The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Thursday, June 20, 2019

جہان دانش

 بلال شیخ
احسان 1914ءکاندھلہ ضلع مظفر گڑھ ہندوستان کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوا اور بچپن کا کچھ عرصہ گزار کر یہ اپنے والدین کے ساتھ کاندھلے منتقل ہو گیا۔ احسان کے والد بھی مزدوری کرتے تھے اور غریبی ان کو ورثے میں ملی تھی۔ احسان بچپن سے خوش مزاج اور ملنسار لڑکا تھا۔ چوتھی جماعت پاس کی تو احسان کے والد کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ وہ کتابیں خرید کر احسان کو دے سکتا اور آنے والے خرچے اٹھا سکتا۔ چوتھی جماعت کے بعد تعلیم ترک کر کے والد کے ساتھ مزدوری کا شعبہ اپنا لیا اور اس کوشش میں لگ گیا کہ شاید زندگی آسان ہو جائے گی۔ احسان نے کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھا۔ ماں باپ سے محبت اور فرمانبرداری اس کو تحفے میں ملی تھی اس لیے والدین کے سامنے کبھی ضد نہیں کی تھی۔ احسان نے والدین کی غریبی اور مفلسی کو دور کرنے کے لیے ہر طرح کا کام کیا۔
مزدوری تو وہ کرتا ہی تھا مگر اس کے علاوہ وہ ملازمت بھی کرتا تھا اور جب ملازمت سے جواب ملتا تو واپس مزدوری پر آجاتا اس کو مزدوری ملازمت سے بہتر لگتی تھی کیونکہ اس میں کوئی آقا نہیں ہوتا اور جو کمایا آپ کا اپنا ہوتا ہے۔ اگر چھٹی بھی ہو جائے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ان سب حالات کے باوجود اس کے اندر علم حاصل کرنے کا ذوق دھاڑے مارتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ احسان کو بکریاں پالنے اور ان کو چرانے کا شوق پیدا ہوا اور اس نے کچھ بکریاں پال لیں اور روز ان کو چرانے جنگل میں نکل جاتا۔ اس دوران اس کا ایک دوست ”اصغر جنگ“ جس کو کتابوں کو شوق تھا وہ احسان کو کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیتا اور بعد میں دونوں اس کتاب پر باتیں کرتے تھے اس طرح احسان کے اندر مطالعے کا شوق پیدا ہوا اور جو علم کی پیاس تھی اس کو بجھانے کا بھی کوئی ذریعہ ملا۔ احسان کی زندگی میں جتنے مرضی مسائل آئے غریبی کا سامنا کرنا پڑتا یا بے روزگاری کا مگر مطالعے کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ کئی بار احسان کو ملازمت کے دوران مطالعہ کا وقت نہ ملتا تو اس کی روح بے چین ہونا شروع ہو جاتی تھی اور جب اس سے نہ رہا جاتا تو وہ ملازمت چھوڑ دیتا تھا اور ایسا کئی بار ہوا کہ مطالعے کی خاطر اس نے بے روزگاری کو گلے لگا لیا۔
جب علم کا پیالہ بھر گیا تو مشاہدہ کی شکل میں علم پیالے سے باہر آنا شروع ہو گیا اور شاعری نے ذہن میں دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور اس طرح احسان نے شاعری کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور ادبی محفلوں میں اپنی شاعری پڑھ کر داد سمیٹنے لگ گیا۔ اس طرح احسان کی زندگی کو مقصد ملنا شروع ہو گیا وہ اپنی زندگی کو شاعری کی شکل میں دوسروں تک پہنچانا شروع ہو گیا ابھی احسان صرف کاندھلے تک ہی محدود تھا مگر دل ابھی علم کی طلب سے بھرا نہیں تھا۔ احسان کو پتا چلا کہ لاہور میں مزدور کا مستقبل بہت اچھا ہے اور بہت سی لائبریریاں ہیں اور بہت سی ایسی کتابیں مل جائے گی جو کاندھلے میں میسر نہیں۔ اپنے دوست اصغر جنگ سے مشورہ کر کے لاہور آگیا اور یہ اس کی اپنی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ تھا جس پر اس کو اپنی ماں کے آنسو برداشت کرنے پڑے تھے جو کہ وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ لاہور میں آ کر احسان نے ہر کام کیا مزدوری بھی اور کپڑے بھی سلائی کیے، باغ کی چوکیداری بھی کی اور دیواروں پر پینٹ بھی کیا۔ احسان نے کئی کام بدلے مگر نہ بدلا تو اس کا شوق نہ بدلا مطالعہ کی جگہ اس کے دل میں کوئی جگہ نہ بنا سکا۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ باغ کی چوکیداری کے دوران وہ ایک دن میں چار سو صفحات کا مطالعہ کرتا تھا اور احسان کے اندر شاعری ٹھاٹے مارتی تھی۔ چوکیداری کے دوران ایک شخص نے احسان سے چالیس نظمیں لکھوائیں اور دو روپے فی نظم معاوضہ دیا۔ یہ اس دور میں احسان کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔
اس طرح احسان کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا رہا اور اس کی شاعری مختلف اخبارات اور رسالوں میں چھپتی رہی۔ احسان کو اب کافی لوگ جاننے لگ گئے تھے۔ شہرت اس کا گہراو کرنا شروع ہو گئی تھی اور وہ لوگوں سے بچنے کے لیے ایسی ملازمت تلاش کرتا کہ وہ سکون سے رہ سکے اور اپنے شوق کو وقت دے سکے۔ یہ بڑھتی شہرت بھی احسان کے لیے غرور کا باعث نہیں بنی۔ ایک طرف وہ ملک کا نامور شاعر تھا اور دوسری طرف گورنر ہاوس میں باغبان کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔ یہ کہانی کسی اور کی نہیں ہمارے ملک کے نامور شاعر احسان دانش کی ہے۔ احسان دانش جب محفلوں میں اپنی شاعری پڑھتے تو سامعین کے آنکھوں میں آنسو اور کلیجے پھٹنے کو آجاتے تھے وہ اپنی شاعری سے معاشرے کی غریبی کا اصل چہرہ لا کر سامنے رکھ دیتے تھے اور جب وہ سٹیج سے اتر کر نیچے آتے تو ان کے مداح ان کے ہاتھ چومتے اور سینے سے لگا لیتے۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتے تو لوگوں کا سمندر ان پر امڈ آتا تھا اس سے بچنے کے لیے انہوں نے گھر میں اپنی ذاتی لائبریری بنا لی اور دن کا بیشتر وقت اپنی لائبریری میں مطالعہ کرتے گزارتے۔ آپ ان کی کتاب سے محبت کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے بیٹے فیضان دانش کو پی ایچ ڈی کے دوران لسانیات پر کتابیں تلاش کرنی تھیں انہوں نے ایک پبلک لائبریری میں کتابیں تلاش کی تو چالیس کے قریب کتابیں ملیں مگر جب اپنے والد صاحب کی لائبریری میں کتابیں تلاش کی تو ایک سو پانچ کتابیں صرف لسانیات پر تھی۔
زندگی میں کچھ بھی بڑا حاصل کرنے کے لیے کچھ راستے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت حاصل کرنی ہے کسی کو پیسہ اور کسی کو رتبہ حاصل کرنا ہے اور ان سب کو حاصل کرنے کے لیے کچھ راستوں کا چناو کرنا پڑتا ہے جن میں ایک راستہ مستقل مزاج ہونا ہے۔ بیشتر افراد اس وقت ہار مانتے ہیں جب منزل صرف ایک قدم کی دوری پر ہوتی ہے۔ مقدر کا رونا روتے اس دنیا سے چلے جانا بہت آسان ہے مگر موت سے پہلے کچھ بڑا کر جانا بہت مشکل۔ احسان دانش کی زندگی ہمارے لیے مستقل مزاجی کا عملی نمونہ ہے۔ آپ کی زندگی میں جتنی مرضی مجبوریاں ہیں آپ کو اپنی کامیابی جتنی مرضی دور نظر آرہی ہو۔ مگر آپ اپنے راستے پر چلتے جائیں۔ پہلے آپ خود راستہ بنائیں گے پھر راستہ خودبخود آپ کے قدموں میں بچھتا جائے گا اور پھر راستے کے ایک نکڑ پر کامیابی آپ کا ویلکم کرنے کے لیے کھڑی ہوگی اور یہ سب تب ممکن ہے جب آپ مستقل مزاج ہوں گے۔

