The NTS News
The NTS News
hadith (صلی اللہ علیہ وسلم) Software Dastarkhān. دسترخوان. الفاظ کا جادو Stay Connected

Thursday, March 9, 2017

Careful when you eat oranges, be sure to check that these bugs so far

Careful when you eat oranges, be sure to check that these bugs so far

Wednesday, March 8, 2017

*خواتین کا عالمی دن اور لسبیلہ تحریر *خلیل رونجھو وانگ*

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا دن بڑے روز و شور سے منایا جاتاہے پاکستان میں بھی ان دن کے حوالے سے مختلف تقریبات ،سیمینار،کانفرنسز کا انعقاد کیاجاتاہے ،جو معاشرے میں خواتین کے حقو ق کی آگاہی کے حوالے سے ایک مناسب کوشش ہے جس میں ملکی ترقی میں خواتین کے کردارکی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا اورتسلیم کرنا ہے ۔
سماجی ترقیاتی عمل میں مجھے لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے مختلف پروجیکٹ میں کام کرنے کا موقع ملا اس دوران مجھے خواتین کی ترقی کے حوالے موجود مواقعوں اور درپیش مسائل و چیلنجز کو سمجھنے کا موقع ملا ہے ،موجودہ ترقی یافتہ اور جدید دور میں خواتین کی آبادی کا نصف سے زائد ہیں ان کے مسائل اور مشکلات میں اصافہ دیکھنے میں آیا ہے خاص طور پر عورت پر گھریلو اور نفسیاتی تشدد اور صنفی بنیاد پر امتیاز روارکھا جاتاہے جو ہر حال میں قابل مذمت اور انسانی حقوق کے کھلم کھلاخلاف ورزی کے زمرے میں آتاہے ہمارے ہاں عورت آج بھی ان مظالم کے خلاف اپنا دفاع کرنے اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں ،ہمارے ہاں تعلیم کی کمی کی وجہ سے عورتوں کو اپنے حقوق کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل نہیں ،ضلع لسبیلہ کی خواتین میں تعلیمی ترقی کے حوالے سے کافی مشکلات ہیں جن میں اسکولوں و کالجز کی کمی اور ساتھ موجود تعلیمی اداروں تک رسائی ایک بہت بڑا چیلنج بنتاجارہاہے ،لس بیلہ میں 50 فی صد لڑکیاں اسکول سے بایر ھیں ہمارے ہاں سکینڈری تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکیاں سیکنڈٹائم  کالجز میں پڑھتی ہیں جن کی تعداد حوصلہ مند ہے مگر سکینڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہت ساری طالبات تعلیم کو خیر آباد کہہ کر گھر وں میں بیٹھ جاتی ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے ،اس کے علاوہ ہائز ایجوکیشن کی شعبہ میں لسبیلہ سے خواتین کی شمولیت میں آٹے مین نمک کے برابر ہے ،تعلیم کے اس شعبے کو حکومتی اور غیر حکومتی سطح پر بری طرح نظر انداز کیاجارہاہے جو کہ لسبیلہ میں انسانی وسائل کو فروغ نہ ہونے کا بنیادی عنصر ہے،بیلہ میں خواتین کی لیے الگ قائم ہونا والا کالج کوئی تیرا سال بعد جاکر فنکشنل ہوا ہے ،گرلز اسکولوں کے لیے فراہم کی گی بسیس کھڑی کھڑی سٹر رہی ہے مگر احکام بالا طالبات کے ان تعلیمی مسائل کو انکھیں ہوتے ہوئے بھی دیکھنے سے قاضر ہیں ۔
پاکستان میں جہاں بنیادی صحت و علاج و معالجے کا حصول عوام کے لیے بہت مشکل ہے تووہاں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے خواتین کارکن کے حالات توجہ طلب ہیں، لسبیلہ میں خواتین کی صحت کے بے پناہ مسائل ہیں جن کو حل کرنے کی نہ تو حکومت زحمت کررہی ہے اور نہ ہی غیر حکومتی سطح پر کوئی اقدامات کیے جاتے ہیں ،ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹروں و اسٹاف کی کمی ،ہسپتالوں میں ادوایات کی عدم فراہمی خواتین کے استحصال کا موجب بن رہاہے ،ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھر مار ہے اور صحت کے نام پر ہر طرف لوٹ مار ہے ۔
لسبیلہ میں خواتین کا سب سے زیادہ استحصال ہماری ٹرانسپورٹ کرتی ہے جہاں آپ کو بیلہ سے کراجی تک ہر جگہ خواتین سٹرک کنارے ویگنوں و بسوں کا انتظار کرتی ہوئی کھڑی نظر آئی گی مگر مجال ہے کہ سیٹ ہونے کے باجود بھی کوئی ویگن رکیں اور پورا کرایہ دینے کے باوجود اپنے منرل تک پہنچائیں ا ور نہ ہی حکومت ہی کوئی زحمت کرنے کا سوچتی ہے کہ خواتین کے لیے گاڑیوں میں علیحدہ سیٹ مختص کی جائیں تاکہ یہ انسان بھی مرودں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی کے ساتھ سفر کرسکیں۔
