحافی بنے ہوئے ہیں چونکہ وہ ادارے کو کما کر دے سکتے ہیں تو اچھے صحافی بن چکے ہیں۔ 
موجودہ حالات نے بھی صحافت میں مجھ جیسے ایسے کئی صحافی اور ایڈیٹر پیدا کیے ہیں جن کی حیثیت خود ایڈیٹر، سب ایڈیٹر یا انچارج کے چپراسی جیسی ہے۔ مالکان پیسے دیتے نہیں، ایڈیٹر کو مجبورا انچارج کو لمبی رخصت پر بھیجنا پڑتا ہے۔ ایڈیٹر کے جاتے ہی اس کرسی پر سب ایڈیٹر تشریف فرما ہوتا ہے۔ پیج انچارج کے جاتے ہی پیج میکر اور کمپوزر انچارج بن جاتا ہے۔ ادارہ بڑی رقم سے بچ جاتا ہے اور یوں صحافت میں میرے جیسے نااہل فرد کو نمایاں جگہ مل جاتی ہے۔ بعد ازاں متعلقہ جگہ اور اس کی حیثیت کا جو حشر ہوتا ہے وہ مذکورہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ یہ تو معمولی غلطیاں ہیں یہاں ایسی بے شمار غلطیاں اور بھی ہوتی ہیں جن کو ذکرکرتے صحافت بیچاری شرما جائے۔ حواس باختہ کی جگہ حیا باختہ چلا جائے تو یقینا منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈنی پڑے مگر کبھی اس نوعیت کی غلطی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سنجیدگی کے لیے بھی تو اہل دل ہونا چاہیے ہے۔
آخر میں میرے عزیز صحافی دوستو! 
یہ پیشہ عظیم ہے اس کی تعظیم کیجیے۔ یہ اتنی بڑی ذمے داری ہمارے کمزور کندھوں پر ہے تو اس کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کیجیے۔ مانا نااہل ہیں مگر کیا ہوا اب سنبھالنا بھی تو ہم ہی کو ہے۔ ادارہ نہیں پوچھتا نہ پوچھے مگر صحافتی رویوں کا خیال رکھنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ جس غلطی کو ہونا ہے وہ تو ہوگی چاہیے کتنے ہی پروف ریڈر بٹھا لیے جائیں مگر ایسی غلطی نہ ہو جس سے اپنی نااہلی کا پردہ فاش ہو۔ کوشش کر کے ان باتوں پر دھیان دیجیے کہ لفظ خود بہت کچھ بولتے ہیں۔ مانا ماں کے پیٹ سے سب سیکھ کر نہیں آتے مگر لکھنے سے پہلے پڑھنے کا رجحان بڑھانا ہوگا۔ جو سمجھ میں نہیں آرہا وہ پوچھ لینے میں حرج نہیں، بجائے اس کے کہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بنے۔ 
میں اپنے استاد کی ڈانٹ سے بہت ڈرتا ہوں مگر جانتا ہوں ان کابتایا ہوا ان کے نہیں میرے کام کا ہے۔ آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص موجود ہوگا جس سے آپ یہ سب وصول کرسکتے ہیں۔ اپنی صحافت کو معیاری بنائیں۔ غلطی ہونا اور جان بوجھ کر غلطی کرنے میں فرق ہے اور وہ فرق آپ خود ختم کرسکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ چیزیں دے رہا ہوں۔ یہ میرے اپنے لیے ہیں کہ شاید میں خود ان کو سمجھ سکوں۔ آپ بھی لازمی ان باتوں کو اپنائیں۔ یہ اطہر ہاشمی کے کالم ”خبر لیجیے زبان بگڑی“ سے پیش کیے جارہے ہیں۔ 
سب سے زیادہ رائج غلطی ”سوااور علاوہ“ کے استعمال میں کی جا رہی ہے ۔ دونوں الفاظ کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے الٹ ہے۔ اگرچہ ”سوا“ کے بجائے ”علاوہ“ کا لفظ استعمال کرنے سے بعض اوقات کام چل جاتا ہے لیکن اصل میں یہ غلط ہوتا ہے۔ مثلاً اس جملے کو دیکھئے ”اسلام کے علاوہ دیگر تمام نظام کفر و شرک کی دعوت دیتے ہیں“۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام بھی کفروشرک کی دعوت دیتا ہے۔ صحیح عبارت یوں ہونی چاہیے تھی ”اسلام کے سوا دیگر تمام نظام کفرو شرک کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ میں سب شامل ہیں، سوا میں اسثتنا ہو جاتا ہے۔
ارسال اور روانہ کی غلطی۔ اکثر سنا ہوگا خط روانہ کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارسال کا لفظ کسی غیرمتحرک یا بے جان چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح اور روانہ کا لفظ جاندار یا متحرک چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح ہے۔ مثلاً خط ارسال کیا جاتا ہے جبکہ قاصد روانہ کیا جاتا ہے۔
لفظ ”عوام“ کا بطور مونث استعمال کرنادرست نہیں ہے۔ ”عوام بولتی نہیں“ یا ”عوام فیصلہ کرے گی“۔ لفظ عوام کو مذکر کے طور پر جمع کے صیغے میں استعمال کرنا صحیح ہے۔
افشا بھی عام غلطی ہے۔ ”راز افشاں ہوگئے“۔ افشا اور افشاں میں فرق ہے۔ درست لفظ افشا ہے، الف بالکسر کے ساتھ۔
ت اور ط کے استعمال میں بھی غلطی ہوتی ہے۔ ”وتیرہ“ کو وطیرہ لکھا جاتا ہے۔ یہ عام غلطی بن چکی ہے۔ اسی طرح سے ”ناتا“ کو ”ناطہ“ لکھنا بھی غلط ہے۔ وتیرہ اگرچہ عربی کا لفظ ہے مگر پھر بھی ”ت“ کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ”ناتا“ ہندی کا لفظ ہے اور ہندی میں ”ط“ کا استعمال نہیں ہے۔ 
بیزار آنا بھی لکھا جاتا ہے۔ بیزار فارسی کا لفظ ہے اور اس کو ہونا چاہیے۔ یعنی بیزار ہونا لکھا جانا چاہیے۔ اسی طرح ”لاپروائی یا بے پروا“ اس کو بھی غلط لکھ کر آخر میں ”ہ“ لگا دیا جاتا ہے۔ یعنی پرواہ لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ایسے کئی الفاظ ہیں جنہیں صحافی اور قلم کار حضرات و خواتین بے دھڑک لکھے جارہے ہیں۔ لکھیے ضرور مگر پڑھیے بھی اور اچھا پڑھیے تاکہ اچھا لکھ سکیں۔
یہ میرا دکھڑا تو تھا اپنے جیسے پرنٹ میڈیا کے نااہلوں کا، ایک بڑی روشن دنیا بھی ہے جسے الیکٹرونک دنیا کہا جاتا ہے۔ وہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ بولنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بڑے لوگ بڑی باتیں مجھ جیسا ناکارہ بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔ حیدر علی آتش صاحب کا شعر سنانے کو دل مچل رہا ہے۔ یہ تو ویسے سنارہا ہوں اپنے دل ناداں سے مجبور ہوکر، کوئی دل آگاہ اس پر دل گرفتہ ہرگز نہ ہو، وہ کہتے ہیں کہ 
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا۔۔۔!ٍ
اب ایک پرانہ واقعہ بھی سن لیجیے۔ جس زمانے میں اردو اخبارات میں خبریں انگریزی آتی تھیں اور سب ایڈیٹرز ترجمہ کرتے تھے۔ ایک خبر یوں شائع ہوئی، ”12سال کی بوڑھی لڑکی حادثے کا شکار ہوگئی“۔ نیوز ایڈیٹر نے پوچھا کہ یہ کیا لکھا ہے۔ تو انگریزی کی خبر دکھا دی جس میں صاف لکھا تھا، 
”Twenty years old girl“