بیماری ہمارے اندر ہے

 انصر محمود بابر
ہمارے دور تعلیم میں تو جمع تفریق کے لیے کیلکولیٹر کا میسر ہونا بھی امیری کی علامت ہوتی تھی لیکن دماغ خوب چلتا تھا۔ وقت دیکھنے کے لیے خال خال لوگوں کے پاس گھڑی ہوا کرتی تھی۔ اس کے باوجودایک دوسرے کے لیے کافی وقت مل جایا کرتا تھا۔ محلے میں کسی کسی کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا اور پھر بھی بے حیائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ذاتی سواری کا دور دور تک کوئی تصور نہ تھا۔ پھر بھی سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو ہی جاتے تھے۔ کسی کسی پڑھے لکھے ”بابو“ یا ”منشی“ کے ہاں اخبار آیا کرتا تھا جو خبریں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے اور بڑے بوڑھے سر دھنتے جاتے۔
بڑی سے بڑی بیماری بخارکو مانا جاتا تھا جس کی اعلیٰ سے اعلیٰ دوائی کوئی کڑوی کسیلی گولی ہوتی اور یہ گولی بھی سب کو میسر نہیں ہوتی تھی۔ گھر میں زیادہ سے زیادہ 2 کمرے ہوا کرتے تھے۔ کچی دیواروں پر مٹی کا لیپ ہوتا اور ناہموار کچے فرش پر چارپائیاں گھسیٹنے کے نشانات ہوا کرتے۔ گھروں میں واش روم کا کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ گھر کے کھلے آنگن میں شام کو جب پانی کا چھڑکاﺅ کرتے تو مٹی کی خوشبو روح تک میں اتر آتی۔ مہینے میں ایک آدھ بار گوشت پکتا تو شوربہ اور آلو بھی سالن کا حصہ ہوتے اور اس سالن میں بھی ہمسایوں کا حصہ ضرور ہوتا۔ عید بقر عید پہ گڑ والے میٹھے چاول پکتے اور ان نعمتوں پہ بھی خدا کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ روزوں والی عید پہ نئے کپڑے سلواتے اور وہ بھی نیلے رنگ کی اسکول یونیفارم تاکہ عید پہ نئے کپڑوں کا شوق بھی پورا ہوجائے اور اس کے بعد سارا سال سکول میں پہننے کے کام بھی آتی رہے۔ بالکل اسی طرح سیاہ رنگ کے جوتے خریدے جاتے اور یہ جوتے بھی سارا سال اسکول یونیفارم کا حصہ ہوتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کے اس دور میں بچوں کو اسکول چھوڑنے کوئی نہیں جایا کرتا تھا خود اسکول جانا پڑتا تھا اور وہ بھی پیدل۔
ان ساری کمزوریوں، کمیوں اور غربت کے باوجود ہمارے بزرگوں کی صحت قابل رشک اور جسامت آئیڈیل ہوتی۔ ان کی آنکھوں میں حیا، چہروں پہ رعب اورشخصیت میں جلال ہوتا۔ اس سادگی میں بھی وقار اور ایک بانکپن ہوتا۔ ان کی ہنسی کسی آبشار کی مانند شفاف ہوتی اور کسی کے لیے دل میں کوئی کینہ اور بغض نہ ہوتا۔ ہر رشتے کا احترام ہوتا اور ہر جذبہ خالص ہوتا۔ سادہ لوگ، سادہ خوراکیں، سادہ طرز زندگی اور خلوص ان کا طرہ امتیاز ہوتا۔ ان کی شخصیت میں ٹھہراﺅ، لہجے میں نرمی اور دل میں سکون کی ندیاں موجزن ہوتیں۔ زندگی اتنی بھر پور اور پرسکون ہوتی کہ کسی الف لیلوی داستان کا گمان ہوتا۔ آج کل کی طرح ہارٹ اٹیک، شوگر، فالج اور دماغی شریان پھٹنے جیسی مہلک بیماریوں کا کسی نے کبھی نام تک بھی نہ سنا ہوگا اور آج ہم ان سب کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
جب کہ آج ہمارے گھروں میں کئی کئی کمرے ہیں۔ ہرکمرے میں پختہ فرش، اس پہ خوبصورت اور قیمتی قالین، اٹیچ باتھ، بڑے سائز کی ایل سی ڈی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، مہنگا موبائل فون، آرام دہ بستر، پرشکوہ بیڈ اور صوفے، جدید ڈائننگ ٹیبل اور روزانہ انواع واقسام کے من و سلوٰ ی نما کھانوں کی ورائٹی کے علاوہ تقریباً اکثر گھروں میں مائکرو ویو اوون، فریج، اے سی، واشنگ مشینیں، بجلی بند ہونے کی صورت میں متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ الماریاں ہرتہوار، ہر کام اور موقع کی مناسبت سے قیمتی ملبوسات سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ برانڈڈ جوتوں، کوٹ اور ٹائیوں کی بہتات ہے۔ بچوں کے اسکول اور کالج جانے کے لیے موٹرسائیکل اور گاڑیاں موجود ہیں۔ سکون پھر بھی نہیں ہے۔
گھر سے باہر کی بات کریں تو شاندار گاڑی، انتہائی ڈیکوریشن والا ٹھنڈا ٹھار دفتر، خوب صورت سیکرٹری، جما جمایا کاروبار اور اوپر کی آمدنی کے ٹھاٹ باٹھ کے علاوہ شہر کے مہنگے مہنگے کلبوں کی ممبر شپ اور دیگر لوازمات کی بھرمار ہے۔ ہر چیز آپ کی قوت خرید میں ہے۔ آپ کسی ادارے میں چلے جائیں، لوگ ہاتھ باندھے آپ کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں۔ کاروبار، سیاست، معیشت، بیرون ممالک دورے اور اس جیسی ہر چیز آپ کی پہنچ میں ہے۔ بہترین پرائیویٹ تعلیمی ادارے آپ کے بچوں کی تعلیم کے لیے موجود ہیں اور قابل ترین ڈاکٹرز آپ کی دیکھ بھال کے لیے آپ کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر و موجود ہیں۔ آپ پھر بھی بے چین ہیں۔
کوئی ایسی بیماری ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ کوئی ایسی کمی آپ کے بستر میں ہے کہ آپ کی نیند کسی خواب آور دوا کی مرہون منت ہے۔ کوئی ایسا جراثیم آپ کے جسم میں موجود ہے جو آپ کو آپ کا من پسند کھانا کھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کا کوئی عمل تو ایسا ہے کہ آپ بے سکونی، بے چینی کا شکار ہیں۔ آپ ایسا کیا کرتے ہیں کہ جو آپ کے دل کو قرار نہیں؟ یقینا کوئی ایسی بیماری ہے جسے ڈاکٹرز تشخیص نہیں کر پا رہے۔ آپ کا دل کوئی ایسی خوشی چاہتا ہے جو مہنگی گاڑیوں، شاندار بنگلوں، ہائی پروفائل میٹنگز، آئے دن بدلتی رفاقتوں اور امپورٹڈ مشروبات میں میسر نہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کے اس روگ کا علاج اور نسخہ ہے میرے پاس۔ آپ بس ان چند ٹوٹکوں پہ عمل کرگزریں ان شاءاللہ افاقہ ہوگا۔
آپ اپنا معمول بنالیں۔ آپ ہر ماہ کسی غریب رشتے دار کی چپکے سے مدد کردیا کریں۔ کسی پڑھے لکھے بے روزگار کو کام پہ لگوادیں۔ کسی طالب علم کی چپکے سے فیس بھردیا کریں۔ ہر ویک اینڈ پہ اپنے دوستوںکے ساتھ گپ شپ لگائیں۔ ان کے ساتھ کیرم کھیلیں۔ اکٹھے واک پہ جائیں۔ چائے کافی کے بہانے دوستوں کو وقت دیں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ بات بات پہ کھل کرہنسیں، قہقہے لگائیں۔ دوستوں اور بچوں کے ساتھ ٹرپ پہ جائیں۔ اپنی فیملی کو انٹرٹین کریں۔ اپنے شہر، گاﺅں یا محلے میں کوئی رفاہی کام کروادیں۔ قدرتی نظاروںکو غور سے دیکھیں اور قدرت کی صناعی پہ غور کریں اور جو کچھ آپ کے پاس ہے ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ میرا یقین ہے کہ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ آپ آرام سے سوسکیں گے۔ آپ کے دل کو قرار آجائے گا۔ کچھ عرصہ یہ مت سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جس طرح آپ کے پاس لوگوں کے لیے وقت نہیں اسی طرح لوگوں کے پاس بھی وقت نہیں کہ وہ آپ کے متعلق سوچتے پھریں۔ کچھ وقت کے لےے آپ اپنے لیے بھی سوچیں۔ کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالیں۔ اس لیے کہ بیماری ہمارے اندر ہے اس کا علاج بھی اپنے اندر سے شروع کرنا ہوگا۔