لسبیلہ ایک زرعی علاقہ ہے اور شعبہ زراعت دیہی معاشرے سے جڑا ہوا ہے اس شعبے میں عورتوں کی افرادی قوت مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن اس شعبے میں بھی خواتین کا استحصال اپنے عروج پر ہے کئی علاقوں میں خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریوں نباہنے کے ساتھ کھیتوں میں بھی کام کرتی ہیں اور اس کے بدلے میں کوئی اجرت نہیں دی جاتی ۔دوسری طرف وہ کاشت کاری کے دوران فضلوں پر زہریلی دوائیں چھڑکنے کی وجہ سے شدید بیمار ہوجاتی ہیں،اس کے علاوہ دوران حمل اور زچگی کے دوران شدید تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں ایسے متعد د دردناک حقائق دیہی علاقوں میں بسنے والی عورت کی مشکلات کی نشان دہی کرتے ہیں۔
میں نے اوتھل کوسٹ گارڈ کے قریب گوٹھ میں 100فٹ گہرے کنواں سے پانی بھرتے ہوئی خواتین کو اقتدار کے ایوان میں نمائندگی کرتے ہوئے عوامی لیڈروں اور اس کے حق میں قصدہ گوئی کرنے والے سے کارکنوں سے سوال کرتے پایا ہے اور اپنے قصور پوچھا ہے کہ ہمیں پینے کا پانی آسانی سے کیوں میسر نہیں میں نے لاکھڑا اور اوڑکی میں خواتین کو ایک ہی تالاب سے پانی پیتے اور جانوروں کو پلاتے ہوئے دیکھا ہے مگر میری حکومت اور میر ے عوامی نمائیدوں کو ترقی کے منصوبے بناتے ہوئے وہ خواتین کیوں نظر نہیں آتی ہیں-
ہمارے ہاں خواتین کی اکثریت کاتعلق دیہات سے ہے ان علاقوں میں زیادہ تر خواتین ان پڑھ اور بے ہنر ہوتی ہیں اس کے لیے ان کے بچے تعلیم و تربیت جیسے بنیادی حقوق سے حاصل نہیں کرپاتے ہیں ۔دیہی معاشرے میں خواتین کئی گھریلو اور سماجی پابندی میں مقید ہوتی ہیں اور س قید ووام کے لیے استحصال کو رسم و رواج سے جوڑا جاتاہے ان روایات کے تخت لڑکیاں بابل کے آنگن میں کھلتی ضرور ہیں مگر روز اول سے ان کے دماغ میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ انھیں پرائے گھر جانا ہے پھر ایک عورت کی صلاحیتوں کو بس گھریلو کام کاج اور بچوں کی پرورش تک محدود سمجھا جاتاہے اسی بنیاد پر انھیں تعلیم سے محروم رکھا جاتاہے ان گھروانوں کی لڑکیوں کے لیے واجبی تعلیم بھی نعمت کے زمرے میں آتی ہے ،رسم و روایات کے اسیر معاشرے میں عورت کو زیر دست رکھنے اور اسے کم تر درجے کی محلوق ظاہر کرنے کے لیے کئی ہتھکنڈے استعمال کے جاتے ہیں ، یہی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی یہ غیر انسانی تصور موجود ہے کہ عورت مرد کے پاؤں کی جوتی ہے جسے بار بار تبدیل کیاجاسکتاہے یہ سوچ قدیم زمانے سے چلتی آرہی ہے اور آج بھی نہ صرف تسلیم کیاجاتاہے بلکہ بہت سارے علاقوں میں اس پر عمل بھی کیاجاتاہے جس سے معاشرے میں مردانہ سوچ کی بالادستی نظر آتی ہے البتہ ہمارے ہاں لسبیلہ میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح پیش رفت ہورہی ہے ،لوگوں کا رہن سہن بدل رہاہے پرانی روایات دم توڑ رہی ہیں،سماجی تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہیں ایسے حالات خواتین کو نظر اندازیا ان کے حقوق غصب کرنے کے بجائے ان کو ترقی کے عمل میں شامل کیاجائے ،لسبیلہ میں حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کو شرح خواندگی کو بڑھانے کے لیے موثر اقدامات کرئے صحت و ٹرانسپورٹ کے متعلق ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ،اس کے علاوہ ہمارے ہاں بہت سارے علاقوں میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ سے سوچ میں تبدیلی کے آثار دیکھائی دیتے ہیں اورر وہاں پر صنفی امتیاز کے خاتمے میں مدد ملی ہے لیکن ضرروت اس بات کی بھی ہے کہ ہم خواتین کو اعتماد دیں ان پر بھروسہ کریں صرف دو وقت کی روٹی ہی عورت کا حق نہیں آپ عورت ذات کے جس رشتے سے وابسطہ ہیں ایسے ہر زاویے سے عزت دیں تحفظ دیں اپنے رویوں پر نظر ڈالیے تو ہمیں خواتین کی ترقی اور سماجی ترقی سے کوئی روک نہیں سکتا- خلیل رونجھو

