The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Tuesday, April 9, 2019

پاکستان کی معاشی بنیادیں

 سہیل ریحان
 
ہر مسئلے کے پیچھے اس کی مادی وجوہات ہوتی ہیں اگر مسئلے کا حل نکالنا ہے تو مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے اور اس کی وجوہات کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی بنیادی قدم ہے۔ مسائل کا حل اس سے دور بھاگنا نہیں بلکہ اس سے نپٹنا ہوتا ہے۔ مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف ادوار میں اس کے مختلف طریقہ کار ہیں جیسا کہ پرانے زمانے میں کائنات کو سمجھنے کے لیے فرضی کہانیاں بنائی گئی تھیں، اسے مائتھالوجی کا دور کہتے ہیں۔ اس کے بعد مذہب کا دور اور ایجادات کا زمانہ شروع ہوا اور پھر انسان نے تجربات اور مشاہدوں سے مسائل کا حل نکالنا شروع کیا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ 
پاکستان کے موجودہ مسائل کو سمجھنے کے لیے ان کی مادی وجوہات کو سمجھنا ہوگا۔ فوجی قبضہ سامراج جب کہ اس کے سیاسی ڈھانچے پر قبضہ، جدید سامراج کہلاتا ہے۔ برطانوی حکومت نے ہماری معیشت کو زراعت پر جامد کر کے بیوروکریٹک سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جو برطانیہ کے بعد سیدھا امریکا کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ 17ویں صدی میں ہندوستان اور پورپ معاشی و سیاسی لحاظ سے ایک جیسے تھے دونوں خطوں میں زراعت معاشیت تھی۔ گھریلو دستکاری تھی اور جاگیر داری نظام کمزور ہو رہا تھا اور تاجر ترقی کر رہا تھا۔ ہندوستانی تاجر سمندر دور ہونے کی وجہ سے تجارت کو بیرون ملک فروغ نہ دے سکے۔ برطانیہ نے سمندر کے قریب ہونے کا فائدہ اٹھایا اور اس نے سمندر پار تجارت شروع کر دی۔ ہندوستان کے مقامی تاجروں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے انہیں خوش آمدید کہا اور یوں ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت شروع ہو گئی۔ ہندوستانی معاشرہ خود کفیل تھا اور اپنے مال سے اپنی ضروریات کی چیزیں بناتا تھا اور دولت کا بہاو ¿ ہندوستان کی جانب تھا اور ہندوستان امیر ہو رہا تھا۔ جنگ پلاسی کے بعد برطانیہ راج کا آغاز ہوا۔
 بر صغیر میں کالونیل ازم کی ابتداءکر دی گئی۔ کالونیل ازم کا لفظی مطلب ہے نئی بستی بسانا۔ جیسے یورپیوں نے امیریکا، کینڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کیا، مگر ہندوستان اور کئی دوسری جگہوں پر صرف دولت سیمٹنے آئے تھے۔ 1600ءمیں لندن میں 70,000 پاو ¿نڈ کے ابتدائی سرمایہ کی مدد سے ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی گئی تاکہ ہندوستان سے اجناس، ریشمی و سوتی کپڑا، چینی کے برتن اور گرم مسالے کا کاروبار شروع کر دے۔ ہندوستانی معاشرہ خود کفیل دیہاتوں پر مشتمل تھا۔ ہر معاشرہ اپنی ضرورت کی چیزیں خود تیار کرتا تھا جیسا کہ کپڑے کی صنعت، فولاد کی بھٹیاں، شیشے کا سامان، قالین وغیرہ۔ جب یہاں یہ مال یورپ جانے لگا تو پیسے کا بہاو ہندوستان کی طرف ہو گیا اور ہندوستان امیر ہونے لگا۔ جنگ پلاسی کے بعد بنگال، بہار اور اڑیسہ پر انگریز قابض ہو گئے اور اس طرح خزانہ اور ٹیکس کا انتظام بھی انگریز کے ہاتھ میں چلا گیا اور دولت کا بہاو برطانیہ کی طرف ہو گیا۔ یورپ میں صنعتی دور شروع ہو گیا۔ اس وقت سرمایہ دار طبقہ مضبوط ہو گیا اور سیاست میں قدم جما کر اپنی معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی شروع کر دی۔ انگلستان میں کپڑے کی پہلی صنعت وجود میں آئی۔ H.H.Wilso لکھتا ہے۔
1813ءمیں ہندوستانی ریشمی کپڑا، سوتی و اونی مصنوعات منافع کماتے ہوئے بھی برطانیوی منڈی میں برطانیہ کے تیار شدہ کپڑے سے نصف قیمت پر فروخت کیا جا سکا تھا۔ لہذا لازمی ہو گیا کہ ہندوستانی کپڑے پر 80فیصدڈیوٹی لگائی جائے اور اسے برطانوی کپڑے سے مہنگا کر دیا جائے۔ اگر ایسی ڈیوٹیاں نہ لگائی جاتیں تو برطانیہ کی ملیں ابتداءمیں ہی بند ہو جاتی اور شاید بھاپ کی قوت کے باوجود بھی دوبارہ حرکت میں نہ آتی ۔ انہیں ہندوستان کی مصنوعات کو قربان کر کے وجود میں لایا گیا۔ 
پاکستان 1947ءمیں دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ جنگ عظیم دوم نے برطانیہ کی کمر توڑ دی اور اب کالونیوں پر قبضہ رکھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ برطانیہ کے بعد امریکا کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔
پاکستان وجود میں آ گیا اور اب اس نو آباد ریاست کے سامنے دو راستے تھے۔ پہلا راستہ تو یہ تھا کہ برطانیہ نے دو سو سالہ قبضے کے دوران جس محتاج معاشی ڈھانچے کی تشکیل کی تھی اس میں کوئی تبدیلی کیے بغیر اسے آگے چلایا جاتا اور انگریز کے بجائے مقامی لیڈروں کی نگرانی میں اسی کالونیل سسٹم کو جاری رکھا جاتا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ کالونیل سسٹم کے متبادل ملک کو معاشی لحاظ سے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی۔ برطانوی لونیل سسٹم جو ورثے میں ملا اسی کو جاری رکھا گیا مگر اب یہ برطانیہ کے بجائے امریکا کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ ملک کے لیے کوئی بہتر منصوبہ بندی نہ کی گئی جس کی وجہ سے معاشی ڈھانچہ تباہ و برباد ہو گیا۔ 
چونکہ ہماری معیشت کو زراعت پر جامد کر دیا گیا اور اس کے لیے کوئی ملکی پالیسی ہوتی کے بجائے گورنمنٹ امریکا کے تیار کردہ پلان کے مطابق کام کرتی رہی۔ کبھی بھاری اقساط پر قرضہ تو کبھی ٹریکٹر سکیم اور کبھی اپنی مقدار سے زیادہ کھادوں کے ذریعے مقامی زراعت کو نقصان پہنچایا گیا۔ ہم زراعت میں بھی بہتر تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور جدید مشینری کے ذریعے فصل کی مقدار کو بڑھا سکتے ہیں ۔ نہری نظام کو مزید بہتر بنا کر ہم جہاں زمین بنجر ہو رہی ہے کو قابل کاشت بنا سکتے ہیں۔ اس وقت آپ آلو کی قیمت دیکھ لیں، اب کوئی بھی کسان آلو کی کاشت کرنے کے لیے تیار نہیں اس طرح کی صورتحال کے لیے ملکی سطح پر پلان ہو نا چاہیے۔ 
زراعت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں گھریلو اور چھوٹی صنعت کاری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ایک کریانہ ایک پلاسٹک کے کھلونے سے لے کر کریانہ کی شاپ تک بیشتر سامان گھریلو صنعت کاری سے بنایا جا سکتا ہے۔ مقامی لیول کے لوگ خوشحال ہوں گے اور ملکی معیشت بہتر ہو گی۔ اس کے علاوہ جو بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز ہیں ان کی اشیاءپر بھاری ٹیکس لگایا جائے اور قومی اشیاءپر ٹیکس کم کیا جائے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو مزید فروغ دیا جائے۔ جن لوگوں کے پاس ان کی ضروریات سے زیادہ رقم ہے انہیں انڈسٹریل فیلڈ میں پیسہ لگانے کی کوشش کی لگانا چاہیے جس سے مالک، ملک اور عوام کو فائدہ ہوگا۔ اشیاءباہر سے منگوانے کے بجائے خود مال تیار کر کے پوری دنیا کو فروخت کر کے ہم اپنی معیشت کو بہترین بنا سکتے ہیں۔ 