اب ہم نے تو Old کا ترجمہ بوڑھی یا بوڑھا ہی پڑھا تھا۔

نسل نو تباہی کے دہانے پر

 شافعہ افضل

انسان اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور باصلاحیت ہے۔ اس کو اللّٰہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لیے عطا کیا کیونکہ یہ سوچ سمجھ سکتا ہے اور اپنے اور دوسروں کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ کر سکتا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کسی بھی حالت میں وہ کام نہ کریں جو ہمارے اور ہم سے وابستہ لوگوں کے لیے باعثِ آزار اور نقصان دہ ہو کیوں کہ اس سے معاشرے اور ماحول پر برا اثر پڑتا ہے اور نئی نسل بھی ان ہی باتوں کی تقلید کرتی ہے جو ہم کر رہے ہوتے ہیں۔ 
سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ہماری نئی نسل کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے اور ہم جانتے بوجھتے ہوئے انھیں تباہ ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں بھی سوشل میڈیا کے کثرتِ استعمال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ وہ خود سے سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہے بلکہ وہ وہی سوچ، سمجھ اور کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا انھیں سکھا رہا ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں پروان ہی نہیں چڑھ پا رہیں کیوں کہ ان کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔ آج کے دور میں اگر آپ کسی بچّے سے کہیں کہ وہ کسی موضوع پر کچھ لکھے یا تصویر بنائے تو وہ اپنی تخلیقی اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے گوگل سے مدد لینے کو ترجیع دے گا۔ وہ ذہن جو انتہائی زرخیز اور باصلاحیت ہیں انہیں استعمال میں نہ لانے کی وجہ سے وہ کمزور اور بے کار ہوتے جا رہے ہیں۔ 
جسمانی طور پر بچے اس لیے کمزور ہیں کے وہ اس طرح کھیلتے، کودتے اور ورزش نہیں کرتے جیسے پہلے کے دور کے بچّے کرتے تھے۔ آج کے دور کے بچّے اپنا بیشتر وقت موبائل، ٹی وی اور کمپیوٹر پر صرف کرتے ہیں۔ ایک ہی جگہ گھنٹوں بیٹھے بیٹھے وقت گزار دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا آپس میں وہ تعلق نہیں بن پاتا ہے جو پہلے کے دور کے بچّوں کا ہوا کرتا تھا۔ پہلے کے دور میں مائیں سوتے وقت یا کھانا کھاتے وقت بچّوں کو سبق آموز کہانیاں یا بزرگانِ دین کے واقعات سنایا کرتی تھیں جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے تھے۔ آج کے دور کی مائیں ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر اپنے فراض سے بری الذّمہ ہو جاتی ہیں۔ آپس میں تعلق نہ ہونے کی وجہ سے بچّوں میں برداشت اور تحمّل بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ انھیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مختلف لوگوں اور مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے۔ اسی لیے آج کے دور کے بچّے آگے بھی مضبوط رشتے قائم نہیں کر پاتے۔ تعلقات کو نبھا نہیں پاتے۔ طلاق اور علحیدگی کی شرع میں اضافے کی بھی یہی وجوہات ہیں۔ 
سوشل میڈیا کے اثرات اس قدر دیرپا اور شدید ہیں کہ بچّوں کی زندگیاں تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔ پہلے کے دور میں جس عمر میں بچّے بے فکری کی زندگی گزارتے تھے اور گھریلو معاملات اور سیاستوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا اب وہ ہر معاملے اور مسئلے میں شامل ہوتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ان کی سوچ پختہ اور ذہن الجھ جاتے ہیں۔ وہ ذہنی تناو ¿ کا شکار رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ بچّوں سے ان کی معصومیت اور بچپن چھن گیا ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ نامناسب باتیں دیکھنے اور سیکھنے کی وجہ سے ان کے رویّوں، سوچ اور اعمال میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کی وجہ سے معاشرے میں برائیاں اور جرائم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کم عمر بچّے وہ باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں جن کے بارے میں پہلے کے دور کے بڑے بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔ خاندانی وقار، رکھ رکھاو اور تہذیب کے محض نام باقی رہ گئے ہیں حقیقت میں یہ اب کہیں نہیں ملتیں۔ 
ہم معاشرتی طور پر جس تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں اس کو روکنا ہمارے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنے اصل اور اپنے دین کی طرف واپس لوٹیں اور اپنے بچّوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں۔ جب ہم خود کو تبدیل کریں گے تب ہی اپنی نئی نسل کو تبدیل کر پائیں گے اور ان کی بہتر تربیت کر سکیں گے ورنہ ہمیں مکمل برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 

جاب

 سارہ عمر 

”تم جاب کیوں نہیں کرتی؟ گھر کیوں بیٹھی ہو؟ جب پتا بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں“، بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ ”آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے“، سادگی سے جواب آیا تھا۔ ”پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لیے ہی کر لو جاب“، دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔”ان شاءاللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک۔ دعا تو کرتے ہیں“، اس نے متانت سے جواب دیا۔ ”دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں!“ بڑی بی جوش سے بولیں۔ آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ ”جی بالکل! امید تو کبھی نہیں چھوڑی“، وہ اب بھی دھیما سا بولی۔ ”جب پتا ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے۔ کیا حرج ہے بھلا؟“ نصیحت کی پٹاری میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔”اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چار دیواری کو چھوڑ دے“، اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”دیکھو!تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں!“۔ ”آنٹی عورت کے گھر سے نکلے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے“، اس نے پھر سے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ ”تمھیں بھلا اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟جب گھر میں بیٹھ کے چولہا ہانڈی ہی کرنی تھی؟“ بڑی بی جلال میں آ گئیں تھیں۔”آنٹی یہ چولہا ہانڈی تو عورت کا مقدر ہے بھلا جو گھر سے باہر نکلتی ہے سارا دن کھپ کے آتی ہے کیا وہ چولہا ہانڈی نہیں کرتی؟“ وہ لاجواب ہوئیں تھیں۔ ”بھئی تمھیں تو سمجھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ بس آج کل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عقل ہی نہیں۔ دھوپ میں بال سفید کیے ہیں“، بڑی بی نے اپنا شٹل کاک برقع سر پہ رکھ کر باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
”آنٹی!“، اس نے پکارا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”میری امی کی جاب نے ہم سے ماں کی ممتا چھین لی اور میری جاب نے مجھ سے والدین کی خدمت کا وقت چھین لیا“۔ ”کیا مطلب“، وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگیں۔”جی جب میں چھوٹی تھی تب سے بڑے ہونے تک میری امی گورنمنٹ جاب کرتیں رہیں۔ ساری زندگی دوسروں کے بچوں کو پڑھا پڑھا کے ڈاکٹر انجینئر بنواتی رہیں مگر اپنے بچوں کے لیے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ اسکول میں بچوں کے ساتھ دماغ کھپا کر آتیں تو گھر آ کر ہانڈی روٹی میاں، بچوں، ساس، سسر کے کام۔ ایک چھٹی لوگوں کے آنے جانے ملنے ملانے یا کپڑے دھونے میں نکل جاتی۔ جب میں بڑی ہوئی تو پاس کے پرائیویٹ اسکول میں نوکری مل گئی۔
جو وقت میں نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی تھی وہ سارا وقت میں نے جاب کو دے دیا۔ بچوں کو پڑھا پڑھا کے گھر آو تب بھی آدھا کام گھر لاو ¿۔ کبھی کوئی چارٹ بنانا ہے، کبھی کاپیاں چیک کرنی ہیں، کبھی رجسٹر مکمل کرنے ہیں تو کبھی کچھ اور کام۔ آج شادی ہو کر سسرال آئی ہوں تب بھی میاں اور ساس سسر کو چھوڑ کے کام پہ نکل جاوں؟ تاکہ میرے سر پہ گھر اور باہر کی دھری ذمہ داری پڑ جائے۔ بتائیے کے کیا میرا رویہ غلط ہے کہ صحیح ہے؟“اس نے آنسووں کی جھڑی میں بات مکمل کی اور بڑی بی کو دیکھا۔ انہوں نے خاموشی سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ ”ہاں بیٹی تو سچ کہتی ہے اصل نوکری تو یہی ہے، اپنا گھر اور بچے“۔