فراڈ

یہ نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھا‘ اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘ وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا، وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے، آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘ یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا اور اسے محسوس ہوا اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک سٹیٹمنٹس دکھائیں اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...
منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘ اس نے قہقہہ لگایااور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا :
’’ یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا ‘‘
یہودی تاجر ناراض ہو گیا‘ اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا :
’’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘ میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘
وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا، یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا ‘ اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا...

یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے‘ اس فراڈ کا تعلق پیسےکے سکے سےجڑا ہے، پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی‘ اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘ ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘ پیسے کے سکے کوپائی کہا جاتا تھا، اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے اور 64پیسوں کے برابر ہوتا تھا...
یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘ 1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں اشاریہ نظام نافذ کر دیا جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے...
یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے لیکن بعدازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے اور ہم نے پچھلے تیس برسوں سے ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا کیوں...؟
کیونکہ سٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کر رہا لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہےتو اس میں روپوں کےساتھ ساتھ پیسےضرور شامل ہوتے ہیں مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا جس کے بعد پٹرول کی قیمت 62روپے 13پیسے‘ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 62روپے 65پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 54روپے 94پیسے ہو گئی ...
اب سوال یہ ہے ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائے گاتوکیاپمپ کاکیشیر اسے87پیسے واپس کرے گا...؟ نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا چنانچہ اسے لازماً 62کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...
یہ زیادتی کیوں ہے...؟
اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘ پاکستان میں روزانہ 3لاکھ 20ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے، آپ اگراسےلیٹرز میں کیلکولیٹ کریں تو یہ 5کروڑ 8لاکھ 80ہزار لیٹرز بنتا ہے، آپ اب اندازا کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہرلیٹرپر87پیسےاڑاتی ہیں تویہ کتنی رقم بنےگی... ؟

یہ 4کروڑ 42لاکھ 65ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں....
یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پیٹرول نہیں ڈلواتے‘صارفین ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں اور زیادہ تر لوگ پانچ سے چالیس لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں اور بڑی حد تک یہ پیسے روپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پیسوں کی ہیراپھیری موجود رہتی ہے، مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘ وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘ مہینوں کو برسوں اور برسوں کو 30سال سے ضرب دے تو یہ اربوں روپےبن جائیں گےگویاہماری سرکاری مشینری 30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے اور حکومت کو معلوم تک نہیں...

ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...
یہ بھی ہو سکتا ہے اس کرپشن کا والیم ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہولیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کررہا تو حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے اور ہم ’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں...؟
ہم 62روپے 13پیسوں کو 62روپے کر دیں یا پھر پورے 63روپے کر دیں تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے، حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہےہماری بیوروکریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو...!!!

Britain’s asylum system is a mixture of government bureaucracy

Childcare worker pushes girl, 4, down stairs

petrified trans woman plead for her life moments before being beaten to ...