Saturday, April 6, 2019

اپنے اینٹینا میں زہر رکھنے والا دنیا کا واحد کیڑا ’بچھو بھنورا‘



برازیل: دنیا بھر میں بھنوروں کی 350,000 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن کی اکثریت بے ضرر ہے تاہم ایک بھنورا ایسا ہے جس نے ارتقائی عمل سے گزر کر خود کو زہریلا بنایا ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ دنیا کا واحد کیڑا ہے جس کے اینٹینا میں انتہائی خطرناک زہر موجود ہے۔
کیڑوں کے اینٹینا انہیں آس پاس کا احساس دلاتے ہیں مثلاً لال بیگ میں مونچھوں نما اینٹینا اسے آس پاس موجود خطرات اور دیگر تبدیلیوں کا احساس دلاتے ہیں لیکن Onychocerus albitarsis یا اسکارپیئن بیٹل اپنے اینٹینا سے زہریلا ڈنک مارکر انسان کو شدید تکلیف میں مبتلا کرسکتا ہے۔

اس جانور کو سب سے پہلے 1859ء میں دریافت کیا گیا تھا یہ ارتقائی عمل سے گزرا ہے تاہم اس ارتقائی تبدیلی میں اسے لاکھوں کروڑوں سال لگے ہیں۔ عام طورپر حشرات الارض میں ڈنک مارنے کے لیے خصوصی ڈنک یا اس جیسی ساخت ہوتی ہے لیکن بچھو بھنورے کے اینٹینا کے ایک سرے پر بچھو کی دم کی طرح خمیدہ ساخت ہوتی ہے اور اسی مناسبت سے اسے ’بچھو بھنورا‘ کہا جاتا ہے۔
سال 2008ء میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے اس کے اینٹینا کو خاص الیکٹرون مائیکرو اسکوپ سے دیکھا تھا اس میں دو باریک سوراخ دیکھے گئے جہاں سے زہر خارج ہوتا رہتا ہے عین یہی نظام بعض بچھوؤں میں بھی پایا جاتا ہے۔
اب تک بچھو بھنوروں کی جانب سے تین افراد کے کاٹے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں دو پیرو اور ایک برازیل میں پیش آئے ہیں۔ بھنورے کا ڈنک شدید جلن، سرخی اور جلد پر خارش کی وجہ بنتا ہے لیکن یہ کیفیت کچھ دیر بعد ختم ہوجاتی ہے۔ ماہرین نے انسانوں پر اس کے زہریلے اثرات پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے تاہم بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس کا زہر انسانوں کے لیے جان لیوا نہیں ہے۔

Thursday, April 4, 2019

جھوٹے مرد

 ساحر مرزا

جھوٹ بولتے ہو تم!
مجھ سے ہر بات چھپاتے ہو۔۔۔، خود باہر عیاشیاں کرتے ہو اور میں یہاں اس قیدخانے میں تمہارے ان بچوں کے ساتھ پابند رہتی ہوں۔ 
تم انتہائی گھٹیا انسان ہو!
جھگڑے کی آوازیں گلی میں دور تک جا رہرہی تھیں۔
حیرت کی بات تھی کہ اس جھگڑے میں آواز ایک ہی تھی۔
میمونہ خاتون ہمیشہ عامرمیاں کے ساتھ اسی انداز سے پیش آیا کرتی تھیں۔
عامر میاں ایک پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور بہت مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور خود بھی بہت نیک سیرت انسان تھے۔ 
شہر سے دور کہیں ملازمت کیا کرتے ہیں اور اوسطاً دو تین ماہ بعد گھر آتے ہیں۔
دونوں میاں بیگم میں یوں تو بہت سلوک ہے مگر اکثر و بیشتر میمونہ خاتون عامر میاں سے بدظن رہا کرتی ہیں۔
میں کہتی ہوں کچھ تو بتاو کیا کر رہے تھے اس قدر رات گئے دوستوں کے ساتھ؟
میمونہ خاتون خاصی برہم تھیں،کچھ اس قدر کہ آج بچوں کا لحاظ بھی اٹھ گیا تھا۔
اب خاموش کیوں ہیں بولتے کیوں نہیں؟، جواب دیجئے مجھے۔
میمونہ خاتون ان کی خاموشی سے مزید غصہ ہوئے جا رہی تھیں ۔
بلآخر عامر میاں بولے، ”وہ کچھ احباب کے ساتھ بڑے بازار تک گیا تھا“۔
کیا آگ لگی تھی وہاں جو آپ بجھانے چلے تھے؟
بازار کیا رکھا تھا؟
کبھی ہمارے بارے میں سوچا!
ارے ہم تو اک زندگی اسی قیدخانے میں گزار چکے، اک ہمیں ہی رہائی نصیب نہ ہوئی۔
خود تو دوست احباب کے ساتھ عیاشیاں کر آتے ہیں۔ 
اور اوپر سے جھوٹ پر جھوٹ۔
کیجئے جو کرنا ہے آپ کو، ہم تو نہ روک سکے کبھی، ہوئے جو آپ بھی مرد، جھوٹے، دغا باز۔۔۔۔۔
اب میمونہ خاتون بولے گئیں اور ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ دھلانے کو سفلچی لے آئیں۔ 
لائیے جناب ہاتھ آگے کیجئے خادمہ آپ کی خدمت کو حاضر ہے!
میمونہ خاتون نے سفلچی آگے کرتے ہوئے طنز سے کہا
ان کی خدمتیں کرو اور صلہ ندارد۔
ہمارے لیے اس دنیا میں کیا رکھا ہے۔
میمونہ خاتون بڑبڑائے گئیں۔
جب کہ عامر میاں ازلی فطرت کے ہاتھوں مجبور خاموشی سے سر نیواڑے کھانا کھانے لگے۔
جب کہ پسِ منظر میں میمونہ خاتون کا بڑبڑانا جاری تھا۔ 
کھانے کے برتن سمیٹتے ہوئے میمونہ خاتون نے دیکھا خوان کے رومال کے اوپر اک ریشمی گتھلی پڑی تھی۔ 
کھول کر دیکھی تو کچھ روپے تھے، کچھ دل کو تسلی ہوئی مگر پھر سے غصہ چھا گیا۔ 
ہاں اب دے لیجیے رشوتیں، ایک تو اللہ مارے نجانے اس دنیا میں یہ روپے کی قدر زیادہ کیوں ہے!
ہر شخص یوں سمجھتا ہے کہ بس روپے سے ہر معاملہ سیدھا ہو جائے گا۔
عامر میاں نے پھر سے غصہ زور مارتے دیکھا تو ذرا کسمسائے۔
بیگم جان!
انہوں نے بڑے پیار سے پکارا۔
جی بول دیجیے، میرے کان کام کرتے ہیں ابھی اس قدر دور نہیں کہ سن نہ سکوں۔
میمونہ خاتون کو ان کا یوں بلانا اچھا نہ لگا ۔
یہاں آکر بیٹھیے،کچھ کہنا ہے آپ سے۔
عامر میاں نے نرمی سے کہا ۔
میمونہ خاتون آکر پائنتی بیٹھ گئیں ۔
جی حکم صادر فرمائیے، فرمائیے۔
وہ کیا نام لیا تھا اس دن.... امروز، آپ کا بھتیجا، اس کی شادی میں شرکت کے لیے کپڑے بنا لیجیے اور تیاری کیجیے۔
پرسوں ہم جاتے ہوئے آپ کو ان کے یہاں چھوڑ کر ملازمت کے لیے جائیں گے۔ 
عامر میاں نے ذرا جھجھکتے ہوئے مدعا بیان کیا۔
اچھا۔
مگر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے مت جاو۔۔۔
اب کیسی دریا دلی دکھائی جا رہی ہے، خیریت ہے نا!
میمونہ بیگم اچھنبے سے کہنے لگیں 
جی، وہ۔۔۔۔۔۔۔، کچھ خاص بات نہیں
اپنے فہیم میاں کا لڑکا ہے، اپنے بچوں جیسی بات ہے 
بس آپ تیاری کیجیے۔
عامر میاں بس کسی طرح بات کو ٹالنا چاہ رہے تھے
اچھا چلیے جیسا آپ کہتے ہیں۔
بابا آپ واپس کب آئیں گے۔ ننھا اقبال افسردگی سے عامر میاں سے پوچھ رہا تھا۔
عامر جب کبھی ملازمت پر ہوتے اور گھر فون کیا کرتے ننھا ایسے ہی اداس ہو جایا کرتا تھا اور بس اسی ایک سوال کی رٹ لگایا کرتا تھا۔ 
جب کہ گڑیا بیٹی چہک چہک کر فرمائشیں کیا کرتی تھی۔ 
بیٹھا ہم اگلے ہفتے گھر آ رہے ہیں۔ 
عامر میاں نے بیٹے کو بتایا ۔
اچھا بیٹا اپنی اماں جان سے بات کروانا ذرا ۔
عامر میاں نے بیٹے سے کہا تو میمونہ خاتون فون پر آ موجود ہوئیں۔
تسلیم و آداب کے بعد پوچھنے لگیں کیا کر رہے ہیں؟
کچھ خاص نہیں ابھی ذرا بس لیٹنے لگا تھا۔
عامر میاں نے کمال اطمینان سے اپنے اوزاروں کے بستے کی جانب اور میلے کپڑوں پر ہاتھ پھراتے ہوئے کہا
کھانا وغیرہ کھا لیا آپ نے؟
میمونہ خاتون نے پوچھا۔
جی ابھی کھایا ہے۔
عامر میاں نے اپنے بند ٹفن کی جانب دیکھا جس میں صبح کی دال بند پڑی تھی۔
کیا کھایا؟
سوال پر سوال تو جیسے میمونہ خاتون کا خاصہ تھا ۔
گوشت کا سالن تھا اور ساتھ روغنی نان، عامر میاں نے بڑی تسلی سے جھوٹ بولا۔
اچھا وقت بہت ہو گیا آپ سو جائیے۔
صبح آپ نے کام بھی کرنا ہے۔
میمونہ خاتون نے ذرا خیال سے کہا۔
ہاں مجھے بھی غنودگی چھا رہی تھی۔
عامر میاں نے بہانا بنایا۔
اوہو تو آپ سو جاتے پھر بات ہو جاتی آپ کے آرام میں خلل آیا۔
سو جائیے اس طرح صبح نیند پوری نہ ہونے سے سر گرانی رہے گی۔
اپنی صحت کا خیال رکھا کیجیے۔
السلام علیکم میمونہ خاتون نے نصیحتوں کے ساتھ فون بند کر دیا۔
عامر میاں نے اپنی میلی وردی اور اردگرد بکھرے اوزاروں کو دیکھا اور پھر سے کام میں جت گئے۔