حسنِ صورت عارضی ہے

عظمیٰ ظفر

رشتے والی خالہ کو دیکھ کر یونیورسٹی سے واپس گھر آنے والی زینب کا منہ بن گیا۔ ایک تو پوائنٹ کا رش کافی تھا دماغ گرم کرنے کے لیے اور اب یہ شروع ہو جائیں گیں کہ آج کل کیسی لڑکیاں پسند کرتے ہیں لڑکے والے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی خوش مزاج سی زینب نے سرد مہری سے انھیں سلام کیا اور کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
زینب کے اس طریقے پر بیگم ناہید شرمندہ سی ہو کر پہلو بدل گئیں اور خالہ زبیدہ سے معذرت کرتے ہوئے زینب کی طرف داری کرنے لگیں۔ ارے بھئی کوئی بات نہیں! دھوپ سے آئی ہے تھک گئی ہوگی۔ رشتے والی خالہ نے زینب کی اس بات کو نظر انداز کیا تم اسے اب گھر بٹھا دو۔ ویسے ہی رنگ کم ہے دھوپ میں اور جل رہا ہے زینب کو ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ امی کو دکھی کر دینے کے لیے زینب کے ر نگ کا کم ہونا ہی کافی تھا مزید اس پہ معقول شکل۔ اس لیے وہ جلدی سے شربت کے تین گلاس بنا کر لے آئی۔ ”اے جیتی رہو بٹیا!“ ”اور سنائیں خالہ! کون سے سیارے کی لڑکیوں کے رشتے کروا رہی ہیں آج کل؟“ زینب نے مسکراتے ہوئے گلاس بڑھایا اس کے اس چٹکلے پہ دونوں خواتین کے چہرے پر ہنسی آ گئی۔لو اور کر لو بات! زمین کی تو بیاہ جائیں پہلے، انوکھے سیارے سے تو تم آئی ہو بٹیا۔ آج کل کی بچیوں کی طرح کوئی شو شا ہی نہیں ایسی لڑکیوں کو کون پسند کرتا ہے؟ آج کل کے لڑکے بھی کہتے ہیں مینی کیور، پیڈی کیور والی لڑکی چاہیے۔
پچھلے مہینے ایسی گوری، چندے آفتاب، چندے مہتاب لڑکی ڈھونڈ کر دی میں نے بیگم شہناز کے بڑے بیٹے کے لیے تم لوگ شادی میں کیوں نہیں آئے پوچھ رہی تھیں وہ تمھارا کے ناہید کیوں نہیں آئی؟ ”دراصل ہم لوگ خود نند کے بیٹے کی شادی میں مصروف تھے ان دنوں اس لیے شرکت نہ کر سکے“، بیگم ناہید نے کہا۔”لو تمھاری نند تو بڑی تعریف کرتی تھی زینب کی کسی اور سے کردی اپنے بیٹے کی شادی اپنے نہیں پوچھیں گے تو کون پوچھے گا؟“ ”اب ایسا بھی نہیں، میری بیٹی بہت سلیقے والی ہے جب اللہ کا حکم ہوگا، ہو جائے گی بس تم اچھا لڑکا دیکھنا جو دین دار ہو“۔
”امی! میں بھائی کے ساتھ شہناز آنٹی کے گھر چلی جاوں؟ مجھے کروشیے کے کچھ ڈیزائن پوچھنے تھے“، زینب نے ان سے پوچھا۔ ”چلو میں بھی چلتی ہوں کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی“۔ ”امی! دروازہ تو کھلا ہوا ہے“، زینب نے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ ”چلو اندر چل کر دیکھتے ہیں، سناٹا بھی لگ رہا ہے“، لاونج میں پہنچے تو شہناز بیگم کافی غمزدہ لگ رہی تھیں۔ ”آنٹی خیریت تو ہے، باہر کا دروازہ کیوں کھلا ہے“۔ ”کیا ہوا شہناز؟“ بیگم ناہید کا پوچھنا تھا کہ وہ زار و قطار رونے لگیں۔ ”ارے ارے، شہناز! کیا ہوا؟ تم رونا بند کرو اور کچھ بتاو بھی“۔
”میں آپ کے لیے پانی لاتی ہوں“، کچن کی حالت دیکھ کر زینب کو لگا کے یہاں کوئی طوفان آیا تھا۔ گلاس دھو کر پانی لے آئی۔ پانی پینے کے بعد وہ گویا ہوئیں، ”کیا کیا بتاوں بہن، بہت چاہ سے بہو لے کر آئی تھی مگر وہ تو مومی مجسمہ نکلیں۔ گھر کے ہر کام کے لیے تو ملازمہ موجود ہے۔ آج اس نے چھٹی کرلی کل رات سے میری طبعیت خراب ہے موشن نے آدھی جان نکال دی ہے، صبح سے بخار سے نڈھال اٹھنے کی ہمت نہیں ہے۔ فہد بھی بنا ناشتے کے چلا گیا۔ بہو سے اتنا کہہ دیا کہ دوپہر میں تھوڑی سی کھچڑی بنا دینا۔ غصے سے بھری کچن میں جو اٹھا پٹخ مچائی وہ الگ، فہد کو فون کرکے بلایا اور چلتی بنیں۔ دیکھو تو دروازہ بھی کھلا چھوڑ گئی۔ بول کر گئیں ہیں نازک پری جب ملازمہ آجائے گی تب آوں گی۔ میں گھر کے کام نہیں کروں گی، میری اسکن خراب ہوتی ہے۔ فہد سے کچھ کہو تو کہتا ہے میں کیا کروں؟ اسے میرے کاموں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں“۔
زینب ایک، ڈیڑھ گھنٹے کے عرصے میں کچن سمیٹ کر ان کے لیے کچھڑی چڑھا چکی تھی۔ پھر ان کے لیے قہوہ بنا کر لائی۔ ”آنٹی پہلے یہ بسکٹ کھا کر دوا لیں پھر آپ اور امی باتیں کریں جب تک کچھڑی تیار ہو جائے گی“۔”تم نے اتنا کچھ کیوں کیا بیٹا! میں کر لیتی بہت شکریہ اللہ تمہیں خوش رکھے“، آج معمولی صورت والی زینب ان کو بہت پیاری لگ رہی تھی۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک مہکتی شام میں زینب کا سانولا رنگ خوشی سے چمک رہا تھا اور شہناز بیگم اپنے دوسرے بیٹے کی خوشیوں کا ہار زینب کے گلے میں ڈال کر یہی سوچ رہی تھیں کہ!
حسنِ صورت عارضی ہے
 حسنِ سیرت مستقل
اس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں 
اِس سے خوش ہوتا ہے دل

Monday, June 3, 2019

اپیل بنا م وزیر اعظم پاکستان عمران خان


علی احمد ساگر

جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد کے علا قہ میکلوڈگنج میں ایسا واقع پیش آیا جسے سن اپنے انسان ہو نے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔ 19مئی 2019بروز۱توار کو میکلوڈگنج کی نواحی بستی کا رہائشی زبیر ڈوگر جو کہ کپڑا بیچنے کاکاروبار کرتا تھا اور دیوان پٹرولیم پر ہر اتوار کو لگنے والے اتوار بازار میں کپڑا بیچنے گیا تو اسکول سے چھٹی ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ اپنے ساتھ سالہ معصوم بھتیجے عبدالرحمن کو بھی اپنی مدد کے لئے ساتھ لے گیا۔ گرمی کا موسم تھا زبیر اپنے کام کاج میں مصروف ہوا تو عبدالرحمن پانی پینے کے لئے دیوان پٹرولیم پر چلا گیا جہاں سے حوس کے پجاری ، وحشی درندوں سلیم جھنگڑ اور صفدرشیخ جو کہ مقامی زمیندار اور دیوان پٹرولیم سروس کے مالک دیوان شہزاد احمد چشتی کے کھیتوں پرملازم تھے نے بچے کو ورغلا کر اغواہ کر لیا۔
زبیر کاروبار ی مصروفیت سے فارغ ہوا تو بھتیجے عبدالرحمن کی تلاش شروع کردی۔ قرب و جوار سے نہ ملنے پر گھر فون کرکے معلوم کیامگر عبدالرحمن کا کہیں پتا نہ چل سکا۔ تلاش سے تھک ہار کر شام کو اغواہ ہونیوالے معصوم عبدالرحمن کے والد سیف اللہ نے تھا نہ میکلوڈگنج میں درخواست گزاری جس پر پولیس تھا نہ میکلوڈگنج نے روائتی انداز اپناتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لیا اور مدعیان سے کہہ دیا کہ ہمارا نمبر لے جا ئیں اگر کہیں سے پتہ چل جا ئے تو ہمیں بھی بتا دینا اور درخواست بغیر ٹیگ لگائے لاکر میں پھینک دی ۔ چار یوم گزرجانے کے باوجود بھی میکلوڈگنج پولیس ٹس سے مس نہ ہو ئی تو بے قرار والد اپنے عزیزو اقارب کے ہمراہ ضلع بہاولنگر شہر کی منڈیوں اور بازاروں میں گمشدگی کے پوسٹرز بنوا کرتقسیم کرنے لگا اور ہر آنے جا نے والے سے پوچھتا کہ کہیں کسی نے میرے بیٹے کو دیکھا ہو۔۔۔
بہاولنگر کے اتوار بازار میں پوسٹرز تقسیم کرتے ہو ئے اور ررہاتھا کہ وہا ں پر وزٹ پر آئے مقامی اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر نے اس سے دریافت کیا تو عبدالرحمن کے والد سیف اللہ وغیرہ نے انہیں تمام حقائق سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے اپنا ایک بندہ ساتھ بھیج کر ڈی پی او بہاولنگر کے پاس داد رسی کے لئے پہنچا یا ۔ڈی پی او بہاولنگر عمارہ اطہر نے جب یہ سارا قصہ سنا تو انہوں نے ڈی ایس پی منچن آباد کی سر زنش کرتے ہو ئے جلد ہی بچے کی بازیابی کے لئے احکا ما ت صادر کیے اور فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ڈی ایس پی منچن آباد نے میکلوڈگنج پولیس کے ہمراہ دیوا ن پٹرولیم کے سی سی ٹی وی کیمروں کا بیک ڈیٹا چیک کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کیا تو مغویہ بچے کو علاقہ کی معروف سیاسی شخصیت دیوان شہزاد احمد چشتی ایکس چیئرمین یونین کو نسل پیر گھر چشتی کے ملازم سلیم کو بچے کو مکئی کی فصل کی طرف لے جا تے ہو ئے دیکھا گیا تو ڈی ایس پی منچن آ با د نے فوری طو رپرزیر دفعہ 363مقدمہ درج کرکے سلیم کو گرفتا ر کر کے تفتیش شروع کر دی۔ دوران تفتیش ملزم سلیم جھنگڑ نے اپنے ساتھی صفدر شیخ کو بھی گرفتار کر وا دیا جنہوں نے بچے کو اغواہ کرنے کا جرم قبول کر لیا۔
24مئی 2019بروز جمعہ ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے سلیم جھنگڑ اور اس کے ساتھی صفدر شیخ کے ہمراہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کے بعد بچے کو جان سے مارنے کا جرم کا قبول کرلیا اور نعش پٹرول پمپ کے قریبی کھڑی مکئی کی فصل سے برآمد کروا لی۔ معصوم بچے کی نعش کو جنگلی کتوں اور گیدڑوں نے چیڑ پھاڑ دیا تھا جسے دیکھ کر والدین اور عزیز واقارب کو غشی کے دورے پڑنے لگ گئے ۔ یہ خبر جنگل کی آ گ کی طرح علا قہ میں پھیل گئی اورمظلوم بچے کے ورثاءاور اہلیان علا قہ جا ئے وقوعہ کے قریب جمع ہو گئے اور میکلوڈگنج پولیس کی بے حسی پر شدید احتجاج کیا ۔میکلوڈگنج پولیس نے چار یوم تک بچے کے ورثاءکی کو ئی مدد نہیں کی بلکہ ڈی پی او کے حکم کے بعد ہی ڈی ایس پی منچن آباد نے وقوعہ کو ٹریس کیا ۔علی الصبح سے سلیمانکی روڈ پر مظاہرین کی بڑی تعداد کی جمع رہی اورمین جی ٹی روڈ بند رہا۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ دیوان شہزاد نے معصوم کے ورثاءکے ساتھ تعاون نہیں کیا بلکہ اپنے ملازم کو آخری دم تک بچانے میں کوشاں رہا لہذا اس کے خلاف بھی مقد مہ درج کرکے گرفتار کیا جا ئے ۔ایس پی انوسٹی گیشن بہاولنگر مظاہرین سے معاملات طے کرنے میں کامیاب ہو گئے اور شام کے قریب مظاہرین نے اپنے مطالبات سے دستبردارہو کر ہڑتال ختم کردی ۔چونکہ ڈی پی او کے حکم پر مو رخہ 23مئی 2019کو تھا نہ میکلوڈگنج میں سیف اللہ ولد محمد صدیق کی مدعیت میں ایف آئی آر مقدمہ نمبر 141/19بجرم 363نا معلوم افراد کے خلاف در ج ہو چکی تھی لہذا اسی مقدمہ کی مثل میں 302اور 377کی دفعات شامل کر دی گئیں ۔ڈی ایس پی منچن آ با د نے 30مئی 2019کو تھا نہ میکلوڈگنج میں پریس کانفرنس کرتے ہو ئے صحافیوں کو بتا یا کہ دوران تفتیش ملزم صفدر شیخ نے مزید ایسے کئی واقعات میں ملوس ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے بتا یا ملزم صفدر شیخ پر اس سے قبل تھا نہ فورٹ عبا س اور تھا نہ ماچھیوال میں بھی زیر دفعہ 302,377کی ایف آئی آرز در ج ہیں جن میں یہ سزائے مو ت ہو چکا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ صفدر شیخ عادی ملزم ہے جبکہ اب تک کی تفتیش کے مطا بق سلیم جھنگڑ کی اس نو عیت کی پہلی واردات ہے۔باوثوق ذرائع کے مطا بق پتہ چلا ہے کہ ملزم صفدر شیخ انسانی خون کو پینے کے ساتھ ساتھ انسانی گوشت کھانے کا شوق بھی رکھتا ہے ۔سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس طرح کے خطرناک ملزمان ،ناعاقبت اندیش آخر قانون کے شکنجے سے بچ کیسے جا تے ہیں۔
حیرت کی با ت ہے کہ ایسے جنونی اور انسانیت سوز واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتاجا رہاہے ۔1981کے ضیا ءالحق کے دور میں اسی طرز کاایک واقع پیش آیا جس پر انہوں نے پنجاب پولیس کو 10گھنٹے کی مہلت دی اور ملزمان کو گرفتا ر کرکے پیش کرنے کے احکامات جاری کیے ۔پولیس نے تین ملزمان کو گرفتا ر کر کے ضیا ءالحق کے پیش کیا تو انہوں نے تینوں ملزما ن کو لاہور کی مین سڑک پر پول لگا کر گلے میں پھندہ ڈال کر لٹکانے کے احکا مات دیے ۔کئی روز تک ان ملزمان کی نعشیںلٹکی رہیں حتی کہ ان کی کھالیں لٹک گئیں ۔ان درندوں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے بعد کئی سال تک زیادتی اور قتل کاکوئی کیس سامنے نہیںآیا ۔ سات سالہ معصوم عبدالرحمن اپنے گھر میں دوچھوٹی بہنوں کااکیلا بھائی تھا ۔مقتول عبدالرحمن کے والد ین اور اہلیان علاقہ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے در مندانہ اپیل کی ہے کہ ظالم ،درندوں ،انسانی شکل میں چھپے بھیڑیوں کو سر عام پھانسی دے کر نشان عبرت بنا یا جا ئے ۔