Good night

Tuesday, March 7, 2017

بچاؤ کیلئے تدابیر

1۔  شھروں کے درمیان حدود واضح ھوں۔ شہر میں تمام داخلی راستہ پر چیکنگ کی جائے۔    
2۔ھر غیر شہری دوسرے شہر میں رہائش کیلئے خاص مدت کا اجازت نامہ حاصل کرے ۔بصورت دیگر شہر سے نکال دیا جائے۔
3 ۔کوئی غیر ملکی  اپنی ملکیت پر کوئی جائیداد نہ خرید سکے۔ البتہ عارضی مدت کیلئے ملکیت دی جاۓ۔
4۔پولیس چیکنگ سکواڈ میں ہر بائیک اور گاڑی میں فی میل سکواڈ لازمی ھو ۔ علاوہ ازیں ہر خطرناک جگہ پر عورتوں کی چیکنگ کے لئے فی میل سٹاف لازمی ھو کیوں کہ مجرم لوگ اپنے ساتھ لڑکیوں کو بھی واردات کے لئے صورتحال کا اندازہ لگانے میں استعمال کرتے ہیں۔
5۔اسلام میں عورت کا چہرہ ڈھاپنہ فرض نہیں۔ اِن حالات میں نقاب وغیرہ ممنوعہ قرار دیا جائے۔
6۔دن بھر میں اور کم از کم رات 11 بجے تک سڑکوں پر بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت بلکل ممنوع ھو۔ تاکہ ٹریفک کسی صورت جام نہ ہو۔
7۔ رش والے راستوں اور چوراہوں پر وارڈن بجاۓ چالان کرنے کے ٹریفک کے بحاو کو یقینی بنائیں۔
8۔تمام بڑی مارکیٹوں کو شھر سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی جائے۔
9۔ دفاتر اور سکول وغیرہ کے اوقات میں واضح فرق قائم کرنے کی کوشش کی جائے تا کہ رش سے بچا جا سکے۔
10۔مارکیٹوں اور بازاروں میں ہر دوکان اور ہر رھڑی ٹھیلے والے کے لئے سکینر ڈیوائس لازم قرار دی جائے تاکہ کسی بھی انٹری کی صورت میں فوراً الارم بجنے لگیں۔ 
11۔کوئی ایسا سافٹ وئیر بنا نے کی کوشش کی جائے کہ جس سے انڈرایڈ فون بھی سکینر کا کام کریں۔ یا کوئی ایسی ڈیوائس ھو جو ھر آدمی با آسانی اپنے پاس رکھ سکے۔
12۔تمام بڑی مارکیٹوں کے داخلی دروازے پر سکینر بوتھ لگے ھوں اور اخراج کے راستوں سے انٹری ممنوع ھو۔
13۔انڈر کور فورس بنائی جاۓ جو ھر رہائشی بلاک  و محلہ میں ھر مارکیٹ اور بازار میں نئے رہائشی یا نئے دوکان دار کی فوری اطلاع انٹیلیجنس کو دے جو انکوائری کے بعد ھی رہائش یا کاروبار کی اجازت دے۔ 
14۔رضاکارانہ ٹیمیں بنائی جائیں جو اپنے علاقہ میں تحفظ کو یقینی بنائیں۔  
15۔دفاعی ٹیکنیکس سکھانے کے لئے ٹریننگ سنٹر قائم کئے جائیں۔
16۔دیگر منزم نظاموں کی تعلیم مختلف ترقی یافتہ ممالک سے حاصل کی جائے۔ جن میں چائنہ سر فہرست ھے۔
17۔مساجد میں امام مسجد کو حفاظتی انتظامات کا زمہ دار بنایا جائے اور محلہ داروں میں سے پرانے رہائشیوں کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ جمعہ کے دن کم از کم پانچ آدمی مسجد کے دروازہ پر کھڑے ھو جائیں جاننے والوں کو بغیر انکوئری اور اجنبی کو جانچ پڑتال کے بعد اندر آنے دیں۔
18۔پبلک مقامات پر ٹاور اور راڈار لگا کر دھشت گردوں کی رےڈیانک سکرین کے ذریعے نشاندہی کی جائے۔
19۔پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میں سکینر بار یا ڈیوائسز کی کارکردگی لازم بنائی جائے۔ 
20۔پولیس کو اعلی اخلاقیات کی تعلیم دی جائے اور اسلامی اصولوں کے مطابق عوام کا محافظ بنایا جاۓ نیز دونوں کے درمیان تعاون کو کانفرنسز کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔
21۔خدا ناخواستہ دھماکہ کی صورت میں بجاۓ تمام فورسز ایک جگہ اکٹھا ھونے کے نازک مقامات پر موجود رہنے کی تعلیم دی جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے دھماکہ ھو جانے کے بعد تو صرف  جان بچانے والے عملے کی ضرورت ھے یا زیادہ سے زیادہ مقامی پولیس کی  رینجرز اور فوج کو تو نازک اور خطرناک جگہوں پر حاضر رھنا چاہیے۔
22۔تمام ھوٹلز میں ھو نے والی آمدورفت کو بھی مانیٹر کیا جانا چاہئیے۔
23۔مخالف ممالک کے ساتھ بھی ڈپلومیٹک معاعدہ جات کر کے  کشیدہ حالات کو سازگار بنانے کی کوشش کی جائے۔
24۔حالات میں بہتری کے لیے ہر ضلع میں تھنک ٹینک بناۓ جائیں۔
25۔ عوام کی تجاویز کو ضلع کونسل کی سطح پر حاصل کریں اور عملی اقدامات کریں۔ 
اپیل !
تمام احباب اس میسج کو اپنے تمام contacts کو لازماً forward کریں۔کیوں کہ 
ارشاد باری تعالی ھے 
ایک انسان کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانا ھے۔

The Indian Army Holy Prophet Is praising the Video message to share as m...

Monday, March 6, 2017

Mineral water drinking men live just recovering