آدم خور

محمد اویس بلوچ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اور میرے ایک ساتھی جن کا نام حمزہ تھا، ضلع ایبٹ آباد کے روپڑ نامی کسی علاقے میں ایک مدرسے کے طالب علم تھے۔ ہمارے لیے یہ علاقہ بالکل نیا تھا۔ میرپور سے صرف میں اور میرا ساتھی حمزہ ہی تھے جو اجنبی تھے، باقی تمام طلبہ علاقائی تھے۔ ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑ تھے، پہاڑو ں پر اونچے اونچے اور گھنے گھنے درخت تھے۔ وہاں سے کچھ دور ایک گھنا جنگل بھی تھا۔ ہم نے سن رکھا تھا کہ یہاں پہ راتوں کو اکثر ریچھ اور ببر شیر جنگل سے نکل کر آبادی کا رخ کرتے ہیں، اس لیے ہم خاص طور پہ میں اور حمزہ زیادہ باہر نہیں نکلتے تھے، رات کو تو بالکل بھی نہیں۔
یہ ایک سرد رات تھی، گیارہ بجے کا وقت تھا، تمام طلبہ سو رہے تھے، میں اور حمزہ مدرسے کے دوسرے ہال میں بیٹھے دن والے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اسلام آباد میں دو آدم خوروں کی علاقائی قبرستان میں ایک قبر کھودنے کی کوشش، حمزہ نے سرخی پڑھ کر اخبار میں سے نظریں ہٹا کر حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، اچانک ہمیں ایک زوردار آواز سنائی دی، جیسے کسی ٹن کی چادر پر کسی نے اوپر سے چھلانگ لگائی ہو۔ ہم دونوں بہت گھبرا گئے۔
”یہ کیسی آواز تھی؟“، حمزہ نے سہمتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔ ”پتا نہیں“ میں نے جواب دیا۔ کوئی ریچھ یا ببر شیر وغیرہ تو نہیں آ ٹپکا؟ کہیں یہ آدم خور تو نہیں آ گئے؟ ڈر کے مارے حمزہ کی زبان لڑکھڑا گئی اور زور زور سے شروع ہوگیا،” جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو“۔ ”کچھ نہیں ہے ڈرو مت“،میں نے حمزہ کی ہمت بندھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ”کوئی بلی ہوگی، جس نے باورچی کے چھت پر چھلانگ لگائی ہوگی، جو لوہے کی چادر سے بنا ہوا ہے“۔اندر ہی اندر سے میں خود بھی بہت خوفزدہ تھا، کیونکہ ہم یہاں اجنبی تھے، ہمیں یہاں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے۔ اب ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہم کریں تو کریں کیا؟ ہماری نظریں اس کھڑکی کی طرف ٹکی ہوئی تھیں، جس طرف سے ہمیں یہ آواز آئی تھی ۔ اب تو وہاں سے ہمیں ایک اور آواز بھی آنے لگی، جیسے کوئی جانور کوئی سخت چیز چبا رہا ہو۔
”یہ آواز تو ہڈی چبانے جیسی ہے“، میں نے حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے کہا۔”کہیں سچ مچ میں تو آدم خور نہیں آ گئے؟ “ ”آدم خور؟“، حمزہ ہکلایا اور پھر شروع ہو گیا، ”جل توجلال تو آئی بلا کو ٹال تو“۔ ”چلو باہر چل کے دیکھتے ہیں“، میں یہ کہہ کر ہال کے دوسرے کونے کی طرف لپکا، جہاں ایک مضبوط لکڑی کا موٹا سا ڈنڈا دیوار کے ساتھ لگائے رکھا ہوا تھا، وہ اٹھایا اور دروازے کی طرف چل پڑا۔ ”نہیں احمد!مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے“، حمزہ نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ کر کہا۔ خیر، ہم نے حوصلہ کر کے دروازے کی جانب قدم بڑھانے شروع کر دیے۔ ابھی دروازے پہ پہنچنے ہی والے تھے کہ ایک بار پھر وہ زوردار آواز سنائی دی، اس بار اس آواز کے ساتھ کسی مرد کی ایک با رعب اور بھاری آواز بھی ابھری، ”اووووےےے“۔
ہم ٹھٹھک کر رک گئے۔ حمزہ میرا اور میں اس کا منہ تکنے لگا۔”آج تو برے پھنسے ہیں“، میں نے کہاپھر اوپر دیکھتے ہوئے میں دل ہی دل میں بڑبڑایا،”یا خدا! اب کیا کریں“۔ حمزہ کی زبان پہ وہی ورد اب تک جاری تھا۔ ”اوووےے حمزہ“، ایک بار پھر وہ مردانہ بھاری بھرکم آواز ابھری۔ اس دفعہ تو اس نے حمزہ کا نام بھی لیا۔ یہ سن کر ہم دہل گئے۔” اس، اس نے میرا نام پکارا ہے،احمد! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے“، حمزہ نے ڈر کے مارے مجھ سے چپکتے ہوئے کہا۔حمزہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، وہ زور زور سے جل تو جلال کا ورد بھی کیے جا رہا تھا۔میں بھی منہ ہی منہ میں دعائیں پڑ رہا تھا۔ میں پریشانی سے سر کھجا رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟
پھر اچانک مجھے ایک خیال آیا اور میں حمزہ سے مخاطب ہوا، ”حمزہ! قاری صاحب اوپر چھت پر سوتے ہیں، کہیں یہ آواز ان کی تو نہیں ہے؟“ ”ہاں! ہوسکتا ہے شاید“، حمزہ نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ خوف کے مارے ہمارا برا حال تھا۔ یہ خیال آتے ہی جب ہماراکچھ حوصلہ بڑھا تو ہم پھر سے دروازے کی طرف لپکے۔ ابھی ہم اسی کش مکش میں تھے کہ دروازہ کھولیں یا نہ کھولیں، وہ آواز پھر سے ابھری، ”احمد! باہر آو، ذرا بکرے کو دیکھو تو، کیا ہوا ہے اسے“۔ یہ سن کر میری تو جان میں جان آ گئی، یہ قاری صاحب ہی تھے جو کب سے اوپر سے آوازیں لگا رہے تھے۔ میرا تو خوف جاتا رہا، مگر حمزہ اب تک خوفزدہ تھا۔ کہنے لگا، ”مجھے لگتا ہے یہ آدم خور ہی ہے، یہ ہمیں پھنسانے کے لیے ایسی چال چل رہا ہے“۔ حمزہ کی یہ بات سن کر میں دل ہی دل میں خوب ہنسا۔ میں نے دروازہ کھولا ہم باہر آ گئے۔ جس طرف سے آواز آئی تھی ہم اس طرف چل دیے، میں آگے اور حمزہ میرے پیچھے پیچھے تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی، ہم اپنے ہی اوپر خود ہنسنے لگے۔
ہم نے دیکھا کہ وہ بکرا، جو آج کسی نے مدرسے کے لیے قاری صاحب کو وقف کیا تھا۔ ایک لوہے کی چادر سے بنے ہوئے ریڑھے سے بندھا ہوا تھا۔ جب بکرا کچھ کھانے کی نیت سے باورچی خانے کی طرف بڑھا تھا تو اس سے بندھا ہوا وہ ریڑھا گرنے اور گھسٹنے کی وجہ سے آواز کرنے لگا تھا اور ہمیں جو ہڈی چبانے کی آواز آ رہی تھی، وہ آج صبح والی سوکھی روٹیوں کے چبانے کی آواز تھی، جو بکرے میاں بڑے سکون کے ساتھ چبا چبا کے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