اندھیرا


ساحر مرزا

احسان بیٹا! میں نے کولر تیار کردیا ہے اور برف بھی ڈال دی ہے۔ کھانا کھالو اور شاباش شام سے پہلے پہلے قلفیاں بیچ آنا۔ سفینہ آپا نے اپنے بھائی کو آواز دے کر کہا۔ احسان کی عمر فقط بارہ سال تھی اور گھر کی ذمے داریوں نے اس سے اس کا بچپن، شرارتیں سب چھین لیا تھا۔ دن بھر موٹر سائیکلوں کی دُکان پر معمولی مزدوری کے بعد وہ شام ڈھلے کھانا کھاکر پھر سے معاش کی گاڑی دھکیلنے کو قلفیاں بیچنے نکل جاتا تھا۔ بڑی بہن قلفیاں بنا دیا کرتی تھیں اور وہ جاکر بیچ آیا کرتا تھا۔ زندگی کی گاڑی رفتہ رفتہ گھِسٹ رہی تھی۔
گرمیوں کے آخری ایام چل رہے تھے، ابھی فضا میں تپش کا احساس باقی تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ کر وہ کولر اُٹھائے گھر سے نکل آیا۔ سبک قدموں سے چلتا وہ بڑی سڑک کی جانب چل پڑا۔ رنگا رنگ قمقموں سے بھرے بڑے بڑے شادی ہالز کی قطار جوکہ بڑی سڑک کے ساتھ واقع تھے اس کے ذہن پر سوار تھے۔ ٹھنڈی میٹھی کھوئے والی قلفی! باریک سی آواز میں صدا لگاتا اب وہ بڑی سڑک پر چلنے لگا۔ رکشے، کاریں اور گاڑیوں کا جم غفیر تھا جو سڑک پر رواں دواں تھا۔ ٹھنڈی میٹھی کھوئے والی قلفی!
ایک بڑی شادی ہال کے ایک طرف کھڑا اب وہ صدا لگائے جارہا تھا۔ آنکھوں میں اُمید لیے وہ مہمانوں کے رزق برق لباس اور چمچماتی گاڑیاں دیکھ رہا تھا۔ مگر بازو میں کولر اسے صدا لگائے رکھنا یاد دِلاتا رہتا۔ کچھ وقت گزرے عشاءکی اذان سنائی دی۔ اس نے کولر کھول کر دیکھا سب قلفیاں اسی طرح اندر موجود تھیں۔ آج پھر بہت دیر ہوجائے گی گھر جاتے، اس نے سوچا اور نماز کے لیے قریب کی مسجد کی جانب چل دیا۔ ماں کہتی تھی، ”رب کے سامنے سجدے میں سر رکھ دو تو وہ ہر مشکل میں ہمیں تھام لیتا ہے“۔ 
کولر مسجد کے ساتھ کریانے کی دکان پر پکڑا کر وہ مسجد میں داخل ہوا۔ دروازہ کھلتے ہی اے سی کی خنک ہوا نے باہر کے معتدل سے موسم کو بھی بہت گرم محسوس کروایا۔ مسجد میں ٹائیلوں سے مزین وضو خانے سے وضو کرکے نرم قالین پر سجدہ ریز اس کے ذہن میں گھر کے آنگن میں اکھڑی ہوئی اینٹوں اور مٹی سے بھرے آنگن کا تصور اُبھرا۔ نماز پڑھ کر وہ باہر آیا تو لگا جیسے باہر آگ جل رہی ہو جبکہ درجہ حرارت بالکل اعتدال پر تھا، یہ ستمبر کا آخری ہفتہ ہے۔ ہوا میں خشکی اور تپش دم توڑ چکی تھی۔ مگر اے سی کی خنکی سے اس کا موازنہ اس کا ذہن بلاوجہ کررہا تھا۔ ٹھنڈی میٹھی کھوئے والی قلفی! اس نے مسجد کے دائیں جانب کھڑے بڑے سے شادی ہال کے سامنے رُکتی گاڑیاں دیکھ کر مہمانوں کی آمد پر صدا کرتا ان کی جانب لپکا۔ 
مگر ڈھول کے شور اور بھنگڑے ڈالتے نوجوانوں کے غل و غوغا میں اس کی صدا دب گئی۔ مہمان شادی ہال میں چلے گئے۔ اس کا دل بجھ سا گیا۔ دوسری جانب کے شادی ہال سے بارات اب واپس جانے کو نکلی۔ وہ تیزی سے سڑک پار کرکے اس طرف لپکا۔ ٹھنڈی، میٹھی کھوئے والی قلفی! سانس پھول جانے سے اس کے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر عجب بے بسی لیے ادا ہورہے تھے۔ وہ مہمانوں کا باہر نکلتا دیکھ کر دروازے کی جانب بے اختیار بڑھنے لگا۔ 
”ابے بھکاری کی اولاد، ایک طرف ہوجا۔ کہاں گھس رہا ہے، چل“، پیچھے سے ایک شخص اس کا بازو پکڑ کر سختی سے اسے فٹ پاتھ کی طرف دھکیلا۔ ٹائی سوٹ پہنے اس شخص کے ہاتھ میں بڑا سا کیمرہ تھا۔ احسان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اس کے لیے صدا لگانا مشکل ہوتا گیا۔ یہ پہلی بار نہ تھا، اکثر ہی وہ اس روےے کا نشانہ بنتا تھا مگر کبھی کبھار اس کی ہمت جواب دے جاتی تو وہ ایک طرف بیٹھ کر رونے لگتا۔ وہ سست قدموں سے دل گرفتی سے ایک جانب چل دیا، شادی ہال سے ایک طرف فٹ پاتھ پر بیٹھ کر وہ آنسو پینے لگا۔ اسے اپنا بستہ، اسکول، پرانے گھر میں دالان کے پھول، باپ کا شفقت بھرا انداز، سب ماضی کے مناظر یاد آنے لگے۔ 
احسان کے والد ایک فیکٹری میں ملازم تھے، معمولی تنخواہ تھی، مگر گھر میں ضروریات مکمل تھیں۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دھنک رنگ سی تصویر بناتی تھیں۔ اب وہ تصویر چار سال میں صدیوں پرانی لگنے لگی تھی، وہ ماضی میں کھویا فٹ پاتھ پر کولر سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ ایک ہڑبونگ سی مچ گئی۔ شادی ہال سے سڑک پر جاتی لمبی چمچماتی گاڑی میں سے کسی امیر زادے نے نوٹوں کی گڈی کھول کر ہوا میں اُچھال دی، نوٹ ہوا میں تیرتے سڑک پر گاڑیوں کے سیل رواں میں گرنے لگے۔ بھکاریوں اور دوسرے ارد گرد کھڑے نوجوانوں کا ایک ٹولہ سڑک کی جانب شور کرتا ایک دوسرے کو کھینچتا نوٹوں پر جھپٹا۔ وہ بے اختیار کولر کو بازو پر لٹکائے کھڑا ہوا ۔ رفتار سے گزرتی گاڑیوں میں سڑک پر سے نوٹ اکھٹے کرتے دوسروں کو دیکھ کر اس کا دل مسوس کر رہ گیا۔ 
”بیٹا! جو تیرے نصیب کا رزق ہے تجھے ملے گا، کبھی لالچ مت کرنا“، ماں کی نحیف آواز اس کے لاشعور میں گونجی۔ ”احسان! کبھی اپنی حفاظت سے غافل مت ہونا، جان ہے تو جہان ہے۔ بیٹا تم ہمارا واحد سہارا ہو“ سفینہ آپا کی نصیحت اسے یاد آنے لگی۔ وہ سڑک پر نظریں گاڑے سوچ رہا تھا، اکثر اس کا دل اور دماغ اس طرح اُلجھ جایا کرتا تھا، مگر جیت ہمیشہ اس کے دماغ سے لپٹی ذمے داری کی ہوا کرتی تھی۔ آج تو ایک قلفی بھی نہیں بکی، کل دوپہر کے کھانے کے پیسے کون دے گا۔ اس کے دل میں اِک خیال اُبھرا۔ ماں کا بیمار چہرہ اور اس کی دواوں کی پرچی اسے یاد آئی۔

اسی لمحے شادی ہال سے ایک گاڑی نکلی اور اس کے پیچھے چلتے ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص نے نوٹوں کی گڈی گاڑی کی سمت سڑک پر اُچھال دی۔ یک لخت اس کے قدم سڑک کی جانب لپکے۔ نیچے گرتے ایک نوٹ پر جھپٹتے اس تیز روشنی نظر آئی، ایک زور دار ضرب نے اسے کولر سمیت دور اُچھال دیا۔ نوٹ اس کی گرفت میں نہ آسکا۔ تاریکی میں ڈوبتی آنکھوں میں سرخی گھلنے لگی۔ سفینہ آپا کا چہرہ اس سرخی میں آخری جھلک کی طرح اُبھرا اور پھر یک لخت اندھیرا چھاگیا۔