Saturday, June 1, 2019

نظریاتی اختلاف




مستقل عنوان: حقیقت کے قریب
کالم نویس: مدثر مہدی 

عوام ا س وقت نہایت پریشان و حیران کن صورتحال سے دوچار ہے۔ملک تباہی کے دہانے پر ہے یاخوشحالی کے راستے پر کوئی نہیں جانتا ۔جی ہاں یہ وہی عمران خان ہیں جو وزیراعظم بننے سے قبل بلند و بانگ دعوو ں کا راگ الاپتے تھے جن کا کہنا تھا کہ عوام کو میٹرو بس،سڑکیں نہیں بلکہ روٹی ،مکان،علاج اور روزگار چاہئے۔جو بھولی بھالی معصوم عوام کو ایسے دلفریب و رنگین خواب دکھا چکے ہیںجن کے سحر سے نکلنا ناممکنات جیسامعلوم ہوتا ہے۔ ناجانے کب یہ قوم غفلت کی گہری نیند سے بیدار ہوگی۔بہرحال ابھی معاملہ کچھ یوں ہیں کہ یہ خواب تو عوام کی جان چھوڑنا چاہتا ہے مگر عوام اس حسین و دلکش طلسمی سپنے کی جان نہیں چھوڑنا چاہتے۔عین ممکن ہے عوام کو اس خواب شیریں سے جگانے کیلئے کسی پیربابا کی ضرورت پڑے تاہم ان پیر باباکا پتہ بھی ہمیں خان صاحب ہی سے پوچھنا ہوگاچونکہ وہ اس فیلڈکا کافی فہم وادراک رکھتے ہیں۔خان صاحب کو میدان میں اترنے سے پہلے حقائق کا علم نہ تھا جن معلومات کے دم پر وہ تبدیلی کے فلک شگاف نعرے لگاتے تھے ان کا حقیقت سے دور دور تک کو ئی تعلق نہ تھا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی نوجوان قیادت باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔مریم صفدر کے ساتھ بلاول بھٹو کو دیکھ کر اچانک محترمہ بینظیر بھٹو (شہید)اور جیل میں قید نواز شریف صاحب کی یاد آگئی۔ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے اپنی تمام سیاسی زندگی میں ایک دوسرے کوچور و غدار کا خطاب دے کر لوگوں سے ووٹ بٹورے۔دونوں سیاسی جماعتوں میں سے جو جماعت لفظ © © ©”چور“ کی گردان کا وِرد زیادہ مرتبہ کرتی وہی محکوم لوگوں کا مسیحا بن کر مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتی۔مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ”زرداری صاحب“یا ”نوازشریف صاحب“جب بھی کرسی پر بیٹھتے ہونگے ہم عوام کی بیوقوفی،جاہلیت،نالائقی پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھیرتے ہونگے۔
ہم نے پیپلز پارٹی کو اسی کا رنا مے پر تو ووٹ دیے تھے کہ اس پارٹی نے ہمیںبتایا تھا کہ (ن)لیگ والے چور و لٹیرے ہیںانہوں نے ہماراپیسہ لوٹا ہے ہم کو ٹھگ لیا ہے۔بالکل اسی طرح ہم نے میاں نواز شریف کو بھی تو اسی بنا پرووٹ دیے تھے کیونکہ اس مسیحا نے ہم کو یہ فہم و ادراک دیا تھا کہ پیپلزپارٹی ہم کو اندھیروں میں ڈبو رہی ہے ان کی بدولت ملک غریب ہورہااور ایک دن یہ اس ملک کو بیچ ڈالیں گے۔اگر سچ یہی تھا تو آج یہ لوگ ایک ساتھ کیوں ہیں!ان دونوں میں سے کوئی ایک تو غلط تھا یا پھر دونوں ہی مکار تھے کیونکہ حق اور باطل ایک کیسے ہوسکتے! کہیںہم نے ان کو سمجھنے بوجھنے میں کوئی غلطی تو نہیں کردی!کیا ہمارے ساتھ دھوکا تونہیں ہوا!کیا ہم ویسے لوگ تونہیں جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی اندھے ہیں! ان دونوں سیاسی جماعتوں کے مطابق تو یہ دونوں کرپٹ ،بد عنوان،بدکردار،فریبی،غدارتھے تو آج یہ پارساو پاکبازکیسے ہوگئے۔ یہ دونوں تو نظریاتی پارٹیاں تھیں۔جمہورو جمہوریت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے والے لوگ تھے۔آج کدھر ہے ان کانظریہ۔
نظریہ سے مجھے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔آپ اگر باریک بینی سے جائزہ لیںتو آپ کو ہماری گلی محلے ،حلقے،شہر،صوبے نیزملکی سیاست ایک ہی کہانی محسوس ہوگی۔میرے والد ایک وکیل اور سماجی آدمی تھے جس بنا پر انکی سینکڑوں دیرینہ مخالفتیں تھیں جو مجھے ورثے میں ملیں۔ایک بار میں نے ان سے دریافت کیا میں نے علاقے میں بہت سے لوگوں کے لڑائی جھگڑے دیکھیں ہیں مگربالآخر سب کی صلح ہوجاتی ہے لیکن آپ میری پیدائش سے قبل کے واقعات کو لیکر آج بھی کئی لوگوںسے نہ صرف لاتعلق بلکہ آج بھی ان کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جبکہ وہ لوگ آپ کے قریب آنے کیلئے آپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔والد محترم نے تسلی و تسکین سے بھرپور لہجے میں جواب دیا کہ بیٹا جس طرح برائی اور اچھائی کبھی ایک نہیں ہوسکتی اسی طرح اچھا انسان بھی کبھی برے کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا۔یہ دونوں مد مقابل اور ایک دوسرے کی ضد ہیںکیونکہ ان دونوں میں سوچ کا فرق ہے اور وہ سوچ” نظریہ“ ہوتا ہے تاہم اگر میں اپنے مخالفین کے ساتھ صلح چاہتا ہوںتو مجھے پہلے اپنے نظریے کا قتل کرنا ہوگااس کا گلا دبانا ہوگا۔صلح تب ہی ممکن ہے جب وہ مجھ جیسے ہوجائیں یا میں ان جیسا بن جاو ¿ں۔ پس ہمیں یہ مان لینا چاہئے ا ن جماعتوں کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیںاور اگر ان کا کو ئی نظریہ تھا تو آج یہ ایک جگہ ایک جیسی سوچ وفکر کے ساتھ نہ مل بیٹھتے۔
 مریم نواز اسی نواز شریف کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ ضیا ءالحق کے بیٹے ہیں۔اگر پیپلز پارٹی سچ میں جمہوری جماعت ہے تو آج ایک آمر کے بیٹے کی جماعت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ایک ڈکٹیٹر کی پیدا کردہ سیاسی پارٹی کا ساتھ دینا کیا جموریت کا قتل نہیںبلکہ میں یوں کیوں نہ کہہ دوں کے یہ لوگ جمہوریت کا قتل کر نے کے بعد اس کو اپنے ہاتھوں سے دفنا بھی چکے ہیں۔ایسے درندہ صفت لوگ موت سے کیوں نہیں ڈرتے،کیا ان کا بعد از مرگ دائمی زندگی پر ایمان بھی نہیں ،اگر انہیں خوف خدا ہے تو لوگوں کے حال پر رحم کیوں نہیں کرتے،عوام کے جذبات سے کھیلنا ان کا ذوق و شوق کیوں ہے،بھوکے و غمزدہ چہروں پر تمسخر اڑانا ان کا پسندیدہ و دلعزیز مشغلہ کیوں ہے،یہ کیوں نہیں سوچتے غربت کی ماری قوم ان کے جھوٹے وعدوں کواپنی مشکلات کی نجات سمجھتی ہے۔مہنگا ئی و بے روزگاری سے پسی ہوئی عوام ان کے کھوکھلے نعروں کو امید کی کرن سمجھتے ہیں۔میری تمام سیاسی جماعتوں سے التجا ہے برائے مہربانی ہم مفلس زدہ لوگوں پر ہنسنا بند کرو۔ہماری سانسوں پر نہیں ہمارے دلوں پر حکومت کرنے کے ہنر سیکھو۔ 