What we aren't eating is killing us, global study finds


Which risk factor is responsible for more deaths around the world than any other? Not smoking. Not even high blood pressure. It's a poor diet.
"In many countries, poor diet now causes more deaths than tobacco smoking and high blood pressure," said Ashkan Afshin, an assistant professor at the Institute for Health Metrics and Evaluation at the University of Washington.
And it's not just that people are choosing unhealthy options such as red meat and sugary sodas. Just as critical, said Afshin, the lead author of a 27-year global diet analysis published Wednesday in the journal the Lancet, is the lack of healthy foods in our diets, along with high levels of salt.
"While traditionally all the conversation about healthy diet has been focused on lowering the intake of unhealthy food, in this study, we have shown that, at the population level, a low intake of healthy foods is the more important factor, rather than the high intake of unhealthy foods," he said.
One in five deaths globally -- that's about 11 million people -- in 2017 occurred because of too much sodium and a lack of whole grains, fruit and nuts and seeds, the study found, rather than from diets packed with trans fats, sugar-sweetened drinks and high levels of red and processed meats.
The large study size means these findings are relevant to everyone, no matter where they live, said Andrew Reynolds, a postdoctoral research fellow at the University of Otago in New Zealand, who was not involved in the study.
"The findings of the paper will inform policy decisions that shape what food is available in Western countries, how it is marketed and potentially what it costs in the coming years," Reynolds said.

15 dietary risk factors


In the analysis, funded by the Bill & Melinda Gates Foundation, Afshin and his colleagues looked at 15 dietary risk factors and their impact on death and disability. High levels of unhealthy red and processed meats, sugar-sweetened beverages, trans fatty acids and salt -- all known to be health risks -- were compared with the effects of a diet low in many healthy foods. Those healthy items included fruits, vegetables, whole grains, milk, calcium, nuts and seeds, fiber, legumes or beans, omega-3 fatty acids from seafood, and polyunsaturated fats, the good-for-you fats found in salmon, vegetable oils and some nuts and seeds.
Except salt, which was a key risk factor in most countries, the study found red and processed meats, trans fats and sugary drinks toward the bottom of the risk chart for most countries.
In fact, more than half of all global diet-related deaths in 2017 were due to just three risk factors: eating too much salt, not enough whole grains and not enough fruit. Those risks held true regardless of socioeconomic level of most nations, Afshin said.
The new study is part of the yearly Global Burden of Disease report, prepared by a consortium of thousands of researchers that tracks premature death and disability from more than 350 diseases and injuries in 195 countries.
In January, the consortium released its "diet for a healthy planet," which said that cutting red meat and sugar consumption in half and upping intake of fruits, vegetables and nuts could prevent up to 11.6 million premature deaths without harming the planet.
Afshin said an overview of the current study, but few of the details, was in last year's Global Burden of Disease report, making this year's version "the most comprehensive analysis on the health effects of diet ever conducted," despite some methodological flaws and gaps in data from underdeveloped countries.
That's a good claim," Reynolds said. "Studies are published every year on how we eat; however, the amount of data considered and the global representativeness make this study worth attention." He added that the risk rankings provide public policymakers with "invaluable information on what dietary behaviors to target first."

Diet-related deaths by country



Ten million diet-related deaths in 2017 were from cardiovascular disease; cancer was responsible for 913,000 deaths, and Type 2 diabetes accounted for 339,000 deaths. In addition, 66% of disabilities in 2017 from a range of chronic diseases were due to those three factors.
Interestingly, obesity was not a top-tier contributor, coming in at sixth on the list of global disease risks, Afshin said.
Uzbekistan had the highest number of diet-related deaths, followed by Afghanistan, the Marshall Islands, Papua New Guinea and Vanuatu. Israel had the lowest number, followed by France, Spain, Japan and Andorra, a tiny principality between France and Spain.
In terms of lowest death rates, the UK ranked 23rd, above Ireland (24th) and Sweden (25th), while the United States ranked 43rd, after Rwanda and Nigeria (41st and 42nd). India ranked 118th, and China ranked 140th.

Highest risk factors

For the United States, India, Brazil, Pakistan, Nigeria, Russia, Egypt, Germany, Iran and Turkey, a lack of whole grains was the greatest risk factor; for many more countries, that came in second or third. That doesn't mean people in these countries ate no grains but rather that they ate processed grains, with little nutritional value and the potential for high calorie counts.
Reynolds, who published a study in The Lancet on the effect of whole grains this year, cautions that many of the products sold to consumers today as "whole grain" often aren't.
"Whole grains are being included in ultraprocessed products that may be finely milled down and have added sodium, added free sugars and added saturated fats," Reynolds said. "I think we all need to be aware of this and not confuse the benefits from the more intact, minimally processed whole grains with what is often advertised as whole-grain products available today."
A whole grain is defined as the use of the entire seed of a plant: the bran, the germ and the endosperm. The Whole Grains Council provides a stamp, available in 54 countries, that consumers can look for that certifies the degree of whole grains in the product.

Regional challenges

The greatest risk factor for China, Japan, Indonesia and Thailand was the amount of sodium in the diet. That is probably due to the extremely salty rice vinegars, sauces and pastes used to cook traditional Asian foods, Afshin said.
Does that mean those cultures are going to continue to live with that high risk? Not necessarily, said Corinna Hawkes, who directs the Centre for Food Policy at the University of London.
"Anyone who studies the history of food will tell you cultural preferences change over time," said Hawkes, who was not involved in the new study. "They do shift. But yes, in this case, it will likely involve a culture change."
In Mexico, the lack of nuts and seeds was the highest risk factor, followed by a lack of vegetables, whole grains, and fruit in the diet. And it was one of the few countries where unhealthy sugary beverages ranked quite high -- at No. 5. That's not only due to a cultural preference for sodas and homemade sugary drinks called aguas frescas, study co-author Christian Razo says, but a lack of access to clean water and even fruits and vegetables.
"We don't have free clean water to drink," said Razo, who has a Ph.D. in nutrition from the National Institute of Public Health of Mexico.
"So people have to buy clean water to drink, and if they're going to have to buy something, they prefer the soda," she said. "It's also easier to get processed food than fresh fruits and vegetables."
Razo says that while Mexico is a huge producer of fresh fruits and vegetables, those are purchased by distributors in the United States and other countries, leaving people in the cities with little access to affordable fresh options or the ability to grow their own.
"We encourage people to buy in local markets, but they are more expensive," Razo said. "It's hard to compete with all these huge brands that buy the produce. So, yeah, we have a big challenge."
As for nuts and seeds, "people just can't buy them because they're very expensive," she said.