ردِ زرد صحافت و حامد میر

انشال راﺅ

صحافت کا شعبہ اپنے عروج پر ہے، دور جدید میں نئی اور زبردست تبدیلیوں سے آہنگ ہو چکا ہے۔ اب پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی عوام کی ترجمانی کررہا ہے۔ صحافت کو ریاست کے ستون کا درجہ حاصل ہے۔ صحافی معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہوتا ہے لیکن موجودہ دور میں صحافت کا میدان ایک دوسرے پر بازی لے جانے اور حصول دولت کا ذریعہ بن گیا ہے۔
صحافت بطور جنگی ہتھیار کے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ماضی میں اخبارات کی طباعت کے لیے لیتھو پریس مستعمل تھا، جس کا رواج اب نایاب ہے۔ لیتھو پریس میں زرد روشنائی مستعمل تھی مگر زرد صحافت کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ آج زرد روشنائی کا استعمال تو نایاب ہے لیکن زرد صحافت عروج پر ہے۔ اس پس منظر میں حامد میر کی جاری کردہ ویڈیو سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں جو برسوں سے جاری ریاست و ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں کا ہی تسلسل ہے۔ 
حامد میر کوئی عام آدمی نہیں ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات ایک سند کا کام کرتی ہے۔ حالیہ جاری کردہ وڈیو میں حامد میر صاحب نے نہ صرف الزامات کا سہارا لیا بلکہ ملک وریاستی اداروں کے خلاف عزائم کو تقویت بخشنے کی کوشش کی ہے۔ پہلا نشانہ صحافی شعبے کو بنایا کے میڈیا ان کا مو ¿قف عوام تک نہیں پہنچائے گا ثانیاً ریاست پاکستان پر الزام لگایا کہ ادارے جھوٹے الزام میں گرفتاریاں کر رہے ہیں انہیں بھی کریں گے۔ ثالثاً اپنے بیانیے کا دفاع کیا کہ وہ ملٹری آپریشن کے خلاف ہے۔ مزید بنگلہ دیش پر بھارتی پروپیگنڈے کو درست قرار دیا جس پر وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے کام کرتے آرہے ہیں۔ یقیناً مقصد عوام میں فوج مخالف جذبات پیدا کرنا ہیں کیونکہ اچانک سے 2005 کے بعد مسلسل مشرقی پا کستان سے زبردستی کی ہمدردی جاگ جانا اور مسلسل افواج پا کستان کو نشانے پر رکھنا تو یہی بات ہو گئی جس پر شاعر نے کہا ”کوئی معشوق ہے اس پررہِ نگاری میں“۔
حامد میر صاحب اور کچھ دیگر افراد بیانیہ چلاتے آرہے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں ناانصافیاں ہوئیںمگر یہ کبھی نہیں بتایا کہ کیا ناانصافیاں ہوئیں۔ ناانصافی ایک مطلق لفظ ہیں اس سے مراد کچھ بھی لیا جا سکتا ہے لہذا یہ ذکر کبھی نہیں کیا کہ کیا ناانصافیاں ہوئیں! جب کہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ پاکستان کا دوسرا گورنر جنرل بنگالی تھا دوسرا وزیراعظم بھی بنگالی تھا۔ اس کے علاوہ محمد علی لوگرہ حسین شہید سہر وردی نورالامین وزیراعظم رہے یہ سب بنگالی تھے۔ کابینہ میں بنگالی اہم عہدوں پر فائز رہے حقائق کے برعکس یہ ڈھنگ رچانا کہ فوج نے بنگالیوں کو جائزہ نمائندگی نہیں دی۔ 
دشمن بھارت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈہ ہے جسے پاکستان میں زبردستی سرایت کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے میرصاحب اپنے والد کی روش پہ چلتے ہوئے متعدد بار جنرل نیازی کا مذاق اڑاتے نظر آئے کہ وہ گورنر کے سامنے روئے اور اسے بزدلی سے تعبیر کیا لیکن حقیقت کیا ہے خدا ہی جانتا ہے۔ اگر عقلی بنیاد پہ دیکھا جائے تو یہ رونا دشمن کی کامیاب سازش پہ بھی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن ہوگیا کیونکہ روئے تو حضرت علیؓبھی تھے جب مسلمان لشکر آمنے سامنے آئے۔ دوسری بات یہ کہ گورنر صاحب کا تو یہ حال تھا کہ استثنیٰ دے کر ریڈ کراس کیمپ میں پناہ لے چکے تھے جب کہ یہ سوال کبھی نہیں اٹھایا کہ بھٹو صاحب نے جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت تاخیر سے کرکے نجانے دشمن کی آرزو کیوں پوری کی۔ ملٹری آپریشن پہ تو اعتراض ہے مگر یہ دانستہ چھپا لیتے ہیں کہ آپریشن کی نوبت کیوں پیش آئی؟ 
اس ضمن میں صدیق سالک اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”جیسور شہر میں باغیوں نے تمام غیربنگالیوں کو قتل کردیا، چٹاگانگ میں میجرضیاءالرحمان جو انتہائی متعصب بنگالی تھا ایسٹ بنگال رجمنٹ کے باغیوں کی قیادت کرتے ہوے شہر کو غیربنگالیوں کے لیے مذبحہ خانہ بنادیا۔ بارہ ہزار سے زائد افراد کو چٹاگانگ میں قتل کردیا آس پاس کے دیہاتوں کو انسانوں سمیت جلادیا گیا۔ عوامی لیگ کے دفتروں میں غیربنگالیوں کو لے جاکر تشدد کرکے قتل کردیا جاتا۔ سرنجوں کے ذریعے جسم سے خون نچوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیے جاتے۔ شیر خوار بچوں تک کو نہ بخشا گیا۔ جودھے پور میں مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے تمام غیربنگالیوں کو قتل کردیا۔ پورے بنگال میں غیربنگالیوں کے لیے زمین تنگ کردی گئی۔ انسانی لاشوں کی بہتات اتنی ہوگئی کہ مردہ خور جانور کھانے سے عاجز آگئے۔ مقتولوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی تھی قتل و غارت روکنے کے لیے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے جواباً پاک فوج کو آپریشن کرنا پڑا۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت بھارت نے جنگ شروع کردی اور وارث میر جیسے لوگ پاک فوج ہی کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے جس خدمت کے عوض حسینہ واجد جیسی متعصب نے اسے ایوارڈ سے نوازا۔ 
باپ کے بعد بیٹا بھی اسی روش پہ قائم ہے بلوچستان کے بلوچوں کو اکسانے کے لیے بنگلہ دیش کی جھوٹی من گھڑت داستانیں سنا کر باغیانہ جذبات اور نفرتوں کو ہوا دینے کی کوشش کرتا رہا تو کبھی مسنگ پرسن کا سوانگ گھڑ کے پاکستان کی بدنامی اور عوام میں افواج پاکستان کے لیے نفرتوں کو ابھارنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ کبھی موصوف کو کسی ایک بھی مقتول مزدور کا دکھ نہیں جاگا۔ جو ہزاروں کی تعداد میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اس کے علاوہ PTM کے پروپیگنڈے پہ کوئی تشویش نہیں اور اگر ان کی نشاندہی و اصلاح کی کوشش کی گئی تو صاحب بنگلہ دیش کی مثالیں دے دے کر پشتونوں کو اکسانے کی کوشش کرتا رہا۔ 
اس کے علاوہ موصوف حمود الرحمان کمیشن رپورٹ جاری کرنے کے لیے سرگرم تو رہا مگر سازش رچنے کا موقع نصیب نہ ہوا۔ مکتی باہنی میں انتہاپسند ہندووں کی شمولیت اور پاک فوج کے خلاف لڑنے کے مودی کے اعتراف جرم کے بعد سانحہ بنگلہ دیش کی سازش کے اصل محرکات سامنے آچکے ہیں مگر کسی ایک بھی زبردستی کے محب وطن کو جسارت نہ ہوئی کہ وہ اس سازش کو دنیا کے سامنے رکھیں۔ اگر ان کے پروپیگنڈے کا جواب دے دے تو وہ سیاسی مداخلت کہی جاتی ہے ان سے پروپیگنڈے پہ جواب طلبی کرلی جائے تو ظلم ظلم کی رٹ اور اگر انہیں پروپیگنڈہ نہ کرنے دیا جائے تو صحافت پہ پابندی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں انہوں نے کیا ہی کیا ہے؟ 

آج سے چودہ سو سال پہلے عبداللہ بن ابئی اور اس کے حواریوں نے کونسا اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی تھی بس پروپیگنڈہ اور سازش ہی تو کی تھی جس پر جماعت منافقین قرار پائے ورنہ مسلمان ہونے کے تو وہ بھی سب سے بڑھ کر دعویدار تھے جس طرح سیاسی و دانشور حضرات ہیں۔ ریاست کو ایسے ایک ایک فرد کا کڑا احتساب کرنا چاہیے۔ قوم کا ایک ایک فرد ایسے افراد کی وجہ سے جس ذہنی اذیت سے گزرا ہے اور جس حد تک متاثر ہوا ہے وہ ناقابل معافی و رحم جرم ہے۔