اعتکاف فضائل و مسائل

 کوثراسلام

مسلمان سارا سال اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ کوئی کاروبار کرتا ہے تو کوئی کھیتی باڑی، کوئی اسکول کالج میں پڑھاتا ہے تو کوئی اسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ مسلسل دنیاوی کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے ایمانی اور روحانی سطح کمزور ہو جاتی ہے۔ مسلمان کو روحانی طور پر چارج کرنے کے لیے اللہ تعالی نے رمضان کے روزے فرض کر دیے۔ رمضان کا مہینہ ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے سالانہ ورکشاپ کا مہینہ ہے جس میں مسلمان خود کو ایمانی اور روحانی لحاظ سے اپ گریڈ کرتے ہیں۔
مسلمان جب مسلسل بیس دن روزہ رکھ کر اپنی نفسیات اعتدال پر لاتے ہیں تو پھر اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ یہ باقی دس دن میرے سوا تمام مخلوقات سے غیر ضروری میل جول ترک کرکے میرے در پر آ جائیں تاکہ ایمان اور روحانیت کی بلندیوں کو چھو سکیں۔یہ آخری دس دن جس میں مسلمان ہر طرف سے یکسو ہو کر صرف اللہ سے لو لگا کر ان کے در یعنی مسجد کے کسی گوشے میں ہر وقت عبادت اور ذکر و تلاوت میں مشغول رہتا ہے اس کو اعتکاف کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسجد میں ایک جگہ مخصوص کر دی جاتی اور وہاں آپ کے لیے کوئی پردہ چٹائی وغیرہ کا ڈال دیا جاتا یا کوئی چھوٹا سا خیمہ نصب ہو جاتا اور بیسویں تاریخ کو فجر کی نماز پڑھ کر آپ وہاں چلے جاتے اور عید کا چاند دیکھ کر وہاں سے باہر تشریف لاتے۔حدیث نبوی ہے ”اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لیے (بغیر کئے بھی) اتنی ہی نیکیاں لکھی جاتی ہیں جتنی کرنے والے کے لیے لکھی جاتی ہیں“ (ابن ماجہ) یعنی وہ نیک کام جو یہ اعتکاف کی وجہ سے نہیں کر سکتا اللہ تعالی بغیر کیے اس کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”رمضان کے (آخری) دس دنوں کے اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے“۔ (بیہقی)
اللہ تعالی فرماتے ہیں ”جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں دوڑ کر اسے اپنا لیتا ہوں“۔ اعتکاف کرنے والا اپنا گھر چھوڑ کر اللہ کے در پر آ کر پڑ جاتا ہے تو وہ کتنا اللہ کے قریب ہوگا۔ اعتکاف کرنے والے کا ہر ہر منٹ عبادت ہے شب قدر آخری عشرہ میں آتی ہے تو جب شب قدر آئے گی اعتکاف کرنے والا عبادت میں ہوگا لہذا شب قدر کے حصول کا سب سے بہتر طریقہ اعتکاف کے سوا اور کوئی نہیں۔
اعتکاف کا وقت
اعتکاف 20 رمضان کی شام کو غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ یہ اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے یعنی محلہ یا بستی میں بعض لوگوں کے کر لینے سے سب کے ذمہ سے ادا ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب کے اوپر اس کا وبال ہوگا۔ جس شخص کا اعتکاف کا ارادہ ہو اسے چاہیے کہ 20 رمضان کو سورج غروب ہونے سے پہلے اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں داخل ہو جائے۔ یا اگر عورت ہے تو اعتکاف کی جگہ بیٹھ جائے۔
عورت اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کی جگہ ہے وہیں اعتکاف کرے اگر کوئی جگہ مخصوص نہ ہو تو جہاں اعتکاف کرنا چاہتی ہو وہی جگہ نماز کے لیے مخصوص کرکے وہاں اعتکاف کے لیے بیٹھ جائے یہ اس کے حق میں ایسا ہے جیسے مرد کے لیےجماعت والی مسجد میں اعتکاف کرنا۔ وہاں سے ضروری حاجت کے سوا دوسرے وقت میں نہ نکلے۔
مسائل اعتکاف
20 تاریخ کو اگر سورج غروب ہونے کے بعد اعتکاف میں داخل ہوا تو عشرہ اخیرہ کی سنت ادا نہ ہوگی۔ عورت کے لیے اعتکاف کے لیے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف نہ کرے۔ خواتین کو اعتکاف کے دوران مخصوص ایام آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے۔ پاک ہونے کے بعد اس ایک دن کی قضا ضروری ہے 10 دن کی نہیں۔ یہ قضا اگر رمضان میں کی تو رمضان کا روزہ کافی ہوگا اگر رمضان کے بعد قضا کی تو اس دن روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔
یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جس کا اعتکاف ٹوٹ جائے۔ اعتکاف اگر دن میں ٹوٹ جائے تو صرف دن کی قضا واجب ہوگی یعنی صبح صادق سے شروع کرکے غروب آفتاب تک اعتکاف کرے۔ اور اگر رات میں اعتکاف ٹوٹا تو پھر رات دن دونوں کی قضا واجب ہے۔ یعنی غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل شروع کرکے دوسرے دن غروب کے بعد ختم کرے۔ 
معتکف کے لیے کرنے کے کام
اعتکاف میں نیکی اور اچھی باتیں کریں فضول اور لایعنی باتوں سے احتراز کریں۔ اپنی طاقت کے مطابق اپنے اوقات زیادہ سے زیادہ عبادت میں صرف کریں۔ قران شریف کی تلاوت کریں۔ دینی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ درود شریف استغفار اور تسبیحات کثرت سے پڑھیں۔ اشراق چاشت اوابین اور تہجد کی نماز کا اہتمام کریں۔ صلوة تسبیح صلوة حاجت اور تحیتہ الوضو بھی پڑھا کریں۔ شب قدر کی پانچوں راتوں میں جاگ کر عبادت کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیے اپنے اہل و عیال کے لیے اپنے ملک کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔



میمونہ رحمت، راولپنڈی

رمضان المبارک میں جہاں دیگر عبادات میں مسلمانوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے وہیں صدقہ و زکوٰة بھی عموماََ لوگ رمضان المبارک میں ہی زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ زکوٰة دین اسلام کا چوتھا رکن ہے اور ہر عاقل، بالغ ، آزاد اور صاحب نصاب مسلمان پرفرض ہے جب کہ صاحب نصاب ہوے ایک سال کا عرصہ گزر جائے (قمری سال)۔ کسی بھی شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ، ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر تجارتی مال یا ملکی،غیر ملکی کرنسی موجود ہو تو وہ صاحب نصاب ہوگا اور اس پر مال کا اڑھائی فیصد اداکرنا واجب ہوگا۔ زکوٰة میں پیسے دینا ہی ضروری نہیں بلکہ جتنے روپے زکوٰة کے بنتے ہیں ان کا راشن، کپڑا، کتابیںوغیرہ بھی لے کر مستحق کو دیا جا سکتا ہے۔ 
اکثر گھرانوں میں یہ رواج ہے کہ گھر کے سربراہ نے زکوٰة ادا کردی تو باقی صاحب نصاب گھر والوں کا کہنا ہے کہ جی ہمارے گھر کی زکوٰة ادا ہو گئی ہے تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ زکوٰة بھی نماز، روزہ ، حج اور قربانی کی طرح ایک انفرادی فریضہ ہے ۔ جن زیورات کی مالک عورت خود ہے خواہ وہ میکے سے ملے ہیں یا شوہر نے دیے ہیں ان زیورات کی زکوٰة عورت پر فرض ہے ہاں اگرشوہر نے صرف پہننے کو دیے ہوں یعنی ان زیورات کا مالک نہیں بنایا تو ان کی زکوٰة مرد کے ذمے ہے۔ کرایہ پر دیے گئے مکانات، دکانیں، گاڑیاں وغیرہ سے حاصل ہونے والی آ مدنی اگر بقدر نصاب ہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰة واجب ہوگی۔
 دیہات میں اکثرلوگوںکے پاس مویشی ہوتے ہیں ان کے لیے یہ ہے کہ اگر تو وہ مویشی مفت چارہ کھاتے ہیں مطلب خودرو پودے کھاتے ہیں تو ان پر مقرر شرح سے سال گزرنے پر زکوٰة کی وصولی ہوگی لیکن اگر سال کا زیادہ حصہ ان کو قیمتی چارہ ڈالا جائے تو وہ زکوٰة سے مستثنیٰ ہیں۔ بارانی زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار کا دسواں حصہ جب کہ قیمتاََ سیراب ہونے والی زمین کی پیداوار کا بیسواں حصہ زکوٰة ہوگا۔زکوٰة کا جو مستحق ہے اسی کو زکوٰة دینا ضروری ہے اور جو زکوٰة کا مستحق نہیں ہے اگر اس کو دے دی تو ادائیگی نہیں ہو گی۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زکوٰةکے مستحق کو کسی نبی کی مرضی پر چھوڑا ہے اور نہ ہی نبی کے علاوہ کسی اور کی مرضی پر بلکہ خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے اور اس کے آٹھ حصے کر دیے ہیں“۔ (ابوداو ¿د: ۳۶۱، عن زیادبن حارث رضی اللہ عنہ)
مستحقین زکوٰة کے بارے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”زکوٰة تو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو محتاج اور مسکین ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور مو ¿لفتہ القلوب اور گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے“۔ (سورة التوبہ آیت نمبر ۰۶)
اپنے مال و اسباب کا جائزہ لیجیے اور اگر آپ کے پاس کم از کم پینتالیس سے سینتالیس ہزار بینک میں یا ضرورت سے زائد پڑے ہوے ہیں اور ان کو سال ہو گیا ہے تو آپ صاحب نصاب ہیں، اس بابرکت ماہ میں زکوٰة اداکر کے اپنا مال پاک کیجیے ۔ اگر ہمارے معاشرے میں ہر صاحب نصاب شخص زکوٰة ادا کرنے لگے تو یقین مانیے ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ زکوٰة کے مستحقین ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔

بچوں کو کائنات سے جوڑیں



راحیلہ چوہدری ، لاہور

بچے کی سمجھ اور محسوس کرنے کا عمل پیدائش کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ تین سال کی عمر تک وہ ماں باپ کے مزاج وماحول سے آشنا ہو جاتا ہے۔اس دور کا مشاہدہ اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار عطا کرتا ہے۔بچے کی ابتدائی تربیت میں ماں کی قربت کا اہم حصہ ہوتا ہے۔جو بچے کی ذہنی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور اس کی شخصیت کو اعتماد عطا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال بڑے اہم ہوتے ہیں۔ان ابتدائی سالوں میں بچے کو محبت ،یقین اور بھرپور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک بچے کے لیے ماں کی محبت اور توجہ اتنی ہی بنیادی اور ضروری ہے ۔جتنا کسی پودے کے لیے دھوپ اور پانی۔
مغرب نے ہماری آج کی ماں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون پکڑا کے بچوں کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔اس اسمارٹ فون نے انسان کو جہاں بہت فائدے پہنچائیں ہیں ۔دوسری طرف ہماری آج کی ماںسے اپنے بچے کے لیے فکر کو چھین لیا ہے۔والدین بچوں کومہنگے سکول کالج کے حوالے کر کے بالکل بے فکر ہوچکے ہیں۔ جبکہ خوبصورت و فعال ذہنوںکی تعمیر کے لیے صرف دولت نہیںجذباتی اور فکری سرمایہ چاہیے ہوتا ہے۔جو والدین اپنے بچوں کی زندگی میں وقت کی انوسٹمینٹ نہیں کرتے ان کے بچوں کی پرسنلٹی میں بہت سی کمیاں رہ جاتی ہیں۔موجودہ نظام تعلیم ہمارے بچوں کو ڈیپریشن اور تکبر کے سوا کچھ بھی نہیں دے پا رہا۔بچوں کو ایک باکردار انسان اور ایک با عمل مسلمان بنانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کے ابتدائی سالوں میں اسے کائنات کے ساتھ جوڑا جائے۔بچے کا کائنات کے ساتھ جڑنا اس کی تربیت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کائنات میں غورو فکر کرنے سے بچوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔بچپن میں ہی اس کے ذہین کے خالی صفحے پر عقیدہ توحید نقش ہوجاتا ہے۔بچہ بچپن سے ہی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کو اپنے سامنے رکھتا ہے۔اس کی زندگی کے ابتدائی سالوں میں ہی اس کی اللہ سے پکی دوستی ہو جاتی ہے۔اگر ہم تصوف کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں ۔جتنے ولی جتنے درویش تھے انہوں نے علم حاصل کرنے کے بعد جنگلوں غاروں میں رہ کر ہی اللہ کی معرفت حاصل کی۔اللہ کی کائنات میں غوروفکر کرنے سے ہی اصل علم انسان کو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے ۔کائنات میں غور وفکر کے بعد ہی انسان کے اوپر حقیقی معنوں میں علم و حکمت کے دروازے کھلتے ہیں۔
بچوں کو گھر میں چھوٹے چھوٹے پھول اور پودے خرید کر دیں۔اگر آپ کے گھر میں لان یا ایسی جگہ ہے جہاں چھوٹا سا کچن گارڈن بنایا جاسکے بنائیے۔اس میں بچوں کے ساتھ مل کر سبزیاں اُگائیے۔اگر یہ کام آپ خود نہیں کر سکتے تو جب مالی آئے تو بچوں کو مالی کے پاس بھیج دیں ۔بچے اسے دیکھیں گے سوال جواب کریں گے۔ان کی دلچسپی بڑھے گی۔بچے جب پودوں کے پیداوری اور تعمیراتی مراحل کا مشاہدہ کرتے ہیں اس مشاہدے سے بچوں کی سمجھ بوجھ اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔پودوں کے ساتھ جڑنے سے بچوں کے اندرخوشی خلوص،محبت ،خدمت جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اکژ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے ایسے کام کہاں کر سکتے ہیں ۔جبکہ بچوں میں اللہ تعالی نے قدرتی طور پہ بے پناہ طاقت اور سیکھنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ چاپان کے بچے سکول میں اپنے ہاتھوں سے سبزیاں لگاتے ہیں اور وہی سبزیاں دوپہر کو ان کو کھانے میں دی جاتی ہیں۔اور سبزیاں لگانے کا کام ہر کلاس ہر عمر کا بچہ سکول میں کرتا ہے۔
بچوں کو ہفتے میں ایک بار ضرور باغات کی سیر کروائیں۔ٹہنی بیج اور پتے دکھائیں۔پودوں کے نام اور خوشبو کی پہچان کروائیں۔بچوں کو پودوں کی اہمیت کے بارے میں بتائیںکہ پودے بھی ہماری طرح سانس لیتے ہیں ۔ان کی وجہ سے ہمیں آکسیجن ملتی ہے۔اس لیے ان کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اسی طرح بچوں کو پودوں کی خاصیت کے بارے میںبھی ضرور بتائیں۔جیسے سنیک پلانٹ ایک انڈور پلانٹ ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ رات کے وقت یہ پودا وافر مقدار میں آکسیجن چھوڑتا ہے اسی وجہ سے اسے آکسیجن بم بھی کہتے ہیں۔اس کی موجودگی میں انسان پرسکون نیند سوتا ہے اور صبح بستر سے اٹھتے کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوتی ۔اسی طرح ایلوویرا کو سردیوں میں کمرے میں رکھنے سے لوشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔پودینے کے پودے کو گھر کے دروازہ کے ساتھ رکھنے سے گھر کے اندر مکھیاں مچھر داخل نہیں ہوتے۔
بچوں کو درختوں پر چڑھنا اور اترنا بھی سکھائےے۔اس سے بچوں میں ڈر اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔ہڈیاں اور عضلات مضبوط ہوتے ہیں ۔بچے بہادر اور نڈر ہو جاتے ہیں۔اور اس کا سب سے بڑا فائدہ بچوں میں دنیا کو مختلف زاویے سے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ہمارے پیارے نبی بھی جب عرب کے حالات دیکھ کر بہت پریشان ہو جاتے۔تو وہ پہاڑ کی چوٹی پہ چڑھ کر شہر کی طرف دیکھا کرتے اور مسائل کا حل سوچا کرتے۔پودوں کی اہمیت بتانے سے بچوں میں اللہ اورکائنات کی محبت بڑھے گی۔پھولوں اور پودوں کے قریب رہنے سے بچوں کو ذہنی دباﺅ اور چڑ چڑے پن سے نجات ملتی ہے۔بچوں کی خو ش مزاجی میں اضافہ ہوتا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد بچے ہوئے کھانے کو بچوں سے ایک جگہ جمع کرواتے جائیں اور پھر جب وقت ملے۔لان یا چھت پر جا کر بچوں کے ہاتھ سے پرندوں کو کھانا ڈلوائیں ۔اس طرح بچوں میں رزق کا احترام پیدا ہو گا اور پرندوںکو کھانا کھلانے کے سارے عمل سے بچوں میں رحم ،نرمی، خلوص اور امید جیسے جذبات پیدا ہوں گے۔
رات کے وقت کبھی چھت یا لان میں بچوں کو آسمان کا مشاہدہ کروائیں۔ان کو چاند اور ستاروں کے متعلق بتائیں۔دب اکبر ،صبح کا ستارہ، قطبی ستارہ کے بارے میںبتائیں۔قطبی ستارے کے بارے میں بچوں کو خاص طور پر بتائیں کہ شمال کی طرف نظر آنے والا روشن ترین ستارہ ہے۔اس ستارے کی مدد سے راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔اور انسان کو بھی ایک قطبی ستارے کی مانند ہونا چاہیے۔جو اپنے کردار اور صفات کی روشنی سے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھائے۔رات کے وقت پارک جائیں تو بچوں کو جگنو دکھائیں۔اس کی صفات کے بارے میں بتائیں۔کائنات کا مشاہدہ کرواتے ہوئے بچوں کے سوالوں کا خندہ پیشانی سے جواب دیں۔کبھی ناگواری کا اظہار مت کریں۔بچے کے سوالات آپ کو بتائیں گے کہ وہ کائنات سے متعلق معلومات کو اپنے ذہین میں کس طرح سے جذب کر رہا ہے۔
آپ کے پہلے بچے کے پانچ سال بہت اہم ہیں۔آپ کا پہلے بچے پہ لگایا ہوا وقت باقی بچوں کی تربیت میں مدد گار ثابت ہو گا۔آپ کے باقی بچے آپ کے بڑے بچے کو دیکھ کر ہی بہت کچھ سیکھ جائیں گے۔بچوں کو والدین کی شکل میں صرف ایک مبلغ نہیں چاہیے ہوتا ۔بچوں کو ایک رول ماڈل چاہیے ہوتا ہے۔آپ کی جو دلچسپیاں ہوں گی۔ آپ کے بچے میں بھی وہی پیدا ہوں گی۔آجکل کے والدین بچوں کو اللہ کا ایک تحفہ سمجھتے ہیں۔والدین کی غلط انداز کی محبت بچوں کے بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔ بچوں سے بچوں کے لیے محبت کریں ایسی محبت جو انہیں سنوار دے۔ان ننھے منے پھولوں کی پرورش اس طرح کیجیے ۔جب یہ کھلیں تو ان کے کردار کی خوشبو سے سارا جہان مہک اُٹھے۔اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔

پڑھا لکھا ہونا کافی نہیں۔۔۔!

ناصر محمود بیگ ۔۔۔۔ کسووال

آج ارسلان کی زندگی کا سب سے قابل فخر دن تھا۔آج اسے اس کی چار سال کی محنت کا پھل ملنے والا تھا۔ےونیورسٹی میں جلسہ عطائے اسناد کی تقریب میں اس کو االیکٹریکل انجینئر نگ میں بی ایس کی ڈگری سے مل گئی۔خوشی خوشی گھر لوٹا اور اگلے دن سے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔وہ جہاں بھی انٹرویو کے لئے جاتا اسے امیدواروں کی لمبی قطار آ گے نظر آتی۔ہر انٹرویو میں ایک ہی سوال ہوتا کہ آپ کا تجربہ کتنا ہے؟۔۔۔اس نے تو بچپن سے ایک ہی سبق پڑھا تھا کہ” پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب“۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ صرف پڑھنے لکھنے سے،ڈگری لینے سے انسان کامیاب نہیں ہوتا۔دوران تعلیم جب اسے کہا جاتا کہ بیٹا گھر کا کوئی بجلی کا سوئچ ہی ٹھیک کر دو تو اس کا جواب نفی میں ہوتا۔۔۔اور خواب تھے اس کے الیکٹریکل انجینئر بننے کے۔۔۔!جب نوکری کی تلاش میںدر بدر کی ٹھوکریں کھائیں تو اسے سمجھ آئی کہ صرف پڑھنا لکھنا کافی نہیں۔۔۔مہارت ،صلاحیت،تجربہ اور قابلیت پیدا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔لہٰذا اس نے ایک چھوٹی سی فرم میں بطور الیکٹریشن کام کرنا شروع کر دیاتاکہ مطلوبہ تجربہ حاصل کیا جا سکے۔۔۔۔۔یہ کہانی ہر اس نوجوان کی ہے جو ایک تعلیمی ادارے سے فراغت حاصل کرتا ہے اورپھر اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جاب مارکیٹ میں نکلتا ہے۔
بے شک تعلیم کسی بھی فرد ےا معاشرے کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر میرا ماننا ہے کہ تربیت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔جاپان میں سات سال تک بچے کو کچھ نہیں پڑھایا جاتاصرف اسے آداب زندگی سکھائے جاتے ہیں کہ سلام کیسے کرنا ہے، بات کیسے کرنی ہے ،کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنا نیز زندگی کا ہر گر جو ایک بچہ سیکھ سکتا ہے اس سے بچے کو روشناس کرایا جاتا ہے۔پھر جا کے اس کو پڑھنے اور لکھنے کی طرف راغب کیا جاتا ہے ۔لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ہمارے بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا افسر بننا ہے۔اس کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ پڑھ لکھ کر پہلے اچھا انسان بننا ہے بعد میں ایک ڈاکٹر ےا انجینئر بننا ہے۔جہاں صرف نمبروں اور ڈگریوں کی دوڑ ہو وہاں پھر بد عنوان سیاستدان،بے رحم ڈاکٹر ،غیر ذمہ دار انجینئر اور علم فروش سکالر پیدا نہ ہوں تو اور کیا ہو۔۔۔؟اور دوسرا قابل غور امر یہ کہ آج دنیا کو پڑھے لکھے لوگوں کی نہیں بلکہ” ایکسپرٹس“ (ماہرین ) کی ضرورت ہے۔آج ہم جو بے روزگاری کا رونا روتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری جامعات دھڑا دھڑ ڈگریاں بانٹ رہی ہیں مگر ایکسپرٹ پیدا نہیں کر رہی۔
 اللہ کریم نے اپنی لارےب کتاب میں بے عمل عالم کو گدھے سے تشبیہ دی ہے جس پر کتابیں لاد دی گئی ہوں ۔معروف دانشور اشفاق احمد کے مطابق تعلیمی سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں تو صرف تعلیم پر ہونے والے اخراجات کی رسیدیں ہیں اصل علم تو وہ ہے جو انسان کے عمل سے ظاہر ہو ۔ آج ہمارا نظام تعلیم صرف مارکس اور ڈگریوں تک محدود ہے ۔ہمارا نو جوان ےونیورسٹی کا امتحان تو اچھی جی پی اے میں پاس کر لیتا ہے مگر زندگی کے امتحان میں بری طرح فےل ہو جاتا ہے اوروجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کا مقصد صرف ےہ سمجھ لیا ہے کہ اس سے اچھا روزگار ملتا ہے جبکہ تعلیم کا اصل مقصد تربیت ہونا چا ہیے ۔ایک وقت تھا جب تعلیم برائے تربیت تھی بلکہ اسلام کی پہلی درسگاہ صفہ کو دیکھ لیں جہاں صرف تربیت ہی تربیت تھی پھر ہم نے تربیت کو تعلیم سے الگ کیا اور اب صرف تعلیم رہ گئی ہے اور تربیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔یہ امتحانی نظام صرف بچے کے حافظے اور معلومات کو پرکھتا ہے جبکہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں کہیں دب کر رہ جاتیں ہیں۔اب اساتذہ ،والدین اور اربابِ اختیار کو چاہیے کہ پڑھا لکھا پنجاب کا کھوکھلا نعرہ چھوڑ کر تربیت ےافتہ پاکستان بنانے کا عزم کریں۔