Call to action

Policymakers reacted to the study with a call to action.
"Unhealthy diet is the top risk factor for the Global Burden of Disease. The relative importance of this factor has been growing and requires urgent attention," said Francesco Branca, director of the Department of Nutrition for Health and Development at the World Health Organization.
"The public needs to be aware of the critical links between diet and health and demand public action to improve the access and availability of foods that contribute to healthy diets," Branca said. "Considering the need for urgent action the UN General Assembly has declared 2016-2025 the UN Decade of Action of Nutrition, and is asking governments to make such commitments."
That is going to require a coordinated effort between public policymakers, food growers, marketers and distributors, which will be a significant feat, Hawkes said.
Getting back to whole grains, for example, is going to require a complete change in the economics of food production and distribution, she said.
"Refining grains is highly profitable," Hawkes said. "Take corn, for example. You can refine it into different ingredients: animal feed, refined flours and high-fructose corn syrup to name three. So manufacturers are generating multiple value streams from this refining process.
"If we then say, 'I'm producing corn to make one product,' then we need to have dialogues with the industry to ask about where public investment is needed and how we can shift the system, because it's going to be a big deal. It's a big, big shift."
But Hawkes is hopeful. Twenty years ago, she said, when she entered a room of global health policymakers and mentioned the importance of diet, she was seen as "sort of a fringe person. Now, when I enter a room and say that, it's taken seriously."

Wednesday, April 3, 2019

عام آدمی کی زندگی

احمد ذیشان چغتائی 

اب کہیں بھی تو کیا کہیں؟ کریں بھی کیا کریں؟ لکھیں بھی تو کیسے لکھیں؟ سنیں بھی تو کس کی سنیں؟ سنائیں بھی تو کسے سنائیں؟ زندگی کھیل کود ہے۔ چار دن کی زندگی ہے ہنس کھیل کے گزار لو مگر پرائیویٹ ملازمت میں ہنسنا اور کھیلنا بے ہودہ مذاق لگتا ہے۔ باس کی کڑوی کسیلی باتیںکریلے کے شربت جیسی، چاہتے نہ چاھتے ہوئے پینی ہی پڑتی ہے۔ پانچ منٹ لیٹ کیا ہو جاو ¿ ایسے لگتا ہے جیسے قومی خزانہ ہم ہی نے لوٹا ہے اور چھٹی کا آدھا گھنٹہ بھی اوپر ہو جائے تو قومی خزانے کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر کسی دن باامر مجبوری چھٹی کر بھی لیں تو تو دوسرے دن کسر تو پوری ہو ہی جاتی ہے اور غیظ وغضب کا پہاڑ الگ ٹوٹتا ہے۔ چھٹی کے جرمانے کا الگ سے نفاذ ہو تا ہے۔
گھر ایک ہوٹل یا ریسٹورنٹ کی مانند ہو جاتا ہے۔ جہاں آپ کو صرف سونے اور کھانے کے لیے جاناہوتا۔ وہ بھی اگر باس کا بس چلے تو کہے، کھانا بھی یہیں کھا لو اور سو کے تم نے کیا کرنا ہے۔ محنتی آدمی کا ننید سے کیا کام اور پھر اوپر سے بندہ انجمن زوجان سے تعلق رکھتا ہو تو گھر جا کے بھی باس سے ہی پالا پڑتا ہے۔ وہاں بھی ملازمت والا ہی دکھ اور سکھ ہوتا ہے۔ بس شفٹ تبدیل ہو جاتی ہے یا آپ اسے پارٹ ٹائم نوکری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ شریک حیات کو باس کا نام دوں یا باس کو شریک حیات ثانی کہہ کر پکاروں۔ تھک ہار کے چوں چرا کر کہ جیسے تیسے مہینہ تو گزر ہی جاتا ہے۔ اب مزدور کی مزدوری لینے کی گھڑی آن پہنچتی ہے تو پسینہ کیا خون بھی خشک ہو چکا ہو تا ہے تو پتا چلتا ہے کہ ہم نے تو مہینہ بھر فارغ بیٹھ کر ہی گزار دیا ہے۔ چاپلوسیت کے میدان میں تو ہمیں ویسے بھی شکست فاش ہو چکی ہے۔ اسی لیے تو ہم کسی میدان کار زار میں حصہ لینے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ چاپلوسیت کا پلہ تو بابا آدم کے دور سے ہی بھاری رہا ہے اور محنت کا پلہ ہمیشہ کمزور۔ مجھے لگتا ہے کہ کامیابی کی اولین شرط ہی چاپلوسیت ہے اور یہ آپ کو ہر جگہ وافر مقدارمیں میسر آسکتی ہے جب کہ محنت کا اتنا ہی فقدان نظرآتا ہے۔ قطرہ قطرہ کر کے دریا بنتا ہے اور ہمارا دریائے مزدوری بھی قطرہ قطرہ کر کہ پورے ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ پھر اگلا ماہ شروع ہوتا ہے۔ پھر وہی ریہرسل شروع ہو جاتی ہے۔

قصور آخر کس کا؟

  صدف نایاب 

”ہیلو، ہیلو! ہاں ثانیہ تم کل صبح آٹھ بجے ہی گھر سے نکل آنا۔ میں نے کریم والوں کا اشتہار دیکھا ہے۔ شادی والے دن دلھن کے بھاگنے میں مدد گار ہیں“، وقار نے کہا۔ ”مگر وکی یہ مشکل ہے، لیکن تمھاری محبت کی خاطر یہ بھی کروں گی“، ثانیہ نے اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا۔”اری او ثانیہ! اٹھ جا بیٹی کب تک سوئے گی؟ غضب خدا کا دن کے بارہ بج رہے ہیں“، اماں نے یہ کہا اور دھڑ دھڑ دروازہ پیٹنے لگیں۔ ”سونے دیں امی ثانی کو کچھ دیر اور نوید بھائی کے خواب دیکھ لے گی“، ثانیہ کی چھوٹی بہن نے ہنستے ہوئے کہا۔ امی اس وقت تو چلی گئیں مگر جب کافی دیر تک دروازہ نہ کھلا تو امی کو پریشانی ہونے لگی۔ خیر امی ابو دونوں نے مل کر جب کمرے کے دروازے کو زور کا دھکا دیا تو کنڈی چٹخ سے کھل گئی۔ مگر یہ کیا جیسے ہی امی ابو نے دروازہ کھولا کمرہ خالی پایا، الماریاں کھلی پڑیں تھیں اور خالی تھیں۔ جب کہ کمرے کی کھڑکی بھی کھلی ہوئی تھی جس سے ایک دوپٹے کی رسی نیچے لٹک رہی تھی۔
”اجی! میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔ کلیجہ منہ کو آرہا ہے۔ یہ کیا ہو گیا۔ خاندان بھر میں ہماری عزت کی دھجیاں اڑ گئیں“، امی ایک سانس میں ہی سب کچھ کہہ گئیں۔ ابو نے کمرے کا جائزہ لیا تو ایک خط بستر پر پڑا ہواپایا۔ ”ابو مجھے نوید بھائی نہیں پسند مجھے ان سے شادی نہیں کرنی۔ میرا محبوب کوئی اور ہے۔ میری فکر نہ کیجیے گا۔ یہ خط پڑھنا تھا کہ ابو جی کے آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے۔ کئی روز تک گھر میں ماتم کا سماں رہا۔ کسی کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کرے کیا نہ کرے۔”یہ دیکھو وقار میں آگئی ہوں تمھارے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر تمھاری محبت میں اب تو مجھے اپنا لو گے ناں؟ تم نے مجھ سے میری محبت کا ثبوت مانگا تھا۔ کریم کی بائیک نے میری یہ مشکل چٹکیوں میں حل کر دی“۔ ”اچھاکیا تم آگئیں زیور اور پیسے لائی ہو؟ ہاں ہاں سب کچھ لائی ہوں جب تک تمھاری نوکری، ہمارے رہنے کا بندوست اور کھانے کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک ہم ان پیسوں پر گزارا کر لیں گے۔ چلو اب جلدی سے مولوی کو بلوا لو“، ثانیہ نے عجلت میں کہا۔
”مولوی!“ یہ کہہ کر وقار نے ایک زور دار قہقہ لگایا جس سے ایک گونج پیدا ہوئی کے سارے پرندے ہوا میں غوطہ کھا گئے۔ ”اب تم آہی گئی ہو تو زیادہ دیر نہیں لگاو ¿ں گا۔ تم تو صرف ایک ٹشو پیپر ہو میرے لیے۔ لاو یہ سارا زیور پیسے میرے حوالے کرو۔ اتنا کہہ کر وقار نے ثانیہ سے سب کچھ چھین لیا۔ آج ثانیہ سر تا پا اجڑ چکی تھی نہ مال رہا تھا نہ ہی عزت بچی تھی۔آج کی رات اس پر بہت بھاری تھی جب شہر سے دور ایک کالی کوٹھڑی میں رسیوں سے بندھا ہوا اس کا بدن بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ اس کا ذہن ابھی تک ماو ¿ف تھا کہ کیا واقعی یہ وہ وقار ہے جو اس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتا تھا۔ ثانیہ کو رہ رہ کر رونا آرہا تھا اپنی حالت پر کہ کیا میں وہی ہوں جسے کبھی بابا نے ٹھنڈی ہوا نہیں لگنے دی اور امی نے کبھی سوئی تک نہ چھبنے دی۔
ثانیہ تین دن تک بھوکی پیاسی اس کوٹھڑی میں پڑی رہی پھٹے ہوے کپڑوں میں تن کھلا جا رہا تھا۔ ایک دن اس کی آہ و بکا ایک عورت نے سن لی۔ جس کاگزر گھر کے باہر سے ہوا۔ اس نے آج چوتھے دن ثانیہ کو رسیوں سے آزاد کروایا اسے کھانا کھلایا اور سارا ماجرا دریافت کیا۔ثانیہ روتی جاتی اور وقار کی بے وفائی اور بھاگنے کا سارا قصہ سناتی جاتی۔ اجڑی ہوئی ثانیہ جیسے تیسے گھر پہنچی۔ گھر پر تو قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی۔ معاشرے نے بھلا کب ثانیہ کو زندہ رہنے کی اجازت دینی تھی۔ کئی ماہ بیت گئے۔ ثانیہ دنیا کی باتیں برداشت کرتی رہی اور پھر ایک دن آیا۔ جب۔۔۔ ”ثانیہ باجی اٹھ جائیں دن کے بارہ بج گئے ہیں، ہانیہ نے دروازہ زور سے کھولا تو ثانیہ کی لاش پنکھے سے جھول رہی تھی۔ 
ثانیہ کی موت کا ذمے دار کون یہ معاشرہ، کریم کی بائیک کا وہ اشتہار جس نے اسے شہہ دی یا پھر وقار اس کا فیصلہ اب اللہ کی عدالت میں ہی ہو گا۔ مگر ایک بار اپنے ضمیر کی عدالت لگائیے یقینا ثانیہ کی موت کے پیچھے والدین کی ناقص تربیت اور دین اسلام سے دوری ایک بڑی وجہ ہے۔ مسئلے کی جڑ اللہ اور اس کی دی ہوئی تعلیمات سے دور ہونا ہے۔ لبرل ازم کے نام پر آج عورت کو یہ ہی سمجھایا جارہا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد عشق وعاشقی ہی رہ گیا ہے نہ کہ آخرت کی فلاع اور اللہ کی رضا۔