حال کا جادوگر

بلال شیخ 

تنویر ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا کارٹون دیکھ رہا تھا۔ تنویر کی ماں پاس ہی بیٹھی تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیر رہی تھی۔ تنویر پچاس کے قریب تھا بڑھاپا اس کو بہت جلد چھو گیا تھا۔ بڑھاپا ایک طوفان کا نام ہے اور یہ اکثر کچھ لوگوں پر بہت جلد آ جاتا ہے۔ تنویر کارٹون دیکھتا بچپن کی وادیوں میں کھو گیا جہاں دولت کی طلب تو دور خیال بھی تنگ نہیں کرتا تھا۔
گاوں میں دوستوں کے ساتھ مل کر پہاڑی بنا رہا تھا۔ پہاڑی پر ایک چھوٹا سا مینار بنا کر تنویر نے اپنے دوست جمال سے کہا۔ ”یہ دیکھو میرا محل ایک دن حقیقت میں بڑا محل ہو گا میرا، ماں کہتی ہیں میں شہزادہ ہوں اور شہزادے محلوں میں رہتے ہیں“۔ جمال نے سن کر کہا، ”محلوں میں رہنے کے لیے بہت ساری دولت چاہیے میں تو زندگی میں رہنا چاہتا ہوں۔ ماں کہتی ہیں جو زندگی میں رہتے ہیں ان کے لیے محل، دولت، آرائش بہت چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں“۔ 
جمال کی بات نے تنویر کو پریشان ضرور کیا مگر بچپن کے موسم میں گرمی سردی نہیں ہوتی صرف بہار ہوتی ہیں۔ ماں کی پھونک نے تنویر کو جگا دیا۔ تنویر کی ماں تسبیح پر جو پڑھتی وہ تنویر پر وقتاً بہ وقتاً پھونک دیتی جس سے تنویر کو ٹھنڈی ہوا کا احساس ہوتا۔ تنویر اپنے خیالوں میں گھوم رہا تھا اور اپنے آپ سے سوال کرتا اور خود ہی کو جواب دیتا۔ ”کیا فائدہ یہ ساری ذمے داریاں میرے نصیب میں آئیں، صحت تو ملی نہ، دولت کمانے کے چکر میں ذلالت کما بیٹھا۔ کچھ سمجھ نہیں آتی ماضی کیسے بدلوں کاش میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو اپنا ماضی بدل لیتا“۔ اچانک تنویر کے ذہن میں اپنے استاد کی بات آئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ 
تنویر کی ماں نے پھونک ماری اور مسکراتے ہوئے چہرہ دیکھنے لگ گئیں۔ ”ماں ایک بات تو بتا میرا استاد کہتا تھا جس کے پاس حال کا جادو ہوتا ہے وہ زندگی میں ہر چیز کو حاصل کر لیتا ہے مگر مجھے آج تک یہ جادو نہیں مل سکا کے میں اپنے مقدر کو ہی بدل لوں۔ وہ کہتا تھا حال میں رہنا ایک کلا ہے اور یہ کلا سب کلاوں کی ماں ہے اور جس کے پاس حال کا جادو ہوتا ہے اس کے چہرے پر سکون دل کو آرام، زبان میں تاثیر اور صحت کی دولت ہوتی ہے۔ تو کہتی تھی میں شہزادہ ہوں محلوں میں رہوں گا مگر میں تو انسانوں میں رہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ شہزادہ کیا بنتا ساری زندگی نوکریوں میں گزر گئی تیرے پاس اس کا جواب ہے کیونکہ تیرے چہرے پر بھی سکون نظر آتا ہے“۔
تنویر کی بات سن کر ماں نے مسکراتے ہوئے کہا، ”پتر میں صحیح کہتی تھی تو شہزادہ ہے میرا اور تو میرے دل کے محل میں رہتا ہے اور یقین مان میرے دل کے محل میں شہزادوں کی طرح رہتا ہے۔ رہی بات حال کے جادو کی تو پتر اتنا مشکل عمل نہیں ہے۔ حال کا جادو اصل میں زندہ رہنے کا نام ہے پتر جب طلب ایک پر ہوتی ہے تو وہ پوری ہو جائے تو انسان کو اپنی طلب پر قابو پا لینا چاہیے ورنہ یہ ایک مرض بن جاتی ہے۔ حال کا جادوگر آج میں رہتا ہے وہ انگریزی میں کہتے ہیں نہ لیو ان دا مومنٹ۔ زندگی میں وہ ماضی کو بھولنے کا فن جانتا ہے وہ جانتا ہے جب غلط تیر کمان سے نکل جائے تو اپنی غلطی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اگلا تیر تیار کرنے میں وقت صرف کرتا ہے نہ کہ پچھلے تیر کا غم لیتا ہے۔ جو تیر نشانے پر لگ جائے وہی اس کی کامیابی ہے۔ وہی اس کے شکر کرنے کا وقت ہوتا ہے اور سجدہ کرنے کا بھی۔
ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پوچھا ”پتر حال کا جادوگر بننا ہے؟“ ماں کی بات سن کر تنویر نے ہاں کہا۔ ”تو پتر اپنے دل سے خوف نکال دے“ ماں نے کہا۔ ”کون سا خوف ماں“ تنویر تجسس میں مبتلا ہو گیا جیسے کوئی خزانہ اس کے ہاتھ لگنے والا ہے۔ ”کل کا خوف، حال کا جادو گر کل کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے مگر ہم لوگ تو بیٹی پیدا ہونے پر اس کے مستقبل کی فکر میں پڑ جاتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں وہ تو رحمت ہوتی ہے اور وہ وقت رحمت پر خوش ہونے کا ہوتا ہے۔ اسی طرح جس طرح تو اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا اپنے ہاتھوں پہ ڈرپ لگائے اس چار دیواری میں کارٹون دیکھ رہا ہے۔ تجھے اس درخت کی طرح بننا ہوگا جو پھل دیتا ہے مگر کھانے کی تمنا نہیں رکھتا پھر بھی راضی رہتا ہے تب جا کر تیری چھاوں میں رونق لگے گی۔ تیری زبان پر جب ہر حال میں شکر چلے گا تیرے لبوں پر ذکر خدا وندی جاری رہے گا تو تیری زبان بھی تاثیر رکھے گی۔ لوگ تجھے سننے لگیں گے، تجھے ماننے لگیں گے۔ پتر خیال کی طاقت کو پہچان خیال کی طاقت تجھے حال میں رہنا سکھائے گی۔ خوبصورت خیالات خوبصورت حالات بناتے ہیں جب اپنے درد کی جگہ دوسرے کا درد محسوس ہونا شروع ہو جائے سمجھ جا تیرے میں وہ صلاحیت آنی شروع ہو گئی ہے“۔
ماں بولتے بولتے خاموش ہوئی تو تنویر نگاہیں ماں کی طرف ٹکائے اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ”تو مانگتا محل ہے مگر تو تو اپنے چھوٹے سے مکان میں خوش نہیں ہے تو محل میں کیا خوش رہے گا جب تو مکان میں رہ کر خوش رہے گا یقین مان وہ تجھے اپنی وسعت سے زیادہ محسوس ہو گا۔ بھوک سے زیادہ کھا لو تو وہ لالچ کا مرض بن جاتا ہے اور لالچ جیسی بیماری تیرے میں جادو نہیں کالا جادو بھر دے گی۔ بے روزگار کہتا ہے کہ میرے پاس روزگار ہو جب روزگار ملتا ہے تو کہتا ہے میری مرضی کا روزگار ہو۔ جب مرضی کا روزگار ملتا ہے تو کہتا ہے مالک بن جاوں۔ جب مالک بن جاے تو بادشاہ بننا مانگتا ہے پتر حال کے جادوگر ہر حال میں خوش رہتے ہیں وہ جو پاس ہوتا ہے اسے بانٹتے ہیں ان کے پاس ضرب دینے کا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ بہت بڑے ریاضی دان ہوتے ہیں وہ خوشی سب میں بانٹ کر ڈبل کرنا جانتے ہیں جب تم اپنی خوشیاں سب میں تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو تمہارا دل مردہ ہو جاتا ہے۔ میرے پیارے بیٹے سمجھ اس بات کو تو بیمار اس لیے نہیں کہ بیماری نے تجھے چھوا ہے تو بیمار اس لیے ہے کہ تو نے اپنے آپ کو بیمار تسلیم کر لیا ہے“، ماں نے تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیریں اور تنویر پر پھونک دی۔ ماں کی باتیں تنویر کے کانوں سے ہوتے ہوئے دل کی دھڑکنوں میں تبدیل ہو گئی وہ ماضی مستقبل کی قید سےآزاد ہو گیا تھا۔ ماں کی باتیں اسے آج سے پہلے اتنی اچھی طرح سمجھ کیوں نہیں آتی تھی شاید وہ مردہ تھا زندہ تو آج ہوا تھا ماں کی پھونک نے اس کی زندگی میں نئی سوچ پھونک دی تھی۔
خوبصورت وسیع باغ میں بیٹھا تھا ساتھ میں ماں کی یاد بیٹھی تھی۔ آج وہ حال کا جادوگر تھا اس کے جسم کو ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ اب حرص نے اس سے کنارہ کر لیا تھا۔ قدرت کی خوبصورتی نے اس کے دل میں بسیرا کر لیا تھا۔ وہ جادو گر جان گیا تھا کہ وہ ہوا میں اڑ نہیں سکتا مگر وہ آسمان میں اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھ کر اڑان تو محسوس کر سکتا ہے ماضی اور مستقبل کو چھوڑ کر آج کے سورج کی روشنی کو اپنی آنکھوں میں سجا سکتا ہے۔ خواہشوں سے نجات حاصل کر کے موجودہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر رب کا شکر ادا کر سکتا ہے اور یہی اصل زندگی ہے اور یہی اصل جادو ہے حال کا جادو۔ دور سے بچہ بھاگتا ہوا تنویر کی گود میں آ کر بیٹھ گیا ”دادا ابو آپ کے چہرے پر بہت سکون ہے دل کرتا ہے دیکھتا جاوں آپ جادو گر تو نہیں“، تنویر نے مسکراتے ہوئے اس کا منہ چوم لیا۔