اچھی حکومت ، مضبوط جمہوریت



معیزہ اقبال

جمہوریت کے معنی ہیں عوام کی حکومت،عوام کے لیے،عوام کے ذریعے لیکن پاکستانی معاشرے میں جمہوریت ہمیشہ ایک خواب رہی ہے۔ہماری عوام آمریت کے دور میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی ہے اور جمہوری دور میں عوام خود کو اداروں سے اور ادارے عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے محروم رکھتی ہے۔ عوام ایک اچھی طرز حکمرانی چاہتے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت چاہتے ہیںجس میںعوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
جمہوریت کے لئے اداروں اور عوام دونوں کا شفاف ہو نا ضروری ہے عوام معاشرتی اور اقتصادی مساوات چاہتی ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ ان کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں۔ عوام جمہوری اداروں سے بہتر ، سستا اور معیاری نظام تعلیم اور فوری انصاف کے متمنی ہے ۔ لیکن جمہوری نظام کی تشکیل یہ نہیں کہ عوام اور حکومت آنکھیں بند کریں اور کھولے تو ہر جگہ جمہوریت ہی جمہوریت ہو تو ایسا نہیں ہے تو پھر کیسا ہے؟ کیسے ایک جمہوری فضاقائم کی جائے؟ کیا جمہوریت ہمیشہ پاکستانی معاشرے لیے خواب ہی رہے گی یا اس کی تعبیر بھی کبھی ہو گی؟
اچھی حکومت اور مضبوط جمہوریت خواب نہیں حقیقت کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے، شرط یہ ہے کہ اس کیے لئے عوام اور حکومت دونوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا۔ کیونکہ یہ عوام ہی ہے جو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے اور اس سے حکومت عمل میں آتی ہے۔ مضبوط جمہوریت اور اچھی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کو جوابدہ ہو اورعوام اپنا حق آذادی اظہار رائے پیش کر سکے تب ہی جا کر ایک جمہوری فضا قائم ہو سکے گی کیونکہ مضبوط جمہوریت کے لیے اچھی حکومت کا ہو نا ضروری ہے۔
شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کے بنیادی عناصر ہیںجبکہ فرائض اور حقوق کی ادائیگی مضبوط جمہوریت کے بنیادی عناصر ہیں۔ دنیا میںدیگر ممالک سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ اچھی حکومت ہے تو مضبوط جمہوریت ہے۔مضبوط جمہوریت ہے تو بہتر ترقی بھی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ ایسے نا اہل حکمرانو ں کا ٹولہ حکمرانی کرتا رہا ہے کہ جو خود لفظ جمہوریت اور اس کے حسن سے آشنا ہی نہیں۔یہاں حکمران ایسی پالیسیاں وضع کرتے ہیں جو صرف حکمرانو ں اور ایلیٹ کلاس کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ مغربی طرز حکومت کی تعریف کی جاتی ہے اور ہم ہمیشہ مغرب کو خوشحال اور خود کو بد حال کہتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم لفظ جمہوریت کے حقیقی معنی کو نہیںسمجھتے یا یو ں کہہ لیں کہ سمجھنا نہیں چاہتے اور اگر سمجھ بھی لیںتو اس پر عملی طور پر کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔
یہ بات درست ہے کہ جمہوریت خوشحالی لاتی ہے مگر اس کے لیے سنجیدہ، قابل اور ایماندارحکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ترقی کے لیے دن رات محنت اور لگن سے خود بھی کام کریںاور اداروں کی مجموعی کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہوئے جمہوریت کے اصل ثمرات عوام کی دہلیز تک فراہم کریں مغربی جمہوریت میں حکمران عوام کے رحم و کرم پر ہو تے ہیں۔جبکہ اس کے برعکس ہماری عوام حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔اگر جمہوریت کا مطلب اکژیت کی نمائیندگی ہے تو پھر پاکستان میںحکومت غریب پارٹی کی ہونی چاہیے۔کیونکہ تعداد میں تو یہی طبقہ زیادہ ہے۔غریب ممالک میں ہمیشہ طاقت ور اور دولت مند ہی حکمرانی کرتا رہا ہے اور دولت مندحکمرانوںکاایوانوںتک پہنچنا ہی بذات خود جمہوریت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔
ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے لازم ہے کہ ملکی وسائل پر کسی مخصوص ٹولے کا قبضہ ہونے کے بجائے ان وسائل کو برابری کی سطح پر تقسیم کیا جائے ۔ آج کی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ کچھ بنیادی عناصر یعنی عوام کی بالادستی، مساوی حقوق، آذادی اظہار رائے،عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ گویا جمہوریت ایک ایسے طرز حکومت کا نام ہے جو عوام الناس کی مرضی کے ساتھ اور ان کی فلاح وجوبہبود کے لیے اس ترتیب دی جائے کہ شہریوں کی آذادی اور مساوی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
ہم عوام کو خود بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو ایسے حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک ووٹ کا حق استعمال کر کے پہنچاتے ہیں۔ اب حکمران طبقہ ہماریے میعار کے مطابق پر فارم نہیں کر رہا تو یقینا ان کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس کے لئے کہیں نہ کہیں جوابدہ تو ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی ، کرپشن کا خاتمہ، انصاف کی فراہمی، صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا یقینا ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو شہری ہونے کے ناطے ان کو اداکرنی چاہیئے۔ اور ہر فرز کو پوری ایمانداری کے ساتھ ملک وقوم کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گاتب ہی جا کر اچھی حکومت اور مضبوط جمہوریت عمل میںآئی گی۔
میرا کامل یقین ہے کہ ملک خداداد میں ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی تشکیل بہت جلد ممکن ہو سکے گی۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام شعور بیدار کریں اورجب عوام مجموعی کردار ادا کرنے کا تہیہ کر لے گی تو ایک مضبوط جمہوری معاشرہ مضبوط پاکستان کی ضمانت بنے گا۔

ہو گا طلوع کوہ کے پیچھے سے آفتاب
یہ شب مستقل رہے گی کبھی یہ نہ سو چئے

عید کا پیغام




پروفیسر زید حارث
اللہ تعالی کے بندوں کو ایک پر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں ۔ ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون: اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت و تعب والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پہ شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت ومودت کی خوبصورت لڑی میں پرو دیا۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لئے جس کے لئے کہ یہ دن واقعی  جہنم سے آزادی کا دن قرار پا گیا ۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروا لئے۔جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا ۔جس کو رمضان نے حلیم و بردباری، عفو ودرگزر، تواضع و عاجزی اورعبادت و ریاضت کا پابند بنا دیا۔ جس  روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہو گئیں  اور جو یہ سب نہ کما سکا وہ اپنا محاسبہ کر لے ۔ ابھی زندگی کی رونق باقی ہے۔ابھی سانس چل رہے ہیں ۔ ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔ صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیج بویا جا چکا ہے۔ عید کا دن مساکین وفقراء کے لئے خیر کاپیغام لے کر آیا ہے۔ہر روزے دار اپنے روزے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام کرے گا کہ اس کے روزے کی کمی بھی پوری ہو جائے اور مسلمانوں کے معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں بھی شریک ہو جائے۔
وہ فطرانہ ادا کرے گا جس کا ایک بنیادی مقصد حدیث میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ (طعمة المساكين) مساكین کے لئے کھانا بن جائے۔معزز مائیں اور بہنیں یاد رکھیں کہ یہ عید کا دن صرف میرے اور آپ کی تزیین وزیبائش کے لئے نہیں ہے ،  ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمیں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کی خواہش کے احترام کی تربیت دیتا ہے۔وہ مسکین جو آپ کے نئے کپڑے اور خوبصورت حالت وہیئت کو دیکھ کر آپ سے حسد شروع کر دیتا ہے خدارا اس کی مدد کر کے، اس کو اپنی خوشی میں شریک کر کے اس کو حسد سے محفوظ کیجئے اور اس کی دعاؤں کے مستحق بن جائیے جو کہیں بھی آپ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہو سکتی ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں اللہ کے حکم پہ حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام کیے  رکھا ،اب سرکش شیطانوں کے کھل جانے پہ کہیں ہم اپنے لئے حرام کو بھی حلال نہ کر لیں ۔عید کے تین دنوں میں رشتہ دار و اقارب کی دعوتوں پہ اسراف سے اجتناب کیجئے ۔ سارا مہینہ تو ہم اس بات پہ خوش رہے کہ شیطانوں کو جکڑ دیا گیا ہے لیکن ان تین دن کی دعوتوں کہیں  ہم اس آیت کا مصداق تو نہیں بن جاتے "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين" یقینا فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔رمضان نے شیطان سے نفرت کا جو جذبہ پیدا کیا تھا۔ اپنے عمل اور کردار سے اس نفرت کا ثبوت دیجئے۔ دعوت ضرور کیجئے لیکن اعتدال اور میانہ روی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور اپنے دستر خوانوں پہ مساکین کی جگہ ضرور رکھئے ۔اللہ ان میں برکتیں ڈال دے گا۔عید الفطر کا ایک اہم پیغام کہ تمام مسلمانوں کو ایک میدان میں جمع کر کے،عورتوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کا حکم دے کر،  نماز نہ پڑھنے والی عورتوں کو بھی مسلمانوں کی عید گاہ میں پہنچنے کا حکم دے کر اتفاق واتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔اتفاق واتحاد کی ایک اعلی مثا ل پیدا کرنی  ہے۔باہمی کدورتیں اور نفرتیں، قبائلی و علاقائی تعصبات، مسلکی وسیاسی تفریقات اور افتراقات کو  بھلا کر ایک میدان میں اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے ۔اس قدر خوبصورت معاشرتی اقدار رکھنے والے دین کے پیروکار عید کے اس پر مسرت موقع پہ لسانیت و قومیت کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ایک اسلامی ملک کے تشخص کو مسخ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کامل دین اسلام کی خوبصورت تصویر کو دنیا میں بدنما کرنا چاہتے ہیں یا ملک و ملت کے دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟ آئیے رمضان کے آخر میں عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی قوم کے سر کو فخر سے بلند کیجئے۔
اسلام زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد۔