ادراک و آگہی

 انصر محمود بابر

جس طرح ہر گاڑی میں کم از کم تین میٹر ضرور ہوتے ہیں (سپیڈو میٹر، آئل میٹر اور ٹمریچر میٹر)۔ جو ڈرائیورز کو بالترتیب گاڑی کی رفتار، گاڑی کی ٹینکی میں موجود ایندھن کی مقدار اور انجن کی گرمی کا پتا دیتے ہیں۔ اب ڈرائیورز کی مرضی کہ وہ ان میٹرزکی ہدایات پرتوجہ دے یا نہ دے۔ میٹر نے تو اپنے ذمے کا کام کردیا۔ بالکل اسی طرح حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے آنکھیں عطا فرمائیں کہ وہ حالات و واقعات و معاملات کو دیکھ کر اچھا فیصلہ کرسکے، کان عطا کیے تاکہ اچھائی اور برائی کی آواز، موسیقی اور اذان کی آواز میں تمیز کر سکے۔ سونگھنے اورچکھنے کے لیے ناک اور زبان عطا کی، شعور بخشا تاکے صحیح اور غلط، نیک اور بد میں امتیاز کرسکے۔ ان تمام تر عنایتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اپنے معاملات میں صاحب ِ اختیار کردیا۔ اب یہ تو انسان کی مرضی ہے کہ وہ دیکھ بھال کر، سوچ سمجھ کر اپنے لیے اچھائی کا راستہ اختیار کرے۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر اس کا انعام ہوا۔ نہ کہ ان کا راستہ جن پر اس کا غضب ہوا۔ یہاںپرایک بات اور بھی عرض کرتاچلوںکہ ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ کے انعام یاقتہ اور مقرب لوگوںکا راستہ نہ صرف اللہ سے مانگیںبلکہ ان لوگوں کو اور ان کے راستے کو تلاش بھی کریں۔ اس لیے کہ آج سادہ لوح لوگوں کو بہروپیوں اور خالص اللہ والوںکی پہچان کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حالاں کہ خلوص، سادگی، تواضع، بے غرضی و بے لوثی، ایثار اور خدمت اللہ والوںکا خاصہ اور پہچان ہے۔ اسی طرح اللہ پاک کے مغضوب لوگوں کے راستے سے پرہیز بھی ضروری ہے ۔
بہرحال یہ صرف انسان کی مرضی پر ہی منحصر نہیں بلکہ مشیت ِ ایزدی یا تقدیر ِ الہٰی بھی کسی چیز کا نام ہے۔ حدیث ِ نبویﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے پسندفرمالیتا ہے اسے دین(اچھائی) کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ انسان کے بس میںصرف اتنا ہی ہے کہ وہ اپنی ایک ٹانگ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اگر دوسری بھی اٹھائے گا تو یقینا گر پڑے گا۔ نیکی اور بدی کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ جو کام، جو بات آپ لوگوں کے سامنے فخر کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے یعنی جو واقعہ یا کام لوگوں کے سامنے آجانے سے آپ شرمندگی محسوس کریں، وہ نیکی نہیں ہو سکتی۔ اسے مت کریں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک چوکیدار بٹھا رکھا ہے جو غلط کاموں اور اچھے کاموں میں فرق بتاتا ہے، سمجھاتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ فرق بتاتا ہے بلکہ اچھائی کے تمام کاموں کی ہمیں ترغیب دیتا ہے اور کیے گئے تمام اچھے کاموں کا انعام حوصلہ افزائی اور سکینت کی صورت میں دیتا ہے۔ اسی طرح بدی اور برائی کے تمام کاموں کی نہ صرف پہچان بتاتا ہے بلکہ ایسے تمام کاموں سے حتیٰ المقدور روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ سرزد شدہ تمام غلط رویوں پرشرمندگی اور ندامت کی صورت میں انسان کو سزا بھی دیتا ہے۔
اس چوکیدار کو آپ ضمیر بھی کہہ سکتے ہیں۔ ضمیر کی مثال آپ سینما کے سنسر بورڈ سے دے لیں۔ جس طرح کوئی بھی نئی بننے والی فلم کو پہلے سنسر بورڈ دیکھتا ہے اور ناقص یا غلط ڈائیلاگ یا نامناسب منظر کو ”کٹ“ کرکے ایک اچھی، معیاری اور تفریحی فلم سینما اسکرین پر چلنے کی اجازت دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح ضمیر بھی تمام لاشعوری افعال وافکار کی پڑتال کرتا ہے اور اچھے کاموں پہ ابھارتا اور برے کاموں سے روکتاہے۔اسی طرح اندرونی اور بیرونی تمام معاملات و واقعات کا جائزہ لے کر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نیک اور بد، درست اورغلط کاموں میں تمیز کرسکے۔ نہ صرف تمیزکرسکے بلکہ اچھائی کے کام اختیار کرکے اپنالے اور برائی کے تمام کاموں سے بچ سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ضمیروں کو توانائی اور ایک نئی زندگی بخشے۔ انسان ہونے کا حق ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسانیت کے، اس کی مخلوق کے زیادہ سے زیادہ کام آیا جائے، یہ قابل ِ فخر ہے۔ 