مرد مجاہد


محمد ارسلان رحمانی
 
ایک مرتبہ حضرت جعفر طیارؓ ایک قلعہ کو فتح کرنے کے لیے تنہا اس قوت سے حملہ آور ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا گویا وہ قلعہ ان کے گھوڑے کے تالو کے سامنے ایک کھونٹ کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ قلعے والوں نے خوف سے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا اور کسی کی تاب نہ ہوئی کہ مقابلہ کے لیے ان کے سامنے آئے۔ بادشاہ نے وزیر سے مشورہ کیا کہ اس وقت کیا تدبیر کرنی چاہیے۔ وزیر نے کہا کہ، ”تدبیر صرف یہی ہے کے آپ جنگ کے تمام منصوبوں اور ارادوں کو ختم کرکے اس باہمت شخص کے سامنے تلوار اور کفن لے کر حاضر ہوجائیے اور ہتھیار ڈال دیجیے“۔ 
بادشاہ نے کہا، ”آخر وہ تنہا ایک شخص ہی تو ہے ، پھر ایسی رائے مجھے کیوں دی جاتی ہے؟“ وزیر نے کہا کہ، ”آپ اس شخص کی تنہائی کو بے وقعتی کی نگاہ سے نہ دیکھیے، ذرا آنکھیں کھولیے اور قلعہ کو دیکھیے کہ سیماب (پارہ) کی طرح لرزاں اور کانپ رہا ھے اور اہل قلعہ کو دیکھیے کہ بھیڑوں کی طرح گردنیں نیچی کیے، سہمے ہوئے ہیں۔ یہ شخص اگرچے تنہا ہے لیکن اس کے سینے میں جو دل ہے وہ عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ اس کی عالی ہمتی دیکھیے کے اتنی بڑی مسلح اکثریت کے سامنے تنہا ننگی تلوار لیے کس ثابت قدمی اور فاتحانہ انداز میں اعلان جنگ کررہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشرق و مغرب کی تمام فوجیں اس کے ساتھ ہیں، وہ تنہا بمنزلہ لاکھوں انسانوں کے ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قلعے سے جو سپاہی بھی اس کے مقابلہ کے لیے بھیجا جاتا ہے وہ مقتول ہوکر اس کے گھوڑے کی ٹاپ کے نیچے پڑا نظر آتا ہے۔ 
جب میں نے ایسی عظیم الشان انفرادیت دیکھ لی تو پھر اے بادشاہ! آپ کی اس اکثریت سے کچھ بھی نہ بن پائے گا۔ آپ کثرت عدد کا اعتبار نہ کریں، اصل چیز جمعیت قلب ہے اور یہ قوت اس شخص کے قلب میں بے پناہ اور بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ نعمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالی کے راستے میں اپنے نفس کے گناہوں والی خواہشات کو کچلنے کے بعد اللہ تعالی کا محبت و عظمت بھرا تعلق حاصل ہوجاتا ہے۔ اس نعمت کو تم حالت کفر میں ہرگز حاصل نہیں کرسکتے، لہذا تمھارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس جانباز مرد مومن کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور قلعے کا دروازہ کھول دو کیوں کہ یہ اکثریت بالکل بے کار ہے“۔
یہ شان ہے مسلمان کی اور یہ عظمت ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی کے کفر پر لرزہ طاری کیے رکھتے ہیں۔ ان کا سہارا ان کے ہتھیار نہیں بلکہ ان کا ایمان اور اللہ پریقین کامل ہوا کرتا ہے۔ یہی وہ ایمان والے تھے جو تین سو تیرہ ہوکر بھی غالب رہے۔ جنہوں نے قیصر و کسری فتح کیا، جنہوں نے جذبہ ایمانی کی بدولت ہر محاذ پر کفر کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ ایسے ہی جانباز مومنین کے لیے اقبال نے کہا ہے،
کافر ہو تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جو ہونا تھا بتدریج وہی خوب ہوا

انیلہ افضال

23 اکتوبر سن 2000 کے خوشگوار دن سری نگر میں زرقہ اور وسیم کے گھر ایک خوبصورت پھول کھلا۔ جس کا نام اس خوش نصیب جوڑے نے زائرہ رکھا۔ یوں تو ہر بیٹی ہی اپنے ماں باپ کے لیے رب کی رحمت کے دروازے کھلتی ہے اور بہترین پرورش کے عوض میں جنت کی ضامن بنتی ہے مگر زائرہ کی صورت میں تو زرقہ اور وسیم کو مانو رحمتوں کا خزانہ مل گیا ہو۔ بچی جب اسکول جانے کے قابل ہوئی تو شہر کے بہترین ایلیٹ کلاس اسکول ”سینٹ پال انٹرنیشنل اکیڈمی“ میں داخل کروا دیا گیا۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں رقصاں تھیں۔ ماں ایک بہترین اسکول میں ٹیچر اور باپ سری نگر کی ایک بڑی کمپنی کا مینیجر، شہر کا بہترین اسکول، کھلا ماحول اور کسی بھی قسم کی روک ٹوک سے بے نیاز زائرہ عمر کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے عمر کی تیرھویں منزل پر پہنچی تو اس کی زندگی میں ایک بڑی تبدیل رونما ہوئی۔
ہوا کچھ یوں کے بھارت کے مشہور ہدایت کار نیتیش تیواڑی نے مشہور پہلوان مہندر سنگھ پھوگاٹ اور اس کی پہلوان بیٹی گیتا پھوگاٹ کی زندگی پر ”دنگل“ نام سے فلم بنانے کا ارادہ کیا۔ مشہور اداکار عامر خان اس فلم کے پروڈیوسر تھے جو مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے رول کے لیے ایک پرفیکٹ لڑکی کی تلاش شروع کر دی اور ان کی یہ تلاش سری نگر کی اسی زائرہ وسیم پر جا کر ختم ہوئی۔ لڑکی بھی کافی بولڈ اور پر اعتماد تھی۔ گھر سے کسی قسم کی کوئی روک ٹوک بھی نہ تھی اور ویسے بھی بالی وڈ تو ہر بھارتی کا خواب ہے۔
زائرہ کو گیتا کے رول کے لیے سائن کر لیا گیا۔ فلم 2016 میں ریلیز کردی گئی اور باکس آفس پر چھا گئی اور صرف پندرہ برس کی عمر میں زائرہ سوپر سٹارز کی صف میں آ کھڑی ہوئی۔ کیوں نہ ہوتی اس کی پہلی ہی فلم نے 2000 کروڑ کا بزنس کیا تھا۔ دوسری فلم ”سیکرٹ سپر سٹار“ نے بھی اگلے ہی برس 2017 میں نو بلین کا موٹا منافع کمایا۔ بالی وڈ انڈسٹری اس ”آ گئی اور چھا گئی“ سپر سٹار پر مکھیوں کی طرح گرنے لگی اور زائرہ نے تیسری فلم ”دی سکائے از پنک“ سائن کر لی۔ مئی جون 2019 تک اس فلم کی شوٹنگ بھی مکمل ہو گئی تھی۔
فلمی دنیا کی اس فلمی کہانی میں ٹوئسٹ 30 جون کی صبح 5 بجے رونما ہوا، جب زائرہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے ایک بیان ریلیز کیا، ”پانچ سال قبل میرے ایک فیصلے نے میری زندگی بدل دی تھی اور میں ایک اور فیصلہ کرنے والی ہوں جو یقیناً میرے گزشتہ فیصلے سے بہتر ثابت ہو گا“ اور پھر اگلے کچھ ہی روز میں بھارتی انڈسٹری میں ایک دھماکہ ہوا۔ زائرہ وسیم نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور اسے سوشل میڈیا پر نشر بھی کر دیا۔”ان پانچ برسوں میں بالی وڈ نے مجھے پہچان اور عزت دی مگر اب میں اس انڈسٹری کا حصہ نہیں ہوں کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ بالی وڈ انڈسٹری بڑی خاموشی سے مجھے میرے خدا سے دور کر رہی ہے۔ میری زندگی سے برکت ختم ہو گئی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے ایمان پر ڈاکہ زنی کی گئی ہے“۔
یہ کوئی بڑی بات نہ تھی ہر روز ہزاروں لڑکیاں بالی وڈ کا حصہ بنتی ہیں اور ہزاروں اس سے جدا ہو جاتی ہیں مگر بالی وڈ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو زائرہ وسیم کا انڈسٹری چھوڑے کا اعلان کیوں تہلکہ مچا گیا؟ ایسا کیا ہوا کہ نہ صرف بالی وڈ بلکہ بھارت کے طول وعرض میں ہاہا کار مچ گئی۔ تو صاحب! کسی نے انڈسٹری چھوڑے کی وجہ اپنے ایمان کو نہیں بنایا۔ آج تک کسی نے اپنے رب سے اپنے تعلق کو بچانے کے لیے اپنے کیرئیر کو خیر باد نہیں کہا۔ کسی نے اپنی زندگی سے جاتی ہوئی برکت کا ہاتھ تھامنے کے لیے شہرت اور دولت کو ٹھوکر نہیں ماری۔ سبحان اللہ! اس اٹھارہ سال کی لڑکی نے جب یہ کہا کہ ”میری زندگی سے برکت ختم ہو رہی تھی“۔
 تو یقیناً یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ برکت کا تعلق نہ تو دولت سے ہے نہ ہی شہرت سے بلکہ یہ سراسر روح کا تعلق ہے اور یہی بات بھارت میں اٹھنے والے طوفان کا باعث ہے۔ چھوڑنا تھی انڈسٹری تو چپ چاپ چھوڑ جاتی یہ روح، رب، سکون، اطمینان، ایمان اور برکت کو بیچ میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک زائرہ جائے گی تو کئی اور آجائیں گی لیکن اگر اس اٹھارہ سالہ لڑکی کی دیکھا دیکھی دیگر مسلمان سپر سٹارز کا ایمان بھی جاگ گیا، اگر ان کو بھی برکت کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا اور اگر وہ بھی رب کی جانب سفر کرنے لگے تو پوری کی پوری بالی وڈ انڈسٹری دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔ اس فقط اٹھارہ سال کی لڑکی نے دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شاباش! زائرہ وسیم!