اسلاموفوبیا، تاریخ اور کا حل

 معاذ عتیق راز

نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں پاکستان، ترکی، برطانیہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکہ سمیت عراق اور اردن سے تعلق رکھنے والے ساڑھے تین سو سے زائد مسلم علمائ، اسکالرز اور رہنماو ¿ں نے مغربی ریاستوں کی حکومتوں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ”اسلاموفوبیا“ کے انسداد کے لیے کوششیں بڑھائیں۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ 15 مارچ کوسفید فام دہشت گرد نے دو مساجد پر حملے کرتے ہوئے پچاس افراد کو ہلاک کر دیاتھا۔ یہ نیوزی لینڈ میں رونما ہونے والا دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔
یوں تو حق و باطل کے درمیان تصادم شروع دن سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حق کے خلاف باطل کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ یوں ہی تا قیامت جاری رہے گا۔ صدر اسلام میں بھی اللہ کے رسولﷺ اور اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ لیکن اسلامو فوبیا کی جدید اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے برطانیہ کے ایک ادارے رنیمیڈ ٹرسٹ نے کیا۔ انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد اسلام، مسلمانوں یا اسلامی تہذیب سے نفرت یا خوف پیدا کرنا ہے۔ اسلاموفوبیا کا شکا ر شخص اس واہمہ کا اسیر ہوجاتاہے کہ مسلمان مذہبی جنون رکھتے ہیں اور اسلام رواداری، مساوات اورجمہوریت کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ایسا بیمار شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ایک بے حس و حرکت، فرسودہ، ترقی کا دشمن، غیر منطقی اور جامد مذہب ہے۔ مسلمان عام طور پر دہشت پسند اور دقیانوس ہوتے ہیں، وہ خواتین کو پردے کی قید میں رکھتے ہیں۔ مدارس اور قرآن میں تشدد و دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسلامو فوبیا کو نسل پرستی کی نئی شکل قرار دیا جاتاہے۔ اسلاموفوبیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد اسلام کی رسوائی کرنا اورمسلمانوں کو ذلت وپستی کے کنویں میں پھینک دینا ہے۔9/11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔ اس حملے کو فوری طور پر مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔ جارج بش نے اعلان کیا کہ ہم صلیبی جنگ کا آغاز کریں گے۔ یہ دراصل ان عزائم اظہار تھا جس کے لیے صلیبی اور صیہونی تحریکیں عرصہ دراز سے اسلام کے خلاف رائے بنانے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ مسلسل ذہن سازی کی گئی اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کر کے مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی گئی۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو خونخوار، دہشت پسند اور امن عالم کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ 
کسی بھی ملک میں اظہار رائے کی بے لگام آزادی کی اجازت نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک ہتک عزت، دشنام طرازی، اہانت، فحش کلامی اور نفرت پھیلانے کی آزادی نہیں د یتا۔ یوروپین ممالک مثلاً جرمنی، فرانس، اسپین، ہالینڈ، آسٹریا، بلجیم وغیرہ میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر یہودیوں کے قتل عام (holocaust) کے خلاف لکھنا، اس کی تردید کرنا اور اس کی تفصیلات شائع کرنا جرم ہے۔ ہولوکاسٹ کی تردید کرنے والے عالمی شہرت یافتہ مصنف ارنسٹ زنڈیل کو 2005ءمیں کینیڈا سے نکال دیا گیا تھا۔ برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ کو 2006ء میں آسٹریا کی عدالت نے دوسری جنگ عظیم کی تاریخ لکھنے کی پاداش میں 3 سال کی قید کی سزا سنائی۔ برطانوی عدالت نے ایک پادری کو ہولوکاسٹ کا انکار کرنے پر 21000 کا جرمانہ کیا۔ دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کی خلاف لکھنا اور ان کی ہرزہ سرائی کرنا نیز رسول اللہ ﷺکے توہین آمیز خاکے شائع کرنا آزادی رائے کے نام پربلا خوف تعزیر انجام دیے جاتے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا میں عمومی طور پر اور مغربی ملکوں یورپ وامریکہ میں خصوصی طور پر اسلامو فوبیا کی لہر شدیدسے شدیدتر ہوتی جارہی ہے، مسلمانوں کے ساتھ ناروا، بے جا اور امتیازی سلوک نیز اسلام کو بدنام کرنے اور اس کی مقدس شخصیات ومقامات کی توہین اور اس کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کے واقعات اب مغرب میں آئے دن کا معمول بنتے جارہے ہیں۔ فلسطین، چیچنیا، میانمار اور شام پر استعماری قوتوں کا جبر، فرانس میں حجاب پر پابندی، سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی، چین میں روزہ رکھنے پر حکم امتناعی، ڈنمارک اور فرانس میں پیغمبر اسلام کے اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت، امریکہ میںمسلمانوں پر تشدد کے واقعات ان تمام باتوں کے پس پردہ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی دل آزاری کا جذبہ کار فرما ہے۔
 اس پروپیگنڈا کا واحد حل وہی ہے جو صدر اول میں تھا، وہ ہے اسلام کی دعوت اور اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ، اسلام کے خلاف تمام نفسیاتی خدشوں کا تدارک خود مسلمانوں کے اپنے عمل میں مضمر ہے۔ مشتعل ہونے اور جارحیت کا جواب جارحیت سے دینے میں نہ صرف اغیار کے پروپیگنڈے کو تقویت ملتی ہے بلکہ اس سے خود اسلام کو زک پہنچتی ہے۔ لہٰذا ہمیں مل کر مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہوگی۔ مسلمان ایک دوسرے کے معاون بنیں، سیاسی بیداری، تعلیمی ترقی، مسلمانوں کا معاشی استحکام اس سلسلے کے اہم کام ہیں۔ اسلام کی ان تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جو موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ میڈیا پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسے افراد کی تیاری کرنی ہوگی جو میڈیا کے پروپیگنڈے کا فوری اور شافی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسلاموفوبیا کے واقعات سے مشتعل ہونے کے بجائے ان پر مناسب قانونی چارہ جوئی کی راہ تلاش کرنی ہوگی۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے، ”تم نہ تو کمزور پڑو اور نہ غم کرو۔ اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے تو تمہیں غالب رہوگے“۔ 

Tuesday, April 2, 2019

انجینئرز زبوں حالی کا شکار

محمد اویس سکندر

دور حاضر کو سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہا جارہا ہے۔ دنیا میں حقیقی ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت آئی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم اس شعبہ میں ترقی کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ آپ دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک دیکھ لیں انھوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں محنت کر کے ہی اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ ہمارے سامنے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں موجود ہیں جیسے تمام یورپی ممالک، امریکہ، چین اورجاپان نے اسی شعبے میں محنت کر کے ہی اپنا مقام حاصل کیا ہے بلکہ جاپان کی مثال تو آپ کے سامنے ہے کہ کیسے امریکہ نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کر کے جاپان کو تباہ کیا تھا ۔اس کا جواب جاپان نے مختصر عرصے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں محنت کر کے دنیا کو بتایا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہم سے زیادہ کسی اور نے ترقی نہیں کی۔ آپ اپنے ملک ہی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم نے ایٹمی طاقت اسی شعبے میں محنت کر کے حاصل کی ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے ملک کی طرف کوئی بھی دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کر رہا اور اس ایٹمی طاقت کو حاصل کرنے کے بعد ہم انجینئرنگ کے شعبے کو بھول چکے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق ہم سالانہ دس سے بارہ ہزار انجینئرز پیدا کر رہے ہیں جن میں سے صرف گنے چنے لوگ ہی نوکری حاصل کر سکے ہیں اور زیادہ تر انجینئرز کو تعلیم کے شعبے میں نوکریاں دے دی گئیں جو ان کی شان کے خلاف ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی وہ لوگ صرف سکیل چودہ یا پندرہ میں کام کرہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کسی بھی ملک میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ہر معاشرہ اپنی نسل کے قابل ترین افراد کو سائنس کی تعلیم کے لیے منتخب کرتا ہے اور پھر ان ذہین ترین افراد کو مختلف امتحانات سے گزار کر یونیورسٹیوں میں بھیجا جاتا ہے۔ جہاں تعلیم کا معیار ایچ ای سی اور پی ای سی کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان اداروں کا الحاق ہر سال ان کی کارکردگی سے مطمئن ہو کر دوبارہ تجدید کر دیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سو فیصد معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ طلباء وقت کے ذہین ترین افراد ہوتے ہیں جو اپنی تعلیم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ اپنی معاشی ضروریات بھی پوری کرلیں اور ان کا ذہن ملک کے کام بھی آسکے مگر چند دنوں میں انھیں اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ کسی بھی ادارے کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ ہم جتنے انجینئرز سالانہ پیدا کرتے ہیں اتنی ان کی نوکری کے لیے سیٹیں پیدا نہیں کرتے اور پرائیویٹ سیکٹر میں انجینئرز سے جو سلوک کیا جاتا ہے وہ قابل رحم ہے۔ میرے خیال مین جتنا برا حال انجینئرز کا ہے شاید ہی کسی اور شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قابل ترین افراد دوسرے اداروں میں کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی ہوجاتے ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں حکومت کی ایجوکیشن پالیسی کے تحت انجینئرز کو گریڈ نو اور چودہ میں کام کرنے کی اجازت ملی تو ہزاروں افراد اس شعبے سے منسلک ہوگئے جہاں ان کی ٹیکنیکل مہارت بالکل ضائع ہوگئی اور معاشی عدم اطمنان پھر بھی برقرار رہا کیونکہ انجینئرنگ ایجوکیشن حاصل کرنے والے افراد گریڈ سولہ حاصل نہیں کر سکے۔ 
انجینئرز کو سکیل سولہ حاصل کرنے کے لیے انجینئرنگ کے بعد سکول سبجیکٹ میں ایم اے یا ایم ایس سی کرنی پڑے گی۔ حالانکہ پی ای سی کے رولز کے مطابق متعلقہ سیکٹر میں انجینئرز کا کم از کم سکیل سترہ ہوتا ہے۔ انھیں بنیادی تنخواہ کا پچاس فیصد آلاونس بھی دیا جاتا ہے بلکہ کے پی کے میں تو انجینئرز کو بنیادی تنخواہ پر ایک سو پچاس فیصد آلاونس دیا جارہا ہے مگر پنجاب میں تو اسی صورتحال کے پیش نظر شعبہ انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد خودکشی کر چکے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ راولپنڈی میں پیش آچکا ہے جہاں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والا چوبیس سالہ نوجوا ن اعزاز علی نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرچکا ہے۔ ہمیں مستقبل میں ایک حالات سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
میری وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر تعلیم مرادراس سے درخواست ہے کہ قوم کے ان ذہین ترین افراد کو معاشی بدحالی کی بدولت اس طرح ضائع ہونے سے بچایا جائے تاکہ یہ مفید شعبہ بدحالی سے بچ جائے۔ اس کے لیے یا تو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے پر کم از کم دس سال کی پابندی لگادی جائے تاکہ لوگ اسے چھوڑ کر ایسی تعلیم حاصل کر سکیں جس سے وہ بعد میں اپنی معاشی ضروریات پوری کرسکیں اور اس پابندی کے عرصے میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والے افراد کوان کے شعبے کے مطابق نوکریاں دی جائیں اور جو انجینئرز تعلیم کے شعبے میں کام کر رہے ہیں ان کے متعلقہ شعبے میں ٹرانسفر کر دیا جائے اور انہیں ان کی اہلیت کے مطابق سکیل اور آلاونسز دیے جائیں تاکہ ہ لوگ نہ خودکشی کریں اور نہ ہی ایسی معاشی بدحالی کا شکار ہوں اس لیے ان لوگوں کا اپنے متعلقہ سیکٹرز میں کام کرنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ لوگ اپنی مہارت سے اپنے ملک کی خدمت کریں اور اپنے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیں۔ 

قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے


انیلہ افضال

 ایک ہزار سال ایک ساتھ رہنے کے باوجود جب ہندوستان کے ہندو اور مسلمان باہم شیر و شکر نہ ہو سکے اور عہد اکبری میں ان دونوں کو ملانے کی غیر فطری کوشش”دین اکبری“ بھی ناکامی سے دوچار ہوئی تو اس کے بعد اورنگ زیب سے لے کرشاہ ولی اللہ،مولانا محمود الحسن، مولانا اشرف علی تھانوی ،مولانا شبیر احمد عثمانی پھر علی برادران، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی اور بہت سے دوسرے بھی کہ جن تمام کا ذکر ضعف یادداشت اورتنگی وقت کے باعث ممکن نہیں، نے مسلمانان ہند کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ بالآخر اس جدوجہد کی باگ ڈور ایک ذہین وکیل اور زیرک سیاستدان محمد علی جناح کے مضبوط ہاتھوں میں آئی جنہوں نے دن رات کے انتھک محنت سے مسلمانان ہند کے لیے اپنے وقت کا سب سے بڑا اسلامی ملک حاصل کیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائد اعظم جیسے سیکولر کو مسلمانوں کے قومی تشخص کا اس قدر شدشد ا حساس کیونکر ہوا تھا بحوالہ پیسہ خبار 1928:” مجھے بحیثیت مسلمان دوسری اقوام کے تمدن، تہذیب اور معاشرت کا پورا پورا احترام ہے لیکن مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت محبت ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور ثقافت سے بالکل بے گانہ ہوجائیں“۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار قائد اعظم نے 1948 میں پشاور میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا،” ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمیں کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایس تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“۔
یہاں یہ بات تو صاف طور سے واضح ہو جاتی ہے ہے کہ قائد اعظم کے نزدیک حصول پاکستان کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ اگرچہ قائد اعظم قیام پاکستان کے بعد ایک سال کی نہایت قلیل مدت میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے مگر مختلف مواقع پر کی گئی ان کی تقاریر ان کے عزائم کو ظاہر کرتی ہیں کہ آخر قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قائد اعظمؒ نے کبھی بھی مسلمانوں کو ہندوستان کی اقلیت تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کے ایک علیحدہ قومی وجود پر اصرار کیا۔ اس وجود اور تشخص کی حفاظت ہی قیام پاکستان کی بنیاد بنی۔ جو شخص اقلیتوں کے حقوق کے لیے تمام عمر برسرپیکار رہا ہو وہ قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت کی اقلیتوں کو بے یارومدد گار کیسے چھوڑ سکتا تھا۔
کچھ عناصر قائد اعظم کو سیکولر نظریات کا حامل مانتے ہیں اور اسی کے تناظر نہیں ان کا خیال ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ۔اس سلسلے میں قیام پاکستان کے فوراً بعد عید کے موقع پر آپ نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، ”مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآن مجید میں موجود ہے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن پاک کو غور سے پڑھیں۔ قرآن پاک کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے لیے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی“۔
آپ حقوق و فرائض کی ادائیگی میں مساوات کے قائل تھے- آپ ملک کے تمام طبقات کے بنیادی حقوق کی بات کرتے تھے۔ قائداعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران انھوں نے بارہا شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی۔انھوں نے پریس سے متعلق اس مسودہ قانون کی سخت مذمت کی جس کے ذریعے حکومت نے آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے اختیارات حاصل کرلیے تھے۔ 1919 میں رولٹ ایکٹ کی آمد پر انھوں نے امپیریل لیجسلیٹو اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایسا کرتے وقت انھوں نے جمہوریت سے نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ عام شہری حقوق پر ان کے ایمان کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ غدر پارٹی کے انقلابی بھگت سنگھ کے لیے بھی انہی حقوق کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں جو انگریزوں کو حاصل تھے۔ کچھ ناقدین کے خیال میں قائد اعظم سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قائداعظم مسلم سرمایہ داروں کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور تھے کہ مسلم لیگ کو فنڈز کی ضرورت تھی مگر وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ہوسِ زر سے بھی ناواقف نہیں تھے۔ 
چنانچہ 1943 ہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں انھوں نے تنبیہ کردی تھی کہ: ”پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں۔ اس بات نے انھیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے۔ انھوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔ حرص اور خودغرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائیں۔ میں گاﺅں میں گیا ہوں‘ وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں“۔
 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا پاکستان قائد اعظم کے افکار سے مطابقت رکھتا ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر پاکستان اپنے بانی کے تصورات کا آئینہ دار ہوتا تو ان تصورات کا زبانی تذکرہ کرنے کے بجائے ہم اپنے ملک کے سیاسی احوال سے براہِ راست طورپر استنباط کرتے، اپنے گردوپیش پر نظر دوڑاتے اور بڑے فخر کے ساتھ کہتے کہ یہی بانی پاکستان کے تصورات کی تصویر اور ان کی عملی تعبیر ہے۔ مگر دن رات قائداعظم کے نام کی مالا جپنے کے باوجود ان کے افکار اور خیالات اوران کے طرزِفکر و احساس سے ہماری قومی زندگی کو کوئی واسطہ نہیں۔
یہ بات اب ریکارڈ پر آچکی ہے کہ ان کی 11 اگست 1947 کی فکرانگیز تقریر کو اس وقت کی افسرشاہی نے سنسر کرنے کی کوشش کی اور قائد اعظم کی بہت سی تقاریر اور ان کے بہت سے افکار کو قوم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے مگر جو کچھ حاصل ہے اگر اسی پر قناعت کر لی جائے تو بھی ان افکار پر سر دھننے کی بجائے ان کو قومی زندگی میں نافذ کر دیا جائے تو آج بھی پاکستان ایک بے مثال ریاست کے طور پر اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