بارش زندگی ہے

 فاطمہ خان

مولوی صاحب کی اذان کے ساتھ جب صبح کا آغاز ہوا تو آج کے دن کی شروعات معمول سے ذرا ہٹ کر تھی کیوں کے آج بادلوں نے آسمان کو اپنی سیاہ پوشاک عطا کی تھی۔ بادل کی سیاہ و سفید ٹکڑیاں آسمان پر محوِ رقص تھیں۔ مرغانِ سحر اپنی سریلی اور مدھر آواز میں سبحان اللہ کی تسبیح کر رہے تھے۔ بادل مسلسل آسمان پر اٹھکلیاں کر رہے تھے، جیسے سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہو۔ سورج بادلوں کو چیرتا ہوا باہر نکلنے کی حسرت میں تڑپ رہا تھا لیکن آج بادلوں نے بھی ٹھان رکھی تھی کے آج وہ برسیں گے۔ سورج سے جیسے کہہ رہے ہوں کے آج تم خوابِ خرگوش کے مزے لینا۔ قراقرم کی برف پوش چٹانوں سے چلتی ہوئی یخ بستہ ہوائیں آج ہم گرمی کے ماروں کے جگر کو راحت بخشنے کے لیے ہر دم تیار تھیں۔ موسم ہر لمحہ حسین سے حسین تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ہوا میں خنکی بھی بڑھ رہی تھی۔ ہر دل منتظر تھا کہ کب مینہ برسے اور امیدیں بر آئیں۔
شہروں میں مینہ کی ضرورت اور خوشی موسم میں بدلاو کے لیے ہوتی ہے۔ یا پھر کسی شاعر نے اپنی ادھوری غزل کو فرحت بخشنے کے لیے مینہ برسنے کی دعا ایسے دلخراش انداز میں مانگی ہوتی ہے کہ ابر بِن برسے جا ہی نہیں سکتا، یا کسی ننھے نے اپنی ناو بارش کے پانی میں چلانی ہوتی ہے۔ جب کہ دیہات میں مینہ کی ضرورت کسانوں کی پل پل بندھتی امید کو ہوتی ہے۔ ان جنگلی حیات کو ہوتی ہے، جو گرمی سے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ ان بارانی فصلوں کو ہوتی ہے، جو پل پل ایک ایک بوند گِرنے کی منتظر رہتی ہیں۔ پرندے پیاس کی شدت سے پانی کی اِک اِک بوند کو ترس رہے ہیں۔ ننھے منے بچے گھونسلوں میں ماوں کے منتظر ہیں کہ کب ایک قطرہ ان کے جگر کو ٹھنڈک بخشے گا۔
لیکن یہ کیا؟ بادل چھٹنے لگے اور سورج کو راہ دے دی گئی۔ سب کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔ سب کے ہونٹ پیاس کی شدت بتانے سے قاصر تھے مگر وہ خشک، تڑپتیں دم توڑتی ہوئیں چڑیاں۔ ہائے مظلوم ہوں جیسے۔ یا ربِ کریم ان کے درد کا مداوی کر دے۔ کپکپاتے ہونٹوں سے بوڑھے رحمتِ الہی کے طلبگار تھے۔ جیسے کہہ رہے ہوں۔ الہی رحم۔ یا اللہ کرم کر دے، مولا تو مشکل کشا ہے، تو مالکِ کل جہاں ہے۔ ہم پر سے اس گرمی کی شدت کو ختم کر دے، تیری رحمت کے طلبگار ہیں اللہ، تو خطائیں معاف کردے۔ مالکِ دوجہاں پچھلے تین ماہ سے تیری رحمت کے منتظر ہیں۔ کرم کر الہی۔ ہمارے گناہ معاف فرمادے۔
دیکھتے ہی دیکھتے سورج سر پہ آ گیا۔ ہر طرف جیسے آگ لگ گئی۔ درخت تپش سے جھلس گئے۔ ننھی کونپلیں مرجھا کے قافلوں کی صورت موت کی وادی کی جانب روانہ ہوئیں۔ کسان پل پل انتظار میں رہتے رہتے ناامید ہو گئے۔ سب ختم ہو گیا۔ میں، میرے سال کی محنت کا پھل نہ پا سکوں گا، میرے بچے اسکول جانے سے ڈریں گے کے ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے نہ ہوں گے۔ ان کے قلم، کتاب اور بستے کو میں کہاں سے لاو ¿ں گا۔ یا الہی رحم۔ یا الہی رحم۔ میری بیٹی چوکھٹ پہ کسی شہزادے کی آمد کے خواب بنتی ہے۔ وہ خواب کہیں اس کے بالوں میں چاندی بن کہ نہ رہ جائیں۔ یا الہی کرم۔ اک نظرِ کرم۔ یا الہی کرم۔
اچانک کہیں سے بادل کا ایک ٹکڑا آیا اور سورج کو اپنے دامن لے لیا۔ ہاں سورج کو چھپا لیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان بادلوں سے ڈھک دیا گیا۔ وہ ربِ کریم کبھی اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے مانگ کیا مانگنا چاہتا ہے۔ میں نے تیرے لیے کائنات کو طرح طرح کی نعمتوں سے سجایا ہے۔ تو اِس میں اللہ کا فضل تلاش کر۔ تو مانگ کہ مانگنے کے طریقے سے۔ اللہ اپنے بندے کی عاجزی و انکساری سے مانگی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔ یہی عقیدہ ہے مردِ مومن کا۔ کبھی مایوس نہ ہونا کیونکہ تمہارا رب بڑا مہربان ہے۔ 
بادلوں کے آنے سے سب خوش تھے کہ مینہ برسے گا۔ اب کی بار پہلے سے زیادہ خوشی چہروں سے ٹپکنے لگی۔ ہوائیں سائیں سائیں چلنے لگیں۔ درخت خوشی میں ربِ ذوالجلال کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے کہ اچانک مینہ چھم چھم برسنے لگا۔ پرندے چہچہانے لگے۔ جیسے اک نئی زندگی مل گئی۔ اک نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ درخت اک نئے خوبصورت پیرہن میں حسن کا شاہکار معلوم ہو رہے تھے۔ کونپلیں معصومیت سے پودے کی ہری ہری گود میں مچلنے لگیں۔ 
گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میر
بلبل پکاری دیکھ کہ صاحب پرے پرے 
گل و لالہ مستی میں جھوم رہے تھے۔ مینہ برسنے کے بعد اب ہر جانب اک سحر انگیز خوشبو دلوں کو معطر کیے جا رہی تھی۔ اب مٹی اپنی خوشبو سے زمین کو جنت کا گوشہ بنا چکی تھی۔ پھول ٹہنیوں سے جھول رہے تھے۔ قدرت کے اس تحفے سے زمیں مسکرا رہی تھی۔
آفتاب اب پھر سے بادلوں سے نکلنے کی کوشش میں تھا اور اس بار اس کی ایک جھلک دیکھنے کو سب ہی بیتاب تھے۔ دھنک کے رنگ ان کی بے قراری کی وجہ تھی۔ سورج کی ایک جھلک سے آسمان پہ دھنک نمودار ہوئی۔ واللہ قدرت کا ایک اور حسین شاہکار سامنے تھا۔ جیسے دنیا میں ہی جنت پا لی ہو۔ خوش کن احساس اللہ کی پاکی بیان کرنے کا خوبصورت موقع تھا۔ وہ رب عظیم ہے کہ جس نے ہمیں پیدا کیا۔ ہمیں نعمتوں سے مالا مال کیا۔ ہمیں عاجزی اور انکساری سکھا دے مولا کہ تیری بندگی میں سر ہر وقت سجدہ ریز ہو۔
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
یہی وہ لمحے ہیں اللہ پاک کہ جس میں ہم تیری بنائی رحمتوں میں ہم تیری قدرت کا عکس دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس پہ ہمیشہ قائم رکھ کہ ہم سب تری رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ ہمیں اپنی ذات کا عرفان نصیب فرما اور ہمارے اصل سے جوڑے رکھنا۔ آمین

کالم کیسے لکھیں؟

 مریم صدیقی

اگرقدرت نے آپ کو لاکھوں لوگوں میں سے منتخب کرکے لکھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے، اگر آپ کو یہ ہنر عطا کیا گیا ہے کہ آپ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں معاون کردار ادا کرسکتے ہیں تو اپنے قلم کو معاشرے کی ا صلاح، لوگوں کے مسائل لکھنے اور ان کے حل کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے استعمال کیجیے۔ کوئی بھی تحریر لکھنے سے قبل اس کے مقصد کا تعیین کیجیے۔ بنا مقصد کے کچھ بھی لکھنا کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنا جیسا ہے۔ بامقصد تحریر قارئین کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ پڑھنے والوں کے ذہن پر دیر پا اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ تحریر لکھنے سے قبل خود سے چند سوالات ضررو کریں۔
1۔ آپ کے لکھنے کا کیا مقصدہے؟ کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟
2۔ آپ جس مقصد کے لیے لکھنا چاہتے ہیں وہ زندگی کے کس شعبے سے تعلق رکھتا ہے؟
3۔ جن افراد یا معاشرے کے لیے آپ لکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کس حد تک مفید ہے؟
4۔ آپ جس مقصد کے لیے لکھ رہے ہیں کیا وہ قابل عمل ہے؟
5۔ کیا آپ کی تحریر قاری باآسانی سمجھ سکتے ہیں؟
عموما لکھنے کے درج ذیل مقاصد ہوسکتے ہیں: معاشرے کی اصلاح، معلومات کی فراہمی، د وسروں کی مدد، ان کے مسائل کو اجاگر کرنا، تفریح مہیا کرنا وغیرہ۔ تحریر کے مقصد کا تعیین کرنے کے بعد اس کی صنف کا تعیین کیا جانا بھی نہایت ضروری ہے کہ آپ مضمون لکھ رہے ہیں یا فیچر، کالم لکھ رہے ہیں یا افسانہ۔ صنف کا تعیین کرنے کے لیے تمام اصناف کے بارے میں بنیادی معلومات کا ہونا لازمی ہے۔ ہم تحریر کی جس صنف کے بارے میں آج بات کریں گے وہ ہے کالم۔
کالم: 
کالم ایسی تحریر ہے جس میں حالات حاضرہ پر اظہار خیال کیا جائے۔ کالم مزاحیہ بھی ہوسکتا ہے اور سنجیدہ بھی۔ صحافتی اصطلاح میں کالم ایسی تحریر ہے جس میں موجودہ حالات و واقعات (کرنٹ ایشوز) پر دلائل سے اظہار خیال کیا جائے۔ 
کالم اور مضمون میں فرق:
مضمون سدا بہار قسم کی تحریر ہوتی ہے، جس پر جب چاہا لکھ لیا جائے اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ جیسے تعلیم وتربیت، والدین کا احترام، سوشل میڈیا کے فوائد یا صحت کے حوالے سے چند اہم باتیں۔ یہ موضوع ہمیشہ سے اہم ہیںان پر لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا اور جب جب لکھا جائے گا وہ لکھا ہوا مضمون کہلائے گا۔ جب کہ کالم ایسی تحریر ہے جو صرف تازہ حالات کو سامنے رکھ کر لکھی جائے۔ جیسے اگر مسئلہ کشمیر پر لکھا جائے گا تو وہ مضمون کہلائے گا لیکن اگر کسی کی شہادت یا حالیہ دہشت گردی پر لکھا جائے گا تو کالم کہلائے گا۔ 
کالم لکھنے کے لیے وسیع مطالعہ، مشاہدہ، مصدقہ اور تازہ ترین معلومات کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ 
لکھتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں۔ 
مطالعہ: لکھنے کے لیے مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ ایک بہترین لکھاری مطالعے سے کبھی غافل نہیںہوتا، وہ مطالعے کی عادت کوکبھی ترک نہیں کرتا۔ اچھا ادب تخلیق کرنے کے لیے اچھا ادب پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ کالم نویس کا وسیع المطالعہ ہونا بے حد اہم ہے۔ اسے ادب، سائنس، نفسیات، فلسفہ، سیاسیات، اقتصادیات غرض یہ کہ ہر شعبے کے متعلق ضروری معلومات ہونی چاہیے۔ مطالعہ کرتے ہوئے طرز تحریرکو بغور دیکھیے، زبان و اسلوب کیسا ہے؟ الفاظ وتراکیب کا استعمال کیسا ہے؟ جملوں کی ساخت کیسی ہے؟ کسی کا طرز تحریر پسند آئے تواس سے متاثر ہوکر اس کی تحاریر کی من و عن نقل نہ کیجیے بلکہ اسے بار بار پڑھ کر اس جیسا اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کریں۔ کثرت مطالعہ اورلکھنے کی مشق کرتے رہنے سے آپ کی تحریرکے معیار میں بہتری آئے گی۔
تحقیق: جب آپ لکھنے کے لیے موضوع کا انتخاب کرلیں تو اب اگلا مرحلہ اس موضوع سے متعلق مواد اور معلومات کے حصول کا آتا ہے۔ کتب، جرائد سے، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے معلومات کا وسیع ذخیرہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی، تحریر اس قدر جامع اور مکمل ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہوگی۔ اکثر و بیشتر کالم نویس ایک کالم لکھنے کے لیے کئی کئی ہفتے تحقیق اور مصدقہ معلومات کے حصول میں گزار دیتے ہیں۔
مشاہدہ: لکھنے کے لیے مطالعے کے ساتھ ساتھ مشاہدے کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ ایک لکھاری حساس دل کا مالک ہوتا ہے جو اپنے ارد گرگرد کے لوگوں کے مسائل اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرتا ہے اور انہیں محسوس کرکے لکھتا ہے۔ مشاہدہ اور تجزیہ اکثر اوقات ان بند گرہوں کو کھولنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے جو سامنے ہونے کے باوجود جن پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ 
زبان و بیان: لکھتے وقت اس بات کاخصوصی خیال رکھیں کہ اخبار پڑھنے والے عام اور سادہ لوگ ہوتے ہیں، تحریر کا اسلوب نہایت سادہ، آسان اور واضح ہونا چاہیے۔ تحریر کی پیچیدگی قاری کی دلچسپی ختم کر دے گی اور جو پیغام قاری تک پہنچانا مقصود تھا وہ نہیں پہنچ پائے گا۔ کوشش کریں کہ جملے مختصر اور سادہ ہوں، انگریزی زبان کے استعمال سے حتی الامکان گریز کریں۔ جہاں تک ممکن ہو تحریر کو مختصر رکھیں۔ 
تحریر لکھنے کے بعد نظر ثانی ضرور کریں۔ اپنی تحریر کو قاری اور ناقد کی نظر سے پڑھیں، غلطیاں درست کریں۔ دوبارہ سہہ بارہ پڑھ کر ضروری ترامیم کرکے اسے اشاعت کے لیے بھیج دیں